Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
97 - 135
تواب فقط بیس روپے کارخیرمیں اورخرچ کردیں اوراتناحصہ چوڑیوں، توڑے، بالی پتوں کا یعنی ہرایک میں سے  ۴۵ /۱۶ اس وصیت کاحصہ ہواباقی ان تین گہنوں میں ہرایک کا ۴۵/ ۲۹  اورکڑے اور برتن پورے اورایک سوسولہ روپے۔ یہ سب حق ورثہ رہے، بھتیجی یاشوہرثانی کی لڑکی تواصلاً وارث نہیں صرف بہن وارث ہے اور وہ مفقودالخبربھائی، لہٰذا وہ جسے ہندہ نے امین ووصی کیاتھا بیس روپے کارخیرمیں خرچ کردے، بہن اورجیٹھ کی نواسی تقسیم چاہیں توان تینوں گہنوں کے ۴۵/ ۱۶ جیٹھ کی نواسی کو دے دے اورہرایک کی دوتہائی بھائی کے لئے اٹھارکھے یہاں تک کہ اس مفقود کی عمر سے ستربرس گزرجائیں، اگریہ صحیح ہے کہ چالیس برس کی عمرمیں مفقودہواتھا اورمفقود ہوئے بیس برس گزرے تودس برس اور انتظارکریں اگر اس دس برس میں وہ زندہ ظاہرہوتویہ دوتہائی اسے دے دیں، اوراگرمعلوم ہوکہ وہ ہندہ کے بعد مرگیا تو یہ دوتہائی اس کی بیٹی وغیرہ اس کے ورثہ کو دے دیں جومفقود کی موت کے وقت اس کے وارث تھے، اگریہی بہن بیٹی اس کے وارث تھے توان دوتہائی کانصف مفقود کی بیٹی کو دیں اورنصف بہن کو، اوراگرمعلوم ہوکہ وہ ہندہ دے پہلے مرگیا یا اسکی عمر سے ستر برس گزرجائیں اوراس کی موت حیات کاکچھ حال نہ معلوم ہو تویہ دوتہائی بھی ہندہ کی بہن ہی کودے دیں۔
ادب الاوصیاء میں ہے :
ذکر فی الذخیرۃ والخانیۃ والخلاصۃ والحافظیۃ، ان قسمۃ الاب ووصیہ ولوبمراتب جائزۃ علی الصبی فی کل شیئ مالم یکن بفاحش الغبن وکذا قسمۃ الجد الصحیح ووصیہ عند عدم الاب ووصیہ وکذا تجوز قسمۃ ھٰؤلاء علی الکبیر الغائب فی غیرالعقار وکذا قسمۃ وصی نحوالام من العم وابنہ والاخ وابنہ ان کانت (ای القسمۃ) فی عروض ترکۃ الموصی ولم یکن ھناک من ھو اقوی منہ من الاوصیاء ۱؎ اھ  باختصار۔
ذخیرہ، خانیہ، خلاصہ اورحافظیہ میں مذکورہے کہ باپ اوروصی کی تقسیم نابالغ پرہرشیئ میں جائزے اگرچہ کئی مرحلوں میں ہوجب تک کہ غبن فاحش کے ساتھ نہ ہویونہی جدصحیح اوراس کے وصی کی تقسیم جبکہ باپ اوراس کاوصی نہ ہوں، اسی طرح مذکورہ بالاحضرات کی تقسیم بالغ غائب پراس کی منقولہ جائدادمیں جائزہے یونہی ماں کے وصی کی تقسیم اس حصہ میں جونابالغ کو ماں کی طرف سے ملا۔ یہی حکم چچا، اس کے بیٹے، بھائی اوراس کے بیٹے کے وصی کی تقسیم کا ہوگا جب کہ وہ تقسیم ترکہ موصی کے سامان میں جاری ہوا اوروہاں ان سے اقوٰی کوئی وصی موجودنہ ہو  اھ (اختصار)(ت)
 (۱؎ آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین     فصل فی القسمۃ     اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۵۲۔۲۵۱)
اسی میں خانیہ سے ہے :
ان کانوا(ای الورثۃ) کبارا کلھم وبعضھم غائب فقاسم الوصی مع الحاضرین برضاھم وامسک انصباء الغائبین جازت قسمتہ۔۲؎
اگروہ وارث بالغ ہوں تمام یابعض غائب ہوں اوروصی حاضرین کی رضامندی سے ان میں میراث تقسیم کردے اورجوغائب ہیں ان کے حصے روک لے تویہ تقسیم جائزہوگی۔(ت)
 (۲؎آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین     فصل فی القسمۃ     اسلامی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۵۳)
اسی میں ہے :
فی جامع الصغیر، اذا قاسم (ای الوصی) للموصی لہ بالثلثفان کانت الورثۃ صغاراکلھم او غائبین فقاسمہ واعطاہ الثلث واملک الثلثین للورثۃ جاز مقاسمتہ وان کان بعضھم صغارا اوغائبا تجوز مقاسمۃ الوصی فیما سوی عقار الغائبین أما لوقاسم للورثۃ علی الموصی لہ بان کان الموصی لہ ھو الغائب وامسک لہ الثلث لم تجز مقاسمتہ ومثلہ فی الولوالجیۃ واستدل بان الوصی قائم مقام الموصی والورثۃ خلف عن الموصی فکان الوصی قائما مقام الورثۃ فتصح مقاسمتہ للموصی لہ عن الورثۃ والموصی لہ لیس بخلف عن الموصی فلایقوم الوصی مقامہ فلاتجوز مقاسمتہ للورثۃ عن الموصی لہ وھذا معنی ما فی الجامع الصغیر والھدایۃ والسراجیۃ والخلاصۃ والمنیۃ والغنیۃ والبنیۃ وغیرھا ۱؎ اھ  مختصرا۔
جامع الصغیرمیں ہے کہ جب وصی اس شخص کے لئے ثلث مال کامقاسمہ کرلے جس کے لئے وصیت کی گئی پھراگر تمام ورثاء نابالغ ہیں یاتمام غائب ہیں تو اس نے مقاسمہ کرکے تہائی مالوصیت والے کو دے دیا اوردوتہائی وارثوں کے لئے روک لیا تو اس کامقاسمہ جائز ہے  اوراگران میں سے بعض نابالغ یاغائب ہیں تو وصی کامقاسمہ غائب وارثوں کی غیرمنقول جائداد کے ماسوا میں جائزہوگا، اور اگراس نے وارثوں کے لئے وصیت والے شخص پرمقاسمہ کیابایں صورت کہ وہ وصیت ولاشخص غائب تھااوروصی نے اس کے لئے تہائی مال روک لیا تو اس کامقاسمہ جائزنہیں، اوراسی کی مثل ولوالجیہ میں ہے، اوراستدلال یوں کیاگیاہے کہ وصی موصی کے قائم مقام ہے اور ورثاء موصی کے پسماندگان ہیں توگویاوصی وارثوں کے قائم مقام ہوگیا لہٰذا وصیت والے شخص کے لئے اس کا وارثوں سے مقاسمہ کرناصحیح ہے، اوروصیت والاشخص موصی کاجانشین نہیں لہٰذا وصی اس کے قائم مقام نہیں ہوگا تووصیت والے شخص سے وارثوں کے لئے اس کامقاسمہ جائزنہیں ہوگا، اوریہی معنی ہے اس کاجوکچھ جامع صغیر، ہدایہ، سراجیہ،خلاصہ، منیہ، غنیہ اور بنیہ وغیرہ میں ہے الخ(اختصاراً)۔(ت)
 (۱؎ آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین     فصل فی القسمۃ    اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۵۷۔۲۵۶)
مسئلہ ۱۵۵ :   ازجائس ضلع رائے بریلی محلہ غوریانہ خورد مرسلہ عبدالحمید صاحب معرفت حافظ علی بخش صاحب ساکن بریلی محلہ بہاری پور ۲جمادی الآخرہ ۱۳۳۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک مرحومہ نے اپنے دم واپسیں اپنے زیورات کے بارہ میں یہ وصیت کی کہ اس کو فروخت کرکے میرے نام کاایک چاہ بنوادیاجائے کہ جس میں مجھ کو ثواب ملے لیکن یہاں جامع مسجدمیں جب کثرت نمازیوں کی ہوتی ہے توصحن مسجدمیں بھی دوایک صفیں نمازیوں کی ہوجایاکرتی ہیں ایام گرما میں بوجہ تمازت آفتاب زمین بھی نہایت گرم رہتی ہے اوراوپر کی دھوپ اوربھی ان نمازیوں کے لئے جوصحن میں ہوتے ہیں باعث تکلیف ہوتی ہے پس ایسی صورت میں اگرمرحومہ کی وصیت کو نہ خیال کیاجائے اوربجائے تعمیر چاہ کے صحن مسجد میں ایک سائبان ٹین کاتعمیرکرایاجائے کہ جس سے نمازیوں کوآرام ملے تووصیت مرحومہ کی وجہ سے کسی قسم کانقص شریعت کی روسے تونہیں ہے کیونکہ مرحومہ کی وصیت چاہ کے بارے میں ہوئی ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب :  وصیت میں ایسی تبدیلی جائزنہیں،
لان حفرۃ البئر قربۃ مقصودۃ فلاتغیر کما حققناہ فی ما علی ردالمحتار علقناہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اس لئے کہ کنواں کھودنا قربت مقصودہ ہے لہٰذا اسے غیر سے بدلانہ جائے گا کہ ہم نے اس کی تحقیق ردالمحتار پراپنی تعلیق میں کردی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۵۶ :    ازپیلی بھیت مرسلہ مولوی عبدالرب صاحب ساکن درئیس برہ ۱۶شعبان المعظم ۱۳۳۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی کل جائداد اپنے بیٹے عمروکے نام ہبہ کردی اورقبضہ تام کرادیا بعد کو عمرو کا انتقال ہوگیا اورعمرو نے دولڑکے کے نابالغ اور ایک لڑکی نابالغہ اورایک زوجہ اوروالدین چھوڑے، ان میں سے ہرایک کو موافق فرائض کے حصص پہنچے اور کاغذات مال میں عملدآمدہوگیا، اس کے بعد لڑکی کابھی انتقال ہوگیا اس نے ایک دادا اور دادی اورایک دختر اورشوہر چھوڑے ان کو اس کی جائداد سے حصص شرعی پہنچے اورکاغذات مال میں تکمیل ہوگئی لیکن چونکہ اس گھر میں ذکورمیں سے عاقل وبالغ کوئی سوائے زیدکے نہ رہا لہٰذا زیدہی سب کی طرف سے کل حصص کاکارکن ومنتظم رہا بالغان کی طرف سے باجازت اورنابالغان کی طرف سے بولایات اورکسی کاحساب وروپیہ اپنی حیات بھرعلیحدہ نہ کیا اورنہ کسی کی آمدنی اس کے قبضہ میں دی بلکہ اپنی اور سب کی آمدنی مخلوط اپنے ہی پاس رکھی اورجہاں چاہا محض اپنی رائے سے اس مشترک کی آمدنی سے صرف کرتارہا یعنی سب شرکاء کے ضروری اخراجات علاوہ خیرات ومیراث مثل بناء مسجدوچاہ وپل اورجائداد خریدکروقف کرنا اورروپیہ غرباء عرف وعجم کوتقسیم کرنا اورحج کے واسطے ضرورت سے زائد ہمراہ لے جانا اوراپنے دوست واحباب ورعایا کوقرض اتنادینا جس کی امیدوصول نہیں اور ان امورمیں سے کچھ نہ کسی شریک بالغ یانابالغ کی اجازت سے تھا اورنہ ان میں کوئی راضی تھا بلکہ نابالغوں  نے بعد بلوغ اوربالغان نے جب یہ حالت دیکھی توان کو شاق گزرا مگرچونکہ زیدسب کابزرگ اورذی رعب شخص تھا اس واسطے کوئی اس سے تاحین حیات نہ اپناحساب اورنہ اپنی آمدنی طلب کرسکا اور نہ اپناحصہ اس کے قبضہ سے نکال کرخود قابض ہوسکا البتہ زید نے اول حصہ جائداد کاجوترکہ پسر سے اس کو پہنچاتھا ہردونبیرگان کے نام بیع کرکے امین باززرثمن یہ الفاظ تحریرکرائے کہ کل زرثمن ہم نے بوجہ محبت قلبی مشترکان کوبخش دیا اوردوسری حصہ جائداد کاجوترکہ دخترپسر سے پہنچاتھا دونوں نبیروں کے نام بیعنامہ لکھا اوراس میں یہ لکھا کہ زرثمن تمام وکمال وصول پایا زیدنے اس کے بعد اس مشترکہ آمدنی سے اپنے نام سے خرید کی اورزیدکا ایک مکان بھی ذاتی تھا اس نے جائداد اورمکان کا بیعنامہ بھی نبیرگان مذکورکے نام کردیا اوراس میں بھی کل زرثمن کی وصولیابی تحریرکردی مگریہ دونوں وصولیابیاں فرضی تھیں اور اس سے بھی زرثمن کامعاف کرنا مقصود تھا پہلے اور دوسرے بیعنامہ کے وقت ایک نبیروبالغ اوردوسرا نابالغ تھا، اورتیسرے بیعنامے کے وقت دونوں بالغ تھے، ان بیعناموں میں کسی سے قبل زبانی کوئی بیع نہ ہوئی تھی نہ کسی طرف سے کوئی ایجاب یاقبول ہواسوائے اس کے کہ زیدنے تحریربیعنامہ سے پہلے اپنے مکان پرنبیروں سے کہاہم چراغ سحری ہیں ہم چاہتے ہیں کہ اپنی جائداد تم دونوں کے نام نصف نصف کردیں کہ ہمارے بعد جھگڑانہ ہو۔ نبیروں نے کہابہت اچھا۔ اس کے بعد شہرجاکر انہوں نے یہ بیعنامے تحریرکرادئے اوراس کی تکمیل کونبیروں نے قبول رکھا اور جس قدر زرثمن بیعناموں میں لکھاگیا کسی وقت وہ اس مال کی قدرنہ تھا جوزیداول مصارف بالائی میں بلارضا واجازت نبیرگان صرف کرتا رہا وہ مال زرثمن سے ہمیشہ زائد تھا، اب زید کاانتقال ہوگیا اس نے آمدنی مشترکہ سے کچھ زرنقد اوراثاث البیت چھوڑا اورکچھ اپنا ذاتی روپیہ چھوڑا اوراشخاص مذکورین مشارکین الحصص میں سے یہ یہ ورثاء چھوڑے، دونبیرگان، ایک زوجہ، علاوہ ازیں ایک زوجہ مع دختر اپنی چھوڑی کہ مذکورین سابق سے نہ تھی، اب امردریافت طلب یہ ہے کہ اس جائداد کازید منتظم وکارکن تھا اورزید نے بلارضامندی مالکان تصرفات مذکورہ بالا کئے وہ زیدپرقرضہ ہوگایانہیں؟ درصورت قرضہ قرارپانے جو زرنقد ملک زید تھا وہ قرضہ میں دیاجائے گایاترکہ تقسیم ہوگا اورجوجائداد زید نے اپنے نبیرگان کے نام بیعنامہ بصور مختلفہ مذکورہ بالابیع کی وہ یا زرثمن معاف شدہ قرضہ میں مجراہوگا یانہیں؟ اورمشترکہ روپیہ اوراثاث البیت کس طرح تقسیم ہوگا؟  بیّنواتوجروا۔
Flag Counter