Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
76 - 135
چہارم: زیورزوجہ میں موصی کی وصیت اسی قدراثرڈال سکتی تھی جس قدر اس زیورسے موصی کاحصہ شوہری ہوتاباقی حصص کہ ملک اولاد تھے ان کی نسبت اس کی وصیت محض بے معنی ہے اذلاتصرف لابن آدم فیما لایملک(اس لئے کہ ابن آدم کوایسی چیزمیں تصرف کاحق نہیں جس کاوہ مالک نہ ہو۔ت) تویحیٰی وعیسٰی وموسٰی کو وہ کل زیوردے دینااگرچہ باجازت جملہ ورثہ ہو خود انہیں ورثہ کے حصص میں اصلاً مؤثرنہ ہوگا کہ غایت درجہ ان کی یہ اجازت اجازت تملیک بلامعاوضہ ہوگی کہ عین ہبہ ہے اورہبہ مشاع باطل اورباطل کی اجازت مہمل۔
ہدایہ میں ہے:
من اوصی من مال رجل لاٰخر بالف بعینہ فاجاز صاحب المال بعد موت الموصی فان دفعہ فھو جائز ولہ ان یمنع لان ھذا تبرع بمال الغیر فیتوقف علی اجازتہ واذااجاز یکون تبرعا منہ ایضا فلہ ان یمتنع من التسلیم۱؎۔
جس نے کسی شخص کے لئے غیرکے مال سے ایک ہزارمعین درہموں کی وصیت کردی اورموصی کی موت کے بعد اس غیریعنی مالک مال نے اس کی اجازت دے دی پھراگر اس نے وہ مال اس کے سپردکردیا جس کے لئے وصیت کی گئی ہے توجائزہے اورمالک کواختیارہے کہ وہ مال کو روک لے کیونکہ غیرکے مال سے تبرع ہے تویہ اس غیر کی اجازت پرموقوف ہوگا اورجب اس نے اجازت دے دی تویہ اس کی طرف سے بھی تبرع واحسان ہوگا لہذا اسے اختیارہوگا کہ وہ سپردگی سے انکارکردے(ت)
 (۱؎ الہدایۃ    کتاب الوصایا    باب الوصیۃ بثلث المال    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۴/ ۶۶۶)
غایۃ البیان میں ہے:
لان العقد الموقوف اذالحقہ الاجازۃ صار مضافا الی المجیز فاذا اضیف الیہ صار ذٰلک ھبۃ منہ والھبۃ لاتتم الابالتسلیم۔۲؎
کیونکہ موقوف عقد کو جب اجازت لاحق ہوتی ہے تو وہ اجازت دینے والے کی طرف منسوب ہوجاتاہے، جب اس کی طرف منسوب ہوگیاتو یہ اسی کی طرف سے ہبہ ہوا اورہبہ سپردگی کے بغیرتام نہیں ہوتا(ت)
(۲؎ غایۃ البیان)
تومحمدزکریاکاخود اپناحصہ اس کی ملک سے نکلا نہ خدیجہ بیگم کاحصہ اس کی ملک سے، اگرزیورباقی ہے تو حصہ شوہری موصی چھوڑکر سب ورثہ اپنے اپنے حصے اس سے لے سکتے ہیں، اوراگریحیٰی وعیسٰی وموسٰی نے ہلاک کردیا توباقیوں کے حصص کے تاوان دین، رہاموصی کاحصہ شوہری کہ وہی محل نفاذوصیت تھا نظرکی جائے کہ چڑھاوا جودولھا کی طرف سے دلہن کوجاتاہے وہاں عرف شائع میں دلہن کی ملک سمجھاجاتاہے یاملک پردولہا ہی کے رہتاہے اوردلہن کوپہننے کے لئے دیاجاتاہے، اگردلہن کی ملک سمجھاجاتاہے تو اس حصے میں بھی وصیت باطل ہوئی کہ اب یہ وصیت حقیقۃً دلہنوں کے لئے تھی اوردلہنیں وقت موت موصی تک معدوم تھیں کہ دلہن ہونابعد نکاح صادق ہوتاہے اورنکاح موت موصی سے ایک مدت کے بعد ہوئے اورمعدوم کے لئے وصیت باطل ہے کہ وہ تملیک اورمعدوم صالح تملیک نہیں، ولہٰذا حمل کے لئے وصیت میں شرط ہے کہ اس کاباپ زندہ ہے توچھ مہینے کے اندرپیداہو، اورمرگیا یاطلاق بائن دے دی اورعورت عدت میں ہے تو دوبرس کے اندر پیداہواکہ اس وقت اس کاوجود ہویدا ہوا۔
تنویرالابصارودرمختارمیں ہے:
ھی تملیک مضاف الی مابعد الموت بطریق التبرع وشرائطھا کون الموصی اھلا للتملیک والموصی لہ حیا وقتھا تحقیقااوتقدیرالیشمل الحمل، وصحت للحمل ان ولد لاقل من ستۃ اشھر لو زوج الحامل حیا، ولومیتا وھی معتدۃ حین الوصیۃ فلاقل من سنتین بدلیل ثبوت نسبہ اختیار وجوھرہ ۱؎اھ ملتقطاً۔
وہ تملیک ہے جوبطورتبرع موت کے مابعد کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ اوراسی کی شرائط میں سے ہے کہ موصی تملیک کی اہلیت رکھتاہو اور جس کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ بوقت وصیت حقیقتاً یاتقدیراً زندہ ہو تاکہ یہ حمل کوبھی شامل ہے، حمل میں وصیت تب صحیح ہوگی وہ چھ ماہ سے کم مدت میں پیداہوجائے جبکہ حاملہ کاشوہر زندہ ہو اوراگر وہ مردہ ہے اورحاملہ عورت بوقت وصیت معتدہ ہے تواس صورت میں حمل کے لئے وصیت تب صحیح ہوگی جب دوسال سے کم مدت میں پیداہو اوراس پردلیل اس مدت میں اس کے نسب کاثابت ہوناہے، اختیاروجوہرہ اھ التقاط۔
 (۱؎ درمختار شرح تنویرالابصار    کتاب الوصایا    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۳۱۷ و ۳۱۸)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ وقتھا اقول: فی التاتارخانیۃ الموصی لہ اذاکان معینا من اھل الاستحقاق یعتبر صحۃ الایجاب یوم اوصی ومتی کان غیر معین یعتبر صحۃ الایجاب یوم موت الموصی فلواوصی بالثلث لبنی فلان ولم یسمھم ولم یشرالیھم فھی للموجودین عندموت الموصی وان سماھم اواشار الیھم فالوصیۃ لھم حتی لوماتوا بطلت الوصیۃ لان الموصی لہ معین فتعتبرصحۃ الایجاب یوم الوصیۃ۲؎، قولہ لاقل من ستۃ اشھر، اذلو ولد لستۃ اشھر او لاکثر احتمل وجودہ وعدمہ فلاتصح، افادہ الاتقانی، قولہ ولومیتا مثل الموت الطلاق البائن۱؎۔
ماتن کاقول ''بوقت وصیت'' میں کہتاہوں تاتارخانیہ میں ہے جس کے لیے وصیت کی گئی ہے اگر وہ مستحقین میں سے متعین ہے توصحت ایجاب کا اعتباروصیت کے دن سے کیاجائے گا اورجب وہ غیرمتعین ہے توصحت ایجاب کااعتبار موصی کی موت کے دن سے کیاجائے گا، اگرفلاں کے بیٹوں کے لئے ایک تہائی کی وصیت کی اوران کانام نہیں لیا نہ ہی ان کی طرف اشارہ کیا تویہ وصیت صرف ان کے لئے ہوگی جوموصی کی موت کے وقت موجودہوں گے۔ اوراگران کانام لیا یاان کی طرف اشارہ کیاتو وصیت خاص انہی کے لئے ہوگی۔ اگر وہ مرگئے تو وصیت باطل ہوجائے گی کیونکہ جس کے لئے وصیت کی گئی وہ متعین ہے۔ لہٰذا صحت ایجاب کااعتبار وصیت والے دن سے ہوگا۔ ماتن نے کہاکہ چھ ماہ سے کم مدت میں حمل پیداہو۔ یہ اس لئے ہے کہ اگرپورے چھ ماہ پریا اس سے زائد مدت میں پیداہوا توبوقت وصیت اس کاوجود وعدم دونوں محتمل ہوئے، لہٰذا وصیت صحیح نہ ہوئی، ماتن کاقول کہ اگروہ مردہ ہو، طلاق بائن بھی موت کی طرح ہے۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        کتاب الوصایا     داراحیاء الترا ث العربی بیروت    ۵/ ۱۵ و۱۶)

(۱؎ ردالمحتار        کتاب الوصایا    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۴۱۸)
ندیہ میں ہے:
شرطھا کون الموصی اھلا للتملیک و الموصی لہ اھلا للتملک۔۲؎
وصیت کے لئے شرط یہ ہے کہ موصی تملیک کااہل ہو اورجس کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ مالک بننے کااہل ہو۔(ت)
 (۲؎ الفتاوی الہندیۃ       کتاب الوصایا    الباب الاول         نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۹۰)
ولہٰذا صحت وصیت کے لئے شرط ہے کہ یا تواہل حاجت کے لئے واقع ہوجیسے بنی فلاں کے یتیموں یابیواؤں کے لئے کہ اس تقدیرپروصیت حضرت حق عزوجل کے لئے واقع ہوگی اور وہ معلوم ہے ورنہ وہ لوگ معدودقابل شمارہوں جیسے زیدکے بیٹے کہ انہیں تملیک صحیح ہوسکے اوردونوں صورتیں نہ ہوں مثلاً سیدوں یاشیخوں کے لئے تو وصیت باطل ہے،
درمختارمیں ہے:
الاصل ان الوصیۃ متی وقعت باسم ینبیئ عن الحاجۃ کایتام بنی فلان تصح وان لم یحصوا علی مامرلوقوعھا ﷲ تعالٰی و ھومعلوم وان کان لاینبیئ عن الحاجۃ فان احصوا صحت ویجعل تملیکا والا بطلت۔۳؎
اگروصیت ایسے اسم کے ساتھ واقع ہو جوحاجت کی خبردے جیسے فلاں قبیلے کے یتیموں کے لئے تووصیت صحیح ہوگی اگروہ قابل شمارنہ ہوں جیساکہ گزرچکاہے کیونکہ یہ وصیت اﷲ تعالٰی کے لئے واقع ہوئی ہے اور وہ معلوم ہے اوراگرایسے اسم کے ساتھ واقع نہ ہوجوحاجت کی خبردیتاہے تواس صورت میں جن کے لئے وصیت کی گئی ہے اگروہ قابل شمار ہیں تب تووصیت صحیح ہوگی اوراس کوتملیک قراردیاجائے گاورنہ وصیت باطل ہوگی۔(ت)
 (۳؎ الدرالمختار           کتاب الوصایا     باب الوصیۃ للاقارب وغیرہا    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۳۳۰)
ولہٰذ اگروارثان فلاں کے لئے وصیت کی اورفلاں ابھی زندہ ہے توصحت وصیت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس موصی سے پہلے مرجائے تاکہ وارثان فلاں کالفظ صادق آئے ورنہ وصیت باطل ہوجائے گی، ایسی جگہ ذات شخص کاوجودکافی نہیں بلکہ ذات مع اس وصف کے وجودہونا درکار جس وصف کے لحاظ سے وصیت واقع ہوئی ہے۔
فی الدرالمختار، شرط صحتہا فی الوصیۃ لورثۃ فلان ومافی معناھا کعقب فلان موت الموصی لورثتہ اولعقبہ قبل موت الموصی لان الورثۃ والعقب انما یکون بعد الموت فلومات الموصی قبل موت الموصی لورثتہ اوعقبہ بطلت الوصیۃ لورثتہ اوعقبہ لان الاسم لایتناولھم الا بعدالموت۱؎اھ مختصراً، وفی ردالمحتار قولہ لان الاسم لایتناولھم، فکانت وصیۃ لمعدوم۔۲؎
درمختارمیں ہے فلاں کے وارثوں یا اس کے ہم معنی یعنی فلاں کے پسماندگان کے لئے وصیت کی تو اس وصیت کے صحیح ہونے کے لئے شرط یہ ہے کہ جس کے وارثوں اورپسماندگان کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ موصی سے پہلے مرے کیونکہ اس کے مرنے کے بعد ہی وہ لوگ اس کے وارث یا پسماندگان بنیں گے اوراگرموصی اس سے پہلے مرگیا اورجس کے وارثوں اورپسماندگان کے لئے وصیت کی گئی ہے وہ ابھی زندہ ہے تو اس کے وارثوں یا پسماندگان کے لئے وصیت باطل ہوجائے گی کیونکہ ان پرلفظ ورثاء اورپس ماندگان کااطلاق تو اس کے مرنے کے بعد ہوگااھ اختصار۔ ردالمحتارمیں ہے اس کاقول کیونکہ لفظ ورثاء اورپس ماندگان کا ان پراطلاق نہیں ہوتا، لہٰذا یہ معدوم کے لئے وصیت ہوئی ۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار    کتاب الوصایا    باب الوصیۃ للاقارب وغیرہا    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۳۲۹ و ۳۳۰)

(۲؎ ردالمحتار      کتاب الوصایا    باب الوصیۃ للاقارب وغیرہا     داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۴۰)
اوراگربحکم عرف چڑھاوا دُولہا کی ملک ہوتاہے۔ (یہ جواب ناتمام دستیاب ہوا)
Flag Counter