فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
93 - 135
نیزادب الاوصیاء فصل الضمان میں ہے :
فی ھبۃ فتاوی القاضی ظھیرالدین لوکان الاب فی فلاۃ ولہ مال فاحتاج الٰی طعام ولدہ باکلہ بقیمتہ لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الاب احق بمال ولدہ اذا احتاج الیہ بالمعروف و المعروف ان یتناولہ مجانا فقیرا و بالقیمۃ غنیا۔۱؎
فتاوٰی قاضی ظہیرالدین کے باب الھبۃ میں ہے اگر باپ بیانان میں ہو اوراس کاکائی مال بھی ہے، پھر وہ اپنی اولاد کے طعام کی طرف محتاج ہوا تو وہ قیمت کے ساتھ اس کوکھاسکتاہے کیونکہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ باپ اگراولاد کے مال کا محتاج ہو تو وہ معروف طریقے سے اس کو لینے کازیادہ حقدارہے اورمعروف طریقہ یہ ہے کہ اگرباپ فقیرہے تو وہ اس کو مفت میں لے لے اوراگرغنی ہے توقیمت کے ساتھ لے لے۔(ت)
(۱؎ آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی الضمان اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۸۳)
اُسی میں ہے :
وفی العدۃ، اجمعوا علی انہ لیس للوصی قضاء دینہ من مال الصبی وفی الصغری وللاب ذٰلک لانہ بمنزلۃ بیع مال الصبی من نفسہ ویملکہ الاب بمثل القیمۃ بخلاف الوصی حیث یلزم فی بیعہ الخیریۃ۔۲؎
عدہ میں ہے مائخ کااس بات پراجماع ہے کہ وصی نابالغ بچے کے مال سے اپنا قرض اداکرنے کااختیار نہیں رکھتا۔ اورصغرٰی میں ہے کہ باپ کوایساکرنے کااختیارہے اس لئے کہ یہ نابالغ کے مال کو اپنی ذات پربیچنے کے قائم مقام ہے اورباپ مثلی قیمت کے ساتھ ایساکرنے کا اختیاررکھتاہے بخلاف وصی کے کیونکہ باپ کے اس کو بیچنے سے خیرہونا لازم ہے۔(ت)
(۲؎آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی الضمان اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۹۰)
اسی طرح فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے نیزادب الاوصیاء فصل القرض میں ہے :
لواستقرض الوصی من مال الصبی یضمن وعند محمد لایضمن کالاب۔۳؎،
اگوصی نے نابالغ کے مال سے قرض لیاتو وہ ضامن ہوگا، اورامام محمد کے نزدیک ضامن نہیں ہوگا جیساکہ باپ ضامن نہیں ہوتا(ت)
(۳؎آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی القرض اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۷۴)
خلاصہ میں ہے :
لیس للوصی اقراض مال الصبی ولااستقراضہ وعن محمد لہ الاستقراض کالاب۱؎ اھ اقول : وظاھر قولہ کالاب الاتفاق علی ان للاب الاستقراض غیر ان محمدا ربما استشھد بخلافیۃ علی اخری تنبیھا علی منازع الاقوال۔
وصی کے لئے مال صغیر کو قرض پردینا اور اس کو قرض پرلیناجائزنہیں۔ اورامام محمد کے نزدیک اس کو قرض پرلیناجائزہے جیساکہ باپ کے لئے جائزہے اھ میں کہتاہوں کہ اس کاقول ''کالاب''(مثل باپ کے) ظاہراً اس پردلالت کرتاہے کہ باپ کے لئے مال صغیر کوقرض پرلینے کے جوازپر اتفاق ہے سوائے اس کے کہ امام محمدعلیہ الرحمہ دوسری صورت کے اختلاف ہونے پراستشہاد کرتے ہیں اقوال کے مختلف ہونے پرتنبیہ کرنے کے لئے۔(ت)
(۱؎آداب الاوصیاء علٰی ہامش جامع الفصولین بحوالہ خلاصہ فصل فی الاسباق اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۱۔۱۲۰)
ادب الاوصیاء میں عبارت مذکورہ کے بعد ہے :
وفی قضاء الجامع، اخذ الاب مال صغیر قرضا جاز وفی الخلاصۃ، انہ ذکر فی رھن الاصل ان الاب یضمن کالوصی۲؎۔
جامع کے باب القضاء میں ہے باپ کامال صغیر کوبطور قرض لیناجائز ہے۔ خلاصہ میں ہے کہ اصل کے باب الرہن میں امام محمدعلیہ الرحمہ نے فرمایا : بیشک باپ وصی کی طرح ضامن ہوگا(ت)
(۲؎آداب الاوصیاء علٰی ہامش جامع الفصولین بحوالہ خلاصہ فصل فی القرض اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۷۴)
اسی کی فصل الاباق میں شرح مختصرالطحاوی للامام الاسبیجابی سے ہے :
للاب ان یدفعہ (ای مال الصغیر) الی غیرہ مضاربۃ اوبضاعۃ وان یضارب ویبضع بنفسہ، وان یودع مالہ عند انسان وان یعیر لاحد استحسانا لاقیاسا و وان یرھن مالہ بدین نفسہ فلوھلک الرھن یضمن قدر مایصیر مؤدیا منہ دینہ ومثلہ فی ھذا کلہ الوصی۱؎(ملخصًا)
باپ کو اختیار ہے کہ وہ مال صغیر کسی غیرکوبطور مضاربت وبضاعت دے دے، اورخود بھی اس کوبطور مضاربت وبضاعت لے سکتا ہے اوریہ بھی اسے اختیارہے کہ وہ مال صغیر کسی کے پاس ودیعت رکھے یاکسی کوبطور عاریت دے دے یہ بطوراستحسان ہے نہ کہ بطورقیاس۔ اور یہ کہ وہ مال صغیر کو اپنے قرض کے بدلے میں رہن رکھے پھراگر وہ رہن ہلاک ہوگیاتو یہ اس کاضامن بنے گا، اوران سب صورتوں میں وصی باپ کی مثل ہے(ملخصاً)(ت)
(۱؎ آداب الاوصیاء علٰی ہامش جامع الفصولین فصل فی الاباق اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۲۰)
اسی میں ہے :
فی الخلاصۃ ورھن القوانسی ومختارات النوازل لوباع الوصی مال الصبی اوالاب من غریم نفسہ تقع المقاصۃ بینھما ویضمن الصبی الثمن عند الطرفین ولایقع عند ابی یوسف وکذا الحکم فی بیع الاب۲؎۔
خلاصہ، رہن القوانس ااورمختارات النوزل میں ہے اگر وصی یاباپ نے مال صغیر کو اپنے قرض خواہ کے ہاتھ بیچ دیا توثمن اس قرض کا بدل واقع ہوگا، اور وہ وصی یاباپ صغیر کے لئے ثمن کے ضامن ہوں گے۔ یہ طرفین کے نزدیک ہے۔امام ابویوسف علیہ الرحمہ کے نزدیک وہ بدل واقع نہیں ہوگا، یہی حکم باپ کی بیع کی صورت میں ہے۔(ت)
(۲؎آداب الاوصیاء علٰی ہامش جامع الفصولین فصل فی الاباق اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۴۳)
اسی میں ہے:
فی فتاوٰی الدیناری الوصی اذا باع مال الیتیم باجل جاز ومثلہ الاب وفی الخلاصۃ والمنیۃ، للوصی البیع بالنسیئۃ ان لم یخف تلفہ بالحجود والانکار ولا المنع عند حصول الاجل وانقجائہ ولم یکن الاجل بعیدافاحشا ذکرہ فی کل من الولوالجیۃ والخانیۃ۳؎ اھ ۔
فتاوی دیناری میں ہے کہ وصی اگرمال یتیم کو ایک مدت تک ادھار پربیچ دے توجائز ہے اورباپ بھی اسی کی مثل ہے۔ خلاصہ اور منیہ میں ہے وصی کوادھار پربیع کرناجائزہے اگریہ خوف نہ ہو کہ مال بسبب انکار کے ضائع ہوجائے گا اورنہ یہ ڈرہوکہ مدت گزرجانے کے باوجود مشتری ثمن نہیں دے گا اورنہ ہی وہ مدت بہت زیادہ لمبی ہوگی۔ یہ تمام ولوالجیہ اورخانیہ سے منقول ہے اھ ۔
(۳؎آداب الاوصیاء علٰی ہامش جامع الفصولین فصل فی الاباق اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۴۴)
اقول : وبما مر من فرع المقاصۃ ومن نص الاسبیجابی ان الوصی فیہ کالاب یعکر علی دعوی الاجماع المار عن العدۃ ویقدح فیھا ایضا مافی غمزالعیون اٰخر الفرائض عن فوائد صاحب المحیط، اذا استقرض (ای الوصی) مال الیتیم ھل یصح فی قول الامام لایملک وقد اختلفٍ المشائخ فقال بعضھم ان کان الوصی ملیایملک والافلا والاصح انہ لایملک۱؎ اھ ۔
میں کہتاہوں ماقبل میں مذکور بدل واقع ہونے والی فرع سے اوراسبیجابی کی اس نص سے کہ ''وصی مثل باپ کے ہے'' وہ دعویئ اجماع گدلا ہوجاتاہے جو بحوالہ عدہ گزراہے اوراس کووہ بات بھی مجروح کرتی ہے جوغمزالعیون کے باب الفرائض کے آخرمیں صاحب محیط کے فوائد سے منقول ہے کہ وصی اگرمال یتیم کوقرض پرلے تو کیا وہ امام ابوحنیفہ کے قول کے مطابق صحیح ہوگا اس میں مشائخ کا اختلاف ہوا ان میں سے بعض نے کہا اگروصی مالدار ہے تو اس کو ایسا کرنے کااختیار ہے ورنہ نہیں، اور اصح یہ ہے کہ اس کو ایساکرنے کااختیارنہیں اھ ۔
(۱؎ غمزعیون البصائرمع الاشباہوالنظائر الفن الثانی کتاب الفرائض ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۱۳۱ )
وفی قرض ادب الاوصیاء وفی نوادرھمشام، سمعت محمدا یقول لیس للوصی ان یستقرض مال الیتیم عند ابی حنیفۃ واما انا فلا اری بہ باسا ان فعل ذٰلک ولہ وفاء بما استقرض ومثلہ فی المنتفی والعتابیۃ والخانیۃ۲؎ الخ وتمامہ فیہ نعم الاظھر احوط ھو المنع کیف وھو مذھب الامام ۔ اقول : ولک ان تجیب عن فرع الرھن بانہ لیس تملکا ولا اھلاکاً فلایقاس علیہ الاسقراض ولااداء دین نفسہ من مال الصبی، اما لزوم الضمان فی الرھن فحکم الھلاک العارض و فی صورۃ المقاصۃ ایضا انما صدرمنہ البیع وھو سائغ لہ والمقاصۃ وقعت لان الحقوق ترجع الیہ وکم من شیئ یثبت ضمنا ولایثبت قصدا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
آداب الاوصیاء کے باب القرض اورنوادرہشام میں ہے میں نے امام محمد علیہ الرحمہ کویہ کہتے ہوئے سناکہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے نزدیک وصی کومال یتیم قرض پرلینے کااختیارنہیں لیکن میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا، اگر اس نے ایساکیا اور اس کے پاس اس قرض کواداکرنے کے لئے مال موجود ہوتو حرج نہیں اور اسی کی مثل منتقٰی، عتابیہ اورخانیہ میں ہے الخ اور اس کی مکمل بحث آداب الاوصیاء میں ہے، ہان زیادہ ظاہراور زیادہ محتاط منع ہی ہے، کیسے نہ ہو جبکہ وہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کامذہب ہے۔ میں کہتاہوں تو رہن والی فرع کا جواب یوں دے سکتاہے کہ وہ نہ توتملک ہے اورنہ ہلاک کرنا، لہذا اس پرقرض لینے اور مال صغیر سے اپناقرض اداکرنے کو قیاس نہیں کیاجاسکتا۔ رہارہن میں ضمان کالازم ہونا تو وہ ہلاک عارض کاحکم ہے اوربدل واقع ہونے والی صورت میں بھی بیع تو اس سے اس حال میں صادرہوئی کہ وہ اس کے لئے جائز تھی اورثمن کاقرض کے لئے بدل واقع ہونا اس لئے ہے کہ حقوق بائع کی طرف لوٹتے ہیں اور بہت سی اشیاء ضمناً ثابت ہوتی ہیں اورقصداً ثابت نہیں ہوتیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی الفرائض اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۳۔۱۷۲)
نیزادب الاوصیاء فصل اباق میں ہے :
فی المنتقی یجوز للوصی شراء مال الیتیم لنفسہ وبیعہ مال نفسہ من الیتیم فاذا رفع ذٰلک الی القاضی ان رأی خیراابرمہ والزمہ والافسخہ ونقضہ قال ومثلہ بیع الاب وشرائہ حیث یکون للقاضی فسخہ ان لم یکن خیراللیتیم یعنی الابن لکن عدم الخیریۃ فی الاب کونہ ناقصا عن ثمن المثل نقصانا لایتغابن فیہ الناس۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم
منتقی میں ہے وصی کے لئے جائزہے کہ وہ مال یتیم کواپنے لئے خریدے یا اپنامال یتیم پربیچے پھر جب یہ معاملہ قاضی کے پاس پہنچے تو اگروہ اس میں بھلائی دیکھے تو اس کوپکااور لازم کردے ورنہ اس کوفسخ کردے، اور اسی کی مثل باپ کی خریدو فروخت ہے، اگر وہ یتیم بیٹے کے حق میں خیرنہ ہوتو قاضی س کو فسخ کرنے کا اختیار رکھتاہے لیکن باپ کی صورت میں خیرکانہ ہوتاتب ہوگاکہ جب وہ خریدوفروخت ثمن مثلی سے اس قدرکم ہو جس قدرکمی کاغبن لوگوں میں رائج نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی الاباق اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۵)
مسئلہ ۱۵۰ : ۳۰/ذی الحجہ ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس امرمیں کہ زیدنے ایک مکان بحالت مرض الموت بی بی کے کہنے سے بی بی کے نام بعوض دوسوروپے مہرکے منتقل کردیاتھا حالانکہ قبل اس کے بی بی نے مہرمعاف کردیاتھا اوربی بی نے اس غرض سے مکان منتقل کرایاتھا کہ قرضہ سے بچ جائے۔
زید اس تحریر کے تیسرے روزمرگیا اورایک لڑکا ایک لڑکی اور بی بی چھوڑے، اول بی بی نے سواسوروپے میں رہن رکھا اوراب فروخت کرتی ہے اورلڑکا لڑکی بدستور قابض ودخیل ہیں، ایسی صورت میں کہ کس قدرحصہ پاسکتے ہیں اوریہ انتقال زیدکاکیاحکم رکھتاہے؟بینواتوجروا۔
الجواب : انتقال کی یہ غرض اگرثا بت ہوتو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انتقال فرضی ہواور جب زیداقرارکررہا ہے کہ اس پرزوجہ کامہرباقی ہے اور اس کے عوض میں یہ جائداد دیتا ہے تواس کے وارثوں کادعوٰی کہ عورت پہلے اپنا مہرمعاف کرچکی ہے تھی مسموع نہیں۔
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
رجل اقر لامرأتہ بمھر الف درھم فی مرض موتہ ومات ثم اقامت الورثۃ البینۃ ان المرأۃ وھبت مھرھا من زوجہا فی حیاۃ الزوج لاتقبل والمھر لازم باقرارہ وکذا فی الخلاصۃ۔۱؎
کسی شخص نے مرض الموت میں اپنی بیوی کے لئے ایک ہزاردرہم مہرکا اقرارکیااور وہ مرگیا پھر اس بات پرگواہ قائم ہوگئے کہ عورت نے شوہر کی زندگی میں اپنا مہرشوہر کوہبہ کردیاتھا تویہ گواہ قبول نہیں کئے جائیں گے اورشوہر کے اقرار کی وجہ سے مہرلازم ہوگا۔ خلاصہ میں یونہی ہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوٰی الھندیۃ کتاب الاقرار الباب السادس نورانی کتب خانہ کراچی ۴ /۱۷۶)
مگرجبکہ مہرروپے تے ان کے عوض مکان دینا بیع ہے اورزید کومرض الموت تھا اورعورت اس کی وارث ہے اور وارث کے ہاتھ مریض کاکوئی چیزبیچنا اگرچہ برابرقیمت کوہو بے اجازت دیگرورثہ کے باطل ہے۔
عالمگیریہ میں ہے :
اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جاز بیعہ وان مات من ذٰلک المرض ولم تجز الورثۃ بطل البیع ۱؎۔
مریض نے مرض الموت میں اپنے وارث کاہاتھ اپنے مال سے کوئی خاص شیئ فروخت کی، پھراگر وہ مریض صحت مندہوگیا تو اس کی بیع جائز ہوگی اوراگر وہ کسی بیماری سے مرگیا اوروارثوں نے بیع کی اجازت نہ دی توبیع باطل ہوجائے گی(ت)
(۱؎ الفتاوٰی الھندیۃ کتاب البیوع الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۵۴)
پس اگردیگرورثہ اس انتقال کوجائز نہیں رکھتے تو یہ بیع باطل ہوگئی مکان بدستور متروکہ زید ہوا البتہ دوسوروپے مہرکے دینے رہے بعدادائے مہرودیگردیون مکان ودیگر متروکہ زیدحسب شرائط فرائض چوبیس سہام ہوکرتین سہم زوجہ چودہ پسرسات دخترکوملیں، تنہاعورت کواس کی بیع کااختیارنہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱ : مرسلہ حافظ محمدایازازقصبہ نجیب آباد ۲۸جمادی الآخرہ ۱۳۲۹ھ
بکرنے اپنے ترکہ میں دولڑکے زید، عمرواورایک مکان مسکونی چھوڑا۔ چندمدت کے بعد بڑے بھائی زیدکا انتقال ہوگیا اس کی بیوی اورایک لڑکارہ گیا، اس متوفی کی جانب سے ایک شخص شریک اورمختارکل کاروبارتھا۔ بکرکے دوسرے لڑکے عمرونے نصف حصہ مکان اپنے بھائی متوفی زید کامنجانب پسرنابالغ متوفی معرفت مختار متوفی پچاس روپے کو بیع خرید کوبیعنامہ مختارسے لکھالیاکہ جس پرمختارنے پسرمتوفی کے دستخط اپنے ہاتھ سے کردئیے اورایک دستخط اپنے خود کردئیے لیکن رجسٹری نہیں ہوئی اور گواہان حاشیہ بھی سب فوت ہوچکے بعد تحریر وغیرہ کے ایک مکان یا زمین جوزیردیوار مکان مبیع مذکور کے تھی اسی پچاس روپے سے جواوپردے چکے تھے پسرمتوفی وبیوہ متوفی مذکورکوبکرکے چھوٹے لڑکے عمرو نے خریددی اوراس کابیعنامہ پسرمتوفی یعنی اپنے برادر زادہ کے نام تحریر کرادیا جس کی عمر ۳،۴ برس کی تھی پس اس وقت بیوہ متوفی زیداپنے پسر نابالغ کولے کر اس مکان میں چلی گئی جوان کو خریددیاتھا، اب وہ مکان متروک بکر بالکل سارا اس کے چھوٹے لڑکے عمروکے پاس رہا مکان متروک بکرکچھ پختہ وکچھ خام تھا عمرونے اپنی لاگت سے اس خام کوبھی پختہ کرلیا قریب (ماصہ) روپے کے اس میں صرف ہوئے اورعرصہ ۳۲برس سے برابر اس عمروکی اس میں سکونت ودخل ہے اب عرصہ دوتین برس کے عمرو کے برادرزادہ نے اس مکان ترکہ بکر میں اپنے باپ متوفی زیدکانصف حصہ طلب کیاہے اوراس برادرزادہ کی عمراس وقت قریب ۳۸برس کی ہے جب سے بالغ ہواتھا جب سے کوئی جھگڑا نہیں کیاتھا اب کرتاہے اوربرادرزادہ یہ بیان کرتاہے کہ وہ پچاس روپے جس سے مجھ کومکان چچاعمرونے خریدکردیاتھا وہ میں نے ۱۷برس ہوئے کہ واپس چچا صاحب کو دے دئے ہیں اورچچایہ کہتے ہیں کہ ہم نے واپس نہ لئے تھے اوراس امرکا طرفین سے کوئی گواہ دیدہ موجودنہیں ہے شنیدہ معتبرنہیں۔ اب یہ معاملہ پنچایت میں پیش ہے، اب دریافت طلب یہ امرہیں:
(۱)جوبیعنامہ مختارنے نابالغ کی طرف سے کردیاوہ بیع درست ہوئی یانہیں؟
(۲)اگربیع درست نہ ہوئی تونصف حصہ چچاونصف حصہ برادرزادہ کاہوگایانہیں؟
(۳) جوچچانے بعدخریدلینے مکان متروکہ کے (ماصہ) کی تعمیراپنی لاگت سے کی وہ اس کو ملناچاہئے یانہیں؟
(۴)۳۲ برس سے جوچچاصاحب نے اس مکان متروک میں خالصاً سکونت کی ان کاکرایہ نصف کاحقدار برادرزادہ ہے انہیں؟
(۵) جوبرادزادہ بیان کرتاہےکہ میں نے چچاکوپچاس روپیہ واپس دے دئیے ہیں اگرچچا حلف اٹھالیں تو میں مکان سے دست بردارہوتاہوں ورنہ میں حلف اٹھاتاہوں اس صورت میں کس کاحلف معتبرہے اورکس کو حلف دلایاجائے؟
(۶) اگربیعنامہ مذکورہ (۱) جائزتسلیم ہو اوربرادرزادہ نے پچاس روپے کاحلف کیاہو تو اس کو پچاس روپے ہی دلائے جائیں گے یاکیاہوگا کیونکہ جب مکان کی بیع جائزہوچکی ہو؟
(۷) اگرمکان کی بیع ناجائز ہے توبعد حلف برادرزادہ کے نصف حصہ مکان برادر زادہ کاقرارپائے گایانہیں اوربابت لاگت اورکرایہ مکان کیاعمل درآمدہوگا؟
مسائل متذکرہ بالا میں نہایت جھگڑے اورفساد واقع ہیں لہٰذا موافق شرع شریف ارشاد فرمادیجئے اجرعظیم وثواب دارین ہوگا۔
الجواب : اللھم ھدایۃ الحق والصواب(اے اﷲ! حق اوردرستگی کی ہدایت عطافرما۔ت) مکان ۳۴برس سے عمرو کے قبض وتصرف میں ہے اورپسر زید کوبالغ ہوئے بھی بیس برس سے زیادہ زمانہ گزرا اوروہ اتنی مدت مدید تک ساکت رہا یہ اگرچہ اسے مستلزم ہوتاکہ اب پسرزید کا دعوی نہ سناجاتا مگرجبکہ عمروتسلیم کرتاہے کہ واقعی یہ نصف مکان پسر زید کی ملک کا اقرار اوراس سے اپنی طرف انتقال ملک کادعوی ہوا اورکوئی دعوٰی بے دلیل مقبول نہیں اورہرمقراپنے اقرارپر ماخوذ ہے اوربعد اقرارکوئی تمادی مخل نہیں ہوتی، اگر سوبرس کے بعد کوئی اقرارکرے کہ یہ شیئ فلاں کی ملک ہے تو وہ اقرار اس مقرپرحجت ہوگا اورسوبرس گزرجانا کچھ خلل نہ ڈالے گا۔
علامہ خیرالدین رملی استاد صاحب درمختار رحمہمااﷲ تعالٰی کے فتاوٰی خیریہ میں ہے :
دعوی تلقی الملک من المورث اقرار بالملک لہ ودعوی الانتقال منہ الیہ فیحتاج المدعی علیہ الی بینۃ وصار المدعی علیہ مدعیا وکل مدع محتاج الی بینۃ ینوربھما دعواہ ولاینفعہ وضع الید المدۃ المذکورۃ مع الاقرار المذکور ولیس من باب ترک المدعوٰی بل من باب المواخذۃ بالاقرار ومن اقر بشیئ لغیرہ اخذ باقرارہ، ولوکان فی یدہ احقابا کثیرۃ لاتعد وھذا مالایتوقف فیہ ۱؎۔
مورث سے ملک حاصل کرنے کادعوی مورث کی ملکیت کا اقرار اوراس سے ملکیت کے مقرکی طرف منتقل ہونے کادعوی ہے، چنانچہ مدعاعلیہ گواہ لانے کامحتاج ہوگا اورمدعاعلیہ مدعی بن جائے گا اورہرمدعی ایسی گواہی کامحتاج ہوتاہے جس کے ساتھ اس کادعوی روشن ہو۔ اقرار مذکورکے ہوتے ہوئے مدت مذکورہ تک اس کاقبضہ اسے کچھ نفع نہیں دے گا۔ یہ ترک دعوی کے باب سے نہیں بلکہ اقرار کے سبب مؤاخذہ کے باب سے ہے۔ جس شخص نے غیرکے لئے کسی شیئ کا اقرارکیا اس کے اقرار کے سبب سے وہ شیئ اس سے لے لی جائے گی اگرچہ وہ بے شمار اس کے قبضے میں رہی ہو اوریہ ایسامسئلہ ہے جس پرتوقف نہیں کیاجاتا۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الخیریۃ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۸۰ و ۸۱)
ذریعہ انتقال جوعمرو نے بتایا کہ مختارپدرسے بیعنامہ کرالیامحض باطل وبے اثرہے اول توزید کی زندگی میں اس کامختارہونازید کے بعد اس کی اواد پروصی ہونا نہیں زید کے مرتے ہی وکالت ختم ہوگئی۔
تنویرالابصارودرمختارمیں ہے:
ینعزل الوکیل بموت احدھما۔۲؎
دونوں میں سے کسی ایک کی موت کے سبب سے وکیل معزول ہوجاتاہے(ت)
(۲؎ الدرالمختار شرح تنویرالابصار باب عزل الوکیل مطبع مجتبائی دہلی۲ /۱۱۳)