Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
84 - 135
تیسراسوال :  یتیم خانہ میں بعض لوگ میت کے استعمال کاپلنگ نواڑوغیرہ کاجویتیموں کی معمولی چارپائیوں سے بہت زیادہ قیمتی اورعمدہ ہوتاہے بدون کسی بیان کے بھیج دیتے ہیں اگر وہ بعض ایتام کے کام میں لایاجائے تو دوسروں کی دلشکنی ہوتی ہے لہذا اس کو فروخت کرکے قیمت دیگرمصارف ایتام میں دی جائے یاقیمت سے معمولی چارپائیاں یتیموں کے واسطے بنوادی جائیں توکیساہے؟
چوتھاسوال: جوچندہ کہ یتیموں کے مصارف کے لئے آتاہے اسی سے یتیم لڑکوں کی رسم ختنہ اور یتیمات کی رسم نکاح کی جاتی ہے پس نکاح میں جو براتی دولہا کی طرف سے آتے ہیں ان کوکھاناکھلانا زرمذکورہ سے کیساہے؟
الجواب : مصحف شریف، کپڑے، پلنگ وغیرہ جوکچھ لوگ یتیموں کوبھیجتے ہیں ظاہرہے کہ اس سے مقصود تصدق ہوتاہے اورتصدق تملیک ہے۔
وھبۃ المشاع فیمالایقسم صحیحۃ وقبض من یعولھم یکفی عن قبضھم کمانصواعلیہ وجماعۃ المسلمین حیث لاولایۃ ولاقضاۃ من الاسلام کالقضاۃ فی النظر للایتام وامثال ذٰلک من المھام کما صرحوا بہ فی غیر مامقام۔
ناقابل تقسیم شیئ کاغیرمنقسم طورپرہبہ صحیح ہے، اوریتیموں کے کفیلوں کاقبضہ ان کی طرف سے کافی ہے جیساکہ اس پرمشائخ نے نص فرمائی، جہاں یتیموں کے ولی اورقاضی اسلام موجودنہ ہوں تووہاں یتیموں کی دیکھ بھال اوراس قسم کے دیگر اہم امورکے لئے مسلمانوں کی جماعت قاضیوں کے قائم مقام ہوتی ہے جیساکہ مشائخ نے متعدد مقامات پر اس کی تصریح فرمائی۔(ت)
توجماعت مسلمین کوکہ اس کام پرمعین ہیں رواہے کہ کپڑے قطع برید کرکے مصارف یتامٰی میں لائیں یاناقبل استعمال ملبوس اورپلنگ اورحاجت سے زائد مصاحف شریفہ ہدیہ وبیع کرکے زرثمن کاریتامٰی میں خرچ کریں مگرمال یتیماں دوسرے کو عاریۃً نہیں دے سکتے اگرچہ تلاوت کے لئے قرآن مجید فانہ تبرع ولاولایۃ فی التبرع (کیونکہ یہ تبرع ہے اورتبرع میں ولایت نہیں ہوتی۔ت)
زرچندہ سے یتیموں کاختنہ کرسکتے ہیں اوربرایتوں کومعمولی کھانادینابھی جائز بشرطیکہ سراف نہ ہو صرف بقدرکفایت ہو۔
فی ردالمحتار عن القنیۃ لایضمن ماانفق فی المصاھرات بین الیتیم والیتیمۃ وغیرھما فی خلع الخاطب اوالخطیبۃ  وفی الفضیافات المعتادۃ والھدایا المعھودۃ وفی اتخاذ ضیافۃ لختنۃ للاقارب والجیران مالم یسرف فیہ ۱؎ اھ  مختصرا۔ واﷲ اعلم۔
ردالمحتارمیں بحوالہ قنیہ منقول ہے یتیم لڑکے اوریتیم لڑکی وغیرہ کی شادی کے موقع پر دولہا اوردلہن کے جوڑوں، عادت کے مطابق دعوتوں، عرف کے مطابق تحائف اورختنہ کے موقع پرعزیز واقارب اورپڑوسیوں کی دعوت میں جوکچھ خرچ کیاجائے اس پرتاوان لازم نہیں آتا جب تک اس میں فضول خرچی نہ کی جائے اھ  مختصراً۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الوصایا    فصل فی شہادۃ الاوصیاء    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۴۶۳)
مسئلہ ۱۳۸ :    ۲۷/جمادی الاولٰی ۱۳۲۱ ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنامکان ودکان اپنی زوجہ کے نام بیع کردیاتھا زوجہ نے انتقال کیا۔ زید کے تین بچے نابالغ اپنی ماں کے وارث ہیں۔ اب زیدکے پاس کچھ نہیں کہ اس سے اپنا اوران نابالغوں کاکھانا پیناچلے۔ زیدنیک چلن  ہے مال برباد کرنے والانہیں وہ نیک نیتی سے چاہتاہے کہ اپنااوراپنے نابالغ بچوں کاحصہ بیچ کرتجارت کرے جس سے ان سب کارزق پیداہو۔ اس صورت میں زید ان حصوں کے بیچنے کااختیاررکھتاہے یانہیں؟بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : فی الواقع صورت مستفسرہ میں اگرزیدنیک چلن ہے اولاد کامال برباد کرنے کااس پراندیشہ نہیں اوربیع مناسب اورمعقول قیمت کو ہوتو اسے ان حصوں کے بیچنے کااختیارہے،
عقودالدریہ میں فصول عمادی سے ہے :
الحاصل ان بیع الاب عقار الصغیر بمثل القیمۃ یجوز اذاکان محمودا اومستورا اواذاکان مفسدا  لایجوز الابضعف القیمۃ۔۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
خلاصہ یہ کہ باپ کانابالغ کی غیر منقولہ جائداد کومثلی قیمت کے ساتھ فروخت کرنا جائزہے جبکہ وہ نیک چلن یاپوشیدہ حال والاہو، اوراگر وہ بدچلن اورفسادی ہے توپھرسوائے دگنی قیمت کے اسے فروخت کرناجائزنہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ العقودالدریۃ    کتاب الوصایا    باب الوصی    ارگ بازارقندھارافغانستان    ۲ /۳۲۳)
Flag Counter