Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
88 - 135
اُسی میں ہے ص۲۸۷ :
ذکر فی النوازل والخانیۃ، سلطان نزل دارالوصی فقیل لہ ان لم تعط السلطان شیئا استولی علی الدار والعقار فاعطی لہ شیئا من العقار قال ابوالقاسم  یجوز مصانعتہ۳؎۔
نوازل اورخانیہ میں مذکورہے کوئی بادشاہ وصی کے گھرمیں واردہوا اوروصی کوکہاگیاکہ اگرتونے بادشاہ کوکچھ نہ دیا تووہ مکان اورجائدادپرقبضہ کرلے گا چنانچہ وصی نے اس کوکچھ جائداددی۔ ابوالقاسم نے فرمایا وصی کایوں نرمی کرناجائزہے۔(ت)
(۳؎آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین    فصل فی الضمان    اسلامی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۸۷)
احکام الصغار جلددوم ص۷۳و۷۴ :
ھو قول ابن سلمۃ وھو استحسان وعن الفقیہ ابی اللیث عن ابی یوسف رحمہ اﷲ انہ کان یجیز للاوصیاء المصانعۃ فی اموال الیتامٰی واختیار ابن سلمۃ موافق لقول ابی یوسف وبہ یفتی والیہ اشار فی کتاب اﷲ تعالٰی (اما السفینۃ فکانت لمسٰکین یعملون فی البحر فاردت ان اعیبھا) اجاز العیب فی مال الیتیم مخافۃ اخذ المتغلب ذکرہ قاضی خان فی وصایا فتاویہ، وفیھا ایضا وصی انفق علی باب القاضی من مال الیتیم فاعطی علی وجہ الاجازۃ لایضمن، قال محمد بن الفضل رحمہ اﷲ لایضمن مقداراجرالمثل والغبن الیسیر ومااعطی علی الرشوۃ کان ضامنا وفیھا رجل مات واوصی الٰی امرأتہ وترک ورثۃ صغارا فنزل سلطان جائردارھم فقیل لھا ان لم تعطہ شیئا استولی علی الدار والعقار فاعطتہ شیئا من العقار قالوا یجوز مصانعتھا ۱؂۔
وہ ہی قول ابن سلمہ کاہے اوروہ استحسان ہے۔ فقیہ ابواللیث سے بحوالہ امام ابویوسف علیہ الرحمہ منقول ہے کہ وہ یتیموں کے مال میں نرمی اختیار کرنے کی وصیوں کواجازت دیتے تھے۔ ابن سلمہ کامختار امام ابویوسف علیہ الرحمہ کے قول سے موافقت رکھتاہے اوراسی کے ساتھ فتوٰی دیاجاتاہے۔ اوراﷲ تعالٰی کی کتاب میں اسی کی طرف اشارہ ہے ''وہ جوکشتی تھی وہ کچھ محتاجوں کی تھی کہ دریامیں کام کرتے تھے تومیں نے چاہاکہ اس کوعیب دارکردوں'' اس میں کسی جابرکے قبضہ کے ڈرسے یتیم کے مال کوعیب دار کرنے کی اجازت ہے۔ اس کوقاضی خان نے اپنے فتاوٰی کی کتاب الوصایا میں ذکرکیاہے۔ اسی میں یہ بھی ہے کہ وصی نے قاضی کی کچہری میں یتیم کا مال خرچ کیا۔ اگربطور اجارہ دیاہے توضامن نہیں ہوگا۔ محمدبن فضل علیہ الرحمہ نے کہاکہ مثلی اجرت اورغبن یسیر کی حد تک ضامن نہیں ہوگا۔ لیکن اگر اس نے یتیم کامال بطور رشوت دیا ہے توضامن ہوگا۔ اسی میں ہے کہ ایک مرد فوت ہوااوراس نے اپنی بیوی کووصی مقررکیا اورچھوٹے ورثاء بھی چھوڑے، پھرکوئی جابربادشاہ ان کے گھرمیں اترا اور اس عورت کوکہاگیاکہ اگرتونے بادشاہ کو کچھ نہ دیا تووہ پورے گھر اورجائداد پرجبراً قبضہ کرلے گا۔ چنانچہ عورت نے جائداد میں سے کچھ بادشاہ کو دے دیا تومشائخ نے کہاکہ اس کی یہ نرمی جائز ہے۔(ت)
 (۱؎ جامع احکام الصغار علی ہامش جامع الفصولین فی مسائل الوصایا    اسلامی کتب خانہ کراچی     ۲ /۷۳ و ۷۴)
یہ اسی حالت میں ہے جبکہ نہ ماننے میں اس سے عظیم ترنقصان پہنچنے کایقین ہو، فقط موہوم ضررکے لئے موجود مان لینا حلال نہیں۔ پھربھی فرض قطعی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو عرق ریزی کی جائے کہ یہ ظلم ان بیکسوں پرسے دفع ہویاجتناکم ہوسکے کم ہو۔ پھربھی یہ جواز صرف ادھر سے رہے گا وہ ظالمین جو اس طرح دباکریتیموں کاحق لیں گے ان کے لئے وہ خالص آتش جہنم ہے وہ سخت عذاب الٰہی کے لئے مستعد  رہیں۔ والعیاذباﷲ تعالٰی، واﷲ  سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
جواب سوال ششم : کریم النساء کاجبکہ کسی اورشخص کی دختر ہونامعروف ومشہور وثابت نہیں اور وہ اپنے آپ کودخترحاجی کفایت اﷲ کہتی ہے اوراس کی عمر اس کی قابلیت رکھتی ہے تو ایسی حالت میں قطع نظر تمام تحریرات وخطوط کفایت اﷲ کے صرف یہ وصیت نامہ جسے یہ لوگ جوکریم النساء کے نسب پرمعترض ہیں تسلیم کررہے ہیں دلیل کافی وحجت وافی تھاجس کے بعد معترضین کا اعتراض ہرگز مسموع نہ ہوتا اوروہ ضرور دخترحاجی کفایت اﷲ قرارپائی کہ وصیت نامہ میں جابجا اولاد، اپنی اولاد، ہماری اولاد لکھ کرانہیں کے نام کی فہرست میں کریم النساء کوبھی مثل دیگر دختران داخل کیا اور سب کوحصہ شرعی بلاکم وبیش پہنچنا لکھنا۔
درمختارمیں ہے :
وان اقر لغلام مجھول النسب فی مولدہ فی بلدھو فیھا وھما فی السن بحیث یولد مثلہ لمثلہ انہ ابنہ وصدقہ الغلام لوممیزا والا لم یحتج لتصدیقہ کما مرحینئذ ثبت نسبہ ولوالمقر مریضا واذا ثبت شارک الغلام الورثۃ۔۲؎
اگرکسی نابالغ لڑکے کے بارے میں جس کانسب معلوم نہیں اس کے وطن میں یا اس شہر میں جس میں وہ وارد ہے یہ اقرارکیاکہ یہ میرابیٹا ہے درانحالیکہ دونوں کی عمر ایسی ہے کہ اس جیسا اس کابیٹا ہوسکتا ہے اورلڑکے نے اس کی تصدیق کردی جبکہ لڑکا باتمیزہو ورنہ اس کی تصدیق کی ضرورت نہیں، جیساکہ گزرچکاہے، چنانچہ صورت مذکورہ میں اس کانسب ثابت ہوجائے گا اگراقرارکرنے والا مریض ہو جب نسب ثابت ہوگیا تو وہ لڑکا باقی وارثوں کاشریک ہوگا۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار  کتاب الاقرار    باب اقرارالمریض    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۳۷)
نہ کہ خود سب معترضین و غیر معترضین اقرارنامہ میں بالاتفاق اسے بنت حاجی کفایت لکھ چکے تواب اس کے دختر کفایت اﷲ ہونے میں کوئی شک نہیں وہ مثل دیگر دختران نہ بذریعہ وصیت بلکہ بوجہ وراثت حصہ پائے گی۔

جواب سوال ہشتم: وصیت نامہ جہاں تک نابالغوں یاان وارثوں کے حقوق پرجو اسے جائزنہیں رکھتے اثررسان ہے مردودوباطل ہے جوبالغ وارث اسے مان رہے ہیں صرف ان کے باہمی حقوق  پراس کا اثر مقبول ہوسکتاہے۔
درمختارمیں ہے :
  لم تجزاجازۃ صغیرومجنون ولو اجاز البعض ورد البعض جازعلی المجیز بقدر حصّتہ۔۱؎
نابالغ  اورمجنون کی اجازت جائزنہیں۔ اگربعض وارثوں نے اجازت دی اوربعض نے انکار کیا تو اجازت دینے والے  پر اس کے حصہ کی مقدار میں جائزہے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار    کتاب الوصایا    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۱۹)
وصیت نامہ میں ماں کوحصہ مادری اصلاً نہ دیااوروہ اس پرراضی نہیں نابالغ کاموضع ومکان اسم فرضی ٹھہراکر تقسیم میں شامل کرلیا اوریوں اسی کے مال سے اس کاحصہ پوراکیا اوریہ محض ظلم ہے نابالغوں کے مال کامہر ایک خفیف مقدار بتاکر وہ بھی اداہوجانا لکھایہ ہرگزبے بیّنہ عادلہ مقبول نہیں، لہذا تقسیم وصیت نامہ واجب الرد ہے بلکہ فضل حق کاموضع ومکان خالصاً اسی کودے۔حمیدالنساء کامہراداہوجانا گواہان عادل شرعی سے ثابت نہ ہو تو مہرمثل تک اداکرے پھرجوکچھ متروکہ حاجی کفایت اﷲ منقول وغیرمنقول ہے سب سے اس کی ماں کوچھٹا اورنجم النساء کوآٹھواں دیکر باقی سب بیٹوں اورمع کریم النساء سب دختروں پر للذکرمثل حظ
الانثیین۲؎
 (مذکرکاحصہ دومؤنثوں کے حصے کے برابرہے۔ت) ازسرنو تقسیم کریں نابالغوں کے حصے بلاتقسیم یک جا رہیں بالغوں کے حصے کا انہیں اختیارہے جس طرح چاہیں باہم تصفیہ کرلیں۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
 (۲؎ القرآن الکریم     ۴ /۱۱)
مسئلہ ۱۴۰ :    ازپٹنہ محلہ لودی کڑہ مرسلہ جناب قاضی عبدالوحیدصاحب ۱۳ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مرض الموت میں جو چیزہبہ کی جائے اس پراحکام ہبہ کے ہوں گے یاوصیت کے؟
الجواب : ہبہ اگرچہ مرض الموت میں ہو حقیقۃً ہبہ ہے تمام شرائط ہبہ درکارہوں گی بلاقبضہ تمام نہ ہوگا مشاع ناجائزہوگا واہب اگرقبل قبضہ کاملہ موہوب لہ انتقال کرجائے ہبہ باطل ہوجائے گا غرض وہ بہمہ ووہ ہبہ ہے اوراسی کے احکام رکھتاہے مرض الموت میں ہونے کاصرف اتنا اثر ہے کہ وارث کے لئے مطلقاً اوراجنبی کے واسطے ثلث باقی بعدادائے دیون سے زیادہ میں بے اجازت دیگرورثہ نافذ نہ ہوگا اجازت وارث عاقل بالغ نافذالتصرف کی بعد وفات مورث درکارہے اس کی حیات میں اجازت دینی نہ دینی بیکارہے۔ پس اگرمورث مثلااپنے پسرکواپنے مرض الموت میں کوئی شیئ ہبہ کرے اورقبضہ بھی پوراکرادے اوراس کے انتقال کے بعددیگرورثہ اسے نہ مانیں وہ یکسرباطل ہوجائے گا اوربعض مانیں اوربعض نہ مانیں تو اس نہ ماننے والے کے حصے کے لائق باطل قرارپائے گا۔ 

نویرالابصار ودرمختارمیں ہے :
ھبتہ ووقفہ وضمانہ کوصیۃ فیعتبر من الثلث۔۱؎
مریض کاہبہ، وقف اورضمان اس کی وصیت کی مثل ہے، لہذا ایک تہائی میں سے معتبرہوں گے۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختارشرح تنویرالابصار    کتاب الوصایا    باب العتق فی المرض    مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۷)
ردالمحتارعلی الدرالمختارمیں ہے:
قولہ وھبتہ ای اذا اتصل بھاالقبض قبل موتہ، اما اذامات ولم یقبض فتبطل الوصیۃ لان ھبۃ المریض ھبۃ حقیقۃ وان کانت وصیۃ حکما کماصرح بہ قاضیخاں وغیرہ  اھ  طحطاوی عن المکی، قولہ حکمہ کحکم وصیۃ ای من حیث الاعتبار من الثلث لاحقیقۃ الوصیۃ لان الوصیۃ ایجاب بعد الموت وھٰذہ التصرفات منجزۃ فی الحال زیلعی۱؎۔
ماتن کاقول ''وراس کاہبہ'' اس سے مرادیہ ہے کہ واہب کی موت سے پہلے قبضہ اس کے ساتھ مقترن ہوجائے لیکن اگروہ مرگیا اوراس پرقبضہ نہ ہوا تووصیت باطل ہوجائے گی اس لئے کہ مریض کاہبہ درحقیقت ہبہ ہی ہے اگرچہ باعتبارحکم کے وصیت ہے، جیساکہ قاضیخاں وغیرہ نے اس کی تصریح فرمائی اھ  طحطاوی میں بحوالہ مکی منقول ہے کہ ماتن کاقول''اس کاحکم وصیت کے حکم کی مثل ہے'' یعنی ایک تہائی سے اعتبارکرنے کی حیثیت سے نہ کہ حقیقت وصیت کے اعتبارسے اس لئے کہ وصیت ایسے ایجاب کوکہتے ہیں جوموصی کی موت کے بعد ثابت ہوتاہے جبکہ یہ تصرفات فی الحال نافذہیں، زیلعی۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الوصایا    باب العتق فی المرض    داراحیاء التراث العربی بیروت  ۵ /۴۳۵)
درمختارمیں ہے:
لا لوارثۃ الاباجازۃ ورثتہ وھم کبار عقلاء فلم تجز اجازۃ صغیر ومجنون ولواجاز البعض وردالبعض  جاز علی المجیز  بقدر حصتہ۔۲؎
وارث کے لئے وصیت نہیں سوائے اس کے کہ دیگر ورثاء اس کی اجازت دیں دراں حالیکہ وہ ورثاء عاقل وبالغ ہوں چنانچہ نابالغ اورمجنون کی اجازت جائزنہیں، اگربعض نے اجازت دی اوربعض نے رد کردیا تو اجازت دینے والے پربقدراس کے حصہ کے جائزہوگی۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار  کتاب الوصایا  باب العتق فی المرض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۹)
تنویرالابصارودرمختارمیں ہے:
انما یصح قبولھا بعد موتہ لان اوان ثبوت حکمہا بعدالموت فبطل قبولھا وردھا قبلہ۳؎
واﷲ تعالٰی اعلم۔  وصیت کوقبول کرناموصی کی موت کے بعد ہی صحیح ہوتاہے کیونکہ وصیت کے حکم کے ثبوت کا وقت موصی کی موت کے بعدہے لہٰذااس کی موت سے پہلے وصیت کوقبول کرنااورردکرنا باطل ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ الدرالمختار   کتاب الوصایا    باب العتق فی المرض    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۱۹)
Flag Counter