Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
79 - 135
جواب سووال سوم : زیدکایہ قول ان کاموں کے شمارمیں ہے جو اس نے اپنے اوصیاء کوسپردکئے جس طرح ایک کام یہ بتایاکہ جملگی میری یافتنی ومطالبات موجودہ وآئندہ وصول کریں۔ یونہی ایک کام یہ تفویض کیاکہ کارخانہ جاری رکھیں اورمنافع سے خزانہ وغیرہ اداکیاکریں اسے استثناء قراردینے سے مستثنٰی ومستثنٰی منہ میں ایک جملہ اجنبیہ مستقلہ بے گانہ فاصل ہونالازم آئے گاکہ اس کے متصل یہ لفظ ہیں ''ہزار روپے برائے تجہیزوتکفین جمع رکھیں'' اس سے ہرگز وہ روپیہ مراد نہیں ہوسکتا جوبعد موت موصی، کارخانہ جاری رہ کراس کے منافع سے آئندہ وصول ہونا متوقع سمجھاجائے کہ حاجت تجہیزوتکفین بعد موت فوری ہے نہ کہ بعد بقاء کارخانہ منافع مشکوکہ آئندہ پرمحمول وھذا ظاھر جدًا (اور یہ خوب ظاہرہے۔ت) معہذا اس عبارت میں کہ ''ہزار روپے تجہیزکورکھیں اور پانسو غرباء کوخیرات کے لئے اورفلاں کو دوہزاردینااور فلاں کو دوسواورفلانہ وفلانہ کو سَو سَوروپے دےں'' اس تخصیص پرکوئی دلیل نہیں کہ یہ روپے منافع آئندہ سے دئیے جائیں، وما لا دلیل علہی لامصیر الیہ (اورجس پر دلیل نہ ہو اس کی طرف رجوع نہیں ہوتا۔ت) لاجرم جملہ اولٰی وہی ایک کام کی سپردگی ہے اورجمل مابعد میں وصیت تکفین سے یہاں تک کوئی جملہ وصیت بالمنافع نہیں بلکہ وصیت بدراہم مرسلہ ہیں جس کا اصلی حکم یہ ہوتا ہے کہ اگر اتنے روپے بوجہ عدم تجاوز حد شرعی وصیت کے مجموع وصایا کے لئے ثلث باقی بعداداء الدین ہے تمام وکمال قابل نفاذ تو اگرفی الحال ترکہ میں موجودہیں سب ابھی دے دئیے جائیں ورنہ ان کے لائق حصہ جائداد بیچ کر اداہوں،
فی ردالمحتار عن المنح عن السراج، اذا اوصی بدراھم مرسلۃ ثم مات تعطی للموصی لہ لوحاضرۃ والاتباع الترکۃ و یعطی منھا تلک الدراھم۔۱؎
ردالمحتارمیں منح سے بحوالہ سراج منقول ہے کہ جب کسی نے مطلق درھموں کی وصیت کی پھرمرگیا تو وہ درھم اس شخص کو دئیے جائیں گے جس کے لئے وصیت کی گئی ہے، اگردرھم حاضرہیں ورنہ ترکہ بیچ کر اس میں سے وہ درہم دئیے جائیں گے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        کتاب الوصایا    باب الوصیۃ بثلث المال    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۴۳۱)
مگریہاں وصیت ثلث درکنار جمیع مال کے دوچند سے بھی متجاوز ہے کہ تنہا مسجدکے لئے ماہوار کی وصیت کل مال کی وصیت تو وہی ہوگئی، باقی تین ہزارروپے کی وصایائے مذکورہ معینہ علاوہ رہیں،
فی الہندیۃ اوصی بان ینفق علٰی فلان خمسۃ کل شھر ماعاش وعلٰی فلان وفلان عشرۃ کل شھر ماعاشا واجازت الورثۃ یقسم المال بین الموصی لہ بخمسۃ والموصی لھما بعشرۃ نصفین فیوقف نصف المال علی صاحب الخمسۃ والنصف علی صاحبی العشرۃ لان الموصی لہ بالخمسۃ موصی لہ بجمیع المال وصیۃ واحدۃ و الموصی لھما بجمیع المال وصیۃ واحدۃ فکانہ اوصی لھذا بجمیع المال ولھما بجمیع المال فیقسم المال بینھم نصفین عندالکل وان لم تجز الورثۃ یقسم الثلث نصفین عندالکل کذا فی المحیط اھ  مختصراً۔۲؎
ہندیہ میں ہے کسی شخص نے وصیت کی کہ فلاں شخص پر جب تک وہ  زندہ  رہے پانچ درہم ماہانہ خرچ کئے جائیں اورفلاں اورفلاں شخص پرجب تک وہ دونوں زندہ رہیں دس درہم ماہانہ خرچ کئے جائیں اوروارثوں نے اس کی اجازت دے دی تومال اس شخص کے درمیان جس کے لئے پانچ درہم کی وصیت کی گئی اوران دونوں کے درمیان جن کے لئے دس درہموں کی وصیت کی گئی نصف نصف تقسیم کیاجائے گا، چنانچہ نصف مال پانچ درہم والے کے لئے اورنصف دس درہم والوں کے موقوف رکھاجائے گا، اس لئے کہ جس کے لئے پانچ درہم ماہانہ کی وصیت کی گئی اس کے لئے تمام مال کے ساتھ ایک وصیت کی گئی اورجن دوکے لئے دس درہم ماہانہ کی وصیت کی گئی ان کے لئے بھی تمام مال کے ساتھ ایک وصیت کی گئی گویاکہ موصی نے اس کے لئے تمام مال کی وصیت کی اوران دونوں کے لئے بھی تمام مال کی وصیت کی۔ لہذا تمام ائمہ کے نزدیک ان کے درمیان مال نصف نصف تقسیم ہوگا۔ اوراگروارثوں نے اجازت نہ دی توتمام ائمہ کے نزدیک تہائی مال ان کے درمیان نصف نصف تقسیم کیاجائے گا۔ محیط میں یونہی ہے  اھ  (اختصار)(ت)
(۲؎ الفتاوی الہندیۃ    کتاب الوصایا   الباب السابع   نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۱۲۹)
صرف تین ہزاراس لئے کہ تجہیزوتکفین توحاجات اصلیہ سے ہے اوردین مہربھی مقدم تو ان کے وصایا کے مرتبے میں یہی تین ہزاررہے۔
فی العقود الدریۃ، سئلت عن رجل اوصی بالف یخرج منھا تجھیزہ وکتفینہ والباقی منھا لعمل میراث واوصی بخمسمائۃ لزیدوبمثلھا لعمارۃ مسجد کذا وبمثلہ لعمارۃ مسجد کذا ایضا ولہ مملوک قیمتہ خمسمائۃ ایضا اعتقہ منجزافی مرض موتہ واوصی لہ بالف و خمسمائۃ وخمسین وبلغ ثلث ترکتہ ثلثۃ اٰلاف وثمان مائۃ وبلغت نفقۃ تجھیزہ ثلثمائۃ فکیف تقسم فاجبت کلفۃ التجھیز الشرعی من اصل المال فکانہ استثناھا من الالف فیکون الباقی من الالف لعمل المیراث سبعمائۃ وتصیر جملۃ الوصیۃ اربعۃ اٰلاف و مائتین وخمسین وقد ضاق الثلث عنھا فینفذ الثلث فقط۱؎ الخ۔
العقودالدریہ میں ہے مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھاگیا جس نے ہزاردرھم کی وصیت کی کہ اس میں سے اس کی تجہیزوتکفین کاخرچ نکالاجائے اورباقی نیک کاموں پرخرچ کیاجائے اوراسی نے زیدکے لئے پانچسودرہم اورفلاں مسجد کی تعمیر کے لئے پانچ سودرہم اورمزید فلاں مسجد کی تعمیرکے لئے بھی پانچ سودرہم کی وصیت کی۔ اوراس کاایک غلام تھا اس کی قیمت بھی پانچسودرہم تھی جس کو اس نے اپنی مرض موت میں بطور تنجیزآزاد کردیا اوراس کے لئے ایک ہزارپانچ سوپچاس درہم کی وصیت کی، اوراس کے ترکہ کاتہائی حصہ تین ہزارآٹھ سوتک پہنچااوراس کی تجہیزوتکفین کاخرچ تین سو تک پہنچا تواب اس کی وصیت کیسے تقسیم کی جائے گی؟ میں نے اس کاجواب دیا شرعی تجہیزوتکفین کاخرچ اصل مال سے ہوگا گویا اس نے ہزارمیں سے اس کومستثنٰی کیاہے تو اس طرح نیک کاموں پرخرچ کرنے کے لئے ہزار میں سے سات سودرہم باقی بچے، اور اس کی وصیت کا مجموعہ چارہزار دوسوپچاس ہواجوترکہ کے تہائی حصہ میں سے نہیں نکل سکتا۔ چنانچہ وصیت صرف مال کے تہائی حصہ میں نافذکی جائے گی فقط(ت)
(۱؎ العقودالدریۃ     تنقیح الفتاوٰی الحامدیہ    کتاب الوصایا  ارگ بازارقندھارافغانستان    ۲ /۳۱۱)
پھرسب میں پچھلی وصیت ہے کہ وصیان مذکور ہرماہ محتاجوں کواس قدرخیرات دیاکریں جونظرمیں مناسب آئے دوبارہ کل مال کی وصیت ہے کہ اس کی تعیین مقدارمیں اگرچہ اوصیاء کواختیار دیاہے اوریہ اختیارصحیح اورایسی وصیت جائز ہے۔
کما اذا اوصی بجزء اوسھم من مالہ فالبیان الی الورثۃ یقال لھم اعطوہ ماشئتم کما فی الدر۲؎ المختار وعامۃ الاسفار وفی ردالمحتار عن التبیین لانہ مجھول یتناول القلیل والکثیر والوصیۃ لاتمتنع بالجھالۃ والورثۃ قائمون مقام الموصی فکان الیھم بیانہ۳؎ اھ  قلت فالوصی المفوض الیہ بنص الموصی اولٰی بذٰلک کمالایخفی۔
جیسے کسی شخص نے اپنے مال میں سے ایک جزیا ایک سہم کی وصیت کی تواس کابیان وارثوں کے ذمے ہوگا انہیں کہاجائے گاکہ جوکچھ رقم تم چاہو اس کودے دوجیساکہ درمختاراورعام کتابوں میں ہے۔ ردالمحتارمیں تبیین کے حوالے سے منقول ہے کیونکہ وہ مجہول ہے قلیل وکثیر دونوں کوشامل ہے اوروصیت بسبب جہالت کے ممنوع نہیں ہوتی اوروارث موصی کے قائم مقام ہوتے ہیں لہٰذا اس کابیان انہیں کوسونپاجائے گا الخ میں کہتاہوں کہ وہ وصی اس کازیادہ حقدارہے جس کے سپرد معاملہ موصی کی نص سے ہواہے جیساکہ پوشیدہ نہیں(ت)
 (۲؎ الدرالمختار    کتاب الوصایا    باب الوصیۃ بثلث المال    مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۳۲۴)

(۳؎ ردالمحتار   کتاب الوصایا    باب الوصیۃ بثلث المال   داراحیاء التراث العربی بیروت   ۵ /۴۲۹)
مگریہ کوئی مقدار تجویزکریں آخرکچھ نہ کچھ ماہوارکی وصیت ہوگی اوروہ بلاتفرقہ کثیروقلیل مطلقاً جمیع مال کی وصیت ہے،
کما علمت اٰنفا عن العٰلمگیریۃ وفیھا ایضا عن المبسوط لواوصی بان ینفق علیہ خمسۃ دراھم کل شھرمن مالہ فانہ یحبس جمیع الثلث لینفق علیہ منہ کل شھر خمسۃ کمااوجبہ الموصی و یستوی ان امربان ینفق علیہ فی کل شھرمنہ درھما اوعشرۃ دراھم ۱؎ اھ  والسرفیہ ان الوصیۃ بشیئ للفقراء کل شھر مؤبدۃ لانھایۃ الٰی اٰخر الدھر والغلال بمعرض الزوال ومعتور التبدل بالتکثر والتقلل فلایدری متٰی تفنی ومتٰی تحصل ومتی تقل والی ماتصل فوجب ابقاء جمیع الثلث مصونا لھا قال فی الھندیۃ متصلا بما مرقبلہ اوصی بعشرین درھما من غلتہ کل سنۃ لرجل فاغل سنۃ قلیلا وسنۃ کثیر فلہ ثلث الغلۃ کل سنۃ یحبس وینفق علہ کل سنۃ من ذٰلک عشرون درھما ماعاش ھٰکذا اوجبہ الموصی وربما لاتحصل الغلۃ فی بعض السنین فلھذا یحبس ثلث الغلۃ علٰی حقہ۲؎ اھ  قلت واطلقوہ فشمل ما اغل مما کثراوقل مع ان الوصیۃ محدودۃ بسنین معدودۃ قدر ماعسی ان یعیش الموصی لہ فکیف بجھۃ لا انقطاع لھا۔
جیساکہ عالمگیریہ کے حوالہ سے ابھی ابھی توجان چکا ہے، اسی میں بحوالہ مبسوط ہے کہ اگرکسی نے وصیت کی کہ اس کے مال میں سے فلاں پرپانچ درہم ماہانہ خرچ کئے جائیں تواس کے ترکہ کا ایک تہائی حصہ پورا روک لیاجائے گاتاکہ اس میں سے موصی کی وصیت کے مطابق ہرمہینے پانچ درہم خرچ کئے جائیں ، اوراس میں حکم برابرہوگا اگروہ ایک درھم یا دس درھم ماہانہ خرچ کرنے کاحکم دے الخ اس میں رازیہ ہے کہ فقیروں کے لئے ماہانہ کچھ خرچ کرنے کی وصیت دائمی ہوتی ہے اورآخرتک اس کی انتہانہیں ہوتی جبکہ محاصل معرض زوال میں ہوتے ہیں اور ان میں زیادتی اورکمی کے ساتھ تغیروتبدل ہوتا رہتا ہے معلوم نہیں کب تک ختم ہوجائیں اور کب حاصل ہوں اورکب ختم ہوجائیں اور وہ کب کہاں تک پہنچے۔ لہٰذاپورے تہائی کو وصیت کے لئے محفوظ رکھناواجب ہے۔ ہندیہ میں مذکورہ بالا عبارت سے ماقبل قریب ہی کہاہے کہ کسی شخص نے کسی دوسرے شخص کے لئے اپنی جائداد کی پیداوار میں سے بیس درہم سالانہ کی وصیت کی اورچونکہ پیداوارکسی سال تھوڑی اورکسی سال زیادہ ہوتی ہے لہذا اس کے لئے ہرسال پیداوار کاتہائی حصہ روک رکھاجائے گا اورسالانہ اس پر جس کے لئے وصیت کی گئی ہے بیس درہم خرچ کئے جاتے رہیں گے جب تک وہ زندہ ہے۔ اسی طرح موصی نے ایجاب کیاہے۔ اوربسااوقات بعض سالوں میں پیداوار حاصل نہیں ہوتی اسی لئے اس شخص کے حق میں جس کے لئے وصیت کی گئی پیداوار کاتہائی حصہ روک رکھاجاتاہے الخ میں کہتاہوں انہوں نے اس کو مطلق رکھاکہ یہ شامل ہے جب تک پیداوار حاصل ہوتی ہے گی چاہے وہ پیداوار کثیرہو یاقلیل باوجودیکہ وصیت چند معدود سالوں کی حد تک محدود ہے یعنی جب تک وہ شخص زندہ رہے گا جس کے لئے وصیت کی گئی ہے توپھر یہ وصیت ایسی جہت سے کیسے ہوئی جس کے لئے انقطاع نہیں۔(ت)
(۱؎ و ۲؎ الفتاوی الہندیۃ    کتاب الوصایا    الباب السابع فی الوصیۃ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۱۲۸)
توحاصل یہ ٹھہراکہ زیدنے اپنے کل مال کی وصیت اس مسجد کے لئے کی اورنیزکل کی وصیت فقرأ کوماہوار کے لئے اوران کے علاوہ پانسوروپے مطلقاً فقراء یاخاص فقراء مسافرین کواوردینے کہے اور ڈھائی ہزار ان اشخاص معلومین کووصیۃً دئیے جملہ اموال وصایا دوبار جمیع مال اورتین ہزار روپے  ہوئے  پُر ظاہر کہ کل مال بھی ان وصایا کے نصف کی بھی گنجائش نہیں رکھتا تواب اس کے دریافت کی حاجت ہوگی کہ ان میں کون کون وصیت کس کس حد پر نفاذپائے گی کتنا کتنا ہروصیت میں دیاجائے گا کون سی وصیت بوجہ ازحجیت تقدیم  پائے گی کونسی مرجوح ٹھہرکرتاخیرکردی جائے گی اس کاحساب صحیح بتانے کے لئے یہ جانناضرورکہ کل مال بعد تجہیز وتکفین مسنون وادائے دیون کی مقدار کس قدرہے میت نے ترکہ میں زرنقد کتناچھوڑا جائداد منقولہ وغیرمنقولہ متروکہ خالصہ یعنی بعد تجہیزوتکفین وقضائے دیون کی قیمت بازار کے بھاؤ سے کیاہے وارثوں میں بالغ کتنے ہیں ان میں کون کون کس کس وصیت کو کس حدتک جائزرکھتاکون کون اجازت نہیں دیتاہے ان امور سے سوال میں کچھ مذکورنہیں نہ سائل نے اس بحث سے استفسارکیالہٰذا ہم بھی مطوی وملتوی رکھیں اگر دریافت منظورہو امورمسطورہ بتفصیل تام بتاکر سوال کیاجاسکتاہے۔
Flag Counter