Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
81 - 135
جواب سوال ششم :  بطلان وصیت کے لئے تقریرمذکوراصلاً صحیح نہیں، اوپرگزراکہ وصیت دوقسم ہے : تملیک وقربت۔ وانااقول وباﷲ التوفیق (اورمیں کہتاہوں اورتوفیق اﷲ ہی کی ہے۔ت) کراہت منافی تملیک ہرگزنہیں ہوسکتی،
الاتری ان البیوع الفاسدۃ محرمۃ وتفید الملک فاذا جامع الملک الحرمۃ فمابالک بالکراھۃ۔
کیاتونہیں دیکھتاکہ  بیوع فاسدہ حرام ہیں اورمِلک کافائدہ دیتی ہیں۔ جب ملک حرمت کے ساتھ جمع ہوگیا توکراہت کے ساتھ جمع ہونے میں تیراکیاخیال ہے۔(ت)
اورمنافی قربت بھی صرف اس صورت میں ہے کہ شیئ فی نفسہ مکروہ ہو اوریہ جبھی ہوگا کہ وہ اصلاً نوع قربت سے نہ ہو،
فان الندب والکراھۃ متنافیان لایسوغ اجتماعھما من جھۃ واحدۃ۔
کیونکہ ندب اورکراہت آپس میں متنافی ہیں لہذا ایک ہی جہت سے ان کا اجتماع جائزنہیں(ت)
بخلاف کراہت عارضی کہ زنہارمنافی قربت نہیں ہزارجگہ ہوتاہے کہ شیئ فی نفسہ قربت ہو اوراسے خارج سے کراہت عارض جیسے آستین چڑھائے ہوئے نمازپڑھنا، علماء نے کراہت ومعصیت سے بطلان وصیت پرصرف دوصورت خاصہ میں استثناء کیا ہے جہاں تملیک نہیں اورفعل فی نفسہٖ مکروہ ہے، حاصل استدلال یہ کہ یہاں تملیک نہ ہونا تو ظاہراوراس ظہور ہی کے باع یہ مقدمہ مطوی فرما جاتے ہیں، رہی قربت وہ یوں نہیں ہوسکتی کہ فعل خودمکروہ ہے اورایسا مکروہ قربت نہیں ہوسکتا تو دونوں نوع وصیت منتفی ہوئیں اوربطلان لازم آیا،
فان انتفاء الاقسام باسرھا قاض بانتفاء المقسم راسا۔
تمام اقسام کامنتفی ہونامقسم کے منتفی ہونے کاتقاضا کرتا ہے۔(ت)
بخلاف دوصورت باقی اعنی صورت تملیک وصورت قربت ذاتی وکراہت عارضی کہ ان میں ہرگزکراہت سے بطلان پرحجت نہیں پاتے بلکہ صراحۃ صحت وصیت ارشاد فرماتے ہیں تینوں صورتوں کے شواہدلیجئے:
صورت اولٰی : کی دومثالیں یہی ضرب قبہ وتطیین قبرہیں یعنی جب بہ نیت تزیین ہوکہ اپنی قبرکو مزین کرانا فی نفسہ نوع قربت سے نہیں بخلاف اس صورت کے کہ بقائے نشان مقصود ہوکہ یہ فعل شارع صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سے معہود۔
کما فعل بقبر عثمٰن بن مظعون رضی اﷲ تعالٰی عنہ و وضع حجرا لیتعرف بھا قبرہ ویدفن الیہ من مات من اھلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما اخرجہ ابوداؤد۱؎ فی سننہ بسند جید۔
جیساکہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی قبرپرپتھرنصب فرمایا تاکہ اس پتھر کے سبب قبر کی پہچان رہے اورحضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے خاندان مبارک سے وصال فرمانے والے افراد کو اس قبرکے قریب دفن کیاجائے، جیساکہ امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں جید سند کے ساتھ اس کی تخریج کی ہے۔(ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الجنائز    باب فی جمع الموتی فی قبروالقبریعلم    آفتاب عالم پریس لاہور   ۲ /۱۰۱)
اس سے نفع وانتفاع میت زائرین حاصل یہ مقصدمحمود ہے اور ہرمقصد محمودقربات میں معدود۔

درمختارمیں زیرعبارت مذکورہ سوال ہے :
قدمنا فی الکراھیۃ انہ لایکرہ تطیین القبور فی المختار۲؎الخ زادفیھا وفی الجنائزعن السراجیۃ لاباس بالکتابۃ ان احتج الیھا حتی لایذھب الاثر ولایمتھن۔۳؎۔
ہم باب الکراہیۃ میں ذکرکرچکے ہیں کہ قول مختارمیں قبروں کی لپائی مکروہ نہیں الخ اسی کے باب الجنائز میں بحوالہ سراجیہ یہ اضافہ کیاکہ قبرپرلکھنے کی اگرضرورت ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں تاکہ س کانشان نہ مٹے اوراس کی توہین نہ کی جائے۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار        کتاب الوصایا    باب الوصیۃ للاقارب وغیرہم    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۳۰)

(۳؎ الدرالمختار        باب صلٰوۃ الجنازۃ        مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۶۔۱۲۵)

(الفتاوی السراجیۃ    کتاب الجنائز    باب الدفن       مطبع نولکشورلکھنؤ    ۲۴)
خانیہ میں ہے :
  اوصی بعمارۃ قبرہ للتزیین فھی باطلۃ۔۴؎
زینت کے لئے قبر پرعمارت کی وصیت کی تو یہ وصیت باطل ہے۔(ت)
(۴؎ فتاوٰی قاضیخان    کتاب الوصایا    فصل فی مایکون وصیۃ   مطبع نولکشورلکھنؤ    ۴ /۸۳۶)
ہندیہ میں محیط سے ہے :
اذا اوصی بان یطین قبرہ اویوضع علی قبرہ قبۃ فالوصیۃ باطلۃ الا ان یکون فی موضع یحتاج الی التطیین بخوف سبع اونحوہ سئل ابوالقاسم عن من دفع الی ابنتہ خمسین درھما فی مرضہ وقال ان مت فاعمری قبری وخمسۃ دراھم لک واشتری بالباقی حنطۃ وتصدقی بھا قال الخمسۃ لہا لاتجوز وینظرالی القبر الذی امر بعمارتہ فان کان یحتاج الی العمارۃ للتحصین لاللزینۃ عمرت بقدر ذٰلک والباقی تتصدق بہ علی الفقراء وان کان امر بعمارۃ فضلت علی الحاجۃ الذی لابدمنھا فوصیۃ باطلۃ۱؎۔
کسی نے وصیت کی کہ اس کی قبرکی لپائی کی جائے اوراس پرگنبدبنایاجائے تووصیت باطل ہوگی۔ مگریہ کہ وہ ایسی جگہ ہوجہاں اس کی ضرورت ہے تومکروہ نہیں۔ مثلاً وہاں کسی درندے وغیرہ کا خوف ہو۔ ابوالقاسم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیاگیا جس نے اپنی بیٹی کو بیماری کی حالت میں پچاس درہم دے کرکہا اگرمیں مرجاؤں تو میری قبرتعمیرکرانا اورپانچ درھم تیرے ہیں باقی سے گندم خریدکر اسے صدقہ کردینا۔ ابوالقاسم نے کہاکہ بیٹی کے لئے پانچ درہموں کی وصیت جائزنہیں۔ اورقبرکودیکھاجائے گااگروہاں قبرکی حفاظت کے لئے عمارت کی محتاجی ہے توبقدرحاجت وہ تعمیرکرائے لیکن زینت کے لئے جائزنہیں اورجوباقی بچے وہ فقراء پرصدقہ کردے۔ اگرموصی نے قدرحاجت سے زائد عمارت کاحکم دیاتو اس کی وصیت باطل ہوگی۔(ت)
 (۱؎ الفتاوی الہندیۃ     کتاب الوصایا    الباب الثانی    نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۹۶)
بزازیہ میں ہے :
عمارۃ القبران لتحصین یجوز وان لتزیین فالوصیۃ ایضا باطلۃ ویصرف الکل الی الفقراء۔۲؎
قبر کی عمارت اگرحفاظت کے لئے ہے تو وصیت جائزہے اوراگرزیبائش کے لئے ہے تو ناجائزوباطل ہے۔ لہٰذا وہ سب مال فقراء پرخرچ کیاجائے گا۔(ت)
(۲؎ فتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ    کتاب الوصایا    نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۴۳۹)
مثال سوم : وصیت کی کہ اُسے ٹاٹ کاکفن دیں اورگلے میں طوق پاؤں میں بیڑیاں ڈال کردفن کریں یہ امرنامشروع کی وصیت ہے مقبول نہ ہوگی اوربطورمشروع دفن کریں گے۔
فی الہندیۃ عن المحیط اذا اوصی ان یدفن فی مسح کان اشتراہ ویغل و یقید رجلہ فھذہ وصیۃ بمالیس بمشروع فبطلت ویکفن بکفن مثلہ ویدفن کما یدفن سائر الناس۔۱؎
ہندیہ میں بحوالہ محیط منقول ہے جب کسی نے وصیت کی کہ اسے ٹاٹ میں کفن دیاجائے جو اس نے خریدا ہے اوراس کو طوق پہنایاجائے وراس کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالی جائیں، توچونکہ یہ شرعی طورپرناجائزکام کی وصیت ہے لہٰذا باطل ہوگی، اس کوکفن مثلی دیاجائے گا اوردیگرلوگوں کی طرح دفن کیاجائے گا۔(ت)
 (۱؎ الفتاوی الہندیۃ    کتاب الوصایا    الباب الثانی        نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۹۶۔۹۵)
مثال چہارم : وصیت کی کہ مجھے میرے گھرمیں دفن کریں باطل ہے کہ یہ حضرات انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام  کے ساتھ مخصوص اورامت کے حق میں نامشروع ہے، 

خلاصہ وبزازیہ وتاتارخانیہ وہندیہ وغیرہ میں ہے :
واللفظ للثالثۃ اوصی بان یدفن فی دارہ فوصیتہ باطلۃ الا ان  یوصی  ان یجعل دارہ مقبرۃ للمسلمین۲؎۔
لفظ تیسری کتاب یعنی تاتارخانیہ کے ہیں۔ اگر کسی نے وصیت کی اس کو اپنے گھرمیں دفن کیاجائے تو وہ وصیت باطل ہوگی سوائے اس کے وہ یوں کرے کہ اس کے گھر کو مسلمانوں کے لئے قبرستان بنادیاجائے۔(ت)
(۲؎الفتاوی الہندیۃ    کتاب الوصایا    الباب الثانی        نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۹۵)
صورت ثانیہ :  یعنی وصیت تملیک باوصف کراہت صحیح ہے اس کی ایک سند وہی ہے جو سوال میں بحوالہئ شامی مسطورکہ فسّاق کے لئے وصیت مکروہ ہے اورباوجودکراہت صحیح سنددوم۔
وجیزامام کردری میں ہے :
الثانی معصیۃ مطلقا کالوصیۃ للنائحۃ والمغنی ان لم یکن یحصون لایصح  وان لقوم باعیانھم صح۔۳؎۔
دوسری مطلقاً گناہ ہے جیسے نوحہ کرنے والی عورت اورگویّے کے لئے وصیت۔ اگروہ قابل شمار نہ ہوئے توصحیح نہیں اورمعین قوم کے لئے توصحیح ہے۔(ت)
 (۳؎ الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ     کتاب الوصایا     نورانی کتب خانہ پشاور   ۶ /۴۳۶)
تبیین الحقائق پھرردالمحتارمیں ہے  :
الوصیۃ انما صحت باعتبار التملیک لھم ۱؎۔
یہ وصیت تومحض ان کے لئے تملیک کے اعتبارسے صحیح ہے۔(ت)
(۱؎ تبیین الحقائق  کتاب الوصایا  باب وصیۃ الذمی المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۶ /۲۰۵)
یہ کیسے نصوص صریحہ ہیں کہ وصایائے تملیک اگرچہ معصیت ہوں صحیحہ ہیں۔ سند سوم کافرحربی کے لئے وصیت باوصف ممانعت صحیح ونافذ ہے۔
مطلقا علی ما اختارہ الائمۃ الجلۃ طاھر بن عبدالرشید البخاری و الامام السغناقی اول شراح الھدایۃ والامام النسفی صاحب الکنز والوافی والامام حافظ الدین البزازی اوبشرط الاستیمان علی مامشی علیہ فی الغرر الدرر والتنویر والدر واجعلہ فی الخانیۃ اجماعا وفی المقام تحقیق انیق اتینابہ فیما علقنا علی ردالمحتار لولاغرابۃ المقام لاسعفنابہ۔
بغیر کسی طرط کے جیساکہ بزرگ ائمہ کرام یعنی طاہرین عبدالرشیدبخاری، ہدایہ کے شارح اول امام سغناقی، کنزو وافی کے مصنف امام نسفی اورامام حافظ الدین برازی نے اختیارکیا، یامستامن ہونے کی شرط کے ساتھ جیساکہ غرردرر، تنویر اوردرمیں اس کو اپنایاہے۔ اس مقام پر نہایت عمدہ تحقیق ہے جس کو ہم نے رداالمحتار پراپنی تعلیق میں ذکرکیاہے۔ اگرمقام کی اجنبیت نہ ہوتی تو ہم اس کو یہاں ذکرکرتے۔(ت)
خلاصہ ونہایہ وکافی ووجیزمیں ہے:
واللفظ للاول، الوصیۃ لاھل الحرب باطلۃ، وفی السیر الکبیر مایدل علی الجواز والتوفیق بینھما انہ لاینبغی ان یفعل ولوفعل یثبت الملک۔۲؎
اورلفظ پہلی کتاب کے ہیں کہ اہل حرب کے لئے وصیت باطل ہے اورسیرکبیرکی عبارت جواز پردلالت کرتی ہے۔ ان دونوں کے درمیان تطبیق یوں ہوگی کہ اہل حرب کے لئے وصیت نہ کرنی چاہئے لیکن اگرکردے توملک ثابت  ہوجائے گا۔(ت)
 (۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی   کتاب الوصایا     جنس آخرفی الفاظ الوصیۃ    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۴ /۲۳۰)
Flag Counter