| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
مسئلہ ۱۴۹ : ازجواہرپور ڈاک خانہ شیرگڈھ ضلع بریلی مرسلہ خان صاحب دلاورحسین قاسمی قادری برکاتی ۲۹ ذی الحجہ ۱۳۲۷ھ قبلہ ایمانیاں وکعبہ روحانیاں وجان ایماں بخش ایں بیجان مقبول بارگاہ صمدیت مولانا ومرشدنا اعلٰحضرت ادام اﷲ تعالٰی برکاتہم وافضالہم، بعدبجاآوری مراسم سرافگندگی وآداب دست بستہ کے گزارش خدمت کفش برادران حضورمیں یہ ہے کہ جوترکہ متوفیہ کنیزک حضورمیں اس کے دو نابالغ لڑکے حضورکے غلام زادہ اورایک پدراور ایک شوہر ہیں اورمتاع ترک مختلف طورپرہے زیوروپارچہائے پوشیدنی وبرتن واثاث البیت اس کی تقسیم میں نہایت تفکرہے ا س میں سے قریب چارسوروپے کے زیورفروخت ہوگیاجس کاروپیہ موجودہے اورپانسوروپے کے قدراوراسباب وزیورباقی ہے جس کافروخت ہونانہیں معلوتا اور ہو توعرصہ میں ہیں اورکم قیمت پراب چونکہ نابالغ شریک ہیں اس کی فروخت میں بھی خوف ہے پھر ا س کی حفاظت اپنی طبیعت قطعی اس بار کونہیں اٹھاتی دنیاکے مال ومتاع اورفرزندان حتی کہ مادر وپدرسے بھی دلچسپی نہیں اگراطاعت والدین اورتعلیم فرزندان فرض نہ ہوتی توکسی طرح یہ بارپسندنہ ہوتاحضور ہی کے قدموں پریہ زندگانی مستعار بسرکی جاتی اور اس امرکی حضور سے التجاہے کہ ایسانصیب ہو، یہ امریقینی ہے کہ حضورکسی وقت اپنے سگ دور افتادہ کو توجہ باطنی سے فراموش نہ فرماتے ہوں گے اگرحضور کاتصرف باطنی معاذاﷲ ایک دم کوجداہوجائے تویہ اندوہگیں طالب طلب حضور ازحضورمسلمان نہ رہے اورجان سے بیکارہوجائے اس مال میں سے اپناحصہ لینے کاقصد بیت اﷲ شریف کے قصد سے ہے اورکوئی سبیل بظاہرنہیں معلوم ہوتی ورنہ لڑکوں اورپدرکے نام با آسانی تقسیم ہوجاتا اگرایسے ممکن ہوکہ بقیہ اسباب تخمینے سے تقسیم کرلیاجائے اور روپیہ حساب سے پدرکاحصہ پدرکو دے دیاجائے اورلڑکوں کاحصہ مع زرنقد کے خریدلیاجائے اور یہ ان کے حصے کے روپے بطورقرض میرے پاس رہیں جب وہ بالغ ہوں تو اداکردیئے جائیں اس وقت مجھ کو ان کے تصرف کااختیارحاصل ہوجائے تو اس میں بہت آسانی ہوجائے کیونکہ بہت چیزیں ایسی ہیں کہ فروخت بھی نہیں ہوسکتیں مثل پارچہائے پوشیدنی زنانہ اوران کابیچنا بھی معیوب معلوم ہوتاہے جبکہ یہ احقر غلامان اس پرشریعت کی روسے قابض ہوجائے گا تو اختیار خداکی راہ میں دے دینے کاہوجائے گا ورنہ وہ رکھے رکھے بیکارہوجائیں گے یااپنے میں مشغول کریں گے جس سے طبیعت عاری ہے جیسا ارشاد ہوتعمیل کی جائے، اورکیایہ بھی ممکن ہے کہ اس کے باپ اس میں سے کچھ لے لیں اوربقیہ کومعاف کردیں یابلا تقسیم کچھ نقد لے کرمیرے ہاتھ فروخت کردیں جیساکہ حضورنے فرمایاتھا کہ اپنی خوشی سے اس کے عوض ایک رومال لے لیں توبھی عہدہ برآئی ہوسکتی ہے اورایسی حالت میں یہ رومال دے کر راضی ہونے میں لفظ معافی کی ضرورت ہوگی یایہ رومال صرف اس کی قیمت ہوجائے گا۔ تکلیف دہی کی معافی فرمائیں اوراپنی محبت عطا۔ عریضہ ادب سگ بارگاہ دلاورحسین
الجواب : ۷۸۶ ۹۲ بملاحظہ محب خدا غلام بارگاہ مصطفی جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جوان صالح سعید مفلح خاں صاحب محمددلاورحسین خاں صاحب قادری برکاتی حفظہ اﷲ تعالٰی ! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،۔ حق سبحانہ، وتعالٰی آپ کو اپنی اوراپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی محبت کاملہ میں ابد الآباد تک سرشار رکھے اوراپنی مرضیات کی توفیق دے۔ والدین کی خدمت بچوں کی تربیت یہ بھی عین کاردین ورضائے رب العالمین ہے۔ ریاضت ومجاہدہ نام کاہے کاہے اسی کاکہ رضائے الٰہی میں اپنی خواہش کے خلاف کرنا۔ خدمت والدین وتربیت اولادرضائے رب العزت ہے اور اب کہ آپ کی طبیعت ان تعلقات سے بھاگتی ہے رضائے الٰہی کے لئے اس کاخلاف کیجئے یہی ریاضت ہوگی، تعلقات سے نفرت وہ محمودہوتی ہے جس میں حقوق شرعیہ تلف نہ ہوں ورنہ وہ بے تعلقی نفس کادھوکہ ہوتاہے کہ اپنی تن آسانی کے لئے شرعی تکالیف سے بچناچاہتاہے اوراسے دنیا سے جدائی کے پیرایہ میں آدمی پرظاہرکرتاہے۔ فقیردعاکرتاہے کہ اﷲ تعالٰی آپ کو اپناکرلے اورہمیشہ اپنے پسندیدہ کاموں کی توفیق بخشے اور آپ کے طفیل میں اس نالائق ننگ خلائق کی بھی اصلاح قلب واعمال وتحسین احوال وافعال وتحصیل مرادات وآمال فرمائے اعدائے دین پرمظفر ومنصور رکھے خاتمہ ایمان وسنت پر کرے، آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی آلہٖ وصحابہ وابنہ واحزابہ اجمعین آمین والحمدﷲ رب العٰلمین۔ مشترک مال تقسیم کرکے نابالغوں کاحصہ جداکرنے کا ان کے باپ کومطلقاً اختیارہوتاہے اور ایسی تقسیم تووصی کوبھی رواہے کہ وارثان بالغین حاضرین کاحصہ جداکرکے ان کو دے دے اور نابالغوں کے حصے بلاتقسیم الگ کرلے تو آپ کو بدرجہ اولٰی جائزہے کہ بچوں کے ناناکے ساتھ تقسیم کرکے بچوں کاحصہ جداکرلیجئے نیزباپ کوجبکہ فاسق وفاسد نہ ہوجائزہے کہ ا ن کے ایسے اموال بازار کے بھاؤپر خودخریدلے بازارکے بھاؤ میں چیز کی اصل لاگت نہیں دیکھی جاتی بلکہ یہ اس حالت میں موجودہ پر بازارمیں بیچیں تو کیادام اٹھیں گے۔ پہننے کے کپڑوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ نیاتازہ جوڑا اسی وقت بازارمیں بیچئے تو ہرگز آدھے دام بھی نہیں لگتے نہ کہ استعمال پہنے ہوئے نہ کہ ایسامال جس کابِکنادشوار اور رکھے رکھے بیکارہوجائے گا اندیشہ اسے خریدلینے میں توبچوں کاسراسر نفع ہے نیز اس کو رواہے کہ بچوں کامال قرضوں خریدلے یعنی قیمت فی الحال نہ دی جائے گی بلکہ اتنے دنوں کے وعدہ پر مگرروپیہ بیع نہیں ہوسکتا ہاں باپ اپنی حاجتمندی کی حالت میں اس میں سے بقدرضرورت خرچ کرسکتاہے اوران کاروپیہ خود بطور قرض لے لینے کابھی باپ کو اختیارہے یانہیں اس میں علماء مختلف ہیں بہت کتابیں جواز کی طرف ہیں باپ اگردین دارمتدین خداترس ہو تو اس کے لئے جواز پرفتوی دینے میں کچھ باک نہیں آپ بفضلہ تعالٰی ان صفات کے جامع ہیں پھرجوکچھ ان کے مال سے قرض لیجئے یاقرضوں ایک میعاد معین پر خریدئیے اس کا کاغذ لکھ دینا چاہئے کہ کسی وقت بچوں کوضرر نہ پہنچے اوراس سب سے بہتراورخالص بے دغدغہ یہ صورت ہے اگرممکن ہوکہ اس ترکہ میں نابالغوں کاجتناحصہ ہے مثلاً اگر سب ترکہ نو سوروپے کی مالیت کاہے توبچوں کاحصہ سواپانسو روپے ہوا اس کے عوض اتنے یا اس سے کچھ خفیف زیادہ مالیت کی اپنی جائداد زمین یامکان یادکان یاگاؤں میں سے بچوں کے نام بیع کردیجئے اورکاغذ لکھ دیجئے کہ باپ برابرقیمت کوبھی اپنامال بچوں کے ہاتھ بیچ سکتاہے یوں ترکہ میں جس قدر ان کا حصہ اور زیورواسباب میں ہے سب آپ کاہوجائے گا جوچاہئے کیجئے پھر وہ جائداد کہ جوبچوں کےنام آپ بیچیں گے اس کے حفظ ونگہداشت و غور پر داخت و تحصیل و تصرف کا اختیار بھی بچوں کے بالغ ہونے تک آپ ہی کوہوگا، اوراگرآپ کے پاس مال نہ ہو تو اس کی آمدنی س آپ بقدرکفایت اپنے کھانے پہننے کابھی صرف کرسکیں گے جس میں بچوں کاضرر نہ ہوگا اوراگرآپ خود اس کے کام اہتمام سے بچناچاہیں تویہ بھی رواہوگا کہ کسی ہوشیارکارگزار دیندار دیانتدار کوکارکن بنائیں یوں ہی ہر طرح سبکدوشی ہوسکتی ہے۔ رہا نانا کاحصہ، وہ اگریونہی آپکومعاف کردیں تومعاف نہ ہوگا یاقبل تقسیم آپ کو ہبہ کردیں توجائزنہ ہوگا بلکہ تقسیم کرکے ان کو سپرد کردیجئے پھروہ چاہیں توآپ کو ہبہ کردیں یابلاتقسیم اپناحصہ آپ کے ہاتھ بیچ کر زرثمن معاف کردیں اور اس صورت میں ضرور ہوگا کہ زرثمن اتناٹھہرے جس کا وزن اس قدرچاندی کے چھٹے حصے سے زائد ہوجوترکہ کے نقدوزیوروغیرہ میں ہے کہ یہی چھٹاحصہ مرحوہ کے باپ کا ہے یایوں کریں کہ اپنا حصہ مثلاً ایک کتاب کے عوض آپ کے ہاتھ بیع کردیں وہ کتاب ہی اس کامعاوضہ ہوجائے گی اورپھر معافی کی کوئی حاجت نہ رہے گی اگرچہ کتاب چارہی ورق کی ہو، یونہی ان کے تمام حصے کے عوض یک رومال دے کربھی بیع ہوسکتی ہے فقط باہمی رضادرکار ہے۔
ہندیہ میں محیط سے ہے :
وکان الوصی قسم بین الورثۃ وعزل نصیب کل انسان فھذا علی خمسۃ اوجہ الاول ان تکون الورثۃ صغاراکلھم لیس فیھم کبیر وفی ھذا لوجہ لاتجوز قسمتہ اصلا وھذا بخلاف الاب اذا قسم مال اولادہ الصغار ولیس فیھم کبارفانہ یجوز (ثم قال) الرابع اذاکانوا صغار اوکبارافعزل نصیب الکبار وھم حضورفدفعہ الیھم وعزل نصیب الصغار جملۃ ولم یفرز نصیب کل واحد من الصغار جاز۱؎۔
اگروصی نے وارثوں میں میراث تقسیم کی اورہروارث کاحصہ الگ کردیا توا س میں پانچ صورتیں ہیں پہلی صورت یہ ہے کہ تمام وارث نابالغ ہوں ان میں سے کوئی بھی بالغ نہ ہو۔ ایسی صورت میں اس کی تقسیم بالکل جائزنہیں بخلاف باپ کے کہ اگر وہ اپنی نابالغ اولاد کامال تقسیم کردے جن میں کوئی بالغ نہ ہوتوجائزہے(پھرفرمایا) چوتھی صورت یہ ہے کہ وارثوں میں بالغ بھی ہوں اورنابالغ بھی ہوں، پھراس نے بالغوں کاحصہ الگ کرکے ان کو دے دیا جبکہ تمام بالغ ورثاحاضر ہیں اورنابالغوں میں سے ہرایک کاحصہ الگ الگ نہ کیاتوجائزہے۔(ت)
(۱؎ الفتاویالھندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۴۳)
تنویرالابصارمیں ہے :
بیع الاب مال صغیر من نفسہ جائز بمثل القیمۃ وبما یتغابن فیہ۔۲؎۔
باپ اگرنابالغ کے مال کی بیع اپنی ذات سے کرے تومثلی قیمت کے ساتھ اورمعمولی غبن کے ساتھ جائزہے۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الوصایا باب الوصی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۷)
والوالجیہ وجامع الفصولین وادب الاوصیاء میں ہے :
للاب شراء مال طفلہ بیسیر الغبن لابفاحشۃ۔۳؎۔
باپ کے لئے جائزہے کہ وہ اپنے نابالغ بیٹے کامال تھوڑے سے غبن کے ساتھ خریدلے نہ کہ زیادہ غبن کے ساتھ ۔ (ت)
(۳؎ آداب الاوصیاء علٰی ہامش جامع الفصولین فصل فی الاباق اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۳۲)