Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
105 - 145
مسئلہ ۲۵۳ تا ۲۵۵:  ازملک بنگال ضلع فریدپور موضع پٹوراکاندے مرسلہ محمدشمس الدین صاحب 

(۱) بعدولادت حضرت عیسٰی علیہ السلام حضرت مریم بنت عمران باکرہ تھیں یانہیں؟

(۲) قرآن مجیدمیں ناسخ کی آیتیں کتنی ہیں اورمنسوخ کتنی؟

(۳) آنحضرت اور حضرت عیسٰی علیہما الصلوٰۃ والسلام کے درمیان کوئی اوررسول تھے یانہیں؟
الجواب :

(۱) سیدنا عیسٰی کلمۃ اﷲ علٰی نبینا الکریم وعلیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی ولادت کے بعد بھی حضرت بتول طیبہ طاہرہ سیدتنا مریم بکرتھیں، بکرہی رہیں، اوربکرہی اٹھیں گی، اوربکر ہی جنت النعیم میں داخل ہوں گی یہاں تک کہ حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین کے  نکاح اقدس سے مشرف ہوں گی۔ ان کی شان کریم:
لم یمسسنی بشرولم اک بغیا۱؎۔
نہ مجھے کسی نے ہاتھ لگایا اورنہ میں بدکارہوں۔
 (۱؎ القرآن الکریم    ۱۹/ ۲۰)
ظاہرہے کہ بعد ولادت بھی صادق ہے، اوریہی معنی بکریت ہے، رہابکارت بمعنی پردہ عروق کازوال، اولا اس ولادت معجزہ میں ہونا کیاضرور اور اس کاکہاں ثبوت۔ جوبے باپ کے پیداکرسکتاہے بے زوال بکارت ولادت دینے پربھی قادرہے۔ بکرکے لئے بھی منفذہوتا ہے جس سے خون آتا ہے، اوربالفرض اس کازوال ہوبھی تووہ منافی بکریت نہیں۔ بہت ابکارکا یہ پردہ کسی صدمہ یاخون حیض کی حدت وغیرہ سے جاتارہتاہے، مگروہ بکرسے ثیب، نارسیدہ سے شوہردیدہ نہیں ہوجاتیں بلکہ حقیقۃً بھی بکرہوتی ہیں، اورحکم شرع میں بھی بکرہی رہتی ہیں۔ ان کانکاح ابکار کی طرح ہوتاہے اور وہ ابکارکے لئے وصیت میں داخل ہوتی ہیں۔
تنویرالابصار میں ہے:
من زالت بکارتھا بوثبۃ اودرورحیض اوجراحۃ اوکبربکرحقیقۃ۲؎۔
جس کاپردہ بکارت کودنے، حیض آنے یا زخم یازیادتی عمری کی وجہ سے زائل ہوا وہ عورت حقیقۃً باکرہ ہے۔
 (۲؎ الدرالمختارشرح تنویرالابصار    کتاب النکاح     باب الولی    مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۱۹۲)
فتاوٰی ظہیریہ اور ردالمحتارمیں ہے:
البکراسم لامرأۃ لم تجامع بنکاح ولاغیرہ۳؎۔
باکرہ اس عورت کوکہتے ہیں جس سے بہ نکاح یابلانکاح صحبت نہ کی گئی ہو۔
 (۳؎ ردالمحتار     کتاب النکاح    باب الولی         داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲/ ۳۰۲)
بحروشامی میں ہے:
حاصل کلامھم ان الزائل فی ھذاالمسائل العذرۃ ای الجلدۃ التی علی المحل لاالبکارۃ فکانت بکرا حقیقۃ وحکما ولذا تدخل فی الوصیۃ لابکار بنی فلان۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
ان کے کلام کاحاصل یہ ہے کہ ان مسائل میں عذرۃ زائل ہوئی ہے یعنی وہ جھلی جوشرمگاہ میں ہوتی ہے، توعورت ان صورتوں میں حقیقۃً اورحکماً ہرطرح باکرہ ہوتی ہے۔ اس لئے اگرکسی نے بنی فلاں کی باکرہ عورتوں کے لئے وصیت کی تویہ بھی ان میں داخل ہوگی(ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب النکاح    باب الولی    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۳۰۲)
 (۲) اس میں اختلاف کثیرہ ہیں۔ حازمی کی کتاب الناسخ والمنسوخ اوراتقان وغیرہ میں مفصل بیان ہے اوراختلاف کابڑا منشاء اختلاف اصطلاح بھی ہے
کمالایخفی علی من سیرونظروتامل وتدبر
 (جیساکہ اس شخص پرپوشیدہ نہیں جوگھوما پھرا، دیکھااور غوروفکرکیا۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
 (۳ ) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا اولی الناس بعیسی بن مریم فی الدنیا والاٰخرۃ لیس بینی وبینہ نبی۔ رواہ احمد ۲؎ والشیخان وابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
دنیاوآخرت میں سب سے زیادہ عیسٰی ابن مریم کاولی میں ہوں، مجھ میں اوران میں کوئی نبی نہیں(اس کوامام احمد، بخاری، مسلم اور ابوداؤد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ صحیح البخاری    کتاب الانبیاء    باب قول اﷲ تعالٰی واذکر فی الکتاب مریم      قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۴۸۹،۴۹۰)

(صحیح مسلم     کتاب الفضائل     ۲/ ۲۶۴ و ۲۶۵ وسنن ابی داؤد    ۲/ ۲۸۶)

(مسنداحمدبن حنبل    عن ابی ہریرہ    المکتب الاسلامی بیروت    ۲/ ۳۱۹)
دوسری حدیث میں ہے کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
انا دعوۃ ابراھیم وکان اٰخر من بشر بی عیسٰی بن مریم۔ رواہ الطیالسی۳؎ وابن عساکر وغیرھما عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث صحیحین اصح ماورد فی الباب، فلایعارضہ مایذکر من حدیث خالد بن سنان وغیرہ۔
میں اپنے باپ ابراہیم کی دعاہوں اور سب میں پچھلے میری بشارت دینے والے عیسٰی علیہم الصلوٰۃ والسلام تھے (اس کو طیالسی اورابن عساکر وغیرہ نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔ صحیحین کی حدیث اس باب میں صحیح ترین ہے، لہٰذا خالد بن سنان وغیرہ کی روایت سے مذکور حدیث اس کامعارضہ نہیں کرسکتی۔ت)
 (۳؎ کنزالعمال     حدیث ۳۱۸۸۹    مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۱/ ۴۰۵)
معہذا انبیاء علیہم السلام میں احتیاط یہ ہے کہ :
اٰمنّا بانبیاء اﷲ جمیعا لانفرق بین احد من رسلہ۔
ہم تمام انبیاء پرایمان لائے ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے۔
کہ بعض پرایمان لائیں اورمعاذاﷲ بعض پر نہیں، جیساکہ یہودونصارٰی خذلہم اﷲ تعالٰی نے کیا۔ اوربالیقین کسی کونبی ماننے کے لئے تواترشرط ہے، یہاں احاد کافی نہیں
لما تقرران الاحاد لاتفید الاعتماد فی مثل الاعتقاد واﷲ الھادی الٰی سبیل الرشاد
(کیونکہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اخبار احاد اعتقادیات جیسے امورمیں اعتماد کافائدہ نہیں دیتیں اوراﷲ تعالٰی ہی راہ ہدایت عطافرمانے والاہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۵۶ : مسئولہ سید شرف حسین صاحب ہیڈمحررسلطان پورضلع سہارن پور ۲۸محرم ۱۳۳۲ھ 

مطلع فرمائیے کہ
''اولی الامر منکم''۱؎
 (اوران کاحکم مانوجوتم میں حکومت والے ہیں۔ت) کی بابت رشیداحمدصاحب
''علماء وفقہاء''
تجویزفرماتے ہیں اوربعض علماء نے ''بادشاہ اسلام'' مرادلیاہے۔ لہٰذا آپ اپنی رائے بابت
''اولی الامر''
کے تجویزفرمائیے کہ کون ہیں جن کی اطاعت قرین اطاعت جناب رسول مقبول صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ہے اورنیز یہ بھی تحریر فرمائیے کہ جس نے امام وقت کونہ پہچانا اس کی موت جاہلیت پرہوگی، اس کاکیامطلب ہے؟ اوریہ بھی تحریرفرمائیے کہ جس وقت یزیدملعون تخت نشین تھا آیا وہ بھی
''اولی الامرمنکم''
میں شامل ہے یانہیں؟اگرنہیں ہے تواس وقت کون ''اولی الامر''تھا۔ مفصل ومشرح ''اولی الامر'' کے معنی اس وقت سے اس وقت تک کے تحریرفرمائیے۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۴/ ۵۹ )
الجواب :''اولی الامر''
میں اصح القول یہی ہے کہ اس سے مراد علمائے دین ہیں
کما نص علیہ الزرقانی وغیرہ
 (جیساکہ ا س پرزرقانی وغیرہ نے نص فرمائی ہے۔ت) نہ کہ سلاطین جن کے بہت احکام خلاف شرع ہوتے ہیں۔ یزیدپلید کے وقت میں بکثرت صحابہ کرام وتابعین اعلام تھے وہی ''اولی الامر'' تھے نہ کہ یزیدعلیہ مایستحقہ۔ ہررسالت کے زمانہ میں وہ رسول اوراس کی کتاب امام ہوتی ہے
قال تعالٰی کتٰب موسٰی اماماورحمۃ۲؎
 (اﷲ تعالٰی نے فرمایا: موسٰی علیہ السلام کی کتاب پیشوا اورمہربانی ہے۔ت) زمانہ ختمیت میں آخر دہرتک قرآن عظیم وحضورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امام ہیں، جس نے انہیں نہ پہچانا ظاہرکہ وہ جاہلیت کی موت مرا۔واﷲ تعالٰی اعلم
  (۲؎ القرآن الکریم    ۴۶/ ۱۲)
Flag Counter