Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
85 - 135
مسئلہ ۱۳۹ (ا) :  ۳۰جمادی الاولٰی ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حاجی محمدکفایت اﷲ کی دوزوجہ، زوجہ اولٰی نجم النساء کے بطن سے حافظ عبدالحق، احسان الحق دوپسراورعجائب النساء، لطیف النساء، حبیب النساء، جمیل النساء چاردختر سب بالغ، اورزجہ ثانیہ حمید النساء عرف ننھی کے بطن سے فضل حق، ضیاء الحق، ریاض الحق تین پسر اوراحمدی بیگم ایک دخترسب نابالغ، اورننھی کی ایک دختر بالغہ کریم النساء ہے جسے دیر ورثہ نطفہ حاجی کفایت اﷲ سے نہیں بناتے بلکہ ربیبہ کہتے ہیں حمیدالنساء حیات شوہر میں انتقال کرگئی حاجی کفایت اﷲ نے اپنے مرض الموت میں بشمول نجم النساء ایک وصیت نامہ سات امرپرمشتمل لکھا۔ اول ظاہرکیاہے کہ جائداد مندرجہ وصیت نامہ ہردوکاتبان کی ہے ابتداء کام نقدی وجائداد وکاتبہ نمبر۲ سے شروع ہوااور اضافہ وترقی ہوتی رہی اور وہ جز حصہ ہشتمی زوجیت و دین مہرکاتبہ کاجائداد مصرحہ تحت میں شامل ہے جائدادونقدی ایسی مخلوطہ ہے جس کو علیحدہ دکھانا بلاضرورت ہے خاص کرجب ہردوکاتبان کا منشا دلی یہ ہے کہ جائداد مصرحہ تحت تمام اولاد مصرحہ ذیل پرحسب شرع شریف بلااستثناء کسی جز کے تقسیم ہوجائے اورکسی اولاد کے ساتھ کوئی خاص رعایت نہ دکھائی جائے توایسی حالت میں جائداد تمام اولاد پرحسب شرع شریف تقسیم مطابق وصیت نامہ ہذاہوگی۔ کاتب نمبر۱ نے تیاری تحریری وصیت نامہ ہذاکی کی تھی کاتبہ نمبر۲  نے بھی کاتب نمبر۱  سے خواہش کی کہ کاتب نمبر۱ کی جائداد عین کاتبہ نمبر۲ کی جائداد کی ہے تمام اولاد پربذریعہ وصیت نامہ ہذامنتقل ہوہردوکاتبان نے اپنی خوشی سے وصیت نامہ ہذاتمام اولاد مندرجہ تحت کے نام تحریر کیاکہ جائداد بحیثیت موجودہ بعد ہمارے ہم  لوگوں کے قبضہ میں رہے اورہماری اولاد کوپوری واقفیت ہوجائے کہ کون جزجائداد کا ان کی ملکیت میں رہے گا۔
دوم : حاجی کفایت اﷲ نے کچھ دیہات ودکان ومکان اپنی تندرستی میں احسان الحق وفضل الحق وکریمن کے نام کردئیے تھے اس وصیت میں وہ بھی شامل کئے اورلکھاوصیت نامہ کی یہ بھی ضرورت ہوئی کہ اکثر جائداد فرضی بعض اولاد کے نام تھی اس کی بابت احتمال تھا کہ کوئی تحریر نہ ہو تو وہ اولاد تنہااپنی ملکیت سمجھے۔
سوم : تحریرکیاجاتاہے کہ کاتب نمبر۱ کی زوجہ ثانی حمیدالنساء کامہرایک سوپندرہ روپے کا تھا وہ ان کی حیات میں اداکردیاگیا۔
چہارم : نابالغان مذکورین پر ولایت کایہ انتظام لکھا، ولی جائداد حافظ عبدالحق واحسان الحق نابالغان کے رہیں گے ولی ذات نابالغان اﷲ جلائی والدہ کاتب وصاحب النساء ہمشیرہ کاتب رہیں گی ان کی سرپرستی ونگرانی وحفاظت میں ان کے ساتھ نابالغ رہیں گے ولی جائداد آمدنی نابالغان سے( ۸۰لہ) روپیہ ماہوارسپردہردوولی ذات بنام پرورش نابالغان کرے گا عقدوتعلیم حسب رائے ہردو ولی ذات ہوگی۔
پنجم : کچھ جائداد حاجی کفایت اﷲ نے مصارف خیر کے لئے بحال تندرستی پہلے وقف کی تھی اس کی تفصیل بھی اسی وصیت نامہ میں بغرض یادگار درج کی اورایک بنگلہ نمبری ۱۶۷  قیمتی دس ہزارروپے جدید وقف اس وصیت نامہ میں کیاہے ہے مقدارثلث متروکہ سے بدرجہاکم ہے اوریہ سب اوقاف تمام ورثہ کوتسلیم ہیں۔
ششم : تمام اولاد مذکورین گیارہ اشخاس کے نام جداجدا بتفصیل جائداد غیرمنقولہ لکھی ان میں کریم النساء کا نام بھی ہرجگہ بزمرئہ اولادلکھااوراس کے لئے بھی دیگر دختروں کے برابرحصہ جداگانہ مشخص کیااگرچہ مکان اورایک دکان کہ اول سے اس کے نام تھی وہ بھی شامل حصہ کی جس طرح ایک موضع کہ احسان الحق اورایک موضع ایک مکان کہ فضل حق کے نام اول سے تھے ان کے حصص میں داخل کئے اورلکھاکہ ہم لوگوں نے اپنی تمام اولادکویکجاکرکے وصیت نامہ ہذالکھا اورجوجائداد اولاد کے نام درج  ہے ان کی رضا سے تحریرہوئی کوئی کمی بیشی جائداد میں نہیں نیزلکھاجس جائداد کے محاذمیں جس وارث اولادکانام ہے وہ اس جائداد کامالک ہوگا۔ عنوان فہرست تقسیم میں لکھا جوجائداد غیرمنقولہ اولادکے قبضے میں آئے گی وہ ہراولاد کے نام کے مقابل درج کی جاتی ہے جس کو تمام اولادبالغ وولی نابالغان نے بقدر حصہ شرعی حساب لگاکر قبول ومنظورکیا ہے۔
ہفتم : حاجی کفایت اﷲ نے اپنی والدہ اﷲ جلائی کوجائداد سے کچھ نہ دیا مگرآخرمیں اتنالکھاہے کہ کاتب نمبر۱ عرصہ سے (لعہ عہ/) ماہواری اپنی والدہ اوران کی دخترصاحب النساء کے اخراجات کے واسطے دیتارہاہے میری خواہش تمام اولاد ذکور واناث سے  ہے کہ مثل میرے مبلغان مذکورہ اپنی جائداد کی آمدنی سے ذکور دو ہرحصہ اناث اکہراجملہ (ہہ/)کے رقم والدہ وصاحب النساء کو تااُن کی حیات  دیتے رہیں۔ ۹/دسمبر؁۲ء کویہ وصیت نامہ تحریرہوا اور۱۳/دسمبر؁۲ء  کوحاجی کفایت اﷲ موصی نے وفات پائی رجسٹری اس کی بعد موت موصی ۱۸/دسمبر کومعرفت حافظ عبدالحق پسرکلاں کے ہوئی بعد فوت موصی والدہ موصی اﷲ جلائی اپنے حصہ شرعی سدس کی طالب ہوئی نجم النساء اوراس کی اولاد بطنی نے باستناد وصیت نامہ حصہ دینے سے انکارکیا ۲۷/مئی؁ ۳ء  کو اﷲ جلائی نے نجم النساء وجملہ اولادیازدہ گانہ کومدعاعلیہ بناکرنالش دائرکی اورعرضی دعوت میں نسبت وصیت نامہ لکھا دستاویز مظہرہ مدعاعلیہم کا مدعیہ کوکوئی علم نہیں تاریخ مظہرہ مدعٰی علیہم کے قبل اوربعد حاجی کفایت اﷲ میں قابلیت اظہارارادہ اورتحریر اورسمجھنے مضمون کی نہ تھی نجم النساء نے اپنے بیان تحریری میں لکھاکہ حاجی کفایت اﷲ بہت کم مایہ شخص تھے مدعاعلیہا کے سرمایہ سے حاجی کفایت اﷲ نے تجارتیں کرکے نفع کثیر حاصل کیا اورجائداد خریدکیں واقعی مالک جائداد کی مدعاعلیہا ہے، مدعاعلیہا نے حسب خواہش شوہروبنظر رفع نزاع باہم ورثاء بلالحاظ ملکیت جائداد خود اوردین مہریافتنی اپنا برضامندی جملہ ورثاء مدعاعلیہا اورشوہر مدعاعلیہا نے وصیت نامہ تحریر کیاجملہ ورثاء اورنیز کریم النساء نے وصیت نامہ تسلیم کرکے موافق حصص مندرجہ وصیت نامہ اپنا اپنا قبضہ جائداد پرکیا اورکاغذات مال میں اپنا نام درج کرالیا بیان مدعیہ کابابت نادرستی حواس حاجی کفایت اﷲ کے محض غلط ہے جبکہ مشورہ بابت تحریر وصیت نامہ کے ہوا تھا اس وقت بھی مدعیہ نے کہامیرے واسطے کچھ جائدادنہ چاہئے (عہ/)ماہوار مجھ کوکافی ہے اب مدعیہ کو استحقاق دعوٰی جائدادکانہیں درحالیکہ تمام جائداد سرمایہ مدعاعلیہا سے کفایت اﷲ نے پیداکی تو واقعی جملہ مالک جائداد مدعاعلیہا ہے کفایت اﷲ کا اس میں کچھ حق نہیں اگرجائداد میں کوئی جزء متروکہ حاجی کفایت اﷲ قرارپائے اوروصیت نامہ ناجائزٹھہرے توبلاادائے مبلغ (صہ؎) ہزاردین مہریافتنی ذمگی حاجی کفایت اﷲ شرعاً وراثت جاری نہیں ہوسکتی ہنوز تنقیح نہ ہوئی تھی کہ جملہ تیرہ اشخاص فریقین بالغوں کی طرف سے اصالۃً اورنابالغوں کی جانب سے ولایۃً اقرارنامہ ثالثی ۱۳/اگست؁ ۳ء  کوتحریرہوا جس میں لکھاگیا کہ ہم مقران کے تنازع بابت تقسیم ترکہ حاجی کفایت اﷲ کے ہے ہم سب کی خواہش ہے کہ ثالثان جائدادمنقولہ وغیرمنقولہ مفصلہ ذیل ترکہ حاجی کفایت اﷲ کی تقسیم حسب احکام شرع شریف باہم مقران کردیں۔ زردادنی مفصلہ ذیل جو ذمہ حاجی کفایت اﷲ مرحوم واجب الاداہے اس کومنجملہ مقران کے صرف حافظ عبدالحق اداکریں گے۔
سیدعبدالستار    صراف کانپور  	  جیون لال 

(سا/)	        (ماصہ عہ /) 	      	(مہ معہ)

علاوہ اس کے اورکوئی دادنی نہیں۔ ثالثان جوفیصلہ جوازی یاناجوازی وصیت نامہ مناسب سمجھیں کریں ثالثی میں نجم النساء کی درخواست بایں مضمون گزری کہ در واقع مالک جائداد کی مدعاعلیہا ہے اگرکوئی جز جائداد متروکہ حاجی کفایت اﷲ قرارپائے اور وصیت نامہ ناجائزہو توبلاادا(مہ صہ) دین مہریافتنی مدعاعلیہا وراثت جاری نہیں ہوسکتی بہ نسبت عذرات مذکورہ تنقیح قائم کی جائے۔ ثالثوں میں اس پراختلاف ہوا ہردوکی رائے میں یہ درخواست ناقابل سماعت ہوئی کہ مہرنجم النساء کی بحث امورمفوضہ سے نہیں ایک کی رائے اس کے خلاف ہے کہ اقرارنامہ میں تقسیم حسب احکام شرع شریف کی درخواست نہیں اورتقدیم مہرحکم شرع شریف ہے، اب حضرات علماء کرام سے امور ذیل کا استفسار ہے :
 (۱)کیاوصیت نامہ مذکورہ کلایاجزء قابل نفاذہے؟

(۲)اگروصیت نامہ باطل قرارپائے توجائداد حسب بیان نجم النساء مملوکہ نجم النساء ٹھہرے گی حالانکہ اس کے نام کوئی جزی جائدادنہ تھی یاتمام وکمال ترکہ حاجی کفایت اﷲ ہوکر تقسیم ہوگی۔

(۳)کیانسبت نادرستی حواس حاجی کفایت اﷲ اﷲ جلائی کادعوی قابل سماعت ہے؟

(۴) جائداد میں کہ حالت تندرستی حاجی کفایت اﷲ سے احسان الحق وفضل حق وکریمین کے نام تھیں وہ انہیں کی ٹھہرے گی یاحسب بیان وصیت نامہ ان کے نام فرضی قرارپاکر شامل تقسیم ہوں گی؟

(۵)کیاحمیدالنساء کامہر(مہعہ) ہونا اوریہ کہ وہ حیات حمیدالنساء میں اداکردیاگیا حسب تصریح وصیت نامہ ماناجائے گا۔

(۶)کیاکریم النساء دختر کفایت اﷲ قرارپائے گی یاحسب بیان نجم النساء وغیرہ ربیبہ۔

(۷)کیانجم النساء کی درخواست مذکورہ قابل سماعت ہے ثالثی میں اس کی نسبت کوئی تنقیح قائم کی جائے؟

(۸) کیانابالغوں پرولایت ذات ومال حسب بیان وصیت نامہ رہے گی یاکس طرح؟

(۹)کیااﷲ جلائی کادعویئ نسبت ششم حصہ شرعی صحیح ہے یاماہوار کے سوا اس کااستحقاق نہیں؟

(۱۰) زیورطلائی ونقرئی مندرجہ نمبر۳۱ فہرست اقرارنامہ جسے لکھاہے کہ بنگال بینک کانپور میں مورث نے امانت رکھاہے، مگربموجب مشہور حالت کے وہ زیورمتروکہ حمیدالنساء ہے کس کا قرارپائے گا اورتقسیم مال میں شامل ہوگا یابحق نابالغان اولادحمیدالنساء محفوظ رہے گا۔

(۱۱) زرمجتمع شملہ بینک مذکور نمبر۴۴ فہرست اقرارنامہ کی نسبت بینک مذکورکے بھیجے حساب سے معلوم ہواہے کہ ۱۱دسمبر؁۲ء  کوفوت حاجی کفایت اﷲ سے دوروز پہلے اس میں سے بارہ ہزار پانسوبارہ روپے حافظ عبدالحق کی معرفت آئے۔ حافظ عبدالحق نے روبروئے ثالثان لانا اس روپے کامانااورکہامیں نے اپنے باپ کولاکردے دیامگر اس روپے کاذکرنہ وصیت نامہ میں ہے نہ کوئی وارث اسے قبول کرتاہے  نہ موصی کا کسی کو دینا ظاہر ہوتاہے اور نہ اس وقت کی حالت موصی کی اس قدر زرکثیر وتصرف کرنے کے معلوم ہوتی ہے یہ رقم کس حساب میں درج ہوگی۔ بیّنواتوجروا۔

کاغذات نقول وصیت نامہ وعرضی دعوٰی وبیان تحریری نجم النساء واقرار نامہ ودرخواست نجم النساء بغرض ملاحظہ حاضرہیں۔
Flag Counter