| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۶ (کتاب الفرائض ، کتاب الشتّٰی ) |
قال ارسل الی ابوبکر مقتل اھل الیمامۃ فاذا عمر بن الخطاب عندہ فقال ابوبکر ان عمر افانی فقال ان القتل قداستحر یوم الیمامۃ بقراء القراٰن وانی اخشی ان یستحر القتل بقرّاء بالمواطن فیذھب کثیر من القراٰن وانی ارٰی ان تامر بجمع القراٰن قال زید قال ابوبکر انک رجل شاب عاقل لا نتّھمک وقد کنت تکتب الوحی لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فتتبع القراٰن فاجمعہ فتتبعت القراٰن اجمعہ من العسب واللخاف وصدور الرجال ، فکانت الصحف عند ابی بکر حتی توفاہ اللہ ثم عند عمر حیاتہ ثم عند حفصۃ بنت عمر ۱؎ھذا مختصراً۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا جنگ یمامہ کے موقع پر حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مجھے بلوایا ،میں حاضر ہو ا تو دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی وہاں موجودتھے ، ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا میرے پاس حضرت عمر آئے ہیں اور کہاہے کہ جنگ یمامہ میں بہت سےقراء قرآن شہیدہوئے ہیں ، مجھے خوف ہے کہ اگرجنگوں میں قراء کثرت سے سے شہیدہوتےرہے توقرآن مجید کابہت سا حصہ ضائع ہوجائے گا میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن مجید کو جمع کرنے کاحکم دیں،حضرت زید نے کہاحضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مجھے فرمایا تم ایک نوجوان عقلمند مرد ہو ہم آپ کو کسی معاملے میں تہمت نہیں لگاتے اور آپ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی وحی لکھاکرتے تھے پس قرآن مجید تلاش کرو اور اس کوجمع کردو، چنانچہ میں نے قرآن مجید کو ڈھونڈا اور اس کو کھجور کے پٹھوں ، پتھرکی سلوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرتا تھاوہ صحیفے حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی وفات تک ان کے پاس رہے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کےپاس رہے آپ کے وصال کے بعد سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ تعالی عنھا کے پاس موجود رہے (اختصار )۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۴۶، ۷۴۵)
اس حدیث طویل کاخلاصہ وہی ہے کہ بعد جنگ یمامہ فاروق نے صدیق کو جمع قرآن کا مشورہ اور صدیق نے زید بن ثابت کو اس کا حکم دیا کہ متفرق پرچوں سے سب سورتیں یکجا ہو کر صدیق پھر عمر فاروق پھر ام المومنین کے پاس رہیں رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین ۔
امیر المومنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں :
اعظم الناس فی المصاحف اجرا ابوبکر رحمۃ اﷲ علٰی ابی بکر، ھو اول من جمع کتاب اﷲ، رواہ ابن ابی داؤد المصاحف۱؎ بسند حسن عن عبد خیر قال سمعت علیا یقول فذکرہ۔
مصاحف میں سب سے زیادہ ثوا ب ابوبکر کا ہے اﷲ ابوبکرپررحمت کرے سب سے پہلے انہیں نے قرآن جمع کیا۔ (اس کو ابن ابی داؤد نے مصاحف میں سندحسن کے ساتھ عبدخیرسے روایت کیاانہوں نے کہا کہ میں نے حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو فرماتے سنا، پھروہی حدیث ذکرکی۔ت)
(۱؎ الاتقان بحوالہ ابن ابی داؤد فی المصاحف النوع الثامن عشر مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۷)
امام اجل عارف باﷲ محاسبی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کتاب فہم السنن میں فرماتے ہیں:
کتابۃ القراٰن لیست بمحدثۃ فانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یأمر بکتابتہ ولکنہ کان مفرقا فی الرقاع والاکتاف والعسب فانما امرالصدیق بنسخھا من مکان الی مکان مجتمعا وکان ذٰلک بمنزلۃ اوراق وجدت فی بیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیھا القراٰن منتشر فجمعھا جامع وربطھا بخیط حتی لایضیع منھا شیئ۔ نقلہ فی الاتقان۲؎۔
یعنی قرآن کالکھنا کوئی نیاکام نہیں یہ توزمانہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں بحکم اقدس ہوچکاتھا مگرمتفرق تھاپارچوں، شانے کی ہڈیوں اورکھجور کے پٹھوں پرلکھاہواتھا صدیق نے یکجا کردیاتو گویا کہ یہ ایساہوا کہ قرآن کے اوراق جوحضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے کاشانہ مبارک میں منتشرتھے وہ جمع کرنے والے نے ایک ڈورے میں باندھ دئیے تاکہ اس میں سے کوئی شے ضائع نہ ہو۔(اس کواتقان میں نقل کیا۔ت)
(۲؎الاتقان بحوالہ الحارث المحاسبی فی کتاب فہم السنن النوع الثامن عشر مصطفی البابی مصر ۱/ ۵۸)
صحیح بخاری شریف میں ہے:
حدثنا موسٰی ثناابراھیم ثنابن شھاب ان انس بن مالک حدثہ ان حذیفۃ بن الیمان قدم علٰی عثمٰن وکان یغازی اھل الشام فی فتح ارمینیۃ واٰذربیجان مع اھل العراق فافزع حذیفۃ اختلافھم فی القرأۃ فقال حذیفۃ لعثمان یاامیرالمؤمنین ادرک ھذہ الامّۃ قبل ان یختلفوا فی الکتاب اختلاف الیھود والنصارٰی فارسل عثمٰن الی حفصۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا ان ارسلی الینا بالصحف ننسخھا فی المصاحف ثم نردّھا الیک فارسلت بھا حفصۃ الٰی عثمٰن فامر زید بن ثابت وعبداﷲ بن زبیربن وسعید بن العاص وعبدالرحمٰن بن الحارث بن ھشام فنسخوھا فی المصاحف و قال عثمٰن للرھط القرشیین الثلثۃ اذا اختلفتم انتم وزید بن ثابت فی شیئ من القراٰن فاکتبوہ بلسان قریش فانما نزل بلسانھم ففعلوا حتّٰی اذا نسخوا الصحف فی المصاحف رد عثمٰن الصحف الٰی حفصۃ وارسل الٰی کل افق بمصحف ممّا نسخوا وامر بماسواہ من القراٰن فی کل صحیفۃ او مصحف ان یحرق۱؎۔
ہمیں موسٰی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہاہمیں ابراہیم نے انہوں نے کہا ہمیں ابن شہاب نے حدیث بیان کی کہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سیدنا حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس آئے جبکہ وہ اہل شام اوراہل عراق کوآرمینیہ اورآذربیجان کے ساتھ جنگ کرنے اور ان کوفتح کرنے کے لئے لشکرتیار کررہے تھے، حذیفہ کو اہل شام اوراہل عراق کے قرآن پڑھنے کے اختلاف نے گھبراہٹ میں ڈال دیاتو انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے کہا اے امیرالمومنین! اس امت کویہود ونصارٰی کی طرح کتاب اﷲ میں اختلاف کرنے سے روکیں، حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کسی کو ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے پاس بھیجاکہ وہ صحیفے ہمارے پاس بھیج دیں ہم ان کومصحف میں لکھ کرپھرآپ کو واپس کردیں گے۔ ام المومنین حفصہ رضی اﷲ تعالٰی عنہانے صحیفے امیرالمومنین کے پاس بھیج دئیے توانہوں نے زیدبن ثابت، عبداﷲ بن زبیر، سعیدبن عاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کوحکم دیا،انہوں نے اس کو مصاحف میں لکھ دیا۔ حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشیوں کوحکم دیا کہ جب تمہارا اورزیدبن ثابت کاقرآن مجید کے کسی کلمے میں اختلاف ہوجائے تو اس کو لغت قریش کے مطابق لکھو کیونکہ قرآن مجید صرف لغت قریش پرنازل ہوا۔ انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حکم کی تعمیل کی حتی کہ جب انہوں نے صحیفوں کومصاحف میں لکھ دیا توحضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے وہ صحیفے ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کوواپس بھیج دئیے، اور ملک کے ہرکونے میں ایک مصحف بھیج دیا جوانہوں نے لکھاتھا اورحکم دیااس کے سواجوقرآن کسی صحیفہ یامصحف میں ہے اس کوجلادیاجائے۔(ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۴۶)
دیکھو یہ حدیث صحیح بخاری صاف گواہ عدل ہے کہ امیرالمومنین عثمان غنی نے اختلاف لہجہ ولغات سن کر صحیفہائے صدیقی حضرت حفصہ سے منگائے اورانہیں کی نقلوں سے مصحف بناکر بلاداسلام میں بھیجے اور وہ صحیفے بعد نقل حضرت ام المومنین کوواپس دئیے رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔
ابن اشتہ کتاب المصاحف میں راوی: اختلفوا فی القراءۃ علی عھد عثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنہ حتی اقتتل الغلمان والمعلمون فبلغ ذٰلک عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالٰی عنہ فقال عندی تکذبون بہ وتلحنون فیہ، فمن نأی عنی کان اشد تکذیبا واکثر لحنا یا اصحاب محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اجتمعوا فاکتبوا للناس اماما فاجتمعوا فکتبوا الحدیث رواہ من طریق ایوب عن ابی قلابۃ قال حدثنی رجل من بنی عامر یقال لہ انس بن مالک۱؎، فذکرہ۔