Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
104 - 145
مسئلہ ۲۵۱: (سوال مذکورنہیں) ۲۸صفر۱۳۳۸ھ

الجواب:  (بجواب مسئلہ مولوی حکیم غلام محی الدین صاحب لاہوری)

فقیر کی رائے قاصریہ ہے کہ مولاناشاہ عبدالقادرصاحب کاترجمہ پیش نظررکھاجائے اور اس میں چارتبدیلیں محفوظ رہیں:
 (۱) وہ الفاظ کہ متروک یانامانوس ہوگئے، فصیح وسلیس ورائج الفاظ سے بدل دئیے جائیں۔

(۲) مطلب اصح جس کے مطالعہ کوجلالین کہ اصح الاقوال پراقتصار کاجن کوالتزام ہے سردست بس ہے، ہاتھ سے نہ جائے۔
 (۳) اصل معنی لفظ اورمحاورات عرفیہ دونوں کے لحاظ سے ہرمقام پراس کے کمال پاس رہے، مثلاً
غیرالمغضوب علیہم۵؎
کا یہ ترجمہ کہ جن پرغصہ ہوایاتونے غصہ کیا، فقیرکوسخت ناگوارہے۔ غصہ کے اصل معنی اُچھّوکے ہیں یعنی کھانے کاگلے میں پھنسنا، جیسے
طعامًا ذاغصۃ۶؎
فرمایا۔
 (۵؎ القرآن الکریم     ۱/ ۷)(۶؎القرآن الکریم    ۷۳/ ۱۳)
اس سے استعارہ کرکے ایسے غضب پر اس کااطلاق ہوتاہے جسے آدمی کسی خوف یالحاظ سے ظاہرنہ کرسکے، گویادل کاجوش گلے میں پھنس کررہ گیا۔ عوام کہ دقائق کلام سے آگاہ نہیں، فرق نہ کریں۔ مگراصل حقیقت یہی ہے کہ علماء پر اس کالحاظ لازم ہے۔ ترجمہ یوں ہوا: ''نہ ان کی جن پرتونے غضب فرمایا، یاجن پرتیراغضب ہے، یاجن پرغضب ہوا، یاجوغضب میں ہیں'' خیال کرنے سے ان کے ترجمہ میں اس کی بہت سی نظائر معلوم ہوسکتی ہیں۔
 (۴) سب سے اہم واعظم واقدم والزم مراعات ومتشابہات کہ ان میں ہمارے ائمہ کرام سے دومذہب ہیں:

اول ہم نصوص پرایمان لائے، نہ تاویل کریں نہ اپنی رائے کودخل دیں،
اٰمنّا بہ کل من عند ربنا۱؎
 (ہم اس پرایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔ت) معنی ہمیں معلوم ہی نہیں، ان سے اگر
قولہ تعالٰی ثم استوی الی السماء۲؎
کا ترجمہ کرائیے تو وہ فرمائیں گے:''پھراستواء فرمایا آسمان کی طرف'' اگرپوچھئے استوٰی کے کیامعنی، تولاندری (ہم نہیں جانتے۔ت) سے جواب ملے گا۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۳/۷)(۲؎القرآن الکریم   ۲/ ۲۹)
دوم تاویل کہ متاخرین نے تفہیم جہال کے لئے اختیارکیاکہ کسی خوبصورت معنی کی طرف پھیردیں جس کاظاہرشان عزت پرمحال نہ ہو۔ اورطرف تجویز وتجارب میں لفظ کریم سے قرب بھی رکھتاہو۔ ان سے اگرآیہ کریمہ مذکورہ کاترجمہ کرائیے تووہ کہیں گے: ''پھرآسمان کی طرف قصدفرمایا'' مگریہ کہ تفویض چھوڑیں اور تاویل بھی نہ کریں بلکہ معنی محال وظاہرکاصریح اداکرنے والا لفظ قائم کردیں جیسے کریمہ مذکورہ کاترجمہ ''پھرچڑھ گیاآسمان کو'' کہ چڑھنا اوراُترنا شان عزت پرمحال قطعی اورجہال کے لئے معاذاﷲ موہم بلکہ مصرح بہ جمسانیت ہے۔ یہ ہمارے ائمہ متقدمین کادین نہ متاخرین کامسلک۔ اس سے احتراز فرض قطعی ہے۔ فقیرنے جہاں تک دیکھا ترجمہ منسوبہ بحضرت قدسی منزلت سیدنامصلح الدین سعدی قدس سرہ العزیز اس عیب مشابہ سے پاک ومنزہ ہے، ان میں اس سے مدد لی جائے،
وباﷲ التوفیق۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۲: مسئولہ جناب محمدیعقوب صاحب بریلی     ۵ربیع الاول ۱۳۲۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب اﷲ عزوجل نے آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کوسجدہ کرنے کاحکم ملائکہ کودیا اورابلیس نے سجدہ نہ کیا، اس پرارشاد ہوا:
استکبرت ام کنت من العالین۱؎
کیاتونے تکبرکیا، کیاتوعالین سے تھا۔ یہ عالین کون لوگ ہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان کیجئے اجردئیے جاؤگے۔ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۳۸/ ۷۵)
الجواب : عالی بمعنی متکبر ہے،
قال اﷲ تعالٰی: ثم ارسلنا موسٰی واخاہ ھارون باٰیتنا وسلطٰن مبین۔ الٰی فرعون وملأہ فاستکبروا وکانوا قوما عالین۲؎۔
پھرہم نے موسٰی اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اورروشن حجت کے ساتھ فرعون اور اس کے جتھے کی طرف بھیجا توانہوں نے تکبرکیااوروہ تھے ہی متکبرلوگ۔
 (۲؎القرآن الکریم     ۲۳/ ۴۵ و ۴۶)
تومعنی آیت یہ ہوئے کہ رب عزوجل نے شیطان لعین سے فرمایا کہ تونے جوآدم کوسجدہ نہ کیایہ ایک تکبرتھا کہ اس وقت تجھے پیداہوا، یاتوقدیم سے متکبرہی تھا۔
تفسیرابن جریرمیں ہے:
یقول تعالٰی لابلیس تعظمت عن السجود لاٰدم فترکت السجود لہ استکبارا علیہ، ولم تکن من المتکبرین العالین قبل ذٰلک''ام کنت من العالین'' یقول ام کنت کذٰلک من قبل ذاعلو وتکبر علی ربک۳؎۔
اﷲ تعالٰی نے ابلیس سے فرمایاتونے حضرت آدم کے سجدہ سے اپنے کوبڑاسمجھا اوران پر بڑائی ظاہرکرتے تونے سجدہ ترک کیا دراصل تومتکبرین میں سے نہ تھا، یایہ کہ پہلے ہی سے اپنے رب پرعلو وتکبر ظاہرکرنے والاتھا۔

یایہ کہ تکبر خاص تجھی میں پیداہوا، یاتیری قوم ہی متکبرہے۔
(۳؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ ۳۸/ ۷۵    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲۳ /۲۱۷)
معالم میں ہے:
''ام کنت من العالین'' المتکبرین یقول استکبرت بنفسک ام کنت من القوم الذین یتکبرون فتکبرت عن السجود لکونک منھم۱؎۔
یاتو عالین متکبرین میں سے تھا۔ فرماتاہے کہ تونے خود ہی تکبرکیا، یا تومتکبرین کے گروہ میں سے تھا سجدہ سے تکبرکیا۔(ت)
 (۱؎ معالم التنزیل (تفسیرالبغوی)    تحت آیۃ ۳۸/۷۵    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۴/ ۶۰)
یاعالین کوبمعنی بلند ورفیع المرتبت لیں، اورمعنی یہ ہوں کہ تونے جوسجدہ نہ کیایہ تیراتکبرتھا کہ واقع میں تجھے آدم پربڑائی نہیں اوربراہ غرور آپ کوبڑاٹھہرایا، یاواقع ہی تجھے اس پر فضیلت۔
بیضاوی میں ہے:
''استکبرت ام کنت من العالین'' تکبرت من غیر استحقاق اوکنت ممن علا واستحق التفوق۲؎۔
تونے تکبرکیایاعالین میں سے تھا۔ مطلب یہ کہ بے استحقاق کے توغرور میں مبتلا ہوایاان میں سے تھا جن کو بلندی اورتفوق حاصل ہے۔
 (۲؎ انوارالتنزیل (تفسیرالبیضاوی)    تحت آیۃ ۳۸/۷۵     دارالفکربیروت     ۵/ ۵۵)
اوریہ معنی نہیں کہ ملائکہ میں کوئی گروہ عالین ہے کہ وہ حکم سجود سے مستثنٰی تھا
وان وقع فی کلام سیدنا الشیخ الاکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ
 (اگرچہ ہمارے سردار شیخ اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے کلام میں واقع ہواہے۔ت) رب عزوجل نے متعدد تاکیدوں سے مؤکد فرمایا۔
فسجد الملٰئکۃ کلھم اجمعون۳؎
تمام، جمیع، سب ملائکہ نے سجدہ کیا۔
فاللام للاستغراق واکدت بکل واکد باجمعون
 (لام استغراق کے لئے ہے پھر لفظ کل اور اجمعون کے ساتھ تاکید لائی گئی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۳؎ القرآن الکریم    ۳۸/۷۳)
Flag Counter