Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
78 - 135
نقل ترجمہ وصیت نامہ اززبان انگریزی
میکہ شیخ حاجی محمدبھولو سرکارلائق ساکن نمبر۳۱ گلی شہر رنگون مالکی مکانات وکارخانہ ہائے ظاہرکرتاہوں کہ جوکچھ تحریرات سابق اس کے منجانب میری ہو سب کی سب کوخرید ومنسوخ کرکے یہ میری وصیت صحیح کے کرتاہوں اوربحالت صحت ذات نفس اورثبات عقل اظہارکرتاہوں کہ بایں وصیت نامہ میں اپنے داماد میاں رحیم  بخش اورفرزندان خودشیخ میاں عبدالعزیز لائق اورشیخ میاں عبدالغنی لائق الحال ساکنان شہر رنگون مذکورالفوق کو اورشیخ میاں عبدالواحد لائق الحال ساکن موضع سالمولا میراپاڑہ ضلع بردوان اورملامقصد صاحب تاجرلکڑی الحال شہررنگون کواپنی وصیان واسق(عہ) بنایاہوں اورمیری یہ وصیت ان کوکرتاہوں کہ جوکچھ جملگی وہملگی میری یافتنی ومطالبات موجودہ اورمطالبات ویافتنی آئندہ کے بابت کرایہ مکانات یاسکینات یااراضی بنام میرے وصول کریں اورمیں خصوصاً اپنے پسران مذکورکو اس طرح فرمان اوروصیت کرتاہوں کہ میرے بعد میری موت کے کاروبار کارخانہ لکڑی جاری رکھیں اورمنافع کاروبار وکرایہ مکانات واراضی سے تمام سرکاری ومیونسپال کے خزانہ وغیرہ اداکیاکریں اورمبلغ ایک ہزارروپیہ برائے میری تجہیزوتکفین جمع رکھیں اورمبلغ پانسوروپیہ میرے وطن میں غرباء کے خیرات کے لئے رکھیں اورمیرے دامادمذکور میاں رحیم بخش کومبلغ دوہزارروپیہ دیں اورمیرے برادرزادہ شیخ حاجی محمداسحاق لائق کومبلغ دوسوروپیہ دیں اورمبلغ ایک سوروپیہ بنوبی بی زوجہ برادرمرحوم خود کودیں اورنسارن بی بی زوجہ برادرمرحوم خودکومبلغ ایک سوروپیہ دیں اوردھنوبی بی کومبلغ ایک سوروپیہ دیں اورماہ بماہ مبلغ پچاس روپیہ موضع سالمولا میراپاڑہ کی مسجد کے اخراجات کے لئے دیاکریں اورمیں نیز اپنے وصیان مذکورکوایک یاجملہ مکانات جوکہ قسم خودمیں معروف یعنی پانچواں درجہ لاٹ نمبر۲۱،۲۲ بلال ایچ اے پرواقع ہیں اگران کافروخت کرنامناسب سمجیں اوراس زرفروختگی سے کچھ مال غیرمنقولہ میرے ورثہ کی منفعت کے لئے خریدکریں اورمیں نیز میرے وصیان مذکورکواختیار دیتاہوں کہ میرے جمیع نابالغ مذکوراپنے سن بلوغ کوپہنچیں اورجب ہرایک اپنے سن بلوغت کوپہنچ جائیں ان کے حقوق جومیری جائداد میں ہیں مطابق شرع محمدی کے تقسیم کردیں اورمیں اپنی وصیان مذکور کونیزاختیاردیتاہوں کہ بایں امرکہ میرے وطن میں ہرماہ محتاجوں اورمسکینوں کواس قدر خیرات دیاکریں کہ جوصاحبان موصوف کی نظرمیں مناسب آئیں۔ لہذا ان چندکلمات کوبطورسند لکھ دیاہوں کہ عندالحاجت کام آئے۔	عہ : کذا فی الاصل ۲ا ازہری غفرلہ،
رنگون مؤرخہ ۱۵/ماہ مئی ۱۸۹۴ء     دستخط حاجی محمدبھولوسرکاربزبان بنگلہ 

ایں وصیت نامہ دستکط شدہ واعلان نمودہ واظہارکردہ شدہ بحضرات شاہدین مرقوم الذیل:

منشی مرادبخش، شیخ محمداسحق، 	لعل محمدوشیخ سخاوت حسین 

نقل مطا بق اصل نمودہ شد 		معین الدین غفرلہ،
الجواب : اللّٰھم ھدایۃ الحق والصواب
 (اے اﷲ! حق اوردرستگی کی ہدایت عطافرما۔ت)
جواب سوال اول :  وصیت نافذہ شرعیہ اگرچہ فی نفسہ واجبہ نہ ہو اپنے حد نفاذ تک کہ ثلث مال باقی بعداداء الدین سے محدودہے واجب التسلیم ہے جس طرح وقف کہ واقف پر اس کی انشاء واجب نہیں اوربعد انشاء  لازم وواجب العمل ہے بلہ نفس وقف درکنار شرائط واقف مثل نص شارع واجب الاتباع ہیں کما نصوا علیہ بشرائطہ (جس طرح فقہاء نے شرائط سے متعلق نص فرمائی ہے۔ت) ورثہ اگر وصیت کوروکیں ردکریں گنہگارہوں گے اوردوسرے کے حق پرظالم وستمگار، قرآن عظیم نے ورثہ کاحق وصیت سے مؤخررکھاہے :
من بعد وصیۃ توصون بھا اودین۱؎۔
جووصیت تم کرجاؤ اورقرض نکالنے کے بعد۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم     ۴ /۱۱)
ہی آیت ثبوت ایجاب میں بس ہے کہ ورثہ کو ان کاحق پہنچانا ضرورۃً فرض ہے اور وہ بنص قرآن تقدیم وصیت پرمحوّل،
ومالایتأتی الواجب الابہ وجب ان یحکم بایجابہ۔
جس کے بغیر واجب حاصل نہ ہو تو اس کے ایجاب کاحکم واجب ہے۔(ت)
بالجملہ اس کی تسلیم اور اس میں ترک مزاحمت ورثہ پرقطعاً واجب ہے اگرچہ تنفیذواداذمہ وصی ہو یہی حال جملہ تبرعات مالیہ کاہے کہ مالک پرواجب نہیں اوربعدوقوع وتمامی دوسراان میں مزاحمت نہیں کرسکتا، لاجرم علماء نے ایجاب کونفس حقیقت وصیت میں داخل مانا اس کی تعریف ہی یوں کی :
''الوصیۃ مااوجیھا الموصی فی مالہ بعد موتہ اومرضہ الذی مات فیہ'' کما فی نتائج۲؎الافکار عن النہایۃ عن الایضاح۔
وصیت وہ ہے جس کاایجاب موصی پنے مال میں کرے، موت کے بعدیا اس بیماری میں جس میں وہ مرا۔ جیساکہ نتائج الافکار میں نہایہ سے بحوالہ ایضاح منقول ہے۔(ت)
 (۲؎ نتائج الافکار(وھو تکملۃ فتح القدیر) بحوالہ النہایۃ  کتاب الوصایا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۹ /۳۴۱)
یایوں ہے:
ایجاب بعد الموت کما فی الوقایۃ۳؎ والنقایۃ قلت وسیأتیک غایۃ التحقیق فانتظر۔
  وہ ایجاب ہے موت کے بعد، جیساکہ وقایہ اور نقایہ میں ہے۔ میں کہتاہوں اس کی انتہائی تحقیق عنقریب آرہی ہے۔ انتظارکر۔(ت)
(۳؎النقایۃ مختصر الوقایۃ    کتاب الوصایا    نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۹۳)
جواب سوال دوم : صحت وصیت کوکسی خاص جزء معین کی تعیین ضروری نہیں خواہ وصیت بالمنافع ہو مثل غلہ وکرایہ خواہ بالاجزاء مثل ثلث وربع خواہ بدراہم وسکہ مثل ہزاروپانصد وصدروپیہ
کما تواترت بہ المسائل وسیأتیک ان الجھالۃ لاتمنع الوصیۃ حتی لواوصی بجزء مجہول منمالہ ولم یبین مقدار نفسہ فضلا عن تعیین مایقع فیہ صح ویکون البیان الی الورثۃ یقال لھم اعطوہ ماشئتم وھذا کلہ واضح عند من لہ ادنی المام بالعلم۔
جیساکہ اس کے ساتھ مسائل تواتر سے واردہیں عنقریب تیرے سامنے آرہاہے کہ جہالت وصیت سے مانع نہیں یہاں تک کہ اگرکسی نے اپنے مالی میں سے مجہول جزئ کی وصیت کی خود اس کی مقدارہی بیان نہیں کی چہ جائیکہ اس کی تعین کرتاجس میں وصیت واقع ہے تویہ وصیت صحیح ہے اوراس کابیان وارثوں کے ذمہ ہوگا۔ انہیں کہاجائے گا کہ جوتم چاہو اس کو دے دو۔ یہ تمام واضح ہے ہراس شخص کے لئے جس کوعلم کے ساتھ معمولی سا تعلق  ہے۔(ت)
یوں ہی پانسوروپیہ غربائے وطن پرخیرات کی وصیت بھی بدیہی الصحۃ محاورئہ ہندہ میں غرباء فقراء کوکہتے ہیں اورفقراء شہرفلاں کے لئے وصیت جائزاگرچہ مذہب مفتی بہ میں انہیں فقراء کی تخصیص لازم نہیں ہرجگہ کے فقیروں کودے سکتے ہیں ہاں افضل انہیں کودیناہے،
فی الدرالمختار، فی المجتبی، اوصی بثلث مالہ للکعبۃ جاز ویتصرف لفقراء الکعبۃ لاغیر وکذا للمسجد وللقدس وفی الوصیۃ لفقراء الکوفۃ جازلغیرھم۔۱؎
درمختارمیں بحوالہ مجتبٰی ہے کسی نے کعبہ شریف کے لئے اپنے تہائی مال کی وصیت کی تو یہ وصیت جائز ہے اورمال صرف کعبہ شریف کے فقیروں پرخرچ کیاجائے گا کسی اورپرنہیں۔ یہی حکم مسجداور بیت المقدس کے لئے وصیت کاہے، اورفقراء کوفہ کے لئے وصیت کی صورت میں ان کے غیرپر خرچ کرنابھی جائزہے۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار     کتاب الوصایا    مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۲۲۔۳۲۱)
ردالمحتارمیں ہے:
قال فی الخلاصۃ، الافضل ان یصرف الیھم وان اعطی غیرھم جازوھذا قول ابی یوسف وبہ یفتی  و قال محمد لایجوز ۱؎۔        خلاصہ میں کہاہے کہ افضل فقراء کوفہ پرہی خرچ کرناہے، اگران کے غیرکو دے دیاتب بھی جائزہے، یہ امام ابویوسف کاقول ہے۔ اوراسی پرفتوٰی دیاجاتاہے۔ امام محمد رحمہ اﷲ نے فرمایاکہ یہ جائزنہیں ہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار        کتاب الوصایا    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۴۲۶)
اوراگر وہاں غریب اپنے معنی اصلی یعنی مسافر ہی کے لئے بولاجاتا ہے تومسافروں کے لئے بھی وصیت صحیح ہے کہ یہ لفظ بھی حاجتمندی سے خبردیتاہے۔
قال اﷲ تعالٰی انما الصدقٰت للفقراء والمسٰکین الٰی قولہ تعالٰی وابن السبیل۔۲؎
اﷲ تعالٰی نے فرمایا : صدقات فقیروں کے لئے اورمسکینوں کے لئے ہیں، اﷲ تعالٰی کے قول ابن السبیل یعنی مسافرتک۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم    ۹ /۶۰ )
اوروصیت جب غیر محصورلوگوں کے لئے ہے تو اس کامناط صحت یہی دلالت حاجت ہے۔
فی الدرالمختار الاصل ان الوصیۃ متی وقعت باسم ینبیئ عن الحاجۃ کایتام بنی فلان تصح وان لم یحصوا علی مامرلوقوعھا ﷲ تعالٰی وھو معلوم و ان کان لاینبئ عن الحاجۃ فان احصوا صحت ویجعل تملیکا والابطلت۔۳؎
درمختارمیں ہے وصیت میں اصل یہ ہے کہ جب وہ ایسے اسم کے ساتھ واقع ہو جوحاجت کی خبر دیتاہے جیسے فلاں قبیلے کے یتیموں کے لئے تووصیت صحیح ہوگی، اگرچہ اس قبیلے کے یتیم قابل شمارنہ ہوں، جیساکہ گزرچکا، کیونکہ یہ وصیت اﷲ تعالٰی کے لئے واقع ہوئی اور وہ معلوم ہے، اوراگر وصیت ایسے اسم کے ساتھ واقع نہ ہوتو پھرجن کے لئے وصیت کی گئی اگروہ قابل شمارہیں تو وصیت صحیح ہے اوراس کوتملیک قراردیاجائے گا اوراگروہ قابل شمارنہیں تووصیت باطل ہے۔(ت)
(۳؎ الدرالمختار   کتاب الوصایا    مجتبائی دہلی     ۲ /۳۳۰)
ہاں مستحق یہاں بھی فقرائے مسافرین ہوں گے نہ اغنیاء۔
فی وجیز الامام الکردری نوع من الفصل الثانی من کتاب الوصایا اوصی لاھل السجون اوالیتامٰی اوالارامل اوابناء السبیل اوالغارمین اوالزمنٰی یعطی فقراء ھم لاغنیائھم۴؎ اھ ۔ ومثلہ فی سادس وصایا الھندیۃ عن الکافی۔
امام کردری کی وجیز میں کتاب الوصایا، فصل ثانی کی ایک نوع میں ہے کسی شخص نے قیدیوں یا یتیموں یابیواؤں یامسافروں یامفروضوں یااپاہجوں کے لئے وصیت کی توان کے فقراء کودیاجائے گا نہ کہ ان کے مالداروں کوالخ، اوراسی کی مثل کافی کے حوالے سے ہندیہ کے وصایا کی فصل سادس میں ہے۔(ت)
 (۴؎ الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ    کتاب الوصایا    نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۴۳۸)
رہی تجہیزوتکفین کے لئے وصیت وہ صرف حدمسنون وکفن متوسط تک مقبول ہے اس سے زیادہ میں باطل ونامعمول، مثلاً سوروپیہ میں تجہیزبقدرسنت وکفن میانہ ہوسکتی تھی اوراس کے لئے ہزار روپے کی وصیت کی تو ۹۰۰ روپیہ میں وصیت باطل ہے۔
فتاوی انقریہ میں ہے :
لواوصی الرجل بان یکفن ھو بعشرۃ اٰلاف فانہ یکفن بکفن الوسط من غیر سرف ولاتقتیر، قاضی خان فیما تجوز وصیتہ من کتاب الوصایا، وفی المنیۃ، الوصیۃ بالاسراف فی الکفن باطلۃ۔۱؎
اگرکسی شخص نے وصیت کی کہ اسے دس ہزاردرھم کاکفن پہنایاجائے گا جس میں نہ توفضول خرچی ہوگی اورنہ کمی کی جائے گی۔ یہ بات قاضی خاں کی کتاب الوصایا فیماتجوز وصیتہ، میں مذکورہے، اورمنیہ میں ہے کہ کفن میں اسراف کی وصیت باطل ہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الانقرویۃ    کتاب الوصایا    دارالاشاعۃ العربیۃ کوئٹہ پاکستان    ۲ /۴۰۹)
Flag Counter