Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
94 - 135
اوراگرثابت بھی ہوکہ یہ مختاروصی بھی تھا تواگریہ پچاس روپے اس نصف مکان کی واقعی قیمت کے پورے دونے یادونے سے بھی زائدنے تھے جیساکہ یہی ظاہرہے تو صورت مذکورہ میں اسے بیع مکان کا اختیار اصلاً نہ تھا، وصی نابالغ کی جائدادغیرمنقولہ دوچند قیمت سے کم کوتوصرف معدودصورت ضرورت میں بیچ سکتاہے میت پرکوئی دین ایساہوکہ بغیر اس کے بیچے ادانہ ہوسکے گا یا اس نے کچھ روپوں کی ایسی وصیت کی کہ اسے بیچ ہی کرپوری ہوسکے گی یامکان گراجاتاخراب ہواجاتاہے اورمرمت کے لئے کچھ پاس نہیں یاکسی ظالم نے دبالیا ہے کہ نہ بیچے تومفت ہاتھ سے جائے یانابالغ کے کھانے پینے کو اس کے سواکچھ نہیں وہ جائداد یاکرایہ ومحصول کی چیزہے اوراس کی آمدنی اسی کو لگ جاتی ہے۔
درمختارمیں ہے :
وجاز بیعہ عقار صغیر بضعف قیمتہ اولنفقۃ الصغیر اودین المیت اووصیۃ مرسلۃ لانفاذ لھا الامنہ اولکونہ نملاتہ لاتزید علی مؤنتہ اوخوف خرابہ اونقصانہ اوکونہ فی ید متغلب، دررواشباہ۱؎۔ملخصًا
وصی کے لئے جائزہے کہ وہ نابالغ کی غیرمنقولہ جائداد کو دگنی قیمت پریاصغیر کے نفقہ کے لئے یامیت کے قرض کی ادائیگی کے لئے یا اس کی ایسی وصیت مطلقہ کے نفاذ کے لئے بیچ دے جس وصیت کانفاذ اس جائداد کوبیچے بغیر نہیں ہوسکتا نیزاس جائداد کی پیداوار اس پرخرچ سے زائد ہو یا اس جائداد کے ویران ہونے یاناقص ہونے یاکسی جابرکے ہاتھ لگ جانے کاڈرہوتوبھی اس کوبیچ سکتاہے، دررواشباہ(ملخصاً)(ت)
 (۱؎ الدرالمختار        کتاب الوصایا    باب الوصی    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۳۷)
ظاہرہے کہ یہاں ان صورتوں میں سے کچھ نہ تھا ان بلادمیں نہ ہرگز یہ امید ہے کہ نصف مکان جس میں پختہ عمارت بھی ہے صرف پچیس روپے یا اس سے بھی کم ہوتونظر بظاہرہوا کہ عمرو نے اپنانفع خیال کیااپنے لئے مکان خالص کرلیناچاہا اورجوقیمت اپنی خواہش کے موافق چاہی اس پرایک اجنبی سے جسے یتیم کاکیادرد ہوتا فیصلہ کرالیا اوراس کے عوض دوسرامکان یتیم کوخریددیا غرض صورمذکورہ میں مختار کو اس بیع کاکچھ اختیارنہ تھا تویہ بیع فضولی ہوئی اوروقت عقد اس کاکوئی اجازت دینے والانہ تھا کہ ان چند عُذروں کے سواجب خودوصی کواختیار بیع نہیں تو غیروصی بدرجہ اولٰی کہ فضولی جوایساعقد کرے جس کانافذ کرنا اس وقت کسی کامنصب نہ ہو وہ عقد محض باطل ہوتاہے۔
درمختارباب الفصولی میں ہے :
کل تصرف صدرمنہ ولہ مجیز حال وقوعہ انعقد موقوفا ومالامجیزلہ حالۃ العقد لاینعقد اصلا۱؎۔
ہرتصرف جوفصولی سے صادرہو دراں حالیکہ بوقت عقد اس کی اجازت دینے والاکوئی موجود ہو تووہ عقد اس کی اجازت پرموقوف ہوجائے گا اورجس کی اجازت دینے والا بوقت عقد کوئی نہ ہو وہ بالکل منعقدنہیں ہوگا۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار    کتاب البیوع    فصل فی الفضولی    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۱)
ردالمحتارمیں جامع الفصولین سے ہے :
لوطلق او وھب مالہ اوتصدق بہ اوباع مالہ محاباۃ فاحشۃ اوشری شیئا باکثر من قیمتہ فاحشا اوعقد عقدا ممالوفعلہ ولیہ فی صباہ لم یجز علیہ فھذہ کلھا باطلۃ وان اجازھا الصبی بعد بلوغہ لم تجز لانہ لامجیز لہا وقت العقد۔۲؎۔
نابالغ نے اگرطلاق دی یااپنامال ہبہ کیایا اسے صدقہ کیایا اپنامال بہت زیادہ کم قیمت پرفروخت کیایاکوئی شیئ اس کی اصل قیمت سے بہت زیادہ قیمت کے بدلے خریدی یاکوئی ایساعقد کیاکہ اگراس کاولی اس کی صغرسنی میں وہ عقد کرتا تو جائزنہ ہوتا۔ یہ تمام عقود باطل ہیں۔ اوراگرنابالغ ہونے کے بعد ان کی اجازت دے دی تو وہ جائزنہیں ہوں گے اس لئے کہ وہ وقت عقد ان کی اجازت دینے والا کوئی نہیں تھا۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار   کتاب البیوع    فصل فی الفضولی    داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۳۶)
فتاوٰی خیریہ میں ہے :
  یتیم باع جدہ عقارہ بغیر مسوغ صرح فی التتارخانیۃ عن المنتقی انہ باطل۔۳؎ یتیم کے دادانے یتیم کی غیرمنقولہ جائداد بلاجواز بیچ دی، تاتارخانیہ میں منتقی سے اس بات پرتصریح منقول ہے کہ یہ بیع باطل ہے(ت)
(۳؎ الفتاوی الخیریہ    کتاب الوصایا     دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۲۱۷)
اورجب وہ بیع باطل ہوئی توپچاس روپے جوقیمت کے قراردئیے تھے وہ بھی ملک عمرو سے نہ نکلے کیلایجتمع البدلان فی ملک واحد (تاکہ ملک واحد میں دونوں بدل جمع نہ ہوں۔ت) اگرعمرو نے یہ روپے پسر زید کونہ دئیے تھے جب توظاہرکہ اس کی ملک اس کے پاس تھی اوراگردے دئیے تھے اورپھر دوسرا مکان خریدنے کے لئے اس سے لے کر بائع مکان دوم کودئے تھے تو جس وقت پسر زید سے واپس لئے عمرو کے روپے عمروکوپہنچ گئے اورپسر زید پران کامطالبہ نہ رہا۔
درمختارمیں ہے :
والاصل ان المستحق بجھۃ اذ اوصل الی المستحق بجھۃ اخری اعتبرواصلا بجھۃ مستحقہ ان  وصل الیہ من المستحق علیہ والافلاوتمامہ فی جامع الفصولین۔۱؎
ضابطہ یہ ہے کہ کسی شیئ میں ایک جہت سے استحقاق ثابت ہوا اور وہ کسی دوسری جہت سے مستحق تک پہنچ گئی تواس میں اسی جہت مستحقہ سے موصول ہونے کا اعتبار کیاجاتا ہے بشرطیکہ وہ شیئ مستحق تک اس شخص کی طرف سے پہنچتی ہو جس پراستحقاق ثابت ہوا ورنہ یہ حکم نہ ہوگا۔ اس کی مکمل بحث جامع الفصولین میں ہے(ت)
 (۱؎ الدرالمختار   کتاب البیوع   باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۸)
پھرجبکہ عمرونے بھتیجے کو دوسرامکان خریددیا اور اس کی قیمت اس روپے سے اداکی جو عمرو ہی کی ملک تھا  تو یہ مکان عمرو کی طرف سے اس کوہبہ ہواقیمت کامطالبہ پسرزید سے نہ ہوگا۔
احکام الصغار پھرعقوددریہ میں ذخیرہ وتجنیس سے ہے :
امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالھا وقع الشراء للام لانھا لاتملک الشراء للولدوتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ۔۲؎
ایک عورت نے اپنے مال سے اپنی نابالغ اولاد کے لئے جائدادخریدی تو وہ خریداری ماں کے لئے واقع ہوگی کیونکہ وہ اولاد کے لئے خریداری کی مالک نہیں اور وہ جائداد اولاد کے لئے ہوگی کیونکہ ماں ہبہ کرنے والی ہوئی۔(ت)
 (۲؎ العقودالدریۃ    کتاب الوصایا    ارگ بازار قندھارافغانستان   ۲ /۳۳۷)
پسرزید جوپچاس روپے عمروکو واپس کرنے کادعوی کرتاہے جب تک شہادت شرعیہ سے ثبوت نہ ہو مقبول نہیں، ہاں اگرگواہان عادل سے ثابت ہوجائے یاپسر زیدحاکم کے یہاں گواہ نہ دے اور عمروسے حلف مانگے اس پرعمرو حلف سے انکارکردے تویہ پچاس روپے عمروپر ثابت ہوجائیں گے اور ازانجاکہ پسرزیدنے اس گمان سے دئیے کہ یہ  حق عمرہیں ان کی واپسی شرعاً مجھ پرلازم ہے حالانکہ واقع میں ایسانہ تھا تو یہ روپے بھی عمرو  پسرزید کو واپس دے گا۔
خیریہ پھرحامدیہ میں ہے :
فی شرح النظم الوھبانی لشیخ الاسلام عبدالبر، ان من دفع شیئا لیس بواجب فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستھلکہ القابض  اھ  وقد صرحوا بان من ظن ان علیہ فبان خلافہ یرجع بما ادی ولوکان قداستھلکہ رجع ببدلہ۔۱؎
شیخ الاسلام عبدالبر کی تصنیف شرح النظم الوہبانی میں ہے اگر کوئی کسی کو ایسی شیئ دے جس کا دینا اس پرواجب نہیں تووہ اس شیئ کو واپس لے سکتاہے مگراس وقت نہیں لے سکتا جب اس نے وہ شیئ بطور ہبہ دی اوراس پرقبضہ کرنے والے نے اسے ہلاک کردیا الخ تحقیق مشائخ نے تصریح فرمائی کہ کسی کوگمان ہواکہ اس پرکسی کاقرض ہے پھر اس کے خلاف ظاہرہواتو جوکچھ اس نے اداکیااس میں رجوع کرسکتاہے،اوراگراس کو وصول کرنے والے نے ہلاک کردیاہوتواس کے بدل کے ساتھ رجوع کرے گا۔(ت)
 (۱؎ العقودالدریۃ    کتاب الوقف    الباب الثالث    ارگ بازار قندھارافغانستان ۱ /۲۲۷)
ان روپوں کے دعوٰی میں حلف چچا پر ہے پسرزیدکاحلف معتبرنہیں، اوراگرچچا حلف کرے تویہ روپے اس پرلازم نہ آئیں گے مکان پراس کااثرنہ ہوگا پسرزیدکاکہناکہ چچاحلف کرلیں تو میں مکان سے دستبردار ہوتاہوں مہمل وباطل ہے کہ دستبرداری ان اشیاء سے نہیں جن کوکسی شرط پر معلق کرسکیں۔
ردالمحتارمیں ہے :
  علل فی الخلاصۃ لعدم صحۃ تعلیق الرجعۃ بالشرط بانہ انما یحتمل التعلیق بالشرط مایجوز ان یحلف بہ ولایحلف بالرجعۃ اھ  بمعنی انہ لایقال ان فعلت کذا فعلیّ ان اراجع زوجتی کما یقال فعلہ حج او عمرۃ اوغیرھما مما یحلف بہ۲؎۔
رجوع کوکسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کی عدم صحت کے بارے میں خلاصہ میں یہ تعلیل بیان کی کہ شرط کے ساتھ معلق کرنے کااحتمال وہ چیز رکھتی ہے جس پرحلف جائزہو جبکہ رجوع کاحلف جائزنہیں اھ  معنی یہ ہے کہ یوں نہیں کہاجائے گا اگرمیں نے ایساکیاتو مجھ پرلازم ہے کہ میں اپنی بیوی سے رجوع کروں جیساکہ یوں کہاجاسکتاہے کہ اگرمیں ایساکروں تومجھ پرحج یاعمرہ وغیرہ لازم ہوگا یعنی ایسی چیزکا ذکرکیا جس کے ساتھ حلف جائزہے۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار  کتاب البیوع    مایبطل بالشرط الفاسد ویصح تعلیقہ بہ     داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۲۵)
Flag Counter