فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
75 - 135
الجواب
اوّل : تنخواہ پربھائیوں کادعوی باطل بیجاہے کہ وہ اجرت ہے اوراجرت میں غیراجیر کا حق نہیں، عقد اجارہ جو ان کے باپ سے تھا موت پدرپرختم ہوگیا۔
فان الاجارۃ لامعنی لبقائھا بعد ھلاک الاجیر۔
کیونکہ اجیرکے فوت ہوجانے کے بعد اجارہ کے باقی رہنے کاکوئی معنی نہیں ہے(ت)
اب کہ برادر سے عقدجدیدہوا اس میں کیاحق، توایک ہوسکتاہے بلکہ اگراس تنخواہ کو بطور منصب ہی فرض کیجئے توبتصریح علماء منصب وپنشن بھی موروث نہیں بعد فوت منصبدار، رئیس جس کا نام مقررکردے وہی مستحق ہے باقی ورثہ کاکچھ حق نہیں۔
فتح القدیر وردالمحتارمیں ہے:
العطاء صلۃ فلایورث ویسقط بالموت۱؎۔
عطیہ ایک صلہ ہے وراثت نہیں ہے اورموت سے پہلے یہ صلہ ختم ہوجاتاہے(ت)
(۱؎ ردّالمحتار کتاب الجہاد فصل فی الجزیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۸۲)
دوم : محمدزکریا نے جوکچھ محمدیحیٰی ومحمدعیسٰی کی شادیوں میں اپنے پاس سے صرف کیا اگریہ صرف بعد بلوغ محمدموسٰی تھا جبکہ وہ بھی اجازت وصیت شامل ہولیا توتمام کمال ترکہ سے مجراپائے گا کہ زکریا وصی تھا اوریہ مورث کی وصیت جسے بقیہ ورثہ نے نافذ رکھا اوربوجہ بلوغ ان سب کی تنفیذ شرعاً معتبرتھی تووصیت کاوارثوں کے لئے ہونامضرنہیں،
لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الا لاوصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ۔۱؎
حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ وارث کے لئے وصیت نہیں مگر اس صورت میں کہ باقی وارث اسے جائزقراردیں(ت)
اوروصیت میں جبکہ اس کی تنفیذ کسی شیئ کوبیچنے کے ساتھ مذکور ہوتووصی پراس کااتباع لازم نہیں اسے رواہے کہ وہ شیئ نہ بیچے اوردوسرے مال سے وصیت نافذ کرے۔
آدب الاوصیاء میں ہے:
فی المحیط والظھیریۃ والخلاصۃ اوصی بان یکفنہ من ثمن ھذا العین قال ابوالقاسم للوصی ان یکفنہ من ثمن عین اٰخر ولایبیع تلک العین و تلک العین تکون للورثۃ وان وجد لما اوصی ببیعہ مشتریا ولایضمن الوصی۔۲؎
محیط، ظہیریہ اورخلاصہ میں ہے کسی نے وصیت کی کہ فلاں معین چیزکے ثمن سے اس کوکفن دیاجائے ابوالقاسم نے فرمایا وصی کو اختیارہے کہ کسی دوسرے چیزکے ثمن سے کفن دے اوراس معین چیز کوفروخت نہ کرے اوریہ معین چیز سب ورثاء کی مشترکہ قرارپائے گی اگرچہ جس چیز کو فروخت کرنے کی وصیت تھی اس کاکوئی خریدار بھی موجود ہو، ایسی صورت میں وصی ضامن نہ ہوگا۔(ت)
(۲؎ آداب الاوصیاء علی ھامش جامع الفصولین فصل فی تنفیذالوصیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۳۔۳۱۲)
اسی میں ہے:
فی الخاصی اوصی بان یتصدق منہ کذا وکذا وقرا من الحنطۃ وعین لثمن تلک الحنطۃ نوعا من اموالہ کثمن دارہ فجعل الوصی من غیر ذٰلک المال قال جازلہ ذٰلک الا ان یکون فیما عینہ دلیل علی التعیین کان یکون ماعینہ معروفا بالطیب وسائرہ بالخبث فیخص الطیب بالوصیۃ فلایشتری من المال الخبیث۔۱؎
خاصی میں ہے کسی نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے اتنی اتنی مقدارگندم کی صدقہ کی جائے اوراس گندم کی قیمت کے لئے اس نے اپنے اموال میں سے کوئی نوع متعین کردی جیسے اپنے گھرکی قیمت، وصی نے کسی اورمال سے صدقہ کردیاتوجائزہے مگراس صورت میں کہ جوکچھ موصی نے متعین کیا اس میں تعین پردلیل موجودہے مثلاً جس شیئ کو اس نے معین کیا وہ پاکیزگی کے ساتھ معروف ہے اوردیگراشیاء خبث کے ساتھ معروف ہیں تو اس صورت میں پاکیزہ شیئ کووصیت کے ساتھ خاص کیاجائے گا اوروصی خبیث مال سے خریداری نہیں کرے گا۔(ت)
(۱؎ آداب الاوصیاء فصل فی تنفیذالوصیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۴)
اورقطع نظر اس سے کہ وصی جب اپنے مال سے وصیت نافذ کرے تو قول مفتٰی بہ پراسے مطلقا حق رجوع وواپسی ہے یہاں کہ وصیت عباد کے لئے تھی اوروصی وارث ہے باتفاق علماء اسے حق رجوع حاصل ہوا،
خانیہ وہندیہ وغیرہما میں ہے:
وصی انفذ الوصیۃ من مال نفسہ قالوا ان کان ھذا الوصی وارثا یرجع فی ترکۃ المیت والا فلایرجع وفیہ ان کانت الوصیۃ للعباد یرجع لان لھا مطالبا من جھۃ العباد وکان کقضاء الدین وان کانت الوصیۃ ﷲ تعالٰی لایرجع وقیل لہ ان یرجع فی الترکۃ علٰی کل حال وعلیہ الفتوٰی۔۲؎
وصی نے اپنے مال میں سے وصیت نافذ کردی، علماء نے کہااگریہ وصی وارث ہے توترکہ میت میں رجوع کرے گا ورنہ نہیں، اوراسی میں ہے اگروہ وصیت بندوں کے لئے ہے تورجوع کرے گا اس لئے کہ اس وصیت کے لئے بندوں کی جہت سے کوئی مطالبہ کرنے والاہے تویہ دین کی ادائیگی کی طرح ہوگئی، اوراگروصیت اﷲ تعالٰی کے لئے ہے تورجوع نہیں کرے گا۔ اورایک قول یہ ہے کہ وہ ہرحال میں ترکہ میت میں رجوع کرے گا۔ فتوٰی اسی پرہے۔(ت)
(۲؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۵۴)
اوراگرقبل بلوغ محمدموسٰی ہوا توحصہ محمدموسٰی اس صَرف سے بری رہے گا کہ نابالغ کی اجازت کوئی چیزنہیں، نہ اس کی طرف سے کوئی ولی یاوصی خواہ کوئی شخص اسے تصرف کی اجازت دے سکتاہے لکونہ ضررًا محضا(اس کے محض نقصان ہونے کی وجہ سے۔ت) اوریہیں سے ظاہرہواکہ اس صورت میں بعد بلوغ محمدموسٰی کااس تصرف گزشتہ پرراضی ہونا یا اسے جائزکرنا بھی بکارآمدنہ ہوگا۔
بسبب اس کے کہ یہ واقع ہوا دراں حالیکہ کوئی اس کی اجازت دینے والانہیں۔ اور ہروہ تصرف جوایساہو وہ باطل ہوتاہے جیساکہ در وغیرہ میں ہے اوراجازت فقط موقوف کو لاحق ہوتی ہے نہ کہ باطل کو، جیساکہ اس کوفتح وغیرہ نے بیان کیاہے۔(ت)
سوم : خوردونوش برادران میں جوکچھ محمدزکریا نے اپنے پاس سے صرف کیا اس میں سے محمدموسٰی نابالغ کے مصارف زمانہ نابالغی کے مجراپائے گا،
خانیہ اورہندیہ میں مذکورہ بالاعبارت کے بعد ہے اوریونہی وصی نے جب اپنے مال سے نابالغ کے لئے لباس خریدار یاوہ شیئ خریدی جو اس پرخرچ کرے گا تووہ احسان کرنے والانہ ہوگا(ت)
(۱؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۵۵)
اوربالغوں پرجو صرف کیا اگر بطورخودبے ان کے امرکے تھا نہ شرط رجوع کرلی تھی جیساکہ عبارت سوال سے ظاہرہے تومحمدزکریا کاتبرع واحسان تھا جس کامعاوضہ ان سے نہیں لے سکتا،
لعدم الولایۃ علیہ بالبلوغ ولم یکن مضطرا فیما فعل ولاامروہ ولاشرط الرجوع ففیم یرجع وھذا ظاھر جدا عند من خدم نفائس کلامھم۔
کیونکہ بلوغ کی وجہ سے وصی کو اس پرولایت نہیں رہی نہ وہ اس فعل میں مجبورہے، نہ انہوں نے وصی کوحکم دیا اورنہ رجوع کی شرط کی گئی تووہ کس چیز میں رجوع کرے گا، یہ خوب ظاہرہے اس شخص کے نزدیک جس نے فقہاء کے عمدہ کلام کی خدمت کی۔(ت)
خانیہ میں ہے:
لوقال انفق من مالک، علٰی عیالی اوفی بناء داری یرجع بما انفق۲؎ وکذا لوقال اقض دینی یرجع علی کل حال۱؎ ولوقضی نائبۃ غیرہ بامرہ رجع علیہ وان لم یشترط الرجوع ھو الصحیح۔۲؎
اگرکہاتوُ اپنے مال میں سے میری اہل وعیال یا میرے گھر کی تعمیرپرخرچ کر تواس نے جوکچھ خرچ کیا وہ اس کے بارے میں رجوع کرے گا۔ اسی طرح اگرکہا تومیراقرض ادا کردے تو وہ ہرحال میں رجوع کرے گا اوراگرکسی کی حاجت اس کے امرپرپوری کردی تو وہ رجوع کرے گا اگرچہ رجوع کی شرط نہ لگائی گئی ہو، یہی صحیح ہے۔(ت)
(۲؎ فتاوی قاضی خاں کتاب الکفالہ فصل فی الکفالۃ بالمال نولکشورلکھنؤ ۳/ ۵۸۷)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان کتاب الکفالۃ فصل فی الکفالۃ بالمال نولکشورلکھنؤ ۳/ ۵۸۹)
(۲؎ فتاوی ہندیۃ کتاب الکفالۃ الباب الثانی الفصل الرابع نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۳۶۹)
فصول عمادیہ وفتاوٰی حامدیہ میں ہے:
من قضی دین غیرہ بغیر امرہ لایکون لہ حق الرجوع علیہ۔۳؎
جس نے دوسرے کاقرض اس کے حکم کے بغیر اداکردیا اس کورجوع کاحق نہیں(ت)
(۳؎العقودالدریۃ بحوالہ عمادیہ کتاب الکفالہ ارگ بازار قندھارافغانستان ۱/ ۳۰۳)
انہیں میں ہے:
المتبرع لایرجع علی غیرہ کما لوقضی دین غیرہ بغیر امرہ۴؎۔
احسان کرنے والاغیرپررجوع نہیں کرتا جیساکہ کوئی کسی کاقرض اس کے حکم کے بغیر اداکردے(ت)
(۴؎العقودالدریۃ بحوالہ عمادیہ کتاب الکفالہ ارگ بازار قندھارافغانستان ۱/ ۳۰۳)