| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
مسئلہ ۱۵۲،۱۵۳ : مسئولہ بنگالی ۲۶/رجب ۱۳۲۹ھ (۱)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک یتیم نے کنویں میں سے پانی اپنے واسطے یادوسرے شخص کے واسطے بھرااور اس پانی کو یتیم نے بجبریا اپنی خوشی سے پھرکنویں میں ڈال دیا ان دونوں صورتوں میں اس کنویں کاپانی قابل استعمال رہا یانہیں؟ بینواتوجروا۔ (۲)کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک نابالغ نے کنویں سے پانی اپنے یاکسی دوسرے شخص کے واسطے بھرااس پانی سے بالغ شخص کووضوکرنا، پیناوغیرہ جائزہوگا یانہیں؟ اورہرشیئ نابالغ کی خریدی ہوئی یالائی ہوئی کاشخص بالغ کو استعمال جائزہوگا یانہیں؟ اوروہ نابالغ خود اپنی اولاد ہویاغیر، سب کاایک حکم ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب : (۱) نابالغ جس پانی کا مالک ہو خواہ یوں کہ اس نے اپنے یاکسی کے لئے کنویں سے بھرااورکنویں کی حد سے باہر نکال لیااس کے پاس برتن میں اپنی ملک پانی اس کنویں سے جداتھا اوروہ خود اس نے بخوشی یابجبرکنویں میں ڈال دیا یاکسی اورنے اس کی اجازت سے خواہ بے اجازت کنویں میں اُلٹ دیا غرض کسی طرح نابالغ کی مِلک پانی کنویں میں مل گیا تو اب جب تک اس میں وہ پانی رہے گااس بچہ کے سواکوئی کسی طرح اس کاپانی استعمال نہیں کرسکتا، اس میں بچہ کی ملک ملی ہوئی ہے اس کے ہبہ یامباح کردینے کاکسی کواختیارنہیں، نہ اس کی بیع ممکن کہ بیع میں تسلیم پرقدرت شرط ہے ا وراس پرقبضہ دلاناممکن نہیں۔
اشباہ میں ہے :
ملأ الصبی کوزا من حوض ثم صبہ فیہ لم یحل لاحد ان یشرب منہ۔۱؎
نابالغ بچے نے حوض سے کوزہ بھرا پھراسی میں انڈیل دیا توکسی کے لئے حلال نہیں کہ اس سے پانی پیئے۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۱۵۰)
اس کاچارئہ کاریہ ہے کہ جتنا پانی اس نے کنویں میں ڈالا اُتنایا اس سے زائد بھرکر اس نابالغ کودے دیاجائے یا وہ خود بھرلے اس کے بعد باقی پانی مباح ہوجائے گا کماحققناہ علٰی ھامش الغنیۃ (جیساکہ غنیہ کے حاشیے میں ہم نے اس کی تحقیق کردی ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔ (۲)کنویں کی مَن سے جب پانی باہرنکلتاہے بھرنے والے کی ملک ہوجاتاہے، نابالغ کی مِلک میں کسی کوتصرف کااختیارنہیں، ہاں ماں باپ کہ فقیرہوں بقدرحاجت تصرف کرسکتے ہیں، یہ کلیہ جوچیزنابالغ کی ملک ہو خواہ خریدکی ہوئی یاکسی طرح کی لائی ہوئی اس میں فقیر والدین کے سواکوئی تصرف نہیں کرسکتا اوراس کی ملک نہ ہو تو مالک کی اجازت سے تصرف ہوسکتا ہے۔
فی غمزالعیون عن شرح المجمع عن الذخیرۃ، اذاجاء صبی بالکوز من ماء مباح لایحل لابویہ ان یشربا منہ اذا کانا غنیین لان الماء صار مملوکا لہ ولایحل لھما الاکل من مالہ بغیر حاجۃ۔۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
غمزالعیون میں بحوالہ ذخیرہ شرح المجمع سے منقول ہے اگربچہ مباح پانی سے کوزہ بھرلائے تو اس بچے کے مالدارماں باپ کے لئے حلال نہیں کہ وہ اس کوزے سے پانی پئیں کیونکہ وہ پانی اس بچے کی ملکیت ہوگا اورماں باپ کو حاجت کے بغیربچے کامال کھانا حلال نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ غمزعیون البصائرمع الاشباہ النظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۵۰)
مسئلہ ۱۵۴ : ازشہرکہنہ قاضی ٹولہ مرسلہ قاضی محمدعیوض صاحب ۲۸ذی الحجہ ۱۳۲۹ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ لاولد نے بحالت مرض سوروپے زیدکے پاس امانۃً جمع کئے اوروصیت کی کہ تندرست ہوگئی تویہ روپیہ لے کرحج کوجاؤں گی اوراگرمرگئی توتم کواختیار ہے کہ کسی کارخیر میں صرف کردینا اس میں سے میرے کسی رشتہ دارکو ایک حبّہ نہ دیاجائے، دوبارہ اس ماہ کے بعد سو روپے اور زید کے پاس جمع کئے اوروصیت کی کہ یہ رقم دوبارہ جمع شدہ بعد میرے مرنے کے تجہیز وتکفین اور ایک سال تک میری فاتحہ درودمیں خرچ ہوں اوررقم سابق جس کی وصیت کرچکی ہوں اس کارخیرمیں اٹھائی جائے اب وصیت سے ایک ماہ بعد مسماۃ کاانتقال ہوگیا(للعہ ؎) اس کی تجہیزوتکفین فاتحہ میں صرف ہوئے جس کو ابھی سال نہ ہوا (ماہہ) باقی ہیں اورپہلی رقم بجنسہٖ موجودہے کل (ما ؎) باقی ہیں ہندہ کی ایک ہمشیرہ حقیقی دوسری بھتیجی جس کاباپ بیس سال سے مفقودالخبرہے اورایک ہندہ کے شوہر ثانی کی لڑکی ہے وہ ہندہ کی دخترنہیں اب کس طرح تقسیم ہو؟ بینواتوجروا۔
الجواب : ہندہ کی بہن کے بیان سے واضح ہواکہ ہندہ نے ان روپوں کے سوا اتنی چیزیں اورچھوڑیں چوڑیاں (صہ/) توڑا (ص/) بالی پتے(صہ/) کڑے( ؎)، پانچ برتن وزنی تخمیناً سوسیر، ان میں چوڑیاں اپنی موت سے آٹھ دن پہلے سے اپنے جیٹھ کی نواسی کودے دیں اورتوڑے اوربالی پتوں کی بھی اسی کے لئے وصیت کی، کڑوں اوربرتنوں میں کوئی وصیت نہ کی، اس کی تجہیزوتکفین میں بیس روپے اُٹھے اورچوالیس روپے کے کھانے پکواکر صرف مساکین کودئیے، ہندہ کابھائی جس وقت مفقود ہوا اس کی عمر چالیس سال تھی اورہندہ پرکوئی اعتراض نہیں برتقدیر صدق جملہ بیانات مذکوربیس روپے کہ تجہیز وتکفین میں صرف ہوئے وہ توحاجت اصلیہ میں اُٹھے شامل وصایانہیں، وصیت گویا ان روپوں میں ایک سواسی کی ہے اورپندرہ کی اس نواسی کے لئے کل وصیت ایک سوپچانوے کی ہے اورجملہ متروکہ دوسوآٹھ روپے، اس کی تہائی انہتر روپے پانچ آنے چارپائی ، یہاں تک بے اجازت ورثہ نافذ ہوگی اورثلث جب وصایا پرتنگی کرے تواس کاقاعدہ یہ ہے کہ جووصیت ثلث کومجموع وصایاسے ہے اسی نسبت سے ہروصیت نفاذ پائے گی مثلاً ثلث اگرمجموع وصایا کانصف ہے توہروصیت اپنے نصف میں نافذ ہوگی اورتہائی توتہائی، وعلٰی ہذالقیاس۔
غایۃ البیان میں شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی سے ہے :
الوجہ فی ذٰلک ان تجمع الوصایا کلھا وینظر الیھا والی الثلث والٰی نقصانہ من الوصایا فان کان النقصان مثل نصف الوصایا ینقص من کل وصیۃ نصفھا وان کان النقصان مثل ثلثھا ینقص من کل وصیۃ ثلثھا نحو ما اذا بلغت الوصایا الف درھم لاحدھم مائۃ وللاٰخر مائتان وللاٰخر ثلثمائۃ وللاٰخر مائتان وللاٰخر ثلثمائۃ وللاٰخر اربعمائۃ وثلث مالہ خمسمائۃ فالنقصان من خمسمائۃ الی مبلغ الوصایا مثل نصفھا خمسمائۃ فینقص من کل وصیۃ نصفھا لصاحب المائۃ خمسون ولصاحب المئتین مائۃ وعلٰی ھذالقیاس۱؎۔
اس میں توجیہ یہ ہے تمام وصیتوں کوجمع کرکے ان وصیتوں اورمیت کے مال کی ایک تہائی کو دیکھاجائے گاکہ وہ تہائی مال وصیتوں کے مجموعے سے کتناکم ہے اگروہ کمی وصیتوں کے نصف کے برابرہے تو ہروصیت سے اس کا نصف کم کردیا جائے گا اور اگر کمی وصیتوں کے مجموعے کی تہائی کے برابر ہے تو پر وصیت میں سے اس وصیت کاتیسرا حصہ کم کردیاجائے گا جیسے کسی شخص نے مجموعی طورپرہزاردرہموں کی وصیت کی یعنی ایک شخص کے لئے سودرہم، دوسرے کے لئے دوسودرہم، ایک اور شخص کے لیے تین سو درہم اورمزید ایک شخص کے لئے چارسودرھم کی وصیت کی جبکہ اس کے مال کاتہائی حصہ پانچ سودرہم ہے، تواس طرح وصیتوں کے مجموعے سے کمی نصف کے برابرہوئی یعنی پانچ سودرہم کم ہیں چنانچہ ہروصیت میں سے نصف کم کردیاجائے گایعنی سوکی وصیت والے کوپچاس اوردوسو والے کو دودرھم دیں گے اوراسی پر دیگرکوقیاس کرلو۔(ت)
(۱؎غایۃ البیان )
اقول :(میں کہتاہوں۔ت) یایوں کریں کہ ہروصیت کوجونسبت مجموعہ وصایا سے ہے ہرایک کے لئے اتناہی حصہ ثلث سے دیں جووصیت مجموع وصایا کی نصف ہو اس کے لئے ثلث کا نصف دیں، اورجو ربع ہو اس کے لئے ربع، وقس علیہ، دونوں طریقوں کاحاصل ایک ہے اگرثلث کاحصہ دریافت کرنا ہوکہ اس میں سے فلاں وصیت کوکیاملے گا تویہ طریقہ کہ فقیرنے ذکرکیاعمل میں لائیں، اوراگروصیت کسی عین مثلاً گہنے یابرتن یامکان وغیرہ کی ہے معلوم کرناچاہیں کہ اس عین کا کتناحصہ دیاجائے گا تووہ پہلاطریقہ برتیں مثلاً پہلے طریقہ پرجونسبت (لع ؎صہ ۵/)کو(ماصہ لعہ) یادوسوآٹھ کوپانچ سوپچاسی بلکہ سولہ کوپینتالیس سے ہے اسی نسبت پر ہر وصیت دی جائے گی یعنی ہروصیت سے ۴۵ /۱۶ نافذکریں گے، چوڑیاں اورتوڑا اوربالی پتے ہرایک سے اتناہی حصہ جیٹھ کی نواسی کاہے اورہرایک سے ۴۵ /۲۹ وارثوں کا، اگران تینوں چیزوں کی قیمت (صہ ؎۶۵) ہے تو ان میں سے وصیت کاحصہ پانچ روپیہ پانچ آنے چار پائی ہوگی اوردوسرے طریقہ پرجبکہ ان کی قیمت (صہ عہ) ہے اورمجموع وصایا ۱۹۵ تویہ وصیت اس مجموع کاتیرہواں حصہ ہوئی توثلث یعنی (لعہ ؎ ۵ /۴ ) پائی کاتیرہواں حصہ اس کا نصیب ہوگا جس کے وہی (صہ ۵ /۴) پائی ہوئے۔ ______________________ یوں ہی دونوں حسابوں پرکارخیر کے لئے سوروپوں کی وصیت تھی اس کاحصہ پینتیس روپے پونے نوآنے ایک صحیح دوتہائی پائی (صہ۰۸/ ۔۱۔۳ /۲ ) پائی آئے گا اورفاتحہ کی وصیت اسی ۸۰ روپے میں رہی تھی اس کاحصہ اٹھائیس روپے سات آنے ایک صحیح ایک تہائی پائی (مہ عہ/ ۱۔۳/ ۱) پائی۔ فاتحہ میں اس کے حصہ سے زائد اٹھادئیے مگرفاتحہ بھی جبکہ صرف مساکین پرصرف کی گئی کارخیرہے اورمجموعہ ان دونوں وصیتوں کے حصول کا جو کارخیر وفاتحہ کے لئے تھیں چونسٹھ روپے ہوئے ان میں سے چوالیس اُٹھ گئے اور اس نے سال بھرمیں اٹھانے کوکہاتھا وہ سال سے پہلے ہی اٹھادئیے اس میں بھی کچھ حرج نہ ہوا بلکہ جلدی ہی بہترتھی،
فی الھندیۃ عن الخانیۃ عن الجامع، اذا اوصی بثلث مالہ للمساکین یتصدق منہ کل سنۃ ثمانیۃ دراھم اوقال اوصیت بان یتصدق من ثلثی کل سنۃ مائۃ درھم فالوصی یتصدق بجمیع الثلث فی السنۃ لاولٰی ولایوزع علی السنۃ۔۱؎
ہندیہ میں بحوالہ جامع وخانیہ سے منقول ہے اگرکسی نے اپناتہائی مال مسکینوں کودینے کی وصیت کی اس طورپرکہ ہرسال اس کے تہائی مال سے ان پراٹھارہ درہم صدقہ کئے جائیں یا یوں کہامیں نے اس بات کی وصیت کی ہے کہ میرے مال کے تہائی حصے سے ہرسال سو درہم صدقہ کئے جائیں یایوں کہامیں نے اس بات کی وصیت کی ہے کہ میرے مال کے تہائی حصہ سے ہرسال سودرہم صدقہ کئے جائیں، تو اس صورت میں وصی پورے تہائی مال کوپہلے ہی سال صدقہ کردے اوراس کو سالوں پرتقسیم نہ کرے۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الھندیۃ کتاب الوصایا الباب الثامن نورانی کتب خانہ کراچی ۶ /۱۳۵)