فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
80 - 135
جواب سوال چہارم : تقسیم عبادات ومعاملات میں عبادات سے مطلقاً حقوق اﷲ مراد ہوتے ہیں خواہ عبادات محضہ ہوں جیسے ارکان اربعہ یاقربات محضہ جیسے عتق ووقف حتی کہ نکاح بھی خواہ عبادت یاقربت مع معنی عقوبت جیسے کفارات اورمعاملات حقوق العباد ہیں مثل بیع واجارہ وہبہ واعارہ وغیرہ اوریہاں نظرمقصود اصل کی طرف ہے اصل مقصود تقرب الی اﷲ ہے توعبادت ہے یامصالح عباد تومعاملہ
فاجتماعھما کما فی النکاح لایقدح فی التقسیم وقدتکفل ببیان کل ذٰلک فی ردالمحتار صدر کتاب البیوع۔
ان دونوں کااجتماع جیساکہ نکاح میں ہے تقسیم میں مانع نہیں، تحقیق اس تمام کے بیان کی ردالمحتار میں کتاب البیوع کے آغاز پرکفالت کی گئی ہے(ت)
ھروصیت دوقسم ہے، ایک تملیک مثلاً زید یاعمرویاابنائے فلاں وغیرہم معین ومحصور اشخاص کے لئے یہ صورت اغنیاء وفقراء سب کے لئے ہوسکتی ہے، صورت اولٰی معاملات سے ہے مثل ہبہ اورثانیہ عبادات سے مثل صدقہ، دوسری قربت بلاتملیک مثل وصیت بوقف وعتق ودیگر اعمال پھروصیت برائے ارباب حاجت غیرمحصورین بوجہ عدم انحصار تملیک نہیں ہوسکتی یہ صرف قربت وازقبیل عبادات ہے۔
یرشدک الٰی ھذا ماقدمنا عن الدر من الاصل فی الوصیۃ الخ وفی الھندیۃ عن المحیط عن فتاوی الامام ابی اللیث فیما لواوصی بثلث مالہ لاعمال البر ان کل مالیس فیہ تملیک فھو من اعمال البرحتی یجوز صرفہ الی عمارۃ المسجد وسراجہ دون تزیینہ۱؎الخ ومسائل الباب اکثر من ان تحصٰی۔
اس کی طرف تیری رہنمائی کرتی ہے وہ بات جو درکے حوالے سے ہم پہلے بیان کرچکے ہیں یعنی وصیت میں اصل یہ ہے الخ اورہندیہ میں بحوالہ فتاوٰی امام ابواللیث محیط سے منقول ہے اس صورت کے بارے میں کہ اگرکسی نے نیک کاموں کے لئے اپنے مال کے تہائی کی وصیت کی یہ کہ جس میں تملیک نہ ہو وہ نیک کاموں میں سے ہے یہاں تک کہ اسے مسجد کی تعمیراورچراغ کے لئے خرچ کرنا جائزہے نہ کہ اس کی زیب و زینت کے لئے الخ اس باب کے مسائل شمار سے زائدہیں۔
(۱؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۹۷)
اقول : وبہ ظھران ماذکر فی عامۃ الکتب فی حدالوصیۃ انھا تملیک مضاف الی مابعد الموت علٰی وجہ التبرع فھو تحدید لہ باعتبار احدنوعیہ والحد الجامع ماقدمنا عن النتائج عن النھایۃ عن الایضاح، والاولٰی مااسلفنا عن الوقایۃ والنقایۃ لعدم تقییدہ بالمال فیعم ما اذا اوصی بان یدفن فی مقبرۃ کذا بثوب فلان الزاھد فقد قال فی الخلاصۃ و البزازیۃ والشرنبلالیۃ وردالمحتار وغیرھا یراعی شرائطہ ان لم یلزم مؤنۃ الحمل فی الترکۃ۱؎ اھ قلت والمراد بالموت مایعم الحکمی وھو مرض الموت والاولی التصریح بہ لکن ھذا لابد من تخصیصہ بالمال فان الایجابات الغیر المالیۃ کامرہ اجیرہ او ابنہ ان اسقنی اواخذ منی لاتعد وصیّۃ وان کانت فی مرض الموت بخلاف المضاف الی مابعدہ کما لایخفی فاذن احق مایقال فی حدھا ایجاب مضاف الی مابعد الموت او الی منجزفی مرض الموت فاحفظہ۔ واﷲ التوفیق۔
میں کہتاہوں اوراس سے ظاہرہوگیا وہ جوعام کتابوں میں وصیت کی حد یعنی تعریف کے بارے میں مذکور ہے کہ بے شک وصیت ایسی تملیک ہے جوموت کے مابعد کی طرف بطور تبرع منسوب ہوتی ہے، یہ وصیت کی تعریف اس کی دونوعوں میں سے ایک کے اعتبارسے ہوئی اورجامع تعریف وہ ہے جسے ہم نتائج سے بحوالہ نہایہ بحوالہ ایضاح پہلے نقل کرچکے ہیں، اور اولٰی تعریف وہ ہے جسے ہم بحوالہ وقایہ ونقایہ پہلے ذکرکرچکے کیونکہ اس میں مال کی قیدنہیں لگائی گئی۔ لہٰذا وہ شامل ہوگئی اس صورت کوکہ جب کسی نے وصیت کی کہ اس کوفلاں قبرستان میں فلاں زاہد کے کپڑوں میں دفن کیاجائے۔ خلاصہ، بزازیہ، شرنبلالیہ اورردالمحتار وغیرہ میں کہاہے وصیت کی شرائط کا لحاظ کیاجائے گا اگرترکہ میں باربرداری کاخرچہ لازم نہ آئے الخ۔ میں کہتاہوں موت سے مراد وہ ہے جوموت حکمی کوشامل ہے اوروہ مرض الموت ہے، اوراس کی تصریح کرنااولٰی ہے، لیکن اس میں مال کی تخصیص ضروری ہے اس لئے کہ ایجابات غیرمالیہ جیسے کسی شخص کا اپنے اجیریا بیٹے کو حکم دینا کہ مجھے پانی لاکرپلاؤ یامیری خدمت کرو۔ ان کاشمار وصیت میں نہیں ہوتا اگرچہ یہ مرض الموت میں ہوں بخلاف اس کے کہ وہ موت کے مابعد کی طرف منسوب ہو، جیساکہ پوشیدہ ہیں۔ تو اس صورت میں وصیت کی تعریف یوں کرنا اولٰی وانسب ہے کہ وہ ایساایجاب ہے جوموت کے مابعد کی منسوب ہویااس کی طرف منسوب ہو جس کی تنجیزمرض الموت میں کی گئی ہے۔ اس کو محفوظ کرلے۔ اوراﷲ ہی کی طرف سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔(ت)
بالجملہ مطلق وصیت نہ عبادات سے ہے نہ معاملات سے بلکہ دونوں میں داخل دونوں کوشامل۔
جواب سوال پنجم : وجہ مذکورسے وصیت پرکوئی اثرعدم جواز کانہیں پڑسکتا اس وجہ کی نہ بناصحیح ہے نہ مبنی درست، نہ وصیت کابیع پر قیاس مقبول۔
اوّلاً جواب سوال سوم میں معلوم ہولیا کہ یہاں سرے سے استثناء ہی نہیں۔ ثانیاً ہو بھی توقول صحیح ومعتمد ظاہرالروایۃ یہی ہے کہ ارطال معلومہ کااستثناء بیع میں بھی روا۔ ہدایہ میں بعد عبارت مذکورہ سوال ہے :
لان الباقی بعدالاستناء مجھول قال رضی اﷲ تعالٰی عنہ قالوا ھذا روایۃ الحسن وھو قول الطحطاوی اما علی ظاھرالروایۃ ینبغی ان یجوز لان الاصل ان مایجوزا یرادالعقد علیہ بانفرادہ یجوز استثناہ من العقد وبیع فقیرمن صبرۃ جائزفکذا استثنائہ بخلاف استثناء الحمل واطراف الحیوان لانہ لایجوز بیعہ فکذا استثناءہ ۱؎ اھ باختصار۔
کیونکہ استثناء کے بعد باقی مجہول ہے۔ مصنف رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کہاعلماء نے کہاہے کہ یہ روایت امام حسن کی ہے اوروہی طحاوی کاقول ہے۔ لیکن ظاہرالروایۃ پر اس کوجائزہوناچاہئے اس لئے کہ ضابطہ یہ ہے جس شیئ پربطور انفراد عقدکا واردہونا جائزہو عقد سے اس کااستثناء بھی جائزہوتاہے۔ ڈھیر میں سے ایک بوری کی بیع جائزہے تواسی طرح اس کااستثناء بھی جائزہوگا بخلاف حمل اورجانورکے اجزاء کے، کیونکہ ان کی بیع جائزنہیں، اسی طرح ان کااستثناء بھی جائزنہیں اھ (اختصار)(ت)
( ۱؎ الہدایۃ کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۳۲و۳۳)
تنویرالابصارمیں ہے :
ماجاز ایراد العقد علیہ بانفرادہ صح استثناؤہ منہ فصح استثناء ارطال معلومۃ من بیع ثمر نخلۃ ۔ ۲؎
جس پربطورانفراد عقدکاواردکرنا جائزہے اسکا استثناء بھی عقد سے جائزہے۔ چنانچہ درخت کے پھل کی بیع سے معیّن رطلوں کااستثناء صحیح ہے۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹)
درمختارمیں ہے:
لصحۃ ایراد العقد علیھا ولوالثمر علٰی رؤس النخل علی الظاھر۱؎۔
کیونکہ اس پرعقد کووارد کرنا صحیح ہے اگرچہ ظاہرروایت کے مطابق جوپھل درختوں کے اوپرہو۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ (علی ظاھر) متعلق بقولہ فصح ومقابل ظاھرالروایۃ الحسن عن الامام انہ لایجوز واختارہ والطحاوی والقدوری لان الباقی بعدالاستثناء مجہول۔۲؎ماتن کاقول ''علی ظاھر''
اس کے قول ''فصح'' سے متعلق ہے اور ظاہر الروایت کے مقابلے میں حسن کاقول ہے جوامام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ سے منقول ہے کہ یہ استثناء جائزنہیںہے۔ اسی کواختیارکیاہے امام طحاوی اورقدوری نے، کیونکہ استثناء کے بعد جوبچتاہے وہ مجہول ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۴۱)
ثالثاً بیع میں عدم جوازہی معتمدسہی تواس کادائرہ بہت تنگ ہے اوروصیت کاباب نہایت وسیع۔ ابھی سن چکے کہ بیع حمل ناجائزہے اوروصیت بالحمل قطعاً روا۔
فی الدر، صحت للحمل وبہ کقولہ اوصیت بحمل جاریتی اودابتی ھذہ لفلان۔۳؎ دُرمیں ہے کہ حمل کے لئے وصیت اورحمل کے ساتھ وصیت صحیح ہے جیسے موصی کایوں کہناکہ میں نے اپنی اس لونڈی یااس جانور کے حمل کی فلاں شخص کے لئے وصیت کی۔(ت)
(۳؎ الدرالمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۸)
بیع شروط فاسدہ سے فاسد ہوتی ہے اوروصیت پران کاکچھ اثرنہیں، ولہٰذا بیع کنیز سے استثناء حمل روانہیں اوروصیت سے صحیح۔
ملخصًا۔ ہدایہ میں ہے کسی شخص نے لونڈی خریدی مگراس کا حمل نہ خریدا توبیع فاسدہے کیونکہ حمل حیوان کے اعضاء کی مثل ہے اس لئے کہ حمل خلقی طورپرحیوان کے ساتھ متصل ہے اور اصل کی بیع اس کو شامل ہے، تویہ استثناء موجب کے خلاف ہونے کی وجہ سے شرط فاسد ہوا اوربیع شرط فاسد کے ساتھ باطل ہوجاتی ہے۔ ہبہ، صدقہ اور نکاح باطل نہیں ہوتے بلکہ استثناء باطل ہوجاتا ہے۔ یونہی وصیت باطل نہیں ہوتی لیکن اس میں استثناء صحیح ہوتاہے اس لئے کہ وصیت میراث کی بہن ہے اورمیراث اس میں جاری ہوجاتی ہے جوپیٹ میں ہے اھ (تلخیص) (ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۶۳)
جہالت بیع میں مفسد ہے اور وصیت کومضرنہیں
کماقدمنا عن الشامی عن الزیلعی
(جیساکہ ہم شامی سے بحوالہ زیلعی پہلے ذکرکرچکے ہیں۔ت) اوربیع میں استثنائے ارطال معلومہ سے روایت فساد کی علت یہی جہالت تھی
کما سمعت عن الھدایۃ وردالمحتار ومثلہ فی الفتح وغیرہ
(جیساکہ توہدایہ اورردالمحتارسے سن چکاہے اوراسی کی مثل فتح وغیرہ میں ہے۔ت) تووصیت کااس پرقیاس کھلامع الفارق ہے۔
رابعاً علت منع یہی سہی کہ شاید اتنے ہی رطل پیداہوں تویہ بھی وصیت میں اصلاً خلل اندازنہیں،
کما اسلفنا عن الھندیۃ عن المحیط من قولہ وربما لاتحصل الغلۃ فی بعض السنین۔۲؎
جیساکہ ہم ہندیہ سے بحوالہ محیط اس کایہ قول ذکرکرچکے ہیں کہ بسا اوقات بعض سالوں میں پیداوار حاصل نہیں ہوتی۔(ت)
(۲؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۲۸)
خامساً وقت محاصل وغلہ قُری وبساتین وغیرہا کی صحت وصیت میں شبہ نہیں کتب فقہ میں اس کے لئے باب جداگانہ موضوع اورشک نہیں کہ ان اشیاء پرجومحصول جانب سلطنت سے معین ہوتاہے وہ عرفاً معلوم الادا ومعہودالاستثناء ہے
والمعھود عرفًا کالمشروط لفظًا
(جوعرف کے اعتبارسے معہودہو وہ اس کی مثل ہوتاہے جو لفظ کے اعتبارسے مشروط ہو۔ت) توجواستثناء بے ذکرکئے خودہی مذکورہے اس کی تصریح کیامفسد ہوسکتی ہے وھذا ظاھر جداً (اوریہ خوب ظاہرہے۔ت)