Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
87 - 135
ثالثاً اس سوال میں سائل نے مہرحمیدالنساء والدہ نابالغان کاذکرنہ کیا۔ سوال اول میں اس کاتذکرہ تھا اورملاحظہ وصیت نامہ سے ظاہرہوا کہ حاجی کفایت اﷲ نے اس کا مہر (ماصہ عہ) کاظاہر کیااوریہ کہ وہ ان کی حیات میں اداکردیاگیا، مگرکبھی مدیون کاقول خفت مقداردین یا اس کے اداکردینے کے بارے میں مقبول نہیں ہوسکتا اگر گواہان عادل شرعی سے حمیدالنساء کامہراداہوجانا ثابت ہے فبہا ورنہ لازم کہ مہرمثل تک حمیدالنساء کامہر قائم اوراس میں سے چہارم حصہ شوہر اورایک حصہ کریم النساء بالغہ(جبکہ وصیت نامہ کوتسلیم کرچکی ہو) ساقط کرکے باقی اولاد نابالغان حمیدالنساء کے حصے ان نابالغوں کودئیے جائیں۔
رابعاً زرشملہ بنک کی نسبت اگرگواہان عادل شرعی سے ثابت ہوکہ یہ روپیہ بنک سے لانے کے لئے حاجی کفایت اﷲ نے حافظ عبدالحق کومامورکیاتھا جب تو حافظ عبدالحق کابیان کہ میں نے اپنے والد کولاکردے دیا حلف کے ساتھ قبول کرلیا جائے گا کہ اب وہ وکیل ہوا اوروکیل امین ہے اورامین کاقول قسم کے ساتھ مقبول ہے ورنہ اس میں سے بھی حصہ نابالغان ہرگزنہیں چھوٹ سکتا، بعد اس تحریر کے دوسرے جلسے میں حافظ عبدالحق نے اقرارکیا کہ وہ روپیہ شملہ بنک سے لایا اپنے نام سے بنک میں جمع کردیا تو وہ اس روپے کامتغلب ہوابقیہ ورثہ کاحصہ اس کے ذمے عائدہے بالغوں کوچھوڑ دینے کا اختیار ہے، یتیموں کاحق کوئی نہیں چھوڑسکتا، اس کابیان کہ ساڑھے تین ہزاروالدنے اس کاقرضہ اداکرنے کو اسے دئیے ہرگزمقبول نہیں، بلکہ بالفرض اگرگواہان شرعی سے ثابت بھی ہوجائے کہ حاجی کفایت اﷲ نے اپنے مرض مذکورمیں اتنے ہزار حافظ عبدالحق کودے دئیے کہ اپنا قرضہ اداکرلو جب بھی نابالغوں کاحصہ اورنیز ان بالغوں کاجو اس دینے کوجائزنہ رکھیں دینا آئے گاکہ ہبہ مرض میں وصیت ہے اور وارث کے لئے وصیب بے اجازت ورثہ نافذنہیں ہوسکتی وارث موصی لہ جوکچھ قبل موت موصی تصرف میں لاچکتا ہے بعد موت موصی جو ورثہ اجازت نہ دیں ان کاحصہ واپس دینا پڑتا ہے،
درمختارجلدپنجم۶۶۷ : اعتاقہ ومحاباتہ وھبتہ ووقفہ وضمانہ کل ذٰلک حکمہ کحکم وصیۃ۔۱؎
مرض الموت کے مریض کاآزاد کرنا، کم قیمت پربیچنا، ہبہ کرنا، وقف اورضمان سب کاحکم وصیت کے حکم کی مثل ہے۔(ت)
(۱؎الدرالمختار    کتاب الوصایا    باب العتق فی المرض    مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۳۲۷)
ایضاًص۶۴۴ :  لالوارثہ الاباجازۃ ورثتہ لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔۲؎
وارث کے لئے وصیت نہیں سوائے دیگروارثوں کی اجازت کے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں۔(ت)
 (۲؎ الدرالمختار    کتاب الوصایا    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۱۹)
عالمگیری جلدچہارم ص۱۴۱ : مریض وھب غلاما لامرأتہ فقبضتہ واعتقتہ ثم مات المریض فالعتق نافذ وتتضمن القیمۃ کذا فی خزانۃ المفتین ۱؎۔
مریض نے اپنی بیوی کوغلام ہبہ کردیا بیوی نے اس پر قبضہ کیا اورآزاد کردیا۔ پھرمریض مرگیا توعتق نافذ ہوگا اوربیوی اس کی قیمت کی ضامن ہوگی۔ یوں ہی خزانۃ المفتین میں ہے۔(ت)
 (۱؎ الفتاوی الھندیۃ     کتاب الھبۃ    الباب العاشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۴۰۲)
درمختارجلد۴ص۷۱۲ : اقرفی مرض موتہ لوارثہ یؤمر فی الحال بتسلیمہ الی الوارث فاذا مات یردہ، بزازیۃ، وفی القنیۃ، تصرفات المریض نافذۃ وانما تنقض بعدالموت۔۲؎
مریض نے اپنی مرض الموت میں کسی وارث کے لئے کچھ اقرارکیا تو اسی وقت وہ شیئ وارث کے سپردکرنے کاحکم دیاجائے گا۔ پھرجب مریض ہوگیا تووارث وہ شیئ واپس لوٹائے گا(بزازیہ) اور قنیہ میں ہے کہ مریض کے تصرفات نافذہوتے ہیں البتہ اس کے مرنے کے بعد ٹوٹ جاتے ہیں۔(ت)
 (۲؎ الدرالمختار  کتاب الاقرار    باب اقرارالمریض    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۳۷)
کفن دفن بقدرمسنون میں جوروپیہ صرف کیا وہ ضرورمجراہوگا باقی فاتحہ درودخیرات سوم وغیرہ کے مصارف صرف اس صرف کرنے والے پرپڑیں گے اجازت نہ دینے والے ورثہ پرنہ آئیں گے خصوصاً یتیم بچے کہ ان کے حصے مطلقاً محفوظ ہیں نہ ان کی طرف سے کوئی اجازت دے سکتا ہے۔
طحطاوی حاشیہ درمختار جلدچہارم :
التجھیزلایدخل فیہ السبح والصمدیۃ والجمع والموائد لان ذٰلک لیس من الامور اللازمۃ فالفاعل لذٰلک ان کان من الورثۃ یحسب علیہ من نصیہ ویکون متبرعا وکذا لوکان اجنبیا۔۳؎
تجہیزمیں فاتحہ، درودوخیرات، لوگوں کوجمع کرنا اورکھانے کااہتمام وغیرہ داخل نہیں ہیں کیونکہ یہ ضروری امور میں سے نہیں ہیں لہٰذا یہ اموبجالانے والااگروارثوں میں سے ہے تواس کے حصہ سے مجراہوگا اوراس میں احسان کرنے والا ہوگا۔ ایساہی حکم اجنبی کابھی ہے۔(ت)
 (۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الفرائض    المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ    ۴ /۳۶۷)
توصرف بقیہ چھ ہزارسے حصہ نابالغان دیناکافی نہیں بلکہ کفن دفن بقدرسنت میں جودس بیس روپے صرف ہوں مجراکرکے باقی پورے بارہ ہزارپانسوبارہ ہیں کامل حصص نابالغان دیاجانا لازم ہے شیخ حبیب اﷲ کامطالبہ جانے اورحافظ عبدالحق، وعدہ کرنے اورخط لکھنے والے جانیں اورحافظ عبدالحق، یتیموں  پران باتوں کاکچھ اثرنہیں پڑسکتا۔احسان الحق کواگرہزار پہنچے ہیں وہ اس کے حصے میں مجرا ہوں گے، شیخ حبیب اﷲ کامطالبہ ترکہ پرنہیں۔
خامساً زیورامانت بنگال بنک کامعاملہ شہادت عادلہ  پر ہے اگرثابت ہوکہ وہ ملک حمیدالنساء تھا تواس میں نابالغوں کے حصے بحق نابالغان محفوظ رکھے جائیں گے اوراگرملک حاجی کفایت اﷲ ثابت ہوتوسب ورثہ پرتقسیم ہوگا۔
سادساً خرچہ نالشات بقدرضروری ومعمولہ جوکچھ نابالغوں کی طرف سے ان کے کسی ولی یاوصی شرعی نے بلااسراف اٹھایا وہ ضرورنابالغوں پرپڑے گا اس سے زائد ایک پیسہ ان پرڈالنا حرام ہے نابالغین مختارہیں کہ آپس میں اپنے حقوق کا جس طرح چاہیں فیصلہ کرلیں۔
سابعاً تشخیص قیمت جائداد وتعیین حصص وغیرہ کسی امرمیں کوئی نقصان نابالغوں کی طرف رکھنا محض حرام قطعی ہے اوراﷲ واحدقہار ان کی طرف سے حساب لینے والاہے اصل احکام شرعیہ یہ ہیں باینہمہ اگرولی نابالغان اوران کے حقیقی خیرخواہ اہل ایمان یقینی قطعی طورپربلاشک وشبہہ وبلامکروحیلہ جانیں کہ یہ تصفیہ ہی نابالغوں کے حق میں خیرہے اوراس میں جو نقصان ان بیکس مظلوموں کوپہنچتاہے وہ اس نقصان عظیم سے ہلکا ہے جوبحال عدم تصفیہ یقینا انہیں پہنچنے والاہے توشریعت مطہرہ کا قاعدہ ہے کہ: من ابتلی ببلیتین اختار اھونھما۔۱؎ جوشخص دوبلاؤں میں مبتلاہو ان میں سے ہلکی کواختیارکرے۔
 (۱؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول    القاعدۃ الخامسۃ    ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۱۲۳)
ایسی صورت محض مجبوری وضرورت میں جونابالغوں کی اصلاح چاہے گا اور وہ ایساہوگا جیسا آکلہ پیدا ہونے پرہاتھ یاپاؤں کاٹ دیناکہ یہ معاملہ بالغ ونابالغ سب کے ساتھ رواہے کہ فسادعظیم کافساد قلیل سے دفع ہے۔
واﷲ یعلم المفسد من المصلح۔۲؎
اﷲ خوب جانتاہے کہ کون مفسدہے اورکون اصلاح چاہتاہے۔
 (۲؎ القرآن الکریم  ۲ /۲۲۰)
ادب الاوصیاء جلد۲ص۲۰۸ :  ذکرفی الخانیۃ والخلاصۃ والعمادیۃ والحافظیۃ، انہ لایجوز ان یصالح الوصی باقل من الحق ان کان الخصم مقرابہ ومقضیا علیہ اوللموصی بینۃ عادلۃ علیہ والاجاز لانہ فی الاول متلف لبعض الحق فلایجوز وفی الثانی محصل للبعض بقدر الامکان وفیہ من النظر مالایخفی فیجوز۔۱؎
خانیہ، خلاصہ، عمادیہ اور حافظیہ میں مذکور ہے وصی کے لئے جائزنہیں کہ وہ حق سے کمتر پرصلح کرے جبکہ خصم اقراری ہو اوراس پرفیصلہ ہوچکاہو یاموصی کے پاس عادل گواہ موجودہوں ورنہ جائزہے کیونکہ پہلی صورت میں وصی بعض حق کو برباد کرنے والا ہے لہذا جائزنہیں، اوردوسری صورت میں وہ مقدوربھربعض کوحاصل کرنے والا ہے اوراس میں نگرانی موجودہے، جیساکہ پوشیدہ نہیں، لہٰذاجائزہے۔(ت)
 (۱؎ آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین  فصل فی الصلح   اسلامی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۰۸)
اسی میں ہے ص۲۰۹ :
 فیہ تحصیل بعض الحق للیتیم فی حال توٰی کلہ فلاشک فی خیریتہ۔۲؎
  اس یتیم کے بعض حق کوحاصل کرناہے جبکہ تمام ہلاک ہو رہاہے تواس کے خیرہونے میں کوئی شک نہیں(ت)
 (۲؎آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین    فصل فی الصلح   اسلامی کتب خانہ کراچی   ۲/ ۲۰۹)
Flag Counter