(۲؎ القرآن الکریم ۷۵/ ۱۷)
پھرجمع عزوجل کے مظہراول واتم واکمل حضورسید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہوئے۔ آیات قرآنیہ اسی ترتیب جمیل پرکہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے مطابق ترتیب لوح محفوظ حسب تبلیغ جبریل وتعلیم جلیل صاحب تنزیل صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم زمانہ اقدس میں اپنی اپنی سورتوں میں جمع ہولیں، قرآن عظیم ۲۳برس میں حسب حاجت عبادت متفرق آیتیں ہوکر اُترا، کسی سورت کی کچھ آیات اترتیں پھر دوسری سورت کی آیتیں آتیں پھرسورت اولٰی کی نازل ہوتیں، حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہربارارشاد فرماتے کہ یہ آیات فلاں سورت کی ہیں فلاں آیت کے بعد فلاں کے پہلے رکھی جائیں،
اسی طرح سورہ قرآنیہ منتظم ہوتیں، اور حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پھر حضورسے سن کر صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم اسی ترتیب پر اسے نمازوں تلاوتوں میں پڑھتے، قرآن عظیم صرف ایک واحد لغت قریش پرنازل ہوا، عرب میں مختلف قبائل اوران کے لہجے باہم حرکات وسکنات وبعض اجزائے کلمات میں مختلف تھے، علامات مضارع کوقریش مفتوح رکھتے، دیگربعض قبائل ا ت ن کو مکسور کرکے نِعْبد نِستِعین کہتے، لغت قریش میں 'تابوت' آخرمیں تائے قرشت سے تھا دوسروں کے لغت میں 'تابوۃ' ہائے ہوّز سے۔ اسی قسم کے بالائی اختیارات بکثرت تھے جن سے معنی کلام بلکہ جوہرنظم کوبھی کوئی ضررنہ پہنچتا، اورمادری لہجہ زبانوں پرچڑھاہوادفعۃً بدل دینا سخت دشوار۔ لہٰذا حضورپرنور رحمت مہدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے رب سے عرض کرکے دیگر قبائل والوں کے لئے ان کے لہجوں کی رخصت لے لی تھی، جبریل امین علیہ التحیۃ والتسلیم ہررمضان مبارک میں جس قدر قرآن عظیم اب تک اترچکاہوتا حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ اس کا دور کرتے جو سنت سنیہ اب تک بحمداﷲ تعالٰی حفّاظ اہلسنّت میں باقی ہے اورباقی رہے گی
حتّٰی یاتی امراﷲ وھم علٰی ذٰلک
(یہاں تک کہ اﷲ تعالٰی کاامر آجائے گا اور وہ اس پرقائم ہوں گے۔ت) سال اخیرمیں حامل وحی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دوبارہ صرف اصل لغت قریش پر جس میں قرآن مجید نازل ہواتھا حضورپرنور صلی اﷲ تعالٰی علہ وسلم کے ساتھ دَورکیا اور اس تکرار سے اشارہ ہواکہ وہ رخصت منسوخ اور اب صرف اسی لغت پر جس میں اصل نزول ہے استقرار امرہوا۔ سُوَر اگرچہ زمانہ اقدس میں مرتب ہوچکی تھیں مگریکجا مجتمع نہ تھیں متفرق پرچوں، بکری کے شانوں وغیرہا میں متفرق جگہ تھیں سو ان مبارک سینوں کے جن میں سارا قرآن عظیم محفوظ تھا حال یہی تھا یہاں تک کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نظرعوام سے احتجاب فرمایا، خلافت خلیفہ برحق صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ میں جنگ یمامہ واقع ہوئی جس میں بکثرت صحابہ کرام حافظان قرآن شہید ہوئے، حافظ حقیقی جامع ازلی جل جلالہ نے اپناوعدہ صادقہ
(اوربیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔ت)
پورافرمانے کو پہلے یہ کریم داعیہ قلب کریم حضرت موافق الرائے بالوحی والکتاب سیدنا امیرالمومنین عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں ڈالا حضرت فاروق نے بارگاہ صدیقی میں عرض کی کہ جنگ یمامہ میں بہت حفّاظ شہید ہوئے اورمیں ڈرتاہوں کہ یوں ہی قرآن متفرق پرچوں میں رہا اور حفاظ شہادت پاگئے تو بہت ساقرآن مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتارہے گا میری رائے ہے کہ حضرت جمع قرآن کاحکم فرمائیں، صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو ابتداءً اس میں تامل ہوا کہ جو فعل حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نہ کیا ہم کیونکرکریں۔ فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کیاکہ اگرچہ حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نہ کیا مگرو اﷲ وہ کام خیرکا ہے بالآخر رائے صدیق بھی موافق ہوئی اورزیدبن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ کوبلاکرفرمان خلافت نسبت جمع کتاب اﷲ صادرہوازیدرضی اﷲ تعالٰی عنہ کوبھی وہی شبہہ پیش کہ کیونکرکیجئے گا وہ کام جو حضورسیدالانام علیہ افضل الصلٰوۃ والسلام نے نہ کیا۔ صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ نے وہ جواب دیاکہ اگرچہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نہ کیا مگرواﷲ وہ کام خیرکاہے، یہاں تک کہ صدیق وفاروق وزیدبن ثابت وجملہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے اجماع سے یہ مسئلہ طے ہوااورقرآن عظیم متفرق مواضع سے جمع کرلیاگیا، اوروہابیہ کایہ شبہہ جس پرآدھی وہابیت کادارومدارہے کہ جو فعل حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نہ کیا دوسراکیا ان سے زیادہ مصالح دین جانتاہے کہ اسے کرے گا باجماع صحابہ مردودقرارپایا،
سُوَرِقرآنیہ اگرچہ متفرق مواقع سے ایک مجموعہ میں مجتمع ہوگئی تھیں اور وہ مجموعہ صدیق پھرفاروق پھر ام المومنین حفصہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے پاس تھا مگر ہنوزتین کام باقی تھے:
(۱) ان مجموع صحیفوں کاایک مصحف واحد میں نقل ہونا
(۲) اس مصحف کے نسخے معظم بلاداسلام مملکت اسلامیہ کے عظیم عظیم قسمتوں میں تقسیم ہونا۔
(۳) رخصت سابقہ کی بناپرجوبعض اختلافات لہجہ کے آثار کتابت قرآن عظیم میں متفرق لوگوں کے پاس تھے اور وہ قرآن عظیم کے حقیقی اصل منزّل من اﷲ ثابت مستقرغیرمنسوخ لہجے سے جداتھے دفع فتنہ کے لئے ان کامحو ہونا۔
یہ تینوں کام حفظ حافظ حقیقی جامع ازلی جلالہ نے اپنے تیسرے بندے امیرالمومنین جامع القرآن ذی النورین عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے لیا اورقرآن عظیم کاجمع کرنا حسب وعدہ الٰہیہ تام وکامل ہوااس لئے اس جناب کوجامع القرآن کہتے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔