Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
99 - 135
مگرنصف ثمن کہ دوسرے نبیرئہ نابالغ کوہبہ کیایہ ہبہ باطل ہواکہ حسب تصریح مسائل یہاں کوئی بیع پہلے نہ ہوئی تھی یہی بیعنامہ ایجاب بیع تھااوراس میں ہبہ ثمن لکھاگیا اورحق بالغ میں نفس ایجاب سے بیع تمام نہ ہوئی اورثمن واجب نہیں ہوتا جب تک بیع کے دونوں رکن ایجاب وقبول متحقق نہ ہولیں تویہ ہبہ اس وقت ہواکہ ابھی ثمن اس نبیرہ بالغ پرواجب ہی نہ ہوا تھا اور ہبہ قبل وجوب باطل ہے۔
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے :
لوقال بعتک ھذا الشیئ بعشرۃ دراھم ووھبت لک العشرۃ ثم قبل المشتری البیع جازالبیع ولایبرء المشتری عن الثمن لان الثمن لایجب الابعد قبول البیع فاذا ابرأ عن الثمن قبل القبول کان برأ قبل السبب فلایصح۔۲؎
اگرکسی شخص نے کہایہ شیئ میں نے تیرے ہاتھ دس درہم کے عوض فروخت کردی اوردس درہم تجھے ہبہ کردئیے پھرمشتری نے قبول کرلیا توبیع جائزہوگئی اورمشتری ثمنوں سے بری نہ ہوگاکیونکہ ثمن قبول بیع کے بعد واجب  ہوتے ہیں توجب اس نے قبول سے پہلے ثمنوں سے مشتری کوبری قراردے دیاتویہ بری کرنا سبب سے پہلے ہوالہذا صحیح نہیں ہوگا۔(ت)
(۲؎ فتاوی قاضی خاں     کتاب البیوع    فصل فی احکام البیع     نولکشورلکھنؤ ۲ /۳۴۹)
مشترک روپے اوراثاث البیت سے اس زوجہ اورنبیران کے ذاتی حصے الگ کرلئے جائیں گے جو اس میں شریک تھے اورجب کوئی ذریعہ تمیز نہ ہو تو  زید اوریہ تینوں اس زر واثاث میں بحصہ مساوی شریک مانے جائیں گے،

کما ھو حکم شرکۃ الملک المنصوص علیہ فی الخیریۃ وردالمحتار وغیرھما۔ جیساکہ شرکت ملک کاحکم ہے جس پرفتاوٰی خیریہ اوردالمحتار وغیرہ میں اس پرنص کی گئی ہے۔(ت)
 (توحاصل یہ ٹھہراکہ) زوجہ اوردونوں نبیرے کہ اس جائداد میں شریک تھے جن کاکارکن زید تھا اُن تینوں کی آمدنیاں حساب کی جائیں پھرہرایک کاخرچ اس سے مجراکیاجائے باقی کہ زید نے مصارف مذکورہ خیرات ومبرات وقرض مُردہ خریداری جائداد بنام خود میں صرف کردیا اس حصہ میں حصہ رسد زوجہ اور ہرنبیرہ کا تاوان  زید پرآیا، اب زوجہ کایہ تاوان تو پورا واجب الاداہے اوردونوں نبیروں کے تاوانوں سے ہردوبیعنامہ اول کانصف زرثمن بھی ساقط کیاجائے جوجو باقی رہے وہ ان دونوں کا تاوان ہے، اب زید پردونوں زوجہ سے جس جس کاجتنا مہرواجب الاد ہواوران کے سوا اگرکوئی اور دین زیدپرآتا ہو وہ سب ان تینوں تاوانوں کے ساتھ ملاکر یہ مجموع دیون ترکہ زید سے حصہ رسد اداکئے جایں خواہ وہ اس کاذاتی روپیہ ہو یا اس زر واثاث البیت مشترک کاحصہ، اگر ان کے ادا سے کچھ نہ بچے کوئی وارث وراثۃً کچھ نہ پائے ورنہ باقی حسب شرائط فرائض سولہ سہام ہوکرایک ایک سہم ہرزوجہ اورآٹھ سہم دختر اورتین تین ہرنبیرہ کوملیں گے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۵۷ : ازنجیب آباد ضلع بجنور محلہ مجیدگنج مرسلہ محمدحسین ولد مولٰی بخش ۲۰شوال ۱۳۳۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنے بھائی اوربہنوں کی جائداد بطریقہ جائزہ خرید کراپنی زوجہ کے نام لکھادی اب اس شخص کے دوبیٹے ہیں (ایک بیٹی بھی تھی جس کا انتقال ہوگیا اوراب اس کی جانب سے کوئی دعویدارنہیں مگر اس کا شوہر ہے آیا وہ شرعاً حقدارہے یانہیں) شخص مذکور نے اپنے انتقال سے پیشتر اپنے حصہ کی جائداد اورنیز نئی خرید کردہ جائداد جو بی بی کے نام لکھ دی تھی اپنے دونوں بیٹوں میں کسی طرح تقسیم نہ کی اب اس شخص کی بی بی نے ایک کاغذ بنواکر باقی جائداد بھی بعوض مہراپنے نام کرالی اورمشہور کردیاکہ یہ کاغذمیرے خاوند ے سامنے کالکھاہواہے مگریہ بات محلہ میں مشہورہے کہ یہ کاغذ جعلسازی سے تیارکیاگیاہے اوربات بھی یہی ہے اس شخص کے بڑے بیٹے نے اپنے والد کے حین حیات اس وجہ سے تنگ آکر کہ ساس بہو میں اکثر لڑائی رہتی ہے اپنا مکان تبدیل کرلیاتھا اب والد کے انتقال پرجب وہ بالکل مختارہوگئیں تو محلہ کی مستورات اورچھوٹے بیٹے کی لگائی بجھائی سے ان کی رنجش اوربڑھ گئی اورمرنے سے ۱۔۲ /۱ ماہ پیشتر تمام جائداد اسی چھوٹے بیٹے کے نام ہبہ کرادی، ہبہ سے چندروز پیشتر بڑے بیٹے نے تمام اہل برادری کو اپنی والدہ کے سامنے جمع کیا اوراپنی خطا ہوئی ہو اور جب نہ ہوئی ہو جب معاف کرائی اورانہوں نے معاف کی، پھربھی پندرہ بیس روز بعد انہوں نے تمام جائداد کا ہبہ نامہ چھوٹے بیٹے کے نام کردیامیں نے دیوانی میں اپنے بھائی پر اپنے حصے کی نالش کی ہے آیامیں اس جائداد میں حقدارہوں یانہیں؟
الجواب :  مجرد تحریراگرچہ رجسٹری شدہ ہوکوئی چیز نہیں جب تک گواہان شرعی سے ثابت نہ ہوپس اگردوگواہ عادل موجودہوں کہ شخص مذکورنے پنی صحت میں وہ جائداد بعوض مہربنام زوجہ کردی تودیگرورثہ کا اس میں کچھ حق نہ رہا عورت نے کہ اپنے چھوٹے بیٹے کوہبہ کردی اگرقبضہ تامہ اپنی حیات میں دلادیا تو چھوٹا بیٹا اس کامالک مستقل ہوگیا ہاں اگر قبضہ کاملہ نہ دلایا اورعورت کاانتقال ہوگیاتوہبہ باطل ہوگیا اوراب وہ جائداد متروکہ زن قرارپاکراس کے وارثوں میں تقسیم ہوگی جس میں سے بڑابیٹا بھی اپنا حصہ شرعی پائے گا اوراگرگواہان شرعی سے مہرمیں دینے کاثبوت نہیں تواب یہ دیکھاجائے گاکہ مہرکچھ باقی تھا یاسب معاف یااداہوگیاتھااگرکچھ باقی نہ تھا یاجتنا باقی تھا وہ اس جائداد کی قیمت سے جوشوہر کے نام تھی کم تھا توعورت کوکوئی استحقاق نہ تھا کہ وہ سب جائداد بعوض مہراپنے نام کرلیتی اوراب جواس نے اس جائداد کوچھوٹے بیٹے کانام ہبہ کیا محض باطل ہوا اگرچہ قبضہ دلادیاہو ، لانھا ھبۃ مشاع وھی باطلۃ حتی لاتملک بالقبض فی الصحیح۔ اس لئے کہ وہ غیر مقسوم کاہبہ ہے اوروہ باطل ہے یہاں تک اس میں قبضہ سے بھی ملک ثابت نہیں ہوتا، یہ صحیح قول کے مطابق ہے(ت)
اس تقدیر پربعدادائے مہروغیرہ دیون ونفاذ وصایا جووارثان شخص مذکور ہوں ان پرحسب فرائض تقسیم ہوگی، دختر اگرباپ کے بعد زندہ رہی ہوتو وہ بھی حصہ پائے گی اوراگرپہلے مرگئی تو اس کاکچھ حق نہیں اس کے شوہرکادعوی باطل ہے ہاں اگرمہر کل یا جتناباقی تھا اس جائداد کی قیمت کے برابر یازائدتھا توایک فتوی اقطع کی بناء پرعورت اسے اپنے مہرمیں لے سکتی تھی اوراب کہ وہ مالکہ ہوگئی اس کاحکم وہ پہلی صورت کاہوگیاکہ چھوٹے بیٹے کے نام س کاہبہ صحیح ہوگیا اگرقبضہ دلادیا اورباقی وارثوں کاکچھ حق نہ رہا اورقبضہ کاملہ نہ ہوا توجائداد متروکہ زن ٹھہرکروارثان زن پر تقسیم ہوگی جن میں بڑابیٹابھی ہے اوراس صورت میں پسر کلاں خواہ کسی وارث کو اس پردعوی بیکار ہے مگریہ کہ مہراپنے پاس سے اداکردے توحسب اصل مذہب جائداد سے اپناحصہ لے سکتاہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter