Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
106 - 145
مسئلہ ۲۵۷: مسئولہ جناب حافظ سیدعبدالجلیل صاحب مارہروی ۱۲جمادی الآخرہ ۱۳۱۱ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک خطبہ میں ہے
لایکلّف اﷲ نفسا الا دون وسعھا۔
یہ پڑھناکیساہے اور یہاں دون کامحل کیاہے؟ بیّنواتوجروا( بیان فرمائیے اجردئیے جاؤگے۔ت)
الجواب : آیہ کریمہ بدون ''دون'' ہے، خطبہ میں اگرچہ نہ وہ آیت ہوناضرور، نہ قرآن عظیم سے اقتباس محذور، مگرزیادت موہومہ خلاف مراد محذور۔

دون زبان عرب میں دس معنی پرمشتمل ہے:
 (۱) غیر، اَئِفکًا اٰلھۃ دون اﷲ تریدون۱؎، ای غیرہ۲؎۔
غیر، کیابہتان سے اﷲ تعالٰی کے سوا اورخدا چاہتے ہو یعنی اس کاغیر۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۳۷/ ۸۶)

(۲؎ جلالین    تحت الآیۃ ۳۷/ ۸۶    اصح المطابع    ص۳۷۶)
 (۲) تحت۳؎، ومنادون ذٰلک۴؎۔
تحت، اورہم میں سے کچھ اس سے کمترہیں۔(ت)
 (۳؎ تاج العروس    باب النون     فصل الدال    تحت لفظ ''دون''     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۹/ ۲۰۳)

(۴؎ القرآن الکریم    ۷۲/ ۱۱)
(۳) فوق، فھی اذن من الاضداد کما افادہ المجد۵؎۔
فوق، تو اس صورت میں یہ اضداد کے قبیلہ سے ہوگا جیساکہ مجد نے اس کاافادہ فرمایاہے۔(ت)
 (۵؎ القاموس المحیط    باب النون     فصل الدال     تحت لفظ ''دون''     مصطفی البابی مصر    ۴/ ۲۲۵)
 (۴) اقل، لیس فیمادون خمس اواق صدقۃ۶؎۔
اقل، پانچ اوقیہ سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے(ت)
 (۶؎ صحیح البخاری    کتاب الزکوٰۃ     ۱/ ۱۸۹ و ۱۹۴    وصحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ     ۱/ ۳۱۵ )
 (۵و۶) وراء وامام، یعنی اس پار یا اس پار ؎
کیف الوصول الٰی سعاد و''دونھا'' قلل الجبال ودونھن حتوف۷؎
وراء وامام، سعاد تک کیسے پہنچاجاسکتاہے حالانکہ اس کے سامنے بلندچوٹیوں والے پہاڑ ہیں اور ان کے پیچھے موتی ہیں۔
 (۷؎ ابجدالعلوم علم التعابی فی الحروب      ۲/ ۱۶۵)
وفی الحدیث من قتل دون اھلہ فھو شھید۱؎ ای امامھم فی حفظھم والدفاع عنھم۔ وفی الحدیث لیس دونہ تعالٰی منتھٰی ۲؎ ای وراہ۔ و قدجمعھا قولہ فی الخمر ع: تریک القذی من دونھا وھی دونہ ۳؎
اورحدیث میں ہے جواپنے اہل وعیال کے سامنے قتل کیاگیاوہ شہیدہے یعنی ان کے سامنے ان کادفاع کرتے ہوئے۔ اورحدیث میں ہے اﷲ تعالٰی سے آگے کوئی منتہی نہیں۔(ت)

اورشراب سے متعلق شاعرکے قول نے ان معانی کوجمع کردیاہے، یہ شراب تجھے دکھاتی ہے کہ تنکا اس کے آگے ہے اور وہ اس کے پیچھے ہے۔(ت)
 (۱؎ جامع الترمذی     ابواب الدیات    باب ماجاء فیمن قتل دون مالہ فہو شہید الخ     امین کمپنی دہلی     ۱/ ۱۷۰)

(۲؎ مجمع بحارالانوار    باب الدال مع الواو    تحت لفظ ''دون''    مکتبہ دارالایمان المدینۃ المنورۃ ۲/ ۲۱۶)

(۳؎ تاج العروس     باب النون فصل الدال     تحت لفط ''دون'' داراحیاء التراث العربی بیروت    ۹/ ۲۰۳)
 (۷) حقیر، ع: ویقنع بالدون من کان دونا۔۴؎
حقیر، حقیرچیز پرقناعت کرلیتاہے وہ جو حقیرہوتاہے۔(ت)
 (۴؎تاج العروس     باب النون فصل الدال     تحت لفط ''دون'' داراحیاء التراث العربی بیروت    ۹/ ۲۰۳ )
 (۸) شریف، حکاہ بعض النحاۃ وقال المجد علیہ ضد۵؎۔
  شریف، بعض نحویوں نے اس کو حکایت کیاہے، اورمجدنے کہاکہ یہ پہلے معنی کی ضدہے(ت)
 (۵؎تاج العروس     باب النون فصل الدال     تحت لفط ''دون'' داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۲۵ )
 (۹) نزدیک تربچیزے بہ نسبت مضاف الیہ۔ مضاف الیہ کی بہ نسبت زیاہ قریب چیز۔
ووجد من دونھم امرأتین تذودان۶؎۔
اور اس نے ان مردوں کے قریب دوعورتوں کودیکھا جواپنے جانورروک رہی ہیں۔(ت)
 (۵؎ القرآن الکریم۲۸/ ۲۳)
 (۱۰) مقارب مضاف الیہ مکانا مکانۃ۔
مضاف الیہ کے قریب مکان ۔
ھذا دونک۱؎ ای قریب۔
یہ تیرے قریب ہے۔(ت)
 (۱؎ تاج العروس    باب النون    فصل الدال    تحت لفظ ''دون''    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۹/ ۲۰۳)
ظاہرہے کہ معنی ۷ و۸ کوتویہاں سے تعلق ہی نہیں۔ اورباقی معانی سب مخالف قرآن ہیں۔ قرآن عظیم یہ حصر فرماتایہ چاہتاہے کہ اﷲ عزوجل کسی کوتکلیف نہیں دیتا مگربقدرقدرت ووسعت وطاقت۔ اوریہاں یہ حصرہوگا کہ اﷲ سبحانہ کسی کوتکلیف نہیں دیتا مگراس کی طاقت کے سوا، یاطاقت سے نیچے، یاطاقت کے اوپر، یاطاقت سے کم، یاطاقت سے اس پار، یاطاقت سے اِس پار۔ اوریہی نیچے اورکم اور اس پار کاحاصل۔ دومعنی اخیر میں نکلے گا کہ ان پانچوں معنی میں منتہی تک نہ پہنچنا ملحوظ ہے۔ صحاح وصراح ومجمع البحاروغیرہامیں ہے:
معناہ تقصیر عن الغایۃ۲؎
 (اس کامعنی ہے کہ غایت تک نہ پہنچنا۔ت) توان پانچوں کاحصر صریح مخالف قرآن ہے اور ان دویعنی اوپر اوراس پار کاشدید مناقض۔ اورسِوا توصراحۃً نقیض معنی قرآن ہے۔ وبعد التیاوالتی تاویلات دورازکارکوگنجائش دی جائے توایہام معانی باطلہ نقد وقت ہے اور اسی قدر منع کے لئے بس ہے۔
 (۲؎ مجمع البحار        تحت لفظ دون۲/ ۲۱۶ و الصحاح     تحت لفظ دون     ۵/ ۱۱۵)
فی ردالمحتار وغیرہ من معتمدات الاسفار مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنع۳؎۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
ردالمحتاروغیرہ معتمد کتابوں میں ہے کہ محض معنی محال کاایہام ممانعت کے لئے کافی ہے۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ ردالمحتار        کتاب الحظروالاباحۃ    فصل فی البیع    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۵۳)
Flag Counter