Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
91 - 135
الجواب : صورت مستفسرہ میں ہندہ کے صرف تین وارث شرعی ہیں: شوہر، ماں، باپ، باپ کے ہوتے بہن بھائیوں کاکوئی استحقاق نہیں، ترکہ میں حق شوہر نصف ہے، اس کے اخراج کے بعد جمیع نصف باقی کی نسبت اس کی وصیت ہے کہ حسب رائے  پدرتعمیر چاہ وغیرہ خیرات میں صرف کیاجائے باپ اس وصیت کونافذکرچکا اورزبانی اظہارسائل سے معلوم ہواکہ ماں ہنوز ساکت ہے نہ اس نے انکارکیانہ اجازت دی، پس اگرماں بھی اجازت دے دے تونصف متروکہ شوہرکودیں اورنصف حسب رائے  پدر امورمذکورہ میں صرف ہوتعمیر چاہ جس کا اس نے خاص نام لیاکی جائے اورباقی صدقات وخیرات میں صرف کیاجائے ان صدقات میں پدرکو رواہے کہ ہندہ کی نمازوں کے فدیہ کی نیت کرلے کہ یہ نیت نہ مانع صدقہ ہے نہ مخالف وصیت۔ یہ اندازہ کہ اس کے ذمہ کتنی نمازوں کا فدیہ ہوگا یہاں نہیں ہوسکتا اس کے اعزہ ہی اس کاحال جانتے ہوں گے۔ جب اس پر کسی نمازکی قضا لازم رہتی معلوم نہیں اوروہ ہمیشہ سے پابندنماز تھی توفدیہ نمازلازم نہیں اورشبہہ کے لئے احتیاط کرے توبعد تعمیر چاہ جوکچھ دے سب میں فدیہ نمازکی نیت سے کوئی مانع نہیں اگرواقع میں کوئی نماز قضا تھی امید ہے کہ اس کافدیہ ہوجائے ورنہ صدقہ بہرحال ہے، مگرحج میں اسے صرف نہ کرے کہ وہ صراحۃ حج کرانے سے انکارکرچکی کہ مجھے کسی پراطمینان نہیں۔ اورلفظ خیرات ہمارے عرف میں حج بدل پرصادق نہیں، اوراگرماں بھی اجازت نہ دے توکل ترکہ کہ اٹھارہ حصے کرکے نوحصے شوہرکو دئیے جائیں اورایک حصہ ماں کو، باقی آٹھ حصے وصیت مذکورہ میں صرف کردیں
وذٰلک لان الوصیۃ وان کانت تقدم علی الارث لکنھا انما لاحقت ھٰھنا النصف الباقی بعد اخراج نصیب الزوج ففی ھذا تنفذ بقدر ثلث کل المال لعدم الدین من دون حاجۃ الٰی اجازۃ الوالدین فاذا خرج النصف و الثلث بقی السدس فثلثہ للام وھو الجزء الواحد من ثمانیۃ عشر جزء وثلثاہ فی الوصیۃبحکم التنفیذ من الاب۔
اوریہ اس لئے ہے کہ وصیت اگرچہ میراث سے مقدم ہوتی ہے مگریہاں وہ شوہر کاحصہ نکلانے کے بعد باقی بچنے والے نصف کولاحق ہوئی چنانچہ اسی نصف باقی میں کل مال کے ثلث کے برابر وصیت نافذکی جائے گی کیونکہ قرض میت پرنہیں ہے اوروالدین سے اجازت کی ضرورت نہیں، جب کل مال میں سے نصف اورایک تہائی نکل گیا باقی کل مال کاچھٹا حصّہ بچاچنانچہ اس چھٹے حصے کاتہائی ماں کودیاجائے جوکہ کل مال کے اٹھارہ حصوں میں سے ایک ہے اوراس چھٹے حصے کے باقی دوثلث وصیت میں دے دئیے جائیں گے اس لئے کہ باپ کی طرف سے وصیت کانافذ کرنے کاحکم ہوچکاہے(ت)
یہ نصف کہ شوہرکو پہنچا اس کی نسبت اگرچہ وہ کہہ چکاہے کہ مجھ کونہیں چاہئے اس کے ذمہ کے حقوق وفدیہ وصدقات میں صرف کرو مگر ارث ساقط کئے ساقط نہیں ہوتی لانہ جبری کما فی الاشباہ وغیرہ (اس لئے کہ میراث جبری ہے(اختیاری نہیں) جیساکہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔ت) اوراس نصف کی نسبت وصیت نہ تھی کہ اس کا یہ  قول وصیت کی اجازت قرارپائے اوراس کو اختیار نہ رہے، لاجرم وہ مختار ہے اگرحصہ لیناچاہے تولے سکتاہے اوراگرہندہ کے لئے صرف کردیناچاہئے تویہ بھی کرسکتاہے اوراس پروہ پابندی نہیں جووصیت ہندہ میں تھی، اور اس قدر میں شک نہیں کہ اجازت دے کر اپنے قول سے پھرجانے میں اگرچہ حکماً اس پرجبرنہیں لانہ متبرع ولاجبر علی متبرع(کیونکہ وہ متبرع ہے اورمتبرع پرجبرنہیں ہوتا۔ت) مگرقول سے پھرجانا شرعاً بھی مذموم ہے تو وہ اگرثابت قدمی چاہے تومناسب یہ ہے کہ اس نصف سے ہندہ کی جانب سے حج بدل کرادے کہ یہ فرض اس پررہ گیاہے حق صحبت اسی کوچاہتاہے کہ اس دین شدید  سے اس کی گلوخلاصی کرادے اوراگراس کانصف حج کے لئے کافی نہ ہوتاہو اورماں نے ہنوز اجازت وصیت نہ دی اوردیناچاہتی ہے تومناسب یہ ہے کہ وہ بھی وصیت کی اجازت نہ دے بلکہ اپنا حصہ کہ کل مال کا اٹھارہواں ہے اُسی نصف شوہر میں شامل کردے پھربھی کچھ کمی رہے توحسب وعدہ شوہر اپنے پاس سے دس پانچ اورملادے باقی باپ پوراکردے غرض جس طرح ممکن ہو اس کی طرف سے حج بدل میں سعی جمیل بجالائیں کہ یہ اس پرسے سختی کاٹالنا ہوگا، اورجوکسی مسلمان پرسے سختی دورکرے گا اﷲ تعالٰی روزقیامت اس پرسے سختیاں دُورفرمائے گا۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من فرّج عن مسلم کربۃ فرج اﷲ عنہ کربات یوم القٰیمۃ۔۱؎
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ جس نے کسی مسلمان سے ایک سختی کودُورکیا قیامت کے دن اﷲ تعالٰی اس سے کئی سختیوں کودورفرمائے گا۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ صحیح البخاری    ابواب المظالم والقصاص    باب لایظلم المسلم الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۳۰)
مسئلہ ۱۴۵ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر وارثان مذکورحاضرین جلسہ مرقومہ استفسار نمبراول مندرجہ سوال سوم جواپناحق وراثت لینے سے انکار کرچکے ہیں اور اس کو ادائے فدیات وصدقات کرنے کی اجازت دے چکے ہیں اگروہ اپنے قول سے رجوع کرکے اپناحق وراثت لینے کی خواہش کریں توایسی شکل میں کیا وہ اپنا حق وراثت پانے کے مستحق ہوسکتے ہیں یانہیں؟
الجواب : جواب سوال اول میں معلوم ہولیاکہ بہن بھائیوں کا اس میں کوئی حق نہیں اورباپ اپنی اجازت سے نہیں پھرسکتا کہ وہ وصیت کی اجازت تھی اور وارث جب بعد موت مورث وصیت کوجائزکردے اس سے پھر رجوع کرنے اوراپناحق وراثت مانگنے کا اختیارنہیں رکھتا شوہر رجوع کرسکتاہے کہ  اس کے حق کے متعلق وصیت نہ تھی وہ اجازت اس کی اپنی خوشی سے تھی جس پرقائم  رہے تومحبوب ومندوب ہے ورنہ جبر نہیں۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۶ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مسلمان ہے دنیائے ناپائیدار سے رحلت کی اورپندرہ اشرفی قیمتی دوسوپچیس روپے کی صندوقچی میں سے بعد مردن کے برآمدہوئیں اوراس کے برادرحقیقی نے اپنے پاس رکھیں کہ متوفی کے سالے کی بی بی نے ظاہرکیاکہ متوفی نے اس روپیہ کے بارہ میں مجھ سے وصیت کی ہے کہ دفع مذکورہ میرے فوت کے بعد حسب تفصیل ذیل خرچ کردینا کہ مبلغ دس روپیہ ہرنوچندی جمعرات کو دس جمعرات تک بقدر سوروپیہ کے فاتحہ میں میری صرف کردینا بالقصہ مبلغ ایک سوپچیس کہ کسی مرد مسلمانوں کودے کرواسطے حج بدل کے بھیج دینا یہ رقم برآمد شدہ مجھ کو دے دو چنانچہ حوالے بی بی موصوفہ کے وہ روپیہ کردئیے گئے اب سوائے بی بی موصوفہ کے وصیت کاکوئی گواہ مرد یاعورت نہیں ہے دوسری ایک بات قابل ظاہرکرنے کی اورہے ایک وصیت نامہ جوکہ متوفی نے اپنی حیات میں مع ساڑھے روپیہ کے بنام اراکین برادری کے تحریرکیاہے اس میں بھی کچھ ذکربی بی صاحبہ کی وصیت کا نہیں ہے اب وہ رقم مذکورہ بی بی صاحبہ موصوفہ کوحوالہ ورثہ کردیناجائز ہے یانہیں اور ورثاء اس رقم کولے سکتے ہیں یانہیں؟ کیاحکم شرع شریف کاہے، خلاصہ دعوی ورثہ متوفی بی بی صاحبہ موصوفہ غیرکفوناخواندہ ہیں جدی نہیں ہیں، تنہاعورت کابیان قابل یقین ہے یانہیں، بی بی صاحبہ بیوہ ہیں ورثاء سے کوئی تعلق نہیں، وصیت نامہ میں کوئی ذکروصیت بی بی صاحبہ کانہیں ہے۔
الجواب : تنہا عورت کابیان حجت نہیں ورثاء بالغین کواختیارہے اگرچاہیں اس کی بات پر اعتبارکرکے خواہ اس احتیاط سے کہ شاید میت نے یہ وصیت بھی کہ اسے جائزوجاری کردیں اورچاہیں نہ مانیں اور مان سکتے ہوں توماننا بہتر ہے اس لئے کہ وہ عورت کوئی اپنے نفع کی بات نہیں کہتی۔ عورت کو اگرخوب تحقیق صحیح یاد ہے کہ اس نے وصیت مذکورہ کی ہے اور وہ مورث کے ثلث ترکہ بعدادائے دین سے کم ہو تو اسے ضرور ہے کہ وہ وصیت میں حسب وصیت اسے لگادے وارثوں کوباختیار خودہرگز واپس نہ دے مگر وارثوں کواختیارہے کہ اگراس وصیت کاسوابیان عورت کے کوئی ثبوت نہیں توتسلیم نہ کریں اورجبراً وہ روپیہ کہ اب خود ان کی ملک ہوگیا عورت سے لے لیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۷ :   غلام علی ساکن بریلی علاقہ ترائی

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک شخص فوت ہوگیا اوراس کے وارثوں میں ایک حقیقی بھانجی ہے جس کو مرتے وقت اس نے ۱۸گاؤمادہ اورتین جاموس مادہ دینے کی وصیت کی ان کےسوا اس کےباقی مال متروکہ کاجودعوٰی کرتے ہیں اوراپنے آپ کو وارث قرار دیتے ہیں وہ یہ لوگ ہیں: ماموں زاد بھائی، چچازادبھائی، چچازادبہن۔ ان لوگوں میں کون کون وارث جائز اورمستحق ترکہ پانے کا اور کس کس کاکتنا کتناحصہ ہے اور کس طرح تقسیم ہوناچاہئے ازروئے علم فرائض کے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : اس صورت میں صرف اس کے چارچچازادبھائی وارث ہیں باقی کوئی وارث نہیں ہے یہ اٹھائیس گائیں، پانچ بھینسیں اگربعدادائے دین اس کے تہائی ترکہ کی مقدار تک یا اس سے کم ہوں تویہ دونوں وصیتیں تمام وکمال  پوری کردی جائیں مثلاً ان ۳۳جانوروں کی قیمت اگر تین سوروپیہ کی ہو اور متوفی پرکچھ دین آتاہو تو اسے اداکرکے جو باقی بچا وہ نوسوروپیہ یازیادہ کاہے مع ان چاروں کے جب تو یہ سب جانور جس طرح اس نے وصیت کی ہے اس کے بھانجی اورپھوپھی زاددونوں کی وصیت سے حصہ رسد کم کرلیں باقی وصیت بے اجازت چچازادبھائیوں کے نافذ نہ ہوگی یہ عام حکم ہے اور خاص طورپر اس کاحساب چاہیں تواتنی باتیں بتانے پر ہوسکتا ہے :

(۱) زیدکاکل مال، جانور، زمین، مکان، زرنقد، گھرکا اسباب وغیرہ کتنی مالیت کاہے۔

(۲) زیدپرکوئی قرض یا کسی کادین یاعورت کامہرآتاتھایا نہیں، اگرآتاتھا توکس قدر۔

(۳) ان سب جانوروں میں ہرایک کی قیمت کتنی ہے۔

(۴) چاروں چچازادبھائی اس وصیت کوپوراکرنے پر راضی ہیں یاسب ناراض ہیں یاکون کون راضی ہے کون کون ناراض۔

(۵) جوراضی ہیں وہ دونوں شخصوں کے لئے وصیت کامل پرراضی ہیں یافقط ایک کے لئے، اگرفقط ایک کے لئے راضی ہیں توبھانجی کے واسطے یاپھوپھی زادبھائی کے لئے، ان باتوں کا ٹھیک ٹھیک معلوم ہونے پرصحیح حساب بتایاجاسکتاہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۴۸ : ازپراناشہرمحلہ فراشی ٹولہ مسئولہ جناب کفایت اﷲ صاحب 

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں زید سے بکرنے ایک دفعہ چھ سوچھیانوے روپیہ دستگردان قرض لئے زیدنے بارہا تقاضا کیابکرنے اقراردینے کاکیا زیدنے اپنے انتقال سے پیشتر ایک وصیت نامہ  لکھا وصیت نامہ میں وہ روپیہ اپنی زوجہ کے دین مہر میں لکھاکہ بکرسے روپیہ وصول ہوکر میری زوجہ کودے دو، جب بکربھی فوت ہوگیا وصیت نامہ مصدقہ حکام مدینہ طیبہ موجودہے یہ مہرکاروپیہ شرعاً بکرکے وارثوں کے ذمہ ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب : بکرنے اگرکچھ ترکہ چھوڑا تو یہ روپیہ اوراگرذمہ بکرکچھ اورقرض ودین ہوتو وہ بھی اس ترکہ پرلازم ہے اوراس میں سے کل (بحال تنگی متروکہئ وزیادت دیون) حصہ رسد اداکیاجاناواجب ہے، اگربکرنے کچھ ترکہ نہ  چھوڑا تو وارثان بکرپرکچھ مطالبہ نہیں۔یوں ہی اگر ترکہ چھوڑا  تو جتنا وصول ہوسکے وصول ہوباقی کا مطالبہ بکرپرآخرت کے لئے رہاوارثوں پرمواخذہ نہیں۔ پھریہ جو وصیت زیدنے اپنی زوجہ کے لئے کہ اگر گواہوں سے ثابت ہوکہ اس کامہراتنا یا اس سے زائد ہے یازید نے اپنی تندرستی میں اس مقدار یا زائدکااقرارمہرکیاہویایہ مقدارخواہ  اس سے زائد ہے یازید نے اپنی تندرستی میں اس مقدار یا زائدکااقرارمہرکیاہویایہ مقدارخواہ اس سے زائدورت کامہرمثل ہویایہ بھی نہیں توبقیہ ورثہ زید عاقل بالگ اس زیادت پرراضی ہوں تویہ رقم پوری زوجہ زیدکواس کے مہرمیں دی جائے گی اوراگر نہ گواہوں سے ثابت کہ مہراس قدریا اس سے زائدبندھاہے اوریہ رقم عورت کے مہرمثل سے زائد ہے اوربقیہ ورثہ زیداس پر راضی نہیں توعورت کوصرف مہرمثل تک دیاجائے گا زیادہ حسب فرائض زوجہ زید ودیگر وارثان زیدپرتقسیم ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم
Flag Counter