Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
90 - 135
مسئلہ ۱۴۳ : ازشہرکہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ ۱۰/صفر۱۳۲۳ھ ازمکان سیدفرزندعلی مرحوم 

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ مسمّی زیدنے بعد فوت ہونے کے ایک منکوحہ اوردولڑکے اور دو دخترچھوڑے، مسمّی بکرپسر زید نے بعد فوت ہونے  زید کے کل اخراجات خانگی اورپرورش  نابالغان کا اپنے ذمہ لیاحتی کہ بکر نے بذریعہ معاش نوکری کی پرورش حتی الوسعت کی، بعدہ، اس کی ایک لڑکی جو حد سن بلوغ تک پہنچی اس کانکاح بقانون شرع متین کے کردیا اورمسمی بکربوجہ نکاح کرنے دختر زید کے مقروض ہوگیا تاہنوز قرضہ ادانہیں ہوا اب ایک لڑکا زید کاجونابالغ تھا سن بلوغ پہنچ کر آمادہ اس بات پر ہے کہ جو چیز زیدکی ہے اس کامالک میں ہوں اوربکر سے کہاکہ تو نے اپناحصہ فروخت کرکے اس پرصرف نہیں کیا اب تیراکچھ نہ رہا زیدنے فوت ہون کے بعد اپنی ملکیت میں ایک منزل حویلی پختہ اورتین درخت املی اورایک درخت جامن کا اورایک نیب کااوراملی برد(عہ۱) نے علاوہ حویلی پختہ کے اورایک قطعہ باغ تخمیناً دوبیگھہ کاچھوڑا، مسمی بکرپسر زید چند مدت بیکار رہا اوردودرخت املی اورایک درخت جامن برائے خوردونوش نابالغان کے فروخت کرکے خوب سرے (عہ۲)کی اورقطعہ باغ کو فروخت کرکے نکاح دختر زیدفوت شدہ کے صرف کیا اب ایک درخت املی ایک درخت نیب کا اوراملی برد(عہ۳) نے اورایک منزل حویلی پختہ کل املی بردنے اورحویلی کے تخمینا (عہ۴) دوبیگھہ ہوا اب شیئ موجودہ میں زیدکا بموجب حصص رشد شرعی کے کس طرح حصہ ہوناچاہئے۔ تعداد اولادزید چاراولاد، دولڑکے دودختر، بیوہ منکوحہ ایک، ایک دختر نکاح شدہ شامل ہے فقط۔ 

[عہ۱۔  وعہ ۲۔  وعہ ۳۔   وعہ ۴۔  :   کذا فی الاصل ۱۲ ازہری غفرلہ ]
الجواب : بیان مسائل سے واضح ہواکہ دودرخت املی کااورایک جامن کابیچ کردونوں بھائیوں اور نابالغہ اورماں کے خورد ونوش میں صرف ہوئے خواہر کتخذا اس صرف سے علیحدہ تھی اورباغ بیچ کر صرف اس خواہر کتخذا کی شادی میں صرف ہو ا اور اس سے بھی کام نہ چل سکتاکہ وہ صرف اسی روپیہ کو بکا اس میں سے  اس کا جہاز (عہ) اور معمولی ضروری مصارف نہ ہوسکتے تھے  اس کے لئے بکر نے قرض لیا اور قرض میں اس سے مجرالینے کی نیت نہیں اورنکاح میں ضرورت خرچ سے زیادہ نہ اٹھایا اور زیدنے اپنے انتقال سے تھوڑی دیرپہلے اپنی زوجہ ان بچوں کی ماں سے کہا تم فکرنہ کروبلکہ بکرایسانہیں کہ تمہیں تکلیف پہنچنے دے اسے میں چھوڑے جاتاہوں یہ تم کو کسی وقت دغانہ دے گا اگریہ یہاں ثابت ہو جب تو ظاہر ہے کہ زیدنے اپنے بڑے بیٹے بکرکو اپنی اولادوجائداد پروصی کردیا اوران سے ان تمام تصرفات کاجو وصی کے لئے ثابت ہوتے ہیں اختیار ملااوراگریہ ثابت نہ بھی ہو جب بھی ہمارے بلاد میں ایسی صورت میں بڑا بیٹا لائق ہونہار حکماً وصی ہوتاہے۔ عہ : یعنی جہیز۱۲    ازہری غفرلہ
ھذا ھوالثابت دلالۃً والثابت دلالۃ کالثا بت لفظاً وقد حققناہ  بتوفیق اﷲ تعالٰی فی فتاوٰنا بما لا مزید علیہ۔
یہ وہ  ہے جوبطور دلالت ثابت ہے اورجوبطور دلالت ثابت ہو اس کی مثل ہے جوصراحۃً لفظ کے ساتھ ثابت ہو۔ اس کی تحقیق اﷲ تعالٰی کی توفیق سے ہم نے اپنے فتاوٰی میں کردی ہے جس پراضافہ کی گنجائش نہیں۔(ت)
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
لوان رجلا من اھل السکۃ تصرف فی مال  المیت فی البیع والشراء ولم یکن لہ وارث ولاوصی الا ان ھذا الرجل یعلم انہ لورفع الامر الی القاضی ینصبہ وصیافاخذھذا الرجل المال ولم یرفع الامر الی القاضی وافسدہ حکی عن ابی نصر الدبوسی رحمہ اﷲ تعالٰی انہ کان یجوز تصرف ھذا الرجل۔۱؎
اگراہل محلہ میں سے کسی شخص نے میت کے مال میں بیع وشراء وغیرہ کا تصرف کیاجبکہ اس میت کا نہ تو کوئی وارث ہے اورنہ ہی وصی، لیکن وہ شخص جانتاہے کہ اگر معاملہ قاضی کے پاس لے جائے تو قاضی اس کو وصی مقررکردے گا، اس شخص نے میت کامال لے لیا اورقاضی کے پاس معاملہ نہ لے گیا اوراس مال کوبرباد کردیا۔ امام ابونصردبوسی علیہ الرحمۃ سے منقول ہے کہ وہ اس شخص کے تصرف کوجائزقراردیتے تھے(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان  کتاب الوصایا    فصل فی تصرفات الوصی فی مال الیتیم     نولکشورلکھنؤ    ۴ /۸۵۴)
فتاوٰی کبرٰی وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے :
افتی القاضی الدبوسی بان تصرفہ جائز للضرورۃ قال قاضی خان وھذا استحسان وبہ یفتی۔۱؎
قاضی الدبوسی نے فتوٰی دیاکہ اس کاتصرف ضرورت کے لئے جائزہے۔ امام قاضی خان نے کہایہ استحسان ہے اوراسی کے ساتھ فتوٰی دیاجائے گا۔(ت)
 (۱؎ الفتاوی الھندیۃ    کتاب الوصایا    الباب التاسع        نورانی کتب خانہ پشاور     ۶ /۱۵۵)
پس بیعیں کہ بکرنے کیں جائزہوئیں، درختوں کاروپیہ جن جن کے صرف میں آیا انہیں پر پڑے گا، کتخذا لڑکی اس سے جدارہے گی اورباغ کاروپیہ تنہا اسی لڑکی پرپڑے گا، اگریہ اس کے تمام حصے کے برابرتھا تواس نے اپناتمام  پورا (عہ) حصہ پایا اوراگرکم تھاتوجتناباقی اتناپائے گی اوراگرزیادہ تھا توجس قدر زائد گیاوہ بکرکے اپنے حصے پرپڑے گا یاماں کی اجازت تھی تووہ بھی اس کے تاوان میں شریک ہوکر باقی ورثہ بری رہیں گے کل جائداد زیدجس قدراس نے وقت انتقال چھوڑی تھی بعدادائے مہر ودیگر دیون وانفاذ وصایا اڑتالیس حصے ہوکر چھ سہم بیوہ زیدکے ہوں اورچودہ چودہ ہرہرپسراور سات سات ہردختر کے اوران میں سے وہ اشیاء جوبک کے کتخذا کے صرف میں الگ اس کے حصے مجراہوں اورجو اوروں کے صرف میں آئیں ان کے حصے سے مجراہوں جوباقی رہیں ان میں جس جس کا جس قدرباقی رہااس حساب سے تقسیم ہوجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
عہ: کذا فی الاصل وھومکررکماتری۱۲ ازہری غفرلہ
مسئلہ ۱۴۴ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :

(۱) یہ کہ مسماۃ ہندہ لاولدفوت ہوئی اورشوہر و والد و والدہ وہمشیرہ اورچاربھائی حسب ذیل وارث چھوڑے:

شوہر    والد    والدہ    ہمشیرہ    بھائی    بھائی     بھائی       بھائی

خالد    زید    کبرٰی    صغری      بکر      حامد     محمود      مسعود

(۲) یہ کہ ہندہ مرحومہ نے دوروزقبل ازفوت اپنی حالت مرض الموت میں اپنے والد زید سے وصیت کی کہ میں نے کچھ روپیہ بہ نیت حج چھوڑا تھا مگرمجھ کوموقع بسبب نہ دستیاب ہونے محرم ہمراہ سفرکے میسرنہیں ہوا اوردوسروں کے ذریعہ سے حج کرانے میں بسبب کمیابی امانت دار کے مجھ کو اطمینان حاصل نہیں لہٰذا وہ روپیہ حامداورمحمود کے پاس جمع ہے اورجوکچھ زیور میرامیرے گھرمیں ہے اس جملہ مالیت میں ہے حق وراثت میرے شوہر کا اداکیاجائے اس وجہ سے کہ ان کوحاجت رہتی ہے بعد اس کے جوکچھ زرمالیت باقی رہے اس کومیرے والدزیداپنی رائے کے موافق تعمیرچاہ وغیرہ خیرات وصدقات میں صرف کردے اس واسطے کہ مرحومہ کے گمان میں باقی ورثاء کاحق لیناخیال میں نہ تھا اوریہ بھی وصیت کی کہ نو روزہ رمضان کے فوت شدہ کی میرے ذمہ قضاہے اس کافدیہ بھی دیاجائے اس کے بعد اس کے والد زید نے سوال کیاکہ کچھ نمازوں کی بھی قضاہمارے ذمہ ہے جواب دیاکہ میں نے ہمیشہ نمازاداکی ہے لیکن مجھ کو یادنہیں شایدابتدائے عمرمیں کوئی نمازیں قضاہوئی ہوں، پس اس وصیت کے بعدمرحومہ نے قضاکی۔

(۳) یہ کہ بروزقضاقبل ازدفن اس کے والد زیدنے چنددیگراشخاص معززین کی موجودگی میں شوہر خالدوبعض ورثاء ذکورکوبلاکر اس وصیت کا اظہارکرکے یہ ظاہرکیاکہ میری رائے میں قبل صدقات نافلہ کے تحقیق کرکے اس کے  ذمہ نمازوں کی فوت اگرکچھ ثابت ہوتو ہمراہ فدیہ صوم کے فدیہ نمازوں کابھی اداکیاجائے، چنانچہ اسی بناء پر اس کی سسرال کی بوڑھی مستورات سے دریافت کیا توانہوں نے جواب دیاکہ ہمارے یہاں غیربلوغت کی حالت میں بیاہ کرآئی ھی اورنمازیں اداکرتی تھی مگرہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ حسب رواج جیساکہ نئی عروسوں کوحیادامنگیر ہوتی ہے ایسی حالت میں شاید کوئی نمازیں قضاہوئی ہوں اس بناء پربعض حاضرین جلسہ نے تین ماہ اوربعض نے چھ ماہ کی قضانمازوں کے فدیہ اداکرنے کاتخمینہ کیا ازاں بعد وارثان موجودہ مرقومہ بالا سے دریافت کیاگیا کہ تم اپناحق وراثت لیتے ہو اس کے جواب میں شوہر خالدنے بے ساختہ کہاکہ مجھ کو نہیں چاہئے ہے اس کے ذمہ کے حقوق اورفدیہ وغیرہ اداکرو اور اس کے صدقات میں صرف کرواگراس میں کسی قدرکمی دس پانچ روپیہ کی باقی رہے تواورمجھ سے لے لو چونکہ وقت میں گنجائش نہ تھی اس کی تکفین کی عجلت تھی بایں وجہ دوسرے وقت پر اس تعمیل کوملتوی رکھاگیا قبل ازدفن صرف نو روزے کافدیہ داکردیاگیا۔

(۴) یہ کہ ایسی حالت میں کیااحتیاطی نمازوں کافدیہ اداکیاجائے گا اوراگرفدیہ احتیاطی نمازوں کا اداکیاجائے گاتوکس قدرزمانہ کی نمازوں کا اداکیاجائے گا یامالیت مرقوم الصدر نقدات میں زیورات شامل کرنے سے جومقدار سفرحج کوکافی ہوسکتاہے ادائے حج اس کے ذمہ فرض متصورہوگا توکیاقضائے حج دوسرے شخص کوبھیج کرواجب ہوگی اورکیا دیگرصدقات نافلہ پرمقدم متصورہوگا یابموجب وصیت متوفیہ کے صرف متروکہ کا دیگر صدقات نافلہ میں کرنالازم ہوگا۔

(۵) یہ کہ زید مرحومہ کاوالد ان صورتوں مرقومہ بالامیں کس طرح اپنے ذمہ کے حقوق وصیت کواداکرکے گلوخلاصی حاصل کرے، بیان فرمائیے ثواب پائیے۔
Flag Counter