فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
95 - 135
اسی میں ہے :
وعزل الوکیل (ای لایصح تعلیقہ) بان قال عزلتک علی ان تہدی الیّ شیئا اوان قدم فلان لانہ لیس مما یحلف بہ فلایجوز تعلیقہ بالشرط عینی ۱؎۔
اوروکیل کومعزول کرنے کی تعلیق صحیح نہیں، اس کی صورت یہ ہے کہ یوں کہے کہ اگرتو مجھے کوئی شیئ ہدیہ دے یا اگرفلاں شخص آئے تو میں نے تجھے معزول کیا اس لئے کہ یہ چیزیں ایسی نہیں جن کے ساتھ حلف جائزہولہذا ان کوکسی شرط کے ساتھ معلق کرنا جائزنہیں ہوگا۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسد الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۲۶)
پھر جب نصف مکان پسرزید کاٹھہرا اوراس میں عمرو نے اپنے روپے سے عمارت جدید بنائی مکان تقسیم کیاجائے جتنی عمارت عمرو حصہ پسر زید میں ہے عمرو پر لازم ہے کہ اپنی عمارت اس کے حصے سے اکھیڑ کر خالی کردے اور اگر اس میں زمین پسر زید کونقصان کثیرپہنچے توپسرزیدکواختیارہوگا کہ وہ عمارت خود لے لے اوراس کی اتنی قیمت عمروکودے دے جواکھیڑے ہوئے عملہ کی ہوتی ہے اوراس میں سے اس کے اکھیڑنے کی اجرت مجراکرلے مثلاً یہ عمارت حالت موجودہ پرنرخ رائج سے ساٹھ روپے کی ہوتی ہے اوراکھیڑلی جائے تو ٹوٹا ہواعملہ تیس روپے کا رہ جائے اور دو روپے اس کے اکھڑوانے کی مزدوری میں صرف ہوئے توپسرزید اٹھائیس روپے عمرو کودے اورعمارت اپنی ملک کرلے۔
تنویرالابصارمیں ہے :
من بنی اوغرس فی ارض غیرہ بغیر اذنہ امر بالقلع والرد وللمالک ان یضمن لہ قیمۃبناء اوشجر امر بقلعہ ان نقصت الارض بہ۔۲؎
کسی شخص نے دوسرے کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیربنادی یادرخت لگادئےے تواس کو درخت اکھیڑنے اورزمین واپس کرنے کاحکم دیاجائے گا، اور زمین کے مالک کواختیار ہے کہ وہ اس عمارت یادرخت جس کو اکھاڑنے کاحکم دیاگیاہے کی قیمت کا ضمان دے دے اگراکھاڑنے سے زمین کونقصان ہوتاہو۔(ت)
(۲؎ الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۷)
ردالمحتارمیں ہے :
وھی اقل من قیتمہ مقلوعا مقدار اجرۃ القلع فان کانت قیمۃ الارض مائۃ و قیمۃ الشجر المقلوع عشرۃ واجرۃ القلع درھم بقیت تسعۃ دراھم فالارض مع ھذا الشجر تقوم بمائۃ وتسعۃ دراھم فیضمن المالک التسع، منح ۱؎۔
اور اس قیمت میں اکھاڑی ہوئی عمارت یادرخت کی قیمت سے اکھاڑنے کی اُجرت کے برابرکمی کی جائے گی چنانچہ اگرزمین کی قیمت سودرھم ہواوراکھڑے ہوئے درخت کی قیمت دس درہم ہوجبکہ اکھاڑنے کی اجرت ایک درہم ہو تو اس ایک درہم کونکال کے درخت کی قیمت نودرہم بچی لہٰذا س درخت کی قیمت سمیت ایک سو نودرہم میں پڑی تو مالک نودرھم ضمان دے گا، منح۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۲۴)
اورجبکہ نصف مکان بدستور پسر زید کی ملک ٹھہرااوروہ اس وقت یتیم تھا توجس دن کہ کل مکان پرعمرو نے قبضہ کیااس وقت سے پسرزید کے بالغ ہونے تک جتنی مدت گزری زیادہ سے زیادہ گیارہ برس اورکم سے کم آٹھ برس ہوگی اس مدت میں ملک زید کاکرایہ مثل عمرو کے ذمہ واجب الاداہے جب تک عمرونے عمارت جدیدنہ بنائی تھی اس حیثیت موجودہ پرنرخ عام سے جو اس مکان کاکرایہ ہوتا ہے کانصف دیناآئے گا اور جس نے عمارت قدیم منہدم کردی تھی توجوکچھ اس میں قابل تاوان تھا اس کاتاوان عمروپرآئے گا اوراس کے بعد سے جوخالی زمین کاکرایہ مثل ہو زمان بلوغ تک وہ واجب آئے گا کہ یہ مال یتیم تھا اورمال یتیم پرقبضہ کرنے سے بلاعقداجارہ اجرت مطلق لازم آتی ہے اگرچہ تصرف کرنے والا یتیم کاشریک ہو خواہ بدعوی خریداری وغیرہ تصرف کرے۔
درمختارمیں ہے :
منافع الغصب استوفاھا اوعطلھا لاتضمن الا فی ثلث فیجب اجرالمثل ان یکون المغصوب وقفا اومال الیتیم فعلی المعتمد تجب الاجرۃ علی الشریک وبہ افتی ابن نجیم اومعدا للاستغلال الا فی المعد اذا سکن بتاویل ملک کبیت سکنہ احد الشرکاء اوعقد کبیت الرھن سکنہ المرتھن سکنہ المرتھن ثم بان للغیر معداللاجارۃ فلاشیئ علیہ ۱؎ اھ ملتقطا۔
غصب کے منافع پرضمان نہیں چاہے غاصب نے ان منافع کوحاصل کیاہویاانہیں معطل رکھاہوسوائے تین صورتوں کے کہ ان میں غصب کے منافع پرمثلی اُجرت واجب ہوتی ہے وہ یہ ہیں کہ مغصوب وقف ہو یامغصوب یتیم کا مال ہوتو معتمد مذہب کی بنیاد پرشریک پراجرت واجب ہوگی اوراسی کے ساتھ فتوٰی دیا ابن نجیم نے، یا وہ مغصوب کرایہ حاصل کرنے کے لئے تیارکیاگیاہو مگرغاصب اس میں مِلک کی تاویل کے ساتھ سکونت پذیرہواہو جیسے وہ گھرجس میں اس کے شرکاء میں سے کوئی ایک سکونت اختیارکرے یاعقد کی تاویل کے ساتھ اس میں رہائش پذیرہو جیسے رہن کامکان جس میں مرتہن نے سکونت اختیارکی پھرظاہرہواکہ وہ مکان کسی غیرشخص کا ہے جواجارہ کے لئے بنایاگیاہے تواس پرکچھ بھی ضمان نہیں ہوگا اھ (التقاط۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۰۹۔۲۰۸)
دالمحتارمیں ہے :
قولہ الا فی المعد، افاد ان الاستثناء من قولہ اومعدا فقط وان الوقف ومال الیتیم یجب فیہ الاجر علی کل حال ولذا قدم الشارح انہ لو شری دارا وسکنہا فظہرت وقفا اولصغیر لزمہ الاجر صیانۃ لھما وقدمنا انہ المختار مع انہ سکنھا بتاویل ملک اوعقد فاحفظہ فقد یخفی علی کثیر۔۲؎
ماتن کے قول ''الافی المعد'' (مگریہ اس کو بنایاگیاہو) نے اس بات کافائدہ دیاہے کہ استثناء فقط ماتن کے قول ''معدا'' سے ہے، اوریہ کہ بے شک وقف اورمال یتیم کسی صورت میں ہوبہرحال اجرت واجب ہوگی، اسی واسطے شارح پہلے بیان کرچکے ہیں کہ کسی نے کوئی گھرخریدا اس میں سکونت اختیارکی پھر ظاہرہواکہ وہ وقف ہے یا کسی نابالغ کاہے تو اس پراجرت لازم ہوگی ان دونوں کی حفاظت کے لئے۔ اورہم نے پہلے بیان کیاکہ بیشک یہی مختارہے حالانکہ وہ مالک یاعقد کی تاویل کے ساتھ اس گھرمیں سکونت پذیرہوا۔ اس کویادکرلے۔ تحقیق یہ بہت سے افراد پرمخفی ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۳۲)
اسی میں ہے :
لزمہ اجرالمثل قال الحموی ھو مبنی علی تصحیح المحیط و ھوالذی ینبغی اعتمادہ وقال الشیخ شرف الدین ھوالمختار کما فی التجنیس والمزید قلت وھو ما اعتمدہ فی وقف البحر ومشی علیہ الشارح وافتی بہ فی الخیریۃ وغیرھا فلیحفظ۔۱؎
اسے مثلی اجرت لازم ہے۔ حموی نے کہاکہ وہ محیط کی تصحیح پرہے اور وہ وہی ہے جس پر اعتمادچاہئے۔ شیخ شرف الدین نے کہا وہی مختار ہے، جیساکہ تجنیس اورمزیدمیں ہے۔ میں کہتاہوں اسی پربحر کے باب الوقف میں اعتماد کیاہے اور اسی پرشارح علیہ الرحمہ چلے ہیں اور اسی کے ساتھ خیریہ وغیرہ میں فتوی دیاگیاہے اسے یادرکھناچاہئے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۱۸)
اسی کے آخرکتاب الشرکہ میں ہے :
ولوکان وقفا ومال یتیم یلزمہ اجرۃ شریکہ علی ما اختارہ المختارون وھو المعتمد۔۲؎
اگر وہ وقف یامال یتیم ہے تو اس کے شریک کی اجرت لازم ہے جیساکہ اس کواختیارکیاہے اختیارکرنے والوں نے۔ اور وہی معتمدہے(ت)
(۲؎ردالمحتار کتاب الشرکۃ فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۵۷)
یہ سب اس کانتیجہ ہے کہ یتیم کے مال میں بے احتیاطی برتی۔ ہاں اگر گواہا عادل سے ثابت ہوجائے کہ مختار زید نے عمرو کے ہاتھ پسرزید کاحصہ بیع کیااور وہ مختارزیدکاوصی تھا اوراس وقت یہ نصف مکان مع اس وقت کی عمارت کے پچیس روپے یا اس سے بھی کم قیمت کاتھا تو البتہ عمرو اس دعوی سے بری ہوجائے گاپھر اس صورت بعیدازقیاس میں کہ بیع مذکورجائزٹھہرے پچاس روپے واپس دینے پر جس کادعوی پسرزیدکرتاہے اس سے حلف نہ لیاجائے گا بلکہ وہی حکم ہے کہ پسر زید اس واپسی کے گواہ دے اورنہ دے سکے توعمروکاحلف چاہے تو عمرو سے حلف لیں اگرحلف کرلے پسر زیدکادعوی واپسی باطل ہواور عمرو حلف سے انکارکردے توپچاس روپے پسرزید کودے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم