فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
83 - 135
جواب سوال ہفتم : اوصیاء کابعض وصایا بجانہ لانا وصیت میں کیاخلل ڈال سکتاہے تنفیذوصیت حق موصی لہ یاصرف حق موصی ہے اوروہ ان کے گناہ سے بری۔
قال اﷲ تعالٰی فمن بدلہ بعد ماسمعہ فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ ان اﷲ سمیع علیم۔۱؎
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا : توجووصیت کوسن سناکربدل دے اس کاگناہ انہیں بدلنے والوں پرہے بے شک اﷲ سنتاجانتاہے(ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۸۱)
جواب سوال ہشتم : ہاں بعد تجہیز وتکفین وادائے دیون وانفاذ وصایا جوسہام ورثہ نا بالغین کوپہنچیں گے وصی بلاوجہ شرعی ان کی بیع وتبدیل اورکسی فعل مخالف حفظ کامجازنہیں کہ وصی محافظ ہے نہ متلف ولہذا ان کی جائداد منقولہ کوبیچ سکتاہے کہ س کی بیع ازقبیل حفظ ہے جبکہ یتیم کا اس میں ضرر نہ ہو اورغیرمنقولہ کوہرگزنہیں بیچ سکتامگرچندصوراستثناء میں۔
فی الہندیۃ، للوصی ان یبیع کل شیئ الترکۃ من المتاع والعروض والعقاراذا کانت الورثۃ صغارا اما بیع ماسوی العقار فلان ماسوی العقار یحتاج الی الحفظ و عسٰی ان یکون حفظ الثمن اَیْسَرَ وبیع العقار ایضا فی جواب الکتاب، قال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اﷲ ماقال فی الکتاب قول السلف کذا فی فتاوی قاضی خان، وجواب المتاخرین انہ انما یجوز بیع عقار الصغیر اذاکان علی المیت دین ولاوفاء لہ الامن ثمن العقار اویکون للصغیر حاجۃ الٰی ثمن العقار او یرغب المشتری فی شراءہ بضعف القیمۃ وعلیہ الفتوی کذا فی الکافی۲؎ اھ ،
ہندیہ میں ہے وصی کو اختیارہے کہ وہ ترکہ کی ہرشیئ کو فروخت کرے چاہے وہ اسباب وسامان کے قبیلہ سے ہویاغیرمنقول جائداد جبکہ ورثاء نابالغ ہوں۔ غیرمنقولہ جائداد کے ماسوا کی بیع تواس لئے جائزہے کہ اس کی حفاظت کی خاطر اس کی ضرورت ہے ممکن ہے کہ ثمنوں کی حفاظت زیادہ آسان ہو اورکتاب کے حکم کے مطابق غیرمنقول جائداد کی بیع بھی جائزہے۔ شمس الائمہ حلوانی علیہ الرحمہ نے کہاکہ کتاب میں جوکہاہے وہ اسلاف کاقول ہے، یونہی فتاوٰی قاضی خان میں ہے۔ اورمتأخرین نے اس کا حکم یہ بیان کیاہے کہ نابالغ کی غیر منقول جائدادکو فروخت کرنا صرف اس صورت میں جائزہے جب میت پر اس قدرقرض ہوکہ وہ اس جائداد کی قیمت کے بغیرپورانہیں ہوتا یانابالغ کواس جائداد کی قیمت کی محتاجی ہویاخریداراس جائدادکودگنی قیمت پرخریدنے کی رغبت رکھتاہے، فتوٰی اسی پرہے جیساکہ کافی میں ہے الخ،
(۲؎ الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۴۴)
وفی الدر جازبیعہ عقار صغیر من اجنبی لامن نفسہ بضعف قیمتہ اولنفقۃ الصغیر اودین المیت اووصیۃ مرسلۃ لانفاذ لھا الامنہ اولکونہ غلاتہ لاتزید علی مؤنتہ اوخوف خرابہ اونقصانہ اوکونہ فی ید متغلب دررواشباہ ملخصا قلت وھذا لو البائع وصیا لامن قبل ام اواخ فانھما لایملکان بیع العقار مطلقا ۱؎ الخ وفی الشامیۃ عن الرملی عن الخانیۃ فی مسئلۃ بیع المنقول لنسیئۃ ان کان یتضرربہ الیتیم بان کان الاجل فاحشا لایجوزا ۲ ؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمیں ہے : نابالغ کی غیرمنقول جائدادکواجنبی کے ہاتھ دُگنی قیمت پربیچنا جائزہے وصی خود نہیں خریدسکتا۔ یونہی نابالغ کے نفقہ یامیت کے قرض کی ادائیگی یاایسی وصیت مطلقہ کے نفاذ کے لئے بیچنا جائز ہے جس وصیت کانفاذ اس جائیداد کو بیچے بغیر نہیں ہوسکتا یا اس جائداد کی پیداوار اس کے اخراجات سے زیادہ نہیں یا اس جائداد کے خراب ہونے یاناقص ہونے یاکسی جابر کے قبضہ میں چلے جانے کاخوف ہوتوبھی بیع جائزہے، درر واشباہ (تلخیص) اوریہ تب ہے کہ بائع ماں کی طرف سے یابھائی کی طرف سے وصی نہ ہو،کیونکہ یہ دونوں غیرمنقول جائداد کوبیچنے کامطلقاً اختیارنہیں رکھتے الخ اورشامیہ میں بحوالہ خانیہ رملی سے منقول ہے کہ منقول جائداد کی ادھارپربیع اگریتیم کے لئے نقصان دہ ہوبایں صورت کہ ادھار کی مدت بہت زیادہ ہو توجائزنہیں الخ۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۷)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۵۳)
رسالہ
الشرعۃ البھیّۃ فی تحدید الوصیّۃ(۱۳۱۷ھ)
ختم ہوا
مسئلہ ۱۳۶ : ۱۲ربیع الاول شریف ۱۳۱۹ھ مرسلہ حافظ محمودحسین صاحب تلمیذومریدگنگوہی صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مہاجرہ ہندی مدنی نے کہ اس کی جائداد ہندوستان میں واقع ہے اس طرح وصیت کی تھی کہ میری جائداد کامنافع ایک ثلث یہاں مدینہ منورہ علٰی صاحبہا افضل التسلیم والتحیۃ بھیج دیاجایاکرے، اورصورت یہ ہے کہ ہندوستان میں اس کے بعض اقارب قریبہ بلکہ ذی رحم محرم حاجتمند ومفلس موجود ہیں کہ اس درجہ قریب رشتہ دارمدینہ منورہ میں موصیہ کے نہیں ہیں، پس اس صورت میں اگر اس کی وصیت کاروپیہ یہاں ہندوستان میں اس کے اقربائے قریبہ حاجتمند ومفلس کودیاجائے تو وصیت اداہوگی یانہیں؟ اورکیاافضل ہے مدینہ منورہ بھیجنایا یہاں قریب ذی رحم حاجتمند ومفلس کودینا۔بیّنواتوجروا۔
الجواب: جہاں کے فقراء کودیں گے وصیت اداہوجائے گی کچھ خاص مدینہ منورہ ہی بھیجنا ضروری نہیں ہرجگہ کے فقراء کودیناجائزہے۔
اگر کسی نے وصیت کی بلخ کے فقیروں کے لئے۔ اور وصی نے ان کے غیر کودے دیا توامام ابویوسف علیہ الرحمہ کے نزدیک جائزہے، اوراسی پرفتوی ہے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۵)
شرح القدوری للزاہدی میں ہے:
فی الوصیۃ لفقراء الکوفۃ جازلغیرھم۲؎۔
کوفہ کے فقیروں کے لئے وصیت کی صورت میں ان کے غیرکودیناجائزہے(ت)
(۲؎ الدرالمختار بحوالہ المجتبٰی کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۲)
قاضی خان پھرہندیہ میں ہے:
رجل اوصی بان یتصدق بشیئ من مالہ علی فقراء الحاج ھل یجوز ان یتصدق علی غیرھم من الفقراء قال الشیخ الامام ابونصر رحمہ اﷲ تعالٰی یجوز ذٰلک لما روی عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی فی رجل اوصی بان یتصدق علی فقراء مکۃ قال یجوز ان یتصدق علی غیرھم من الفقراء۔۱؎
کسی شخص نے وصیت کی کہ اس کے مال میں سے کچھ حاجی فقراء پرصدقہ کیاجائے توکیا ان کے غیرپرصدقہ کرناجائزہے؟ شیخ امام ابونصرعلیہ الرحمہ نے کہاکہ جائزہے کیونکہ امام ابویوسف علیہ الرحمہ سے اس شخص کے بارے میں منقول ہے جس نے فقراء مکہ پرصدقہ کرنے کی وصیت کی، امام ابویوسف نے فرمایا کہ ان کے علاوہ دوسرے فقراء پرصدقہ کرنا جائزہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان کتاب الوصایا فصل فی مسائل مختلفہ مطبع نولکشورلکھنؤ ۴ /۸۴۳)
ہاں افضل یہی ہے کہ مدینہ منورہ بھیجیں
اتباعا للوصیۃ وخروجا عن الخلاف
(وصیت کی اتباع کے لئے اوراختلاف سے نکلنے کے لئے۔ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قال فی الخلاصۃ، الافضل ان یصرف الیھم وان اعطی غیرھم جاز وھذا قول ابی یوسف وبہ یفتی وقال محمد لایجوز اھ قلت والاول موافق لقولھم فی النذر بالغاء تعیین الزمان والمکان والدرھم والفقیر۔۲؎ واﷲ تعالٰی اعلم(عہ)۔
خلاصہ میں کہا افضل یہی ہے کہ انہی پرخرچ کیاجائے اوراگران کے غیرکو دے دیاتو جائزہے، یہی امام ابویوسف علیہ الرحمہ کاقول ہے اوراسی کے ساتھ فتوٰی دیاجاتاہے۔ امام محمدعلیہ الرحمہ نے فرمایا کہ جائزنہیں الخ۔ میں کہتاہوں پہلا قول مشائخ کے اس قول کے موافق ہے جونذرمیں زمان، مکان، درھم اورفقیر کی تعیین کولغوقراردینے سے متعلق ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۲۶)
عہ : الجواب اس عورت کی وصیت پر عمل واجب ہے، اور وہ ثلث مدینہ منورہ ہی بھیجنا ضروری ہے گوہندوستان کے فقراء اس جگہ کے فقرأ سے زیادہ ضرورت مند ہوں۔بندہ رشیداحمدگنگوہی عفی عنہ
مسئلہ ۱۳۷ : ۱۱/جمادی الاولٰی ۱۳۱۹ ھ ازانجمن اسلامیہ بریلی
چندسوال متعلقہ انتظام یتیم خانہ مسلمانان پیش کئے جاتے ہیں بموجب شرع شریف جواب مرحمت ہوں خدااس کااجرعطافرمائے،
پہلاسوال : بعض لوگ میت وغیرہ کے استعمال کپڑے ایسے بھیج دیتے ہیں جوایتام کے جسم پر درست نہیں آتے یاان کے استعمال کے لائق نہیں ہوتے، پس نادرست کوبعد قطع برید درست کراکے ایتام کے استعمال میں لانا اورناقابل استعمال کوفروخت کرکے یتیموں کی پرورش میں صرف کرناکیساہے؟
دوسراسوال: بعض لوگ کلام مجید جدید وغیرمستعمل متعدد اوربعض میت کے تلاوت کایتیم خانے میں عطاکرتے ہیں اوران کی تعداد یتیموں کی تعداد سے زیادہ ہوجاتی ہے دینے والے بعض یہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر ضرورت سے زیادہ ہوں ہدیہ کرکے قیمت پرورش ایتام میں صرف کی جائے مگربعض بدون کسی بیان کے بھیج دیتے ہیں پس قسم آخرکو درحالیکہ ضرورت سے زیادہ ہوں ہدیہ کرکے قیمت کوایتام کے مصارف میں لاسکتے ہیں اورنیزیہ ہی قسم کسی غیرایتام کو تلاوت کے واسطہ دے سکتے ہیں یانہیں؟