Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
82 - 135
صورت ثالثہ : یعنی وصیت قربت صحیح ہے اگرچہ نظر بخارج کراہت ہواس کے دلائل وہ تمام مسائل ہیں جن میں قربت کے لئے ثلث سے زائد وصیت کوصحیح مانا اورورثہ اجازت دیں توپوری مقدار میں نافذجانا، پرظاہرکہ ہنگام قیام ورثہ مثلاً کل مال کی وصیت ممنوع ہے وہی بعض شراح مشکوٰۃ اعنی علامہ ابن فرشتہ اسی حدیث کے نیچے اسی قول میں فرماتے ہیں :
فیضاران الوصیۃ ای یوصلان الضرر الی الوار بسبب الوصیۃ للاجنبی باکثر من الثلث۱؎الخ۔
وہ دونوں وصیت میں ضرر پہنچائیں یعنی اجنبی کے حق میں تہائی سے زائد کی وصیت کرکے وارث کونقصان پہنچائیں الخ(ت)
 (۱؎ مرقاۃ المفاتیح بحوالہ ابن الملک   باب الوصایا    الفصل الثانی     تحت حدیث ۳۰۷۵    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۶ /۲۵۷)
جلالین میں زیرآیت ہے :
 (اواثما) بان تعمّد ذٰلک بالزیادۃ علی الثلث اوتخصیص غنی مثلا۔۲؎
(یاگناہ کیا) بایں صورت کہ تہائی سے زائد کا قصد کیایاغنی کو وصیت کے ساتھ مختص کیا(ت)
(۲؎ تفسیرجلالین    تحت آیت ۲ /۱۸۲    اصح المطابع الدہلی    النصف الاول ص۲۶)
گرازانجاکہ فعل فی نفسہ قربت اورمنع بوجہ عارضی یعنی تعلق حق ورثہ ہے باطل نہ ہوئی ورنہ اجازت ورثہ سے بھی نافذنہ ہوسکتی۔
فان الباطل لاوجود لہ والمعدوم لاینفذ بالتنفیذ۔
کیونکہ باطل کاکوئی وجودنہیں ہوتااورمعدوم کسی کے نافذکرنے سے نافذنہیں ہوتا(ت)
میں ایں وآن سے استدلال کرتاہوں  قرآن عظیم دلیل اکبرہے کہ وصیت باوصف ظلم ومعصیت صحیح ومعتبرہے۔
قال اﷲ عزوجل فمن خاف من موص جنفا اواثما فاصلح بینھم فلااثم علیہ ان اﷲ غفوررحیم۔۳؎
 (اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا) جوکسی کی وصیت میں ظلم یاگناہ پراطلاع پائے پس ورثہ اورموصی لہم میں صلح کرادے تواس پرگناہ نہیں بے شک اﷲ بخشنے والامہربان ہے۔(ت)
(۳؎ القرآن الکریم    ۲ /۱۸۲)
وصیت بحال کراہت اگرباطل ہوتی توباطل پر صلح کے کیامعنی تھے اوروہ موصی لہم کیوں قرارپاتے۔
معالم میں ہے :
قال الاٰخرون انہ اراد بہ انہ اذا اخطأ المیّت فی وصیتہ اوجار معتمدا فلاحرج علی ولیہ او وصیہ او والی امورالمسلمین ان یصلح بعد موتہ بین ورثتہ وبین الموصی لھم ویرد الوصیۃ الی العدل والحق۔۱؎
دوسروں نے کہا اس سے مرادیہ ہے کہ جب میت نے وصیت میں خطا کی یاجان بوجھ کر ظلم کیا تو ولی یاوصی یامسلمانوں کے امورکے والی کے لئے کوئی حرج نہیں کہ وہ موصی کی موت کے بعد اس کے وارثوں اوروصیت والوں کے درمیان صلح کرادیں اوروصیت کوعدل وحق کی طرف لوٹادیں۔(ت)
 (۱؎ معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن    تحت آیۃ ۲ /۱۸۲    مصطفی البابی مصر    ۱ /۱۵۰)
ثم اقول وباﷲ التوفیق (پھرمیں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں۔ت) سراس میں یہ ہے کہ شرع مطہرکسی حرکت لغو وبے معنی کومشروع ومقررنہیں فرماتی تمام عقود وافعال ومعاملات کی صحت فائدے پراعتماد رکھتی ہے فائدہ خواہ دوسرے کاہو اگرچہ محض دنیوی خواہ اپنااگرچہ صرف اخروی اور جوعبث محض ہے ہرگزصحیح نہیں ولہٰذا ایک روپیہ اسی کے مثل وہمسردوسرے روپے کے بدلے بیچنا یامکان کے مساوی شرکائے مشاع کا اپناحصہ دوسرے کے حصے سے بدلنا یاکسی کی سکونت کو سکونت کے عوض اجارہ میں دیناصحیح نہ ہوا۔
درمختارمیں ہے :
خرج بمفید مالایفید فلایصح بیع درھم بدرھم استویا وزنا وصفۃ ولامقایضۃ احدالشریکین حصۃ دارہ بحصۃ الاخر(صیرفیہ) ولااجارۃ السکنی بالسکنٰی اشباہ۔۲؎  ۔
مفید کی قید سے غیرمفید نکل گئی چنانچہ وزن وصفت میں برابر ایک درہم کی دوسرے درہم کے بدلے بیع صحیح نہیں، اورنہ ہی ایک مکان کے دوبرابر شریکوں میں سے ایک کادوسرے سے اپنے حصے کاتبادلہ صحیح ہے(صیرفیہ)، اور سکونت کے بدلے سکونت کواجارہ پردیناصحیح نہیں(اشباہ)۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار    کتاب البیوع     مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۲)
خصوصاً وہ عقود جوبرخلاف قیاس بنظرحاجات ناس مشروع ہوئے وہ توحاجت پرہی اعتماد کیاچاہیں، ولہٰذا نا قابل سواری بچھڑے کاسواری کے لئے اجارہ جائزنہ ہواکہ قیاس جوازاصل اجارہ کانافی اورداعی جوازیعنی حاجت، بوجہ عدم قابلیت یہاں منتفی۔
فی الفتح من باب العنین لم یجز استئجارالحجش للحمل والرکوب۔۱؎
فتح کے باب العنین میں ہے سواری کی صلاحیت نہ رکھنے والے بَچھیرے کوسواری اورباربرداری کے لئے کرائے پرلینا جائزنہیں(ت)
 (۱؎ فتح القدیر   باب العنین   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۴ /۱۳۵)
وصیت بھی انہیں عقودمجوزہ للحاجہ سے ہے۔
فی الہدایۃ القیاس یابی جوازھا لانہ تملیک مضاف الٰی حال زوال مالکیتہ ولو اضیف الی حال قیامھا بان قیل ملکتک غدا کان باطلا فھذا اولی الا اناستحسناہ لحاجۃ الناس الیھا۲؎الخ۔
ہدایہ میں ہے قیاس تواس کے جوازسے مانع ہے کیونکہ وصیت ایسی تملیک ہے جوموصی کی مالکیت کے حال زوال کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ اگراس کی نسبت اس حالت کی طرف کی جائے جب مالکیت قائم ہوتی ہے یعنی یوں کہاجائے میں نے تجھے آئندہ کل اسی کامالک کردیاتو یہ باطل ہوگی۔ چنانچہ بطلان مالکیت والی حالت میں اس کا بطلان بدرجہ اولٰی ہوگا مگرہم نے بطوراستحسان اس کوجائزقراردیاکیونکہ لوگوں کواس کی حاجت ہے الخ(ت)
 (۲؎ الہدایۃ  کتاب الوصایا   مطبع یوسفی لکھنؤ    ۴ /۶۵۰)
توبے فائدہ محض اس کی تشریع معقول نہیں حالت تملیک وافعال قربت میں حصول فائدہ ظاہر اورمعصیت عارضہ غایت یہ کہ مثل بیع وقت اذان جمعہ یانماز عصروقت زردی فرض کردے منافی صحت نہیں ہوسکتی بخلاف اس صورت کے کہ نہ تملیک نہ سرے سے قربت، ایسی ہی جگہ کہاجائے گاکہ وصیت امرمکروہ ونامشروع کی ہے، لہٰذا صحیح نہیں کہ موجب صحت یعنی حاجت معدوم ہے معہذا ہم اوپرواضح کرآئے کہ وصیّت ایجاب ہے اورایجاب لحق وغیرہ ہو جیسے تملیک میں یا لحق نفسہ جیسے قربات میں جہاں کوئی نفع نہیں ایجاب کیوں ہونے لگا۔
فی الہندیۃ عن المحیط لواوصی بان یباع عبدہ ولم یسم المشتری لایجوز الا ان یقول وتصدقوا بثمنہ اویقول بیعوہ نسیۃ ویحط الی الثلث عن المشتری ۳؎الخ وفیھا عن المبسوط اوصی بعبدہ ان یباع ولم یزد علی ذٰلک واوصی بان یباع بقیمتہ فہو باطل لانہ لیس فی ھذہ الوصیۃ معنی القربۃ لیجب تنفیذھا لحق الموصی۱؎۔
ہندیہ میں محیط سے منقول ہے اگرکسی نے وصیت کی کہ اس کاغلام بیچ دیاجائے اورخریدارکومتعین نہیں کیا توجائزنہیں مگر یہ کہ یوں کہے کہ اس کی قیمت کو صدقہ کردو یاکہے کہ اس کوادھار پربیچ دو اورمشتری سے تہائی تک قیمت کم کردے الخ اوراسی میں بحوالہ مبسوط ہے کسی نے اپنے غلام کے بارے میں وصیت کی کہ اسے بیچ دیاجائے ور اس سے زائد کچھ نہ کہایا وصیت کی کہ غلام کو اس کی قیمت کے ساتھ بیچ دیاجائے تویہ باطل ہے اس لئے کہ اس وصیت میں قربت کامعنی موجودنہیں تاکہ موصی کے حق کے لئے اس کونافذ کرناواجب ہوتا۔(ت)
 (۳؎ الفتاوی الہندیۃ    کتاب الوصایا    الباب الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۹۶)

 (۱؎ الفتاوی الہندیۃ    کتاب الوصایا    الباب الخامس        نورانی کتب خانہ پشاور۶ /۱۱۳)
بحمداﷲ اس تحقیق انیق نے کوئی دقیقہ تدقیق فروگزاشت نہ کیا۔ علامہ شامی کاکلام مذکوربھی بطرف خفی اسی تقریر منیرکی طرف مشیر۔
حیث قال اللھم الا ان یفرق بان الوصیۃ اما صلۃ اوقربۃ ولیست ھذہ واحدۃ منھما فبطلت بخلاف الوصیۃ لفاسق فانھا صلۃ لھا مطالب من العباد فصحت وان لم تکن قربۃ کالوصیۃ لغنی لانھا مباحۃ ولیست قربۃ۲؎الخ۔
جہاں شامی نے کہا اے اﷲ! مگریہ کہ یوں فرق کیاجائے کہ بیشک وصیت یاتوصلہ ہوتی ہے یاقربت حالانکہ یہ ان دونوں میں سے نہیں ہے چنانچہ باطل ہوجائے گی بخلاف اس وصیت کے جوفاسق کے لئے ہو اس لیے کہ وہ صلہ ہے اوربندوں میں سے کوئی اس کامطالبہ کرنے والاموجودہے چنانچہ وہ صحیح ہوگی اگرچہ وہ قربت نہیں جیسے غنی کے لئے وصیت، کیونکہ وہ مباح ہے اور قربت نہیں ہے الخ(ت)۔
(۲؎ ردالمحتار        کتاب الوصایا     باب الوصیۃ للاقارب وغیرہم    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۵۴۱)
اب مانحن فیہ کودیکھئے تواس میں وصایائے تملیک ہیں یاوصایائے قربت کوئی وصیت ایسی نہیں جوفی نفسہٖ ان دونوں سے خالی ہو تو وجہ مذکورسے اس کے بطلان پراستدلال باطل وعاطل ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق (ایسے ہی تحقیق چاہئے اوراﷲ تعالٰی ہی توفیق کامالک ہے۔ت)
Flag Counter