Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی )
101 - 145
حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے عہد میں لوگوں میں قرآن مجید کے اندراس قدر اختلاف پڑگیا جس کی وجہ سے پڑھنے والے بچوں اورپڑھانے والے اساتذہ میں لڑائی ہونے لگی، حضرت عثمان غنی رضی اﷲتعالٰی عنہ کوخبرپہنچی توانہوں نے فرمایا کہ تم میرے سامنے قرآن کوجھٹلاتے اوراس میں غلطی کرتے ہو توجومجھ سے دورہیں وہ اس سے بھی زیادہ جھٹلاتے اورغلطی کرتے ہوں گے، اے اصحاب محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم! جمع ہوجاؤ اورلوگوں کے لئے ایک امام (قرآن) لکھو۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے جمع ہوکر قرآن لکھا۔ اس حدیث کوابن اشتہ نے ایوب کے طریق پر ابوقلابہ سے روایت کیا، اس نے کہا مجھ سے بنی عامر کے ایک مرد نے بیان کیاجس کوانس بن مالک کہاجاتاہے، پھروہی حدیث مذکورذکرکی۔(ت)
(۱؎ الاتقان     بحوالہ ابن اشتہ    النوع الثامن عشر    مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۹)
سیدنا مولاعلی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم فرماتے ہیں:
لاتقولوا فی عثمٰن الاّخیرا فواﷲ مافعل فی المصاحف الامن ملأمنا قال ماتقولون فی ھذا القراءۃ فقد بلغنی ان بعضھم یقول ان قراءتی خیرمن قرائتک وھٰذا یکادیکون کفرا قلنا فما تری، قال اری ان یجمع الناس علٰی مصحف واحد فلاتکون فرقۃ ولااختلاف قلنا نعم مارأیت۱؎۔ رواہ ابوبکر بن ابی داؤد بسند صحیح عن سوید بن غفلۃ قال قال علی رضی اﷲ تعالٰی فذکرہ۔
یعنی عثمان کے حق میں سوائے کلمہ خیرکے کچھ نہ کہو خداکی قسم معاملہ مصاحف میں انہوں نے جوکچھ کیاہم سب کے مشورہ واتفاق سے کیاانہوں نے ہم سے کہاکہ تم ان مختلف لہجوں میں کیا کہتے ہو مجھے خبرپہنچی ہے کہ کچھ لوگ اوروں سے کہتے ہیں میری قرأت تیری قرأت سے اچھی ہے اور یہ بات کفرکے قریب تک پہنچی ہوئی ہے، ہم نے کہا بھلاآپ کی کیارائے ہے، فرمایامیری رائے یہ ہے کہ سب لوگوں کوایک مصحف پرجمع کردیں کہ پھرباہم نزاع واختلاف نہ ہو، ہم سب نے کہاآپ کی رائے بہت خوب ہے(اس کو ابوبکربن ابوداؤدنے سندصحیح کے ساتھ سویدبن غفلہ سے ذکرکیاکہ حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایاپھرحدیث مذکورذکرکی۔ت)
 (۱؎ الاتقان    بحوالہ ابن اشۃ    النوع الثامن عشر    مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۹)
اتقان میں ہے:
قال ابن التین وغیرہ الفرق بین جمع ابی بکر وجمع عثمٰن ان جمع ابی بکر کان لخشیۃ ان یذھب من القراٰن شیئ بذھاب حملتہ لانہ لم یکن مجموعا فی موضع واحد فجمعہ فی صحائف مرتبا لاٰیات سورۃ علی ماوقفھم علیہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، وجمع عثمٰن کان لما کثرالاختلاف فی وجوہ القرأۃ حین قرؤوہ بلغاتھم علی اتساع اللغات فادی ذٰلک بعضھم الٰی تخطئۃ بعض فخشٰی من تفاقم الامر فی ذٰلک فنسخ تلک الصحف فی مصحف واحد مرتبا لسورہ واقتصر من سائر اللغات علٰی لغۃ قریش محتجّابانّہ نزل بلغتھم، وان کان قدوسّع فی قرأتہ بلغۃ غیرھم رفعا للحرج والمشقۃ فی ابتداء الامر فرأی ان الحاجۃ الی ذٰلک انتھت فاقتصر علی لغۃ واحدۃ۱؎۔
ابن تین وغیرہ نے کہاکہ ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے قرآن جمع کرنے میں فرق یہ ہے کہ ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کاجمع کرنا اس خوف سے تھاکہ قراء قرآن کی شہادت کے سبب سے قرآن کاکچھ ضائع نہ ہوجائے کیونکہ قرآن مجیدیکجانہ تھا، چنانچہ ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے قرآن مجید کوصحیفوں میں اس طرح جمع کردیاکہ ہرایک سورت کی آیتیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بیان کے مطابق مرتب کرکے درج فرمادیں۔ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ا س وقت قرآن مجید جمع فرمایا جب قرأت کی وجوہ میں بکثرت اختلاف واقع ہوا۔ جبکہ عربوں نے وسیع لغات کی بناء پر اپنی اپنی زبانوں میں الگ الگ قرأت میں قرآن پڑھناشروع کردیا اورایک زبان والے دوسری زبان والوں کی قرأت کوغلط قراردینے لگے توحضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کولوگوں کے درمیان معاملہ سے حد سے بڑھ جانے کاخوف محسوس ہوا اس لئے آپ نے تمام صحیفوں کوایک مصحف میں سورتوں کی ترتیب کے ساتھ جمع کردیا اورتمام لغات کوچھوڑکر صرف لغت قریش پراکتفاء کیا۔ اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ قرآن مجید لغت قریش پرنازل ہوا اگرچہ حرج اورمشقت سے بچنے کے لئے شروع شروع غیرقریش کی لغات میں پڑھنے کی بھی اجازت تھی، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے سمجھا کہ اب اس کی حاجت نہیں رہی۔ لہٰذاآپ نے ایک ہی لغت پرانحصار فرمایا۔(ت)
 (۱؎ الاتقان     النوع الثامن عشر    مصطفی البابی مصر    ۱/ ۶۰۔۵۹)
امام بدرالدین عینی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں:
کان ھذا سببا لجمع عثمٰن القراٰن فی المصحف، والفرق بینہ وبین الصحف ان الصحف ھی الاوراق المحررۃ التی جمع فیھا القراٰن فی عھد ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وکانت سورا مفرقۃ کل سورۃ مرتبۃ باٰیاتھا علٰی حدۃ، لکن لم یرتب بعضھا اثربعض فلما نسخت و رتب بعضھا اثربعض صارت مصحفا، ولم یکن مصحفا الا فی عھد عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔۱؎
یہ تھا سبب حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مصحف میں قرآن جمع کرنے کا۔ صحیفوں اورمصحف میں فرق یہ ہے کہ صحیفے وہ اوراق ہیں جن میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے عہد مبارک میں قرآن مجید لکھاگیا تھا اس میں سورتیں الگ الگ تھیں، ہرسورت اپنی آیات کے ساتھ الگ مرتب تھی لیکن بعض کوبعض کے بعد بالترتیب نہیں رکھاگیاتھا، جب ان کو اس طرح لکھاگیا بعض سورتوں کوبعض کے بعد بالترتیب رکھاگیا تومصحف بن گیا۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے عہدسے پہلے مصحف نہ تھا۔(ت)
(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری    کتاب فضائل القرآن     باب جمع القرآن ادارۃ الطباعۃ المنیریہ مصر ۲۰/ ۱۸)
عمدۃ القاری واتقان شریف میں ابوبکر بن ابی داؤد سے منقول:
قال سمعت اباحاتم السجستانی یقول کتب سبعۃ مصاحف فارسل الی مکۃ و الی الشام والی الیمن والی البحرین و الی البصرۃ والی الکوفۃ وحبس بالمدینۃ واحد۲؎۔
اس نے کہامیں نے ابوحاتم سجستانی کوکہتے سناکہ حضرت عثمان نے سات مصحف تحریرفرمائے۔ ایک مکہ مکرمہ، ایک شام، ایک یمن، ایک بحرین، ایک بصرہ اورایک کوفہ میں بھیج دیا جبکہ ایک مدینہ منورہ میں رکھ لیا۔(ت)
 (۲؎عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری    کتاب فضائل القرآن     باب جمع القرآن ادارۃ الطباعۃ المنیریہ مصر ۲۰/ ۱۸)
امام قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
(حتی اذا نسخوا الصحف فی المصاحف ردعثمن الصحف الٰی حفصۃ) فکانت عندھا حتی توفیت فاخذھا مروان حین کان امیرا علی المدینۃ من قبل معٰویۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فامربھا فشققت وقال انما فعلت ھذا لانی خشیت ان طال بالناس زمان ان یرتاب فیھا مرتاب رواہ ابن ابی داؤد وغیرہ۔۳؎
یہاں تک کہ جب انہوں نے صحیفے مصحف میں رکھ لئے توحضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے وہ صحیفے حضرت حفصہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کوواپس بھیج دئیے، وہ وصال تک حضرت حفصہ کے پاس رہے، پھرمروان امیرمعاویہ کی طرف سے مدینہ منورہ کاامیربنا تو اس نے ان کولے کر پھاڑدینے کاحکم دیا اورکہاکہ میں نے یہ اس لئے کیاہے کہ زیادہ عرصہ گزرجانے پرکوئی شک کرنے والا اس میں شک نہ کرے۔ اس کو ابن ابی داؤد وغیرہ نے روایت کیاہے۔(ت)
 (۳؎ ارشادالساری  شرح صحیح البخاری    کتاب فضائل القرآن     باب جمع القرآن     دارالکتا ب العربی بیروت     ۷/ ۴۴۹)
اسی میں ہے:
کان التالیف فی الزمن النبوی والجمع فی المصحف فی زمن الصدیق والنسخ فی المصاحف فی زمن عثمٰن وقدکان القراٰن کلہ مکتوبا فی عھدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لکنہ غیر مجموع فی موضع واحد ولامرتب السور۱؎۔ انتہی واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
قرآن مجید کی تالیف عہدنبوی میں ہوئی۔ صحیفوں میں جمع زمانہ صدیقی میں ہوا اورمصاحف میں اس کی کتابت زمانہ عثمانی میں ہوئی۔ بے شک سارا قرآن مجیدنبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ میں لکھاہواتھا لیکن وہ سارا یکجا لکھاہوانہیں تھا اورنہ ہی سورتیں ترتیب وارلکھی ہوئی تھیں۔(ت)واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
 (۱؎ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری    کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن    دارالکتاب العربی بیروت    ۷/ ۴۴۶)
Flag Counter