فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
89 - 135
مسئلہ ۱۴۱: کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر واہب مرض الموت میں اپنی جُزیاکُل املاک کوکسی ایک وارث کی بلارضامندی دیگرورثاء کے ہبہ کردے تویہ صحیح ہوگایانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : یہ ہبہ حقیقۃًہبہ اورحکماً وصیت ہے، اگر واہب نے اپنی وصیت میں موہوب لہ کوقابض نہ کردیایاشیئ قابل تقسیم مشاع ومشترک تھی اوربلاتقسیم قبضہ کرادیا اورمرگیا جب توہبہ محض باطل ہوگیاکہ اجازت ورثہ سے بھی نافذ نہیں ہوسکتا۔
درمختارموانع الرجوع میں ہے:
المیم موت احد العاقدین بعدالتسلیم فلوقبلہ بطل۱؎۔
میم سے مرادیہ ہے کہ سپردگی کے بعد واہب اور موہوب لہ میں سے کسی ایک کامرجانا، اگرسپردگی سے پہلے مرگیا توعقدہبہ باطل ہوگیا۔(ت)
(۱؎الدرالمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الہبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱)
اوراگرحیات واہب میں باذن واہب قبضہ کاملہ یاشیئ غیرقابل تقسیم پرمشاعاً قبضہ ہولیا تو اب اس ہبہ کانفاذ موت واہب کے بعداجازت صحیحہ باقی ورثہ پر موقوف ہے صحت اجازت کے لئے اجازت دہندہ کاعاقل بالغ ہونا ضرورہے اگر باقی وارث سب عارقل بالغ ہیں اورسب نے بعد موت مورث اس ہبہ کوجائز رکھاتمام وکمال نافذہوجائے گا
وراگربعض نے اجازت دی اوربعض نے نہ مانایا بعض اجازت دہندہ نابالغ یا مجنون تھے توصرف اسی عاقل بالغ مجیز کے حصے کے قدرنفاذ پائے گا باقی نافذنہ ہوگا اورہبہ شیوع کہ بعض ورثہ کی عدم اجازت سے پیداہوا باقی میں نفاذہبہ کومنع نہ کرے گا کہ شیوع وہ مبطل ہبہ ہے جوابتدا سے ہونہ شیوع طاری کہ بعد کولاحق ہو۔
فتاوٰی عالمگیری میں ہے :
قال (ای محمدرضی اﷲ تعالٰی عنہ) فی الاصل ولاتجوز ھبۃ المریض ولاصدقتہ الامقبوضۃ فاذا قبضت جازت من الثلث واذامات الواھب قبل التسلیم بطلت یجب ان یعلم بان ھبۃ المریض ھبۃ عقد اولیست بوصیۃ واعتبارھا من الثلث ماکانت لانھا وصیۃ معنی لان حق الورثۃ یتعلق بمال المریض و قدتبرع بالھبۃ فیلزم تبرعہ بقدر ماجعل الشرع لہ وھوالثلث واذاکان ھذا التصرف ھبۃ عقدا شرط لہ سائر شرائط الھبۃ ومن جملۃ شرائطھا قبض الموھوب لہ قبل موت الواھب کذا فی المحیط۱؎۔
امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اصل میں کہاکہ مریض کاہبہ اورصدقہ جائزنہیں مگراس وقت جبکہ ا س پر قبضہ کرلیاگیا ہوپس اگر اس پرقبضہ ہوگیاتوایک تہائی میں جائزہوگا، اوراگرواہب سپردگی سے پہلے مرجائے تو ہبہ باطل ہوجائے گا۔ یہ جانناضروری ہے کہ مریض کاہبہ عقد کے اعتبارسے ہبہ ہے وصیت نہیں ہے۔ اوراس کا ایک تہائی سے اعتبارکرنا اس وجہ سے نہیں کہ وہ باعتبارمعنی کے وصیت ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ وارثوں کا حق مریض کے مال کے ساتھ وابستہ ہوگیا ہے اور مریض نے ہبہ کے ساتھ تبرع کیا ہے تواس کاتبرع صرف اسی حد تک لازم ہوگا جوشرع نے اس کے لئے مقررکی ہے اور وہ تہائی مال ہے، جب یہ تصرف عقد کے اعتبارسے ہبہ قرارپایا تواس کے لئے ہبہ کی تمام شرطوں کاپایاجانا شرط ہوگا اورہبہ کی شرطوں میں سے ایک یہ ہے کہ واہب کی موت سے پہلے وہ شخص اس پرقبضہ کرلے جس کے لئے ہبہ کیاگیاہے، محیط میں یونہی ہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الھندیۃ کتاب الہبۃ الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰۰)
أسی میں ہے :
لاتجوز الوصیۃ للوارث عندنا الا ان یجیزھا الورثۃ ولاتعتبراجازتھم فی حیات الموصی حتی کان لھم الرجوع بعد ذٰلک کذا فی فتاوی قاضی خان و لایمنع الشیوع صحۃ الاجازۃ، ولو اجاز البعض وردالبعض یجوزعلی المجیز بقدر حصّتہ وبطل فی حق غیرہ کذا فی الکافی، والاجازۃ انما یجوز اذا اجازہ وھو عاقل بالغ صحیح کذا فی خزانۃ المفتین۔۲؎ اھ مختصراً۔
ہمارے نزدیک وارث کے لئے وصیت جائزنہیں سوائے اس کے کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں اوران کی اجازت موصی کی زندگی میں معتبرنہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اجازت کے بعد رجوع کرسکتے ہیں۔ یونہی فتاوٰی قاضیخان میں ہے۔ اورغیرمنقسم ہونا اجازت کے صحیح ہونے سے مانع نہیں ہوتا، اگربعض وارثوں نے اجازت دے دی اوربعض نے رَد کردیا تواجازت دینے والے پر اس کے حصہ کے مطابق جائزہوگی اوراس کے غیرکے حق میں باطل ہوگی، کافی میں یونہی ہے۔ اجازت اسی وقت ہوگی جب اجازت دینے والا عاقل بالغ صحت مند ہو، خزانۃ المفتین میں یونہی ہے اھ (اختصار)۔(ت)
(۲؎الفتاوی الھندیۃ کتاب الوصایا الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۹۰و۹۱)
درمختارمیں ہے :
المانع عن تمام القبض شیوع مقارن للعقد لاطاری۳؎۔
قبضہ کی تمامیت سے مانع وہ شیوع ہے جو عقد کے ساتھ مقترن ہونہ کہ وہ جو اس پر طاری ہو۔(ت)
(۳؎ الدرالمختار کتاب الہبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰)
ردالمحتارمیں ہے:ق
ولہ لاطارئ اقول منہ مالووھب دارا فی مرضہ ولیس لہ سواھا ثم مات و لم یجز الورثۃ الھبۃ بقیت الھبۃ فی ثلثھا وتبطل فی الثلثین کما صرح بہ فی الخانیۃ ۱؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
ماتن کاقول ''کہ اس پرطاری نہ ہو'' میں کہتاہوں اگر کسی نے مرض الموت میں اپنامکان ہبہ کردیا اورسوائے اس مکان کے اس کی ملکیت میں کچھ نہیں، پھروہ مرگیا اوروارثوں نے ہبہ کی اجازت نہ دی توہبہ اس کے ایک تہائی میں باقی رہے گا جبکہ دوتہائی میں باطل ہوجائے گا، جیساکہ خانیہ میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵۱۱)
مسئلہ ۱۴۲ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مرض الموت کی کیا تعریف ہے اورکس کس مرض پر اس کااطلاق ہوتاہے اورکب تک اس کی مدت مقرر ہے کہ قبل اس کے مرض الموت نہ کہاجاسکے۔
الجواب : شرعاً کسی مرض کے مرض الموت ہونے کے لئے دوباتیں درکارہیں کہ وہ دونوں جمع ہوں تو مرض الموت ہے اور ان میں ایک بھی کم ہو تو نہیں۔
(۱) اس مرض میں خوف ہلاک واندیشہ موت قوت وغلبہ کے ساتھ ہو، اگراصلاً خوف موت نہیں یا ہے توضعیف ومغلوب ہے تومرض موت نہیں اگرچہ اتفاقاً موت واقع ہوجائے۔
(۲) اس غلبہ خوف کی حالت میں اس کے ساتھ موت متصل ہواگرچہ اس مرض سے نہ مرے موت کاسبب کوئی اورہوجائے مثلاً زیدکوہیضہ یاطاعون ہو اورابھی اسے انحطاط کافی نہ ہواتھا خوف ہلاک غالب تھا کہ سانپ نے کاٹا مرگیا یاکسی نے قتل کردیاتو اس مرض میں جوتصرفات کئے وہ مرض الموت میں تھے اگرچہ موت اس مرض سے نہ ہوئی اوراگر انحطاط کافی ہوگیاتھا کہ غلبہ خوف ہلاک جاتارہا اوراب اتفاقاً اسی مرض خواہ دوسرے سبب سے مرگیا تووہ تصرفات مرض کے نہ تھے اگرچہ حال اشتداد ہی میں کئے ہوں کہ انحطاط مرض وزوال خوف نے اسے مرض الموت نہ رکھا یوں ہی اگربحال انحطاط وعدم خوف تصرفات کئے اوران کے بعد پھر اشتداد ہوکرخوف غالب اورہلاک واقع ہواتو یہ تصرفات حالت مرض کے نہ ہوں گے کہ بحال غلبہ خوف نہ تھے اگرچہ ان سے قبل وبعد غلبہ تھا۔
ردالمحتارمیں ہے :
فی نورالعین، قال ابواللیث کونہ صاحب فراش لیس بشرط لکونہ مریضا مرض الموت بل العبرۃ للغلبۃ والغالب من ھذا المرض فھو مرض الموت وان کان یخرج من البیت وبہ کان یفتی الصدر الشھید ثم نقل عن صاحب المحیط انہ ذکر محمد رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ فی الاصل مسائل تدل ان الشرط خوف الھلاک غالبا لاکونہ صاحب فراش ۱؎ اھ ۔
نورالعین میں ہے : ابواللیث نے کہاکہ مریض کاصاحب فراش ہونا اس کے مرض الموت کے مریض ہونے کے لئے شرط نہیں بلکہ اعتبارغلبہ کا ہے، اوراس کابیماری سے غالب گمان موت کا ہوتو وہ مرض الموت ہوگی اگرچہ وہ گھر سے نکلتاہو، اوراسی کے ساتھ صدرالشہید فتوٰی دیتے تھے۔پھرصاحب محیط سے منقول ہے کہ بیشک امام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اصل میں کچھ ایسے مسائل ذکرفرمائے ہیں جواس بات پردلالت کرتے ہیں اس بیماری میں ہلاکت کے خوف کاغالب ہوناشرط ہے نہ کہ مریض کاصاحب فراش ہونا اھ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الطلاق باب طلاق المریض داراحیاء التراث العری بیروت ۲ /۵۲۰)
تبیین الحقائق میں ہے :
ان صارصاحب فرش بعد التطاول فھو کمرض حادث حتی تعتبر تصرفاتہ من الثلث۲؎ اھ ۔
اگر وہ بیماری کے لمباہونے کے بعد صاحب فراش ہوا تو وہ نوپید بیماری ی مثل ہے یہاں تک کہ تہائی مال میں اس کے تصرفات معتبرہوں گے اھ (ت)
(۲؎ ردالمحتار بحوالہ الزیلعی کتاب الوصایا داراحیاء التراث العری بیروت ۵ /۴۲۳)
ردالمحتارمیں ہے:
حاصلہ انہ ان صار قدیما بان تطاول سنۃ ولم یحصل فیہ ازدیاد فھو صحیح امالومات حالۃ الازدیاد الواقع قبل التطاول اوبعدہ فھو مریض۳؎۔
اس کاخلاصہ یہ ہے کہ اگربیماری پرانی ہوگئی بایں صورت کہ سال کومحیط ہوگئی اور اس میں بیماری کی شدت حاصل نہیں ہوئی تو وہ صحت مند ہوگا۔ لیکن اگر وہ بیماری کی شدت کی حالت میں مرگیا چاہے وہ شدت بیماری کی طوالت سے پہلے واقع ہوئی یا اس کے بعد تو وہ مریض قرارپائے گا۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الطلاق باب طلاق المریض داراحیاء التراث العری بیروت ۲ /۵۲۱)
درمختارمیں ہے :
مات فیہ بذٰلک السبب اوبغیرہ کان یقتل المریض اویموت لجھۃ اخری۔۱؎ ۔
وہ اس بیماری میں مرا اسی بیماری کے سبب سے یا کسی اورسبب سے مثلاً اس مریض کوقتل کردیا وہ کسی اور وجہ سے مرجائے(ت)
(۱؎الدرالمختار کتاب الطلاق باب طلاق المریض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۶)