فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
103 - 145
فوائدتفسیریہ وعلوم قرآن
مسئلہ ۲۵۰: ازمدرسہ منظراسلام ۲۶/جمادی الاولٰی ۱۳۲۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ شان نزول اس آیت شریفہ کا :
ومنھم من عاھد اﷲ لئن اٰتٰنا من فضلہ لنصدقن ولنکونن من الصالحین۱؎۔ الآیۃ
اوران میں سے کوئی وہ ہیں جنہوں نے اﷲ سے عہد کیاتھا کہ اگرہمیں اپنے فضل سے دے گا توہم ضرورخیرات کریں گے اورہم ضرور بھلے آدمی ہوجائیں گے(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۹/ ۷۵)
حدیث ثعلبہ ابن حاطب ہے یااورکوئی حدیث؟ حدیث ثعلبہ کی صحیح یاحسن یاضعیف یاموضوع؟ یہ ثعلبہ ابن حاطب بدری ہے یااورکوئی؟
الجواب: بدری حضرت سیدنا ثعلبہ بن حاطب بن عمرو بن عبیدانصاری ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ اور یہ شخص جس کے باب میں یہ آیت اتری ثعلبہ ابن ابی حاطب ہے اگرچہ یہ بھی قوم اَوس سے تھا۔ اوربعض نے اس کانام بھی ثعلبہ ابن حاطب کہا۔ مگروہ بدری خودزمانہ اقدس حضورپرنورصلی اﷲ علیہ وسلم میں جنگ اُحد میں شہیدہوئے۔ اوریہ منافق زمانہ خلافت امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں مرا۔ جب اس نے زکوٰۃ دینے سے انکارکیا اور آیہ کریمہ اس کی مذمت میں اتری۔ حضورپرنور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں زکوٰۃ لے کرحاضرہوا حضورنے قبول نہ فرمائی۔ پھرصدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی خلافت میں لایا انہوں نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تیری زکوٰۃ قبول نہ فرمائی اورمیں قبول کرلوں، ہرگز نہ ہوگا۔ پھرخلافت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں حاضرلایا، فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وابوبکر قبول نہ فرمائیں اورمیں لے لوں یہ کبھی نہ ہوگا۔ پھرخلافت عثمن ذی النورین غنی رضی اﷲ عنہ میں لایا، فرمایارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصدیق وفاروق نے قبول نہ فرمائی میں بھی نہ لوں گا۔ آخر انہیں کی خلافت میں مرگیا۔
اﷲ عزوجل اہل بدررضی اﷲ تعالٰی عنہم کی نسبت فرماچکا:
حدثنی محمد ابن سعد حدثنی ابی حدثنی عمی حدثنی ابی عن ابیہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما ان رجلا یقال لہ ثعلبۃ ابن ابی حاطب اخلف ماوعدہ فقصّ اﷲ تعالٰی شانہ فی القراٰن ومنھم عاھداﷲ الٰی قولہ یکذبون۱؎۔
مجھ سے محمدبن سعد نے بیان کیاانہوں نے کہامجھ سے میرے باپ نے بیان کیااس نے کہامجھ سے میرے چچانے بیان کیااس نے کہا مجھ سے میرے باپ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا انہوں نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیاایک شخص کوثعلبہ بن ابی حاطب کہاجاتاہے جس نے اﷲ تعالٰی کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی کی اﷲ تعالٰی نے اس کے حال کو قرآن مجید میں بیان فرمایایعنی ''ومنھم من عٰھداﷲ'' سے ''یکذبون'' تک۔(ت)
(۱؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ ۹/ ۷۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۰/ ۲۱۳)
تفسیرمعالم میں ہے:
قال الحسن ومجاھد نزلت فی ثعلبۃ بن ابی حاطب۲؎ الخ۔
امام حسن اورمجاہد نے کہایہ آیت ثعلبہ بن ابی حاطب کے بارے میں نازل ہوئی الخ(ت)
تفسیرابن جریروثعلبی وغیرہم میں حضت ابوامامہ باہلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی :
فانزل اﷲ تعالٰی فیہ ومنھم من عاھداﷲ الخ وعند رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رجل من اقارب ثعلبۃ فسمع ذٰلک فخرج حتی اتاہ فقال ویحک یاثعلبۃ قد انزل اﷲ فیک کذا وکذا فخرج ثعلبۃ حتی اتی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فسألہ ان یقبل منہ صدقتہ فقال ان اﷲ منعنی ان اقبل منک صدقتک، ثم اتی ابابکر حین استخلف فقال اقبل صدقتی فقال ابوبکر لم یقبلھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وانا اقبلھا؟ فلما ولی عمراتاہ فقال یاامیرالمؤمنین اقبل صدقتی فقال لم یقبلھا، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولاابوبکر وانا لااقبلھا ثم ولی عثمان فاتاہ فسألہ فقال لم یقبلھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولاابوبکر ولاعمررضوان اﷲ تعالٰی علیھما وانا لااقبلھا منک فلم یقبلھا منہ وھلک ثعلبۃ فی خلافۃ عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ۱؎ اھ مختصراً۔
تواﷲ تعالٰی نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ''اور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اﷲ سے عہد کیاتھا'' الخ اس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس ثعلبہ کے قریبی رشتہ داروں میں سے ایک شخص موجودتھا جس نے اس آیت کو سنا تووہ وہاں سے نکلا اورثعلبہ کے پاس آکے کہااے ثعلبہ! تیرے لئے ہلاکت ہو اﷲ تعالٰی نے تیرے بارے میں ایسا ایساحکم نازل فرمایاہے۔ توثعلبہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس حاضرہوااوردرخواست کی کہ اس کاصدقہ قبول کیاجائے تونبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اﷲ تعالٰی نے مجھے منع فرمادیا ہے کہ میں تیرا صدقہ قبول کروں۔ پھر جب ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ خلیفہ بنے توثعلبہ نے ان کے پاس آکرکہا میراصدقہ قبول کرلیں۔ ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا اورمیں قبول کرلوں؟ جب حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ امیرالمومنین بنے توثعلبہ نے آکرکہااے امیرالمومنین! میراصدقہ قبول فرمالیں تو آپ نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا اورنہ ہی ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اسے قبول فرمایا اورمیں بھی اس کوقبول نہیں کرتا۔ پھرجب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ امیرالمومنین بنے تواس نے آکر صدقہ قبول کرنے کی درخواست پیش کی آپ نے فرمایا اسے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا اورنہ ہی ابوبکروعمررضی اﷲ تعالٰی عنہما نے قبول فرمایا تومیں بھی اسے قبول نہیں کرتا ہوں۔ چنانچہ آپ نے قبول نہیں فرمایا اورآپ ہی کی خلافت میں ثعلبہ مرگیااھ اختصار(ت)
(۱؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ ۹/ ۷۵ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۰/ ۲۱۴)
یہ سب اس حدیث ثعلبہ کی تسلیم پرہے، ورنہ وہ سرے سے ثابت الصحت نہیں۔ امام ابن حجر عسقلانی نے اصابہ میں فرمایا:
ان صح الخبر ولااظنہ یصح۲؎۔
اگریہ خبرصحیح ہو اورمیں اس کو صحیح گمان نہیں کرتا(ت)
اقول: یہ حدیث ابی امامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ جس میں بجائے ابن ابی حاطب، ابن حاطب کہا۔ ابن جریر وبغوی وثعلبی وابن السکن وابن شاہین وباوردی سب کے یہاں بطریق معاذابن رفافہ عن علی بن یزید عن القاسم عن ابی امامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہے، اورعلی بن یزید میں کلام معلوم ہے۔ حافظ الشان نے تقریب میں فرمایا: ضعیف۱؎۔ امام دارقطنی نے فرمایا: متروک امام بخاری نے فرمایا:
منکرالحدیث۳؎۔
اورفرمایا:
کل من اقول: فیہ منکرالحدیث لاتحل الروایۃ عنہ
جسے میں منکرالحدیث کہوں اس سے روایت حلال نہیں۔(ت)
(۱؎ تقریب التہـذیب ترجمہ علی بن یزید ۴۸۳۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۷۰۵)
(۲؎ میزان الاعتدال بحوالہ الدارقطنی ترجمہ علی بن یزید ۵۹۶۶ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۶۱)
(۳؎ میزان الاعتدال بحوالہ الدارقطنی ترجمہ علی بن یزید ۵۹۶۶ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۶۱)
(۴؎میزان الاعتدال ترجمہ ابان بن حبلہ ۳ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۶)