| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
رسالہ الشرعۃ البھیۃ فی تحدید الوصیّۃ(۱۳۱۷ھ) (کشادہ راستہ وصیّت کی جامع ومانع تعریف کے بیان میں)
مسئلہ ۱۳۵ : ازرنگون مکان نمبر۸۵ و۸۶ گلی نمبر۳۱ مرسلہ شیخ عبدالعزیز سرکار ۲۵ذی الحجہ ۱۳۱۷ھ علمائے دین رحمہم اﷲ تعالٰی رحمۃً واسعۃً فی الدنیا والآخرۃ اس میں کیافرماتے ہیں کہ زیدکے دو وطن تھے ایک قدیم اوردوسراجدید، اوردوہی بیویاں، ایک وطن قدیم میں شادی کرائی ہوئی، دوسری وطن جدید، اعنی شہررنگون میں بطریق شادی مطابق شرع محمدی نکاح میں لائی ہوئی، زیدنے بفضلہ تعالٰی رنگوں میں بہت کچھ کمایا، پھریہیں کی کمائی سے وطن قدیم اوررنگون دونوں جگہ میں جائداد معتدبہ پیداکی لیکن وطن قدیم تخمینا پانچہزار روپیہ سالانہ آمدنی کی کل جائداد کوبحیلہ اپنے وطن قدیم کی ایک مسجد پر وقف کرنے کے جوکہ دس بارہ روپیہ ماہواری کے خرچ کی حاجت نہیں رکھتی وطن قدیم کی بی بی کی اولاد پر روک دیا اوروقف نامہ میں لکھ دیا کہ متولی اس وقف کے یہی لوگ رہیں جوکچھ مصارف مسجد سے بچے اپنے کام میں لائیں۔ رنگون کی بیوی کے بطن کی اولاد کو اس میں سے ایک حبہ نہیں دیا اوررنگونی جائداد میں سے وطن قدیم والی اولاد کو حصہ بھی دیا اوراس جائداد کے نفع سے کئی ہزارروپیہ لوگوں کودینے کی اورپچاس روپیہ ماہواری اس مسجد وطن قدیم پرخرچ کرنے کی وصیت بھی کہ چنانچہ یہ امرنقل وصیت نامہ مرسل مع استفتاء سے بخوبی واضح ہوگا، پس چونکہ زیدکی یہ وصیت رنگونی ورثہ کی مضرت یعنی حق تلفی اوروطن قدیم کے ورثہ کی منفعت کے لئے ہے، لہٰذاچند باتیں عرض کرتاہوں :
اول : علی مافی کتب الفقہ،
وصی کوتووصیت کرنامستحب ہے لیکن ورثہ پراس کااداکرنا واجب ہے کہ اگرنہ کریں گے توماخوذہوں گے یاکیا؟
دوم : زید کی یہ وصیت بکیفیت وعبارت کذائیتین (اعنی مجموعہ ترکہ کے نفع سے نہ اس کے کسی جزومعین کے نفع سے اور بایں عبارت کہ اس قدرروپیہ میری تجہیزوتکفین کے لئے رکھیں اوراتناروپیہ میرے ملک کے لئے غرباء کے لئے رکھیں) شرعاً صحیح ہے یانہیں؟ سوم : زیدکے قول (اورمیں خصوصاً اپنے پسران مذکورکواس طرح فرمان وصیت کرتاہوں کہ بعد میرے مرنے کے کاروبار کارخانہ لکڑی جاری رکھیں اورمنافع کاروبار وکرایہ مکانات واراضی سے تمام سرکاری ومینوسپال کے خزانہ وغیرہ اداکیاکریں اورمبلغ ایک ہزارروپیہ برائے میری تجہیزوتکفین کے جمع رکھیں الٰی قولہ اورماہ بماہ مبلغ ۵۰ روپیہ موضع سالولامیرا پاڑہ کی مسجدکے اخراجات کے لئے دیاکریں) کاخلاصہ مضمون یہ ہے یانہیں کہ لکڑی کی تجارت کے نفع اورمکانات واراضی کے کرایہ سے سوامبالغ ٹیکس میونسپال وخزانہ سرکاری کے باقیماندہ مبالغ سے اتنایوں کریں اوراتنایوں کریں اعنی زیدکایہ قول متضمن استثنائے مبالغ معلومہ کوہے یانہیں؟ چہارم : وصیت ازقبیل معاملات ہے یانہیں؟
پنجم: برتقدیر زیدکے قول مذکور کے متضمن استثنائے مبالغ معلومہ اوروصیت کے ازقبیل معاملات ہونے کے جیسے کہ بقول معتبر :
لایجوزان یبیع ثمرۃ ولیستثنی منھا ارطالا معلومۃ۔۱؎
یہ جائزنہیں کہ وہ پھل فروخت کرے اوراس میں سے کچھ معین رطل مستثنٰی کرلے۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب البیوع فصل فی دخول بناء الراد فی البیع مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۳۲)
بیع ثمرہ باستثنائے ارطال معلومہ، بوجہ احتمال عدم وجودماسوائے ارطال مستثناۃ کے جائزنہیں ایسے ہی اس کے قیام پربجامع تملیک وصیت دراہم باستثنائے دراہم معلومہ بوجہ مذکورناجائزہوگی یانہیں؟ اوریہ امر ظاہرہے کہ بسااوقات ایساہوتا ہے کہ سواٹیکس میونسپال وخزانہ سرکاری کے مکانات واراضی وتجارت سے وصول نہیں ہوتا بلکہ کبھی اس میں بھی کمی ہوجاتی ہے۔
ششم : زیدکی یہ وصیت متضمن مضرت ہے اوربعض شارحین مشکوٰۃ شریف حدیث مرفوع ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے :
المخرج فی مسندالامام احمد وجامع الترمذی وسنن ابی داؤد وابن ماجۃ ان الرجل لیعمل والمراۃ بطاعۃ اﷲ ستین سنۃ ثم یحضرھما الموت فیضار ان افی الوصیۃ فتجب لھما النار ثم قرء ابوھریرۃ من بعد وصیۃ یوصی بھا اودین غیر مضارالآیۃ۔۱؎
جس کی تخریج مسندامام احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ اورسنن ابی داؤد میں کی گئی ہے کہ بیشک کوئی مرد اور عورت ساٹھ سال تک اﷲ تعالٰی کی طاعت وعبادت میں مصروف عمل رہتے ہیں، پھرانہیں موت آتی ہے تو وہ وصیت میں نقصان پہنچاتے ہیں چنانچہ ان کے لئے جہنم واجب ہوجاتی ہے، پھر حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے یہ آیت کریمہ پڑھی: ''میت کی وصیت یاقرض نکالنے کے بعد رانحالیکہ اس وصیت میں وہ نقصان پہنچانے والانہ ہو۔(ت) کی شرح میں ایسی وصیت کومکروہ لکھتے ہیں،
(۱؎ جامع الترمذی ابواب الوصایا باب ماجاء فی الوصیۃ بالثلث امین کمپنی دہلی ۲ /۳۳) (سن ابی داؤد کتاب الوصایا باب فی کراہیۃ الاقرار فی الوصیۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۴۰)
اورصاحب درمختارکے
قول لانھا حینئذ وصیۃ بالمکروہ۲؎
(اس لئے کہ اب یہ وصیت ہے مکروہ کے ساتھ۔ت)جوکہ صاحب تنویرالابصار کے قول
اوصی بان یطین قبرہ اویضرب علیہ قبۃ فھی باطلۃ۳؎
(اگرکسی کووصیت کی کہ وہ اس کی قبرکی لپائی کرے یا اس پرگنبد بنائے تویہ وصیت باطل ہے۔ت) کے تحت ہے) وصیت مع الکراہت کابطلان ثابت ہے علامہ شامی صاحب دُر کے قول مذکرکے تحت لکھتے ہیں :
مقتضاہ انہ یشترط لصحۃ الوصیۃ عدم الکراھۃ وقدّم اول الوصایا انھااربعۃ اقسام وانھا مکروھۃ لاھل فسوق و مقتضی ماھنابطلانھا اللھم الا ان یفرق۴؎الخ۔
اس کاتقاضایہ ہے کہ وصیت کے صحیح ہونے کے لئے عدم کراہت شرط ہے جبکہ کتاب الوصایا کے شروع میں کہاگیاہے کہ وصیت کی چارقسمیں ہیں اوریہ کہ فاسقوں کے لئے وصیت مکروہ ہے اورجوکچھ یہاں ہے اس کاتقاضااس وصیت کے بطلان کاہے، اے اﷲ! مگریہ کہ فرق کیاجائے الخ(ت)
(۲؎ الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرہا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۰) (۳؎الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرہا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۰) (۴؎ ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۴۱)
پس اس وصیت کے بطلان کی یہ تقریر صحیح ہے یانہیں، برتقدیر ثانی علامی شامی نے جوتقریر وصیت مکروہہ لاہل فسوق کی صحت کی اللھم سے آخرتک کی ہے اس کے صحیح ہونے کی وجہ سے یاکسی اور وجہ سے۔
ہفتم : موصی کے وطن قدیم والی اولادنے صرف اپنے فائدہ کی وصیتوں پرعمل کیا اور اس کی ان وصیتوں پرعمل نہیں کیا: (۱) اورمیری وصیت ان کو (یعنی وصیان مذکور) کرتاہوں کہ جوکچھ جملگی وہمگی میری یافتنی ومطالبات موجودہ اورمطالبات ویافتنی آئندہ کی بابت کرایہ مکانات یا اراضی بنام میرے وصول کریں۔ (۲) اورمیں خصوصا اپنے پسران مذکورکو اس طرح فرمان اوروصیت کرتاہوں کہ بعد میرے مرنے کے کاروبارکارخانہ لکڑی جاری رکھیں، پس موصی کی وصایا میں سے بعض پرعمل نہ کرنے اوربعض پر کرنے سے کل وصایا میں کچھ خلل آئے گایانہیں؟ ہشتم : موصی کی وصیت (اورمیں نیزمیرے وصیان مذکورکواختیاردیتاہوں کہ میرے جمیع نابالغ ورثہ کے امین اورحامی ہورہیں الٰی قولہ مطابق شرع محمدی تقسیم کردیں) کی روسے وصیوں پروثہ صغار کے کل سہام کو بعینہ رکھنا لازم ہوگاان میں بلاوجہ کسی وجہ سے تصرف بیع وغیرہ کرنے کے مجازہوں گے ان سب باتوں کاجواب مفصل ومدلل رحمت فرمائیں اوراجراﷲ سے پائیں عرض ضرورہے۔ رنگون کے چندعلماء کووصیت کے بارے میں حکم بنایا گیاتھا انہوں نے اس کی صحت کاحکم دیا اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ وصیت بالمنافع ہے اوروصیت بالمنافع جائزلہٰذا یہ بھی جائزہے۔ اب بہ اجازت انہیں علماء کے آپ حضرت سے اس کی اپیل کی گئی ہے خوب غورفرماکر جواب باصواب سے ممنون فرمائیں۔