Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
86 - 135
مسئلہ ۱۳۹(ب) : ۳جمادی الآخرہ ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مقدمہ مذکورہ ترکہ حاجی کفایت اﷲ میں چندجلسے ثالثان کے قائم ہوئے لیکن بجائے اس کے کوئی امرمتنازعہ کاتصفیہ عمل میں آئے تنازعوں کی بحثوں نے روزبروز ترقی پکڑلی جس کے دیکھنے سے یہ ظاہرہوتاہے کہ یہ مقدمہ پنچایت سے طے نہ ہوگا اور عدالت کے جھگڑوں میں یہ سب جائداد برباد اورتلف ہوجائے گی اورفریقین تباہ ہو خاص کرنابالغین بے زبان اوربے قصور باوجودبروئے ترکہ صاحب جائدادہونے کے خرچہ معینہ ان کانہیں ملتا خرچہ کی وجہ سے سخت تکلیفیں اٹھا رہے ہیں نہ کوئی تعلیم کا ان کی انتظام ہے اگراب بھی کوئی انتظام ان کی جائداد کے تحفظ کانہ ہوا اوریہ جھگڑے طے نہ ہوئے تویہ مظلوم خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ ان وجوہات پرغورکرکے بعض فریق مقدمہ نے سبقت کی اس امرمیں کہ فیمابین کہ مصالحت سے بعض سے چھٹاکریابعض کودلاکر امورمتنازعہ کاقلع قمع کرکے آئندہ جھگڑوں کاباب مسدود کرنے کاقصدکیا، چونکہ بالغبن مختارہیں اپنے اپنے حقوق چھوڑنے کے اورکمی وبیشی یعنی دینے کی چونکہ ایسی صورت میں کمی بیشی آنے سے جس کی بعض حصص میں کمی واقع ہوتی رہی اس کااثرنابالغوں پرہی پڑتارہا جس اثرہرشریک مقدمہ کے حق میں موجب وبال ہے، اور عنداﷲ ماخوذی ہے، لیکن انجام کار کی مصلحتوں پرغورکرنے سے ظاہر حال دلالت کرتاہے کہ اگرمجوّزین بلالحاظ اپنے منافع ذاتی اوراغراض نفسانی کے محض بغرض دفع فساد ورفع نزاع باہمی مسلمانوں کے اور نیزبے جاضائع ہونے مسلمانوں کے مال کے بالخصوص تحفظ جائداد نابالغان کے تصفیہ باہمی میں کوشش کریں اورآئندہ جھگڑے پیداہونے والوں کوبچانے کی غرض سے جوجونقصان بظاہرحال نابالغوں کے حصہ جائداد میں واقع ہوتے ہیں حسب ذیل ہیں:
 (۱) یہ کہ جائداد پیلی بھیت کے دکانات ومکانات جواز روئے قیمت کے باعتبارزیادہ اورآمدنی کم ہے لیکن مدعیہ کواپنی سکونت پیلی بھیت کی وجہ سے نافع ہے اوراس کی خواہش کے موافق دی گئی۔

(۲) مہرمسماۃ نجم النساء زوجہ مورث کاباوجود اقرارنامہ اور وصیت نامہ درج نہ ہونے کے دلایاگیا۔

(۳) خرچہ نالشات ہردوفریق کااز روئے بیان حلفی ہرفریق کہ جس قدربیان کریں جملہ جائداد سے اول منہا ہومابقی جائداد ازروئے حصص شرعی تقسیم کی جائیگی اورتقررقیمت اورحصص اس قاعدہ سے قرارپایاہے جیساکہ اس سے کچھ زمانہ قبل سب شرکاء کے آپس کی رضامندی سے ایک فہرست تیارکی تھی اور اس وقت بسبب نہ طے پانے بعض نزاع کے ملتوی ہوگیا تھا نفاذ اس کا۔

(۴) جوجائداد ازقسم دھات ودکان ومکان بنام محض ورثاء مسمیان احسان الحق وکریم النساء بالغان وفضل حق نابالغ مورث نے اپنی حالت صحت میں نامزدکردیا تھا اوران کی تحریرات بھی باضابطہ ان کے ناموں سے ہو چکی تھی مگروصیت نامہ اورنیز اقرارنامہ ثالثی میں ان کے مالکوں نے اورفضل حق نابالغ کی طرف سے بولایت شیخ عبدالعزیز کے جن کی ولایت بعض ورثاء کی جانب سے قراردی گئی ہے بشمول جملہ جائداد کی جملہ ورثاء پر تقسیم کردیناقبول ومنظورکیا ہے۔

(۵) زرمجتمع شملہ بینک جونمبری ۴۴  اقرارنامہ کے تحت میں بلاتعداد لکھے بھی اورحساب بینک مذکورکے آنے سے تعدادی بارہ ہزارپانسوبارہ روپیہ حافظ عبدالحق کالانا دو روز قبل وفات مورث کے معلوم ہوا لیکن حافظ عبدالحق اس مجرادینے سے انکارکرتے ہیں اس بناء پر ک بوقت دستخط کرنے اقرار نامہ ثالثی کے اس میں سے بعض وارث احسان الحق وغیرہ کوکوئی جُز دلانے کے بعد مابقی کامطالبہ نہ کرنا بعض ورثاء نے بوعدہ زبانی یاکسی خاص تحریری رقعہ کے ذریعہ سے قبول ومنظور کرلیا ہے آیا اس رقعہ کاباربحق نابالغان بھی پڑے بخیال مصلحت مرقومہ بالاکے توکیاحکم رکھتا ہے۔

(۶) بمد ۳۱ اقرارنامہ کے زیرطلائی ونقرئی بنگال بینک میں امانت رکھانا لکھا ہے اوربموجب بیانات مشہورہ کے نابالغان کی والدہ متوفی حمیدن کازیور واسطے نابالغوں کے بینک میں رکھایا تھا اس کی  تقسیم بھی بشمول جملہ ترکہ ہوگی یابحق نابالغان امانت  رہے گا۔

(۷) علاوہ مدات مرقومہ صدرکے اورکسی قسم کابھی نزاع کا تصفیہ بغرض دفع نزاع کیاجائے جس میں نابالغان کاکسی قسم کانقصان متصورہو اورنیز ہرشش دفعات مذکورہ بالاکے بموجب کرنا بغرض دفع نزاع اورتحفظ اموال کے قاعدہ شرعیہ کے خلاف ہوگایاموافق اورنیز اس میں سعی کرنے والے ماجورہوں گے یاگنہگار؟بیان فرمائیے ثواب پائیے۔
الجواب 

نابالغوں خصوصاً یتیموں کامال آگ ہے انہیں نقصان دینے ولاسخت کبیرہ شدیدی کامرتکب ہے ان کامال یا ان کے مال میں سے ایک ذرہ دیدہ ودانستہ خودغصب کرنے والا اگرچہ کسی فیصہ کے زورسے ہویادوسرے کودے دینے یادلادینے والایاان کی ادنٰی حق تلفی پراضی ہونے والاسب شدید عذاب جہنم کے مستحق ہیں۔
حق سبحانہ، وتعالٰی قرآن عظیم میں فرماتاہے :
ان الذین یاکلون اموال الیتٰمی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا وسیصلون  سعیرا ۱؎۔
بے شک جولوگ یتیموں کامال ناحق کھائیں وہ اپنے پیٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اورعنقریب بھڑکتے دوزخ میں غرق ہوں گے۔
(۱؎ القرآن الکریم     ۴ /۱۰)
کاغذات مقدمہ ملاحظہ ہوئے امورذیل معلوم رہیں : اوّلاً جوجائدادیں احسان الحق وکریم النساء کے نام صحت مورث میں ہوچکی تھیں وہ اب ضرور ان کی نہ رہیں بلکہ ترکہ حاجی کفایت اﷲ ہیں کہ وصیت نامہ میں ان کانام فرضی ہونالکھااورانہوں نے تسلیم کیااوراقرارنامہ میں صراحۃً ان کاترکہ حاجی کفایت اﷲ ہونامان لیا۔ فضل حق اگربالغ ہوتا اور اسی طرح قبول کرنا اس کابھی یہی حال ہوتا مگروہ نابالغ ہے اورکوئی ولی کوی وصی کوئی حاکم نابالغ کے مال میں اس کانام فرضی ہونامان لینے کا اختیارنہیں رکھتا وصیت نامہ میں حاجی کفایت اﷲ کالکھوانا اصلاً قابل التفات نہیں، کیاکوئی شخص کوئی جائداد ہبہ یابیع کرکے مدعی ہوکہ یہ انتقال فرضی تھا توصرف اس کے کہنے سے مان لیاجائے گا ہرگزنہیں۔ اوریہ شبہہ کہ روپیہ حاجی کفایت اﷲ کاتھا اس نے خریدکر اپنے  پسرنابالغ کے نام جائداد کی جب تک چاہا دی اب نہیں دیتا محض مہمل وبے معنی ہے اگر اس کاثبوت مان بھی لیاکہ روپیہ درحقیقت حاجی متوفی کاتھا نابالغ کو اس کی ماں یا اورکسی سے  پہنچا تھا تو اس سے جائداد مذکور بھی متوفی کاہونا کیونکرلازم آیا۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے :
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب۔۱؎
باپ کے مال سے خریداری سے لازم نہیں آتاکہ مبیع باپ کے لئے ہو۔(ت)
 (۱؎ الفتاوی الخیریۃ   کتاب البیوع    دارالمعرفۃ بیروت    ۱ /۲۱۹)
باپ جوچیز اپنے نابالغ بچے کے نام خریدے وہ اس کے لئے ہبہ ہوتی ہے اورباپ ہی کے قبضہ سے نابالغ کی ملک ہوجاتی ہے۔
ردالمحتارجلد۴ص۷۷۴ : الاب اشتری لھا فی صغرھا اوبعد ماکبرت وسلم الیہا وذٰلک فی صحۃ فلاسبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ ۲؎ اھ  منح۔
باپ نے اپنی بچی کے لئے اس کی صغرسنی میں یا اس کے بالغ ہونے کے بعد کچھ خریدار اوراس کے سپردکردیا اوریہ کام اس نے اپنی صحت کے زمانے میں کیا تو دیگروارثوں کا اس پرکوئی حق نہیں وہ بیٹی کے لئے خاص ہوگا اھ  منح(ت)
 (۲؎ ردالمحتار  کتاب العاریۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵۰۶)
عقودالدریہ ج۲ص۲۸۰ و ۲۸۱  : ذکر فی الذخیرۃ والتجنیس، امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالھا وقع الشراء للام لانھا لاتملک الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ والام تملک ذٰلک ویقع قبضا عنہ، احکام الصغار من البیوع۔۳؎
ذخیرہ اورتجنیس میں مذکورہے کسی عورت نے نابالغ بیٹے کے لئے اپنے مال سے جائداد خریدی تو وہ خریداری ماں کے لئے واقع ہوگی کیونکہ وہ اولاد کےلئے خریداری کی مالک نہیں اورجائداد بیٹے کے لئے ہوگی کیونکہ ماں ہبہ کرنے والی ہوگئی اور وہ اس کی مالک ہے اورجائداد پرقبضہ بیٹے کی طرف سے واقع ہوگا، احکام الصغارمن البیوع۔(ت)
	(۳؎ العقودالدریۃ    کتاب الوصایا    باب الوصی    ارگ بازارقندھارافغانستان ۲ /۳۳۷)
تو موضع ومکان جومتوفی نے فضل حق نابالغ کے نام خریدا اگرچہ روپیہ متوفی ہی کاتھا فضل حق کی مِلک ہوگیا اب اس کانام فرضی بتانا اس ہبہ سے رجوع کرناہے اوراولاد کوہبہ کرکے رجوع باطل محض ونامسموع۔
درمختارجلد۴ص۷۹۱ : لووھب لذی رحم محرم منہ نسبا ولوذمیا اومستامنالایرجع۔۱؎
اگرکسی نے اپنے نسبی ذی رحم کوہبہ کیااگرچہ وہ ذمّی یامستامن ہوتواب رجوع نہیں کرسکتا۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار    کتاب الھبۃ    باب الرجوع فی الھبۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۳)
درمختارجلد۴ص۷۹۲ : لوکانا ای العبدومولاہ ذارحم محرم من الواھب فلارجوع اتفاقا۔۲؎۔
اگروہ دونوں یعنی غلام  اور اس کامالک واہب کے ذی رحم محرم ہوں توبالاتفاق رجوع نہیں ہوسکتا۔
 (۲؎الدرالمختار    کتاب الھبۃ    باب الرجوع فی الھبۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۱۶۳)
پس فرض ہے کہ جو موضع ومکان فضل حق کے نام تھے وہ خاص اس کے سمجھے جائیں اوراس تقسیم سے جدا رہیں اوروہ باقی تمام متروکہ کہ کفایت اﷲ میں برابرکاحصہ دیاجائے۔

ثانیاً نجم النساء اقرارنامہ میں صراحۃً مان چکی ہے کہ ان تین رقوم مصرحہ اقرارنامہ کے سوا اورکوئی دادنی ذمہ حاجی کفایت اﷲ نہیں تو اس کادعوی مہرساقط ہوگیابالغین اختیاررکھتے ہیں کہ باوصف سقوط دعوی بھی اس کابار اپنے سرلیں مگرکسی نابالغ پراس کابارڈالنااپنے سرعذاب الٰہی کاوبال لیناہے۔
Flag Counter