Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
98 - 135
الجواب: صورت مستفسرہ میں مال مشترک سے جس قدر روپیہ زید نے خیرات ومبرات مذکورہ میں صرف کیا اس میں سے حصہ نابالغان کاتاوان اس پرلازم ہونا تو ظاہر ہے
لانہ لایملک التبرع بمالھم
 (اس لئے کہ وہ نابالغوں کے مال میں تصرف کامالک نہیں۔ت) یونہی قرض مذکورہ کہ وہ بھی تبرع ہے۔ ادب الاوصیاء میں عمدہ وولوالجیہ وقنیہ وخلاصہ سے ہے : لایقرض الاب ولاوصیہ مال الیتیم۔۱؎ باپ اوروصی یتیم کے مال کو قرض پرنہیں دے سکتے۔(ت)
 (۱؎ آداب الاوصیاء علٰی ہامش جامع الفصولین     فصل فی القرض     اسلامی کتب خانہ کراچی    ۲ /۱۷۴)
یوں ہی جبکہ بالغوں کی بھی رضاواجازت نہ تھی تو ان کابھی تاوان زیدپرعائد اگرچہ انہوں نے زید کو صرف کرتے دیکھا اور اس کے رعب سے کچھ نہ کہہ سکے۔ 

اشباہ میں ہے:
لورأی غیرہ یتلف مالہ فسکت لایکون اذناباتلافہ۔۲؎
اگرکوئی شخص کسی کواپنامال بربادکرتے دیکھ کر چپ رہا تویہ اس کی طرف سے برباد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔(ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول     القاعدۃ الثانیہ عشر    ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۱۸۵)
ظاہرہے کہ زرنقد یاجوترکہ زیدنے چھوڑا اس سے ادائے دیون تقسیم ترکہ پرمقدم ہے اور یہ تاوان بھی زیدپردَین ہیں توجب تک ادانہ ہولیں ورثائے زید کو ترکہ نہ پہنچے گاجائداد کہ زیدنے اپنے نام خریدی اسی کی ملک ہوئی اگرچہ اس کی قیمت زرمشترک سے ادا کی اس سے شرکاء کاجائداد خریدکردہ میں حصہ نہیں ہوجاتا ہاں زرثمن کہ مال مشترک سے دیاہے ہرشریک کا اس میں جتنا حصہ تھا اُتنے کاتاوان زیدپر آیاکہ یہ بھی اگلے تاوانوں میں شامل ہوگا۔
ردالمحتارمیں ہے :
مااشتراہ احدھم لنفسہ یکون لہ ویضمن حصۃ شرکائہ من ثمنہ اذا دفعہ من المال المشترک۔۳؎
شرکاء میں سے اگرکسی نے کوئی چیز اپنی ذات کے لئے خریدی تووہ اسی کی ہوگی اوروہ ثمن میں سے دیگرشرکاء کے حصوں کاضامن ہوگا جبکہ اس نے ادائیگی مال مشترک سے کی ہو۔(ت)
 (۳؎ ردالمحتار    کتاب الشرکۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت۳ /۳۳۸)
توظاہرہواکہ تینوں بیعنامے صحیح ہوئے ہرایک میں زید نے اپنی ہی ملک نبیران کے نام بیع کی اورنبیرے اُن سب مبیعوں کے مالک ہوگئے۔
والبیعان الاولان وان لزم فیھما تفریق الصفقۃ لان احد المبیع منہما کان صغیرا ثم البیع فی حقہ بمجرد الایجاب والاخر بالغا تاخر فی حقہ الی قبولہ لکنہ لیس تفریقا علی البائع بل  منہ فلا یضرلانہ انما کان یمنع لحقہ فاذا رضی بہ فلاحرج کمن باع صبرۃ طعام کل فقیز بدرھم جاز البیع فی فقیز واحد وللمشتری الخیار لتفرق الصفقۃ علیہ کما فی الھدایۃ۱؎لاللبائع وان تفرقت علیہ ایضا لان التفرق جاء منہ فیکون راضیابہ کما فی البنایۃ۔۲؎
پہلی دونوں بیعوں میں اگرچہ تفریق صفقہ لازم ہے کیونکہ جن دولڑکوں کے نام بیع کی گئی ان میں سے ایک نابالغ ہے، پھر اس نابالغ کے حق میں بیع فقط ایجاب سے ہوئی اوردوسراچونکہ بالغ ہے لہٰذا اس کے حق میں بیع اس کے قبول کرنے پرموقوف ہوگئی لیکن صفقہ میں یہ تفریق بائع پر لازم نہیں آئی بلکہ اسکی طرف سے لازم آئی چنانچہ یہ نقصان دہ نہیں۔ اس لئے کہ ممانعت تو اس کے حق کی وجہ سے تھی جب وہ اس پر راضی ہے توکوئی حرج نہیں، جیسے کسی نے گندم کا ڈھیربیچاکہ ہربوری ایک درہم کی ہے تویہ بیع ایک بوری میں جائزہوگئی اورچونکہ مشتری پر صفقہ کامتفرق ہونالازم آیاہے لہٰذا اس کو اختیارہے جیساکہ ہدایہ میں ہے بائع کو اختیارنہیں ملے گا اگرچہ اس پربھی صفقہ کامتفرق ہونالازم آیاہے کیونکہ یہ متفرق ہونا اس کی طرف سے لازم آیاہے تو اس طرح وہ اس پرراضی ہوا، جیساکہ بنایہ میں ہے۔(ت)
 (۱؎ الہدایۃ  کتاب البیوع    مطبع یوسفی لکھنؤ     ۳ /۲۷)

(۲؎ البنایۃ فی شرح الہدایۃ     کتاب البیوع    المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ۳ /۲۱)
تویہ جائدادیں اس تاوان کی زیرپانہیں ہوسکتیں، رہے ان کے زرثمن پچھلے دونوں بیعنامے جن میں زرثمن کافرضی وصول لکھ دیا ان کامطالبہ نبیروں پرسے ساقط نہ ہوا اگرچہ اس سے مقصود یہی ہوکہ زرثمن مشتریوں کو معاف ہوجائے کہ شرع میں دربارہ عقودومعاملات معانی الفاظ پر نظرہے، نہ مقاصد واغراض پر، ورنہ حیل شرعیہ یکسرباطل ہوجائیں وقد حققناہ فی کاسرالسفیہ الواھم (اور اس کی تحقیق ہم نے رسالہ کاسرالسفیہ الواھم میں کردی ہے۔ت) یہاں لفظ اقراروصول ہے اوروہ نہ ہبہ ہے نہ ابرابلکہ ایک غلط خبرتو مجرد نیت سے دَین ساقط نہ ہوجائے گا اقرارکاذب ودیانۃً توباطل ومحض بے اثرہے اورقضاءً بھی جبکہ اس کاراضی ہوناثابت ہوجیساکہ یہاں ہے کہ خودنبیروں کو اس کے فرض ہونے کااقرار ہے بلکہ یہاں جبکہ زیدپرنبیروں کامطالبہ تاوان حقیقۃً موجودتھا تواقراروصول کوفرضی ٹھہرانے کی بھی کوئی وجہ نہیں کہ اپنامطالبہ ثمن ان کے مطالبہ تاوان کی مجرائی سے وصول پانا مراد ہوسکتاہے اورمعنی صحیح و صادق بنتے ہوئے اقرارغلط وکاذب پرمحمول نہ کریں گے ہاں پہلابیعنامہ جس میں ہبہ ثمن لکھاہے یہ ہبہ نبیرہ نابالغ کے لئے صحیح ہوگیا اوربالغ کے حق میں صحیح نہیں کہ باپ یا داداجب اپنے نابالغ بچہ کے نام بیع کریں توبیچاکہتے ہی بیع تمام ہوجاتی ہے اوریہی ایک لفظ ایجاب قبول دونوں قرارپاتاہے۔
درمختارمیں ہے:
وینعقد ایضا بلفظ واحد کما فی بیع القاضی والوصی والاب من طفلہ و شرائہ منہ فانہ لوفور شفقتہ جعلت عبارتہ کعبارتین۔۱؎
اس کا انعقاد ایک ہی لفظ کے ساتھ بھی ہوجاتاہے جیساکہ قاضی اور وصی کی بیع۔ اورباپ کی بیع وشراء اپنے نابالغ بیٹے کے لئے، اس لئے کہ کمال شفقت کی وجہ سے اس کی عبارت دوعبارتوں کی طرح بنادی گئی ہے۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار    کتاب البیوع   مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۵)
ادب الاوصیاء میں ہے :
فی شرح الطحاوی الجد الصحیح کالاب فی ذٰلک یعنی عند عدمہ۔۲؎
شرح طحاوی میں ہے کہ اس مسئلہ میں جد صحیح بھی باپ کی طرح ہے یعنی باپ کی عدم موجودگی میں۔(ت)
 (۲؎ آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین    فصل فی الاباق    اسلامی کتب خانہ کراچی     ۲ /۱۳۲)
اورشک نہیں کہ بیعناموں میں پہلے شیئ کی بیع کرنا لکھاجاتاہے  اس کے بعد ثمن ہبہ کرنا تویہ ہبہ حق نابالغ میں بعد تمامی بیع واقع ہوا اورصحیح ہوگیاتو اس بیعنامہ کے نصف ثمن کو جونبیرہ نابالغ کے لئے ہبہ ہوا اس نابالغ کے آتے ہوئے تاوانوں میں مجرانہ کریں گے کہ ہبہ تملیک بلاعوض ہے اور مجراہونا معاوضہ توخلاف تصریح زید اسے معاوضہ نہیں کہہ سکتے۔
عالمگری میں ہے :
من علیہ الدین وھب مالا  من رب الدین یملکہ رب الدین بالھبۃ لابالدین کذا فی المحیط ۱؎۔
جس شخص پرقرض ہواگر وہ کچھ مال قرض کے مالک کوبطورہبہ دے دے تووہ بطورہبہ اس کامالک بن جائے گا نہ کہ بطور قرض کی وصولی کے۔ محیط میں یونہی ہے۔(ت)
 (۱؎ الفتاوی الھندیۃ    کتاب الھبۃ     الباب الرابع        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۳۸۵)
Flag Counter