Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
74 - 135
مسئلہ ۱۳۴:  ازریاست مرسلہ ۲۸/محرم الحرام ۱۳۱۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ۱۲۷۸ہجری میں انتقال کیا اوراپنے چاروں بیٹے محمدزکریا، محمدیحیٰی، محمدعیسٰی، محمدموسٰی بالغ ونابالغ اوربیٹی بالغہ اورحافظ محمدعظیم صاحب خسر ۳۸سال،۲۰سال،۱۲سال کے سامنے یہ وصیت کی اس وصیت کو سب ورثاء نے تسلیم کیا اور اس پر عملدرآمد کیا اب یحیٰی و عیسٰی اپنا بقیہ ورثہ تقسیم کراتے ہیں اوربڑابھائی مصرف خوردونوش وپارچہ وخرچ شادی یحیٰی وعیسٰی جواس نے اپنے پاس سے زید کے انتقال کے بعد سے ان پرکیا ہے طلب کرتا ہے یحیٰی وعیسٰی یہ عذرکرتے ہیں کہ جو کچھ آپ نے ہم پرصرف کیا تبرعاً واحساناً تھا یہ ہم سے مجرانہ ہوناچاہئے نیزبروقت وصیت ہم نابالغ تھے اورقطع نظر اس ۱۳۰۳ھ میں جوتحریرفریابین برادران ہوئی جس میں محمدیحیٰی نے آمدنی کاحساب سمجھ کر ۴ روپے ماہوار اپنے حصے کے لئے منظورکئے ہیں اوراب تک لیتے ہیں اوروصیت پر علمدرآمد ہوا توتم میں کسی نے انکارنہیں کیابلکہ تسلیم وقبول تحریری موجود ہے چنانچہ نقل وصیت نامہ و نقل تحریر دیگر حسب ذیل ہے زید کی جائداد جو الور میں ہے وہ اب تک غیرمنقسم اورایک ہی مکان میں سب ورثاء رہتے ہیں اوراس کی تقسیم بھی چاہتے ہیں زکریا تقسیم پرراضی ہے مگرکہتاہے کہ جولاگت بعد انتقال زیدمیں نے اپنے پاس سے اس پرلگائی ہے مجھ کو ملنی چاہئے یحیٰی وعیسٰی کہتے ہیں کہ تم نے بلاوجہ پہلی عمارت کوڈھایا اورنئی عمارت بنائی ہم اس کے ڈھانے کانقصان تم سے لیں گے نئی عمارت بنانے کاتم کو بلارضامندی ہمارے اختیارنہ تھا، زکریاجواب دیتا ہے کہ بوجہ بوسیدگی تم سب کے سامنے ہنگام شادی محمدعیسٰی جس میں اب تک وہی رہتاہے ایک ضلع خام تھا ازسرنوپختہ میں نے اپنے ذاتی روپیہ سے بنایا اور ضلع اپنے واسطے پختہ بنایا اس وقت تم میں سے کسی نے انکارنہیں کیا اوراب تک تم ہم سب وہیں رہتے ہیں ازروئے شرع شریف ان سب امورکا جواب مرحمت ہو۔بینواتوجروا۔
نقل وصیت نامہ

والدماجد حکیم غلام نجم الدین مرحوم نے اپنے انتقال سے تخمیناً اٹھائیس روز پہلے روبروئے جناب ماموں حافظ محمدعظیم صاحب وبرادران عزیز محمدیحیٰی، محمدعیسٰی ومحمدموسٰی کہ مجھ کوجو وصیت فرمائی میں اس وقت مضمون وصیت روبروئے جناب ماموں صاحب موصوف وبرادران عزیز مذکور کے بیان کرتاہوں اگرمیرے بیان میں کچھ خلاف ہے تواصلا ح فرمادیں اوراگرمیرابیان صحیح ہے تو اس کاغذ کو تصدیق کریں، فقط۔ میرے والد نے مجھے محمدزکریا سے یہ فرمایا کہ میں نے تمہاری اورتمہاری ہمشیر کی شادی کردی تم دو کے فرض سے میں اداہوا۔ محمدیحیٰی ومحمدعیسٰی ومحمدموسٰی کی شادی باقی ہیں دہلی کی محلسرا اور دیوان خانہ فروخت کرکے ان کی شادی کردینا اورتمہاری والدہ کاجوزیورہے وہ ان تینوں کے چڑھاوے میں چڑھادینا۔ باقی مکانات دہلی کے اورظروف اورپارچہ وغیرہ جوہے اس کو بموجب شرع شریف کے تم پانچوں بہن بھائی تقسیم کرلینا فقط۔
مبلغ دوصدروپیہ دوشخصوں کو دے کر ایک کومیرے واسطے اوردوسرے کو اپنی والدہ کے واسطے حج پربھیجنا، باقی مکانات اورچاہ واراضی وباغ وتنخواہ جوالور میں ہے اس کاتومختارہے اگرمحمدیحیٰی و عیسٰی وموسٰی تیری تابعداری کریں توتم فرزندوں کی طرح ان کی پرورش کرتے رہنا اگرتیری تابعداری نہ کریں تو اپناسرکھائیں فقط۲۳ستمبر۱۸۷۹ء مطابق پنجم شوال ۱۲۹۶ہجری
بقلم بندہ امراؤعلی۔

یہ نوشتہ میرے سامنے لکھاگیادرست ہے۔ العبدمحمدموسٰی     العبد محمدیحیٰی        العبدمحمدعیسٰی     العبدخدیجہ خانم بقلم محمدعظیم 

العبدمحمدعظیم        گواہ نوشتہ محمدعبدالرحمن علی 

جوکچھ مجھ محمدزکریانے بموجب وصیت والد ماجد کے تعمیل کی اورکرتارہوں گا وہ مراتب اس صفحے پر درج ہیں اور آپ صاحب اس سے رضامند ہیں تو اس پراپنے اپنے دستخط کریں۔ فقط مرقوم    ۲۳ستمبر۱۸۷۹ء مطا بق پنجم شوال ۱۲۹۶ھ

والدہ ماجدہ کازیور برادران عزیزمحمدیحیٰی ومحمدعیسٰی ومحمدموسٰی کو میں نے تقسیم کردیا اورظروف وپارچہ مجھ محمدزکریا ومحمدیحیٰی ومحمدعیسٰی ومحمدموسٰی وہمشیرہ عز یزہ نے حسب وصیت والد مغفور باہم تقسیم کرلیا اورمحلسرااوردیوان خانہ کوتومیں نے فروخت نہیں کیابلکہ اپنے پاس سے عزیزمحمدیحیٰی ومحمدعیسٰی کی تومیں نے شادی کردی اورمحمدموسٰی کاحج ہوگیا اورباقی مکانات واقعہ دہلی بھی حسب وصیت تقسیم کئے جائیں ان شاء اﷲ تعالٰی اورباقی مکانات وتہوار وچاہ واراضی وباغ وتنخواہ الورکی جوبلاشرکت غیرے حسب وصیت والد ماجد میرے قبضے میں ہے، مگرحویلی میں جس طرح ہم سب بھائی رہتے ہیں، اسی طرح میں اورمیری اولاد اوروہ اوران کی اولاد بدستور ہیں اورکھانے پینے کوجوخدامجھ کو دے جس طرح آج تک محمدعیسٰی ومحمدموسٰی کھاتے پیتے رہے ہیں اسی طرح کھلاتاپلاتارہوں گا، اورمحمدیحیٰی کودوروپیہ اورمحمدعیسٰی کو (۸ /) اورمحمدموسٰی کو ۱۲/ ماہواردیتارہوں گا، مبلغ دوصدروپیہ جناب ماموں حافظ محمدعظیم صاحب کی معرفت دوشخصوں کودے کر حج کوبھیج دئیے فقط مرقوم صدربقلم امراؤعلی 

یہ نوشتہ میرے سامنے لکھاگیا درست ہے۔ العبدمحمدعیسٰی     العبدمحمدیحیٰی عفی عنہ    العبدمحمد موسٰی عفی عنہ     العبدخدیجہ خانم بقلم محمدعظیم 

العبدمحمدعظیم         گواہ شد محمدعبدالرحمن     نقل تحریر 

سابق میں ۲۳ستمبر۱۸۷۹ء مطابق پنجم شوال ۱۲۹۶ھ کوجووصیت نامہ والد مرحوم کاروبروئے جناب ماموں صاحب حاجی حافظ محمد عظیم مرحوم کے تحریرہواتھا اس وقت عزیزمحمدیحیٰی کودوروپیہ ماہوار دینا تجویزہواتھا چنانچہ آج تک دیاگیا، اب پھر عزیزمذکورنے کہاکہ میراگزارہ اس میں نہیں ہوتا کچھ زیادہ مقررہوجائے، اس واسطے مجھ زکریانے اراضی بارانی وچاہ جال والا وچاہ تاج خاں والا کی آمدنی بوقوف عزیزمحمدیحیٰی دوسوساٹھ روپیہ مشخص کراکرعزیزمذکورکاحصہ (للعہ ۷/) ماہوارکاقرارپایامگرعزیزمذکورنے چارروپیہ چارآنے ماہوار اس میں سے لینے منظورکئے بشرط اس کے کہ مجھ سے چاہت کی مرمت وغیرہ کامصارف نہ لیاجائے۔ مجھ محمدزکریاکویہ بھی منظورہے کہ میں (۴/للعہ)  ماہوار جب تک اراضی عطیہ سرکار ہمارے قبضہ میں ہے خواہ آمدنی میں کمی ہو یابیشی عزیزمحمدیحیٰی کواپنی زیست بھردیتارہوں گا اوربعد میرے آمدنی یہ دوچاہات مذکورہ واراضی بارانی وباغ یعنی جملہ آمدنی ان مواضعات کی وجملہ مصارف شکست ریخت مرمت وغیرہ متعلقہ ان کے ہمگی دس حصوں مفصلہ ذیل پرتقسیم ہوجائے اورجو حصہ دارمرجائے تو اس کے حصہ داراس کے وارث یعنی فرزند یا دختریازوجہ کوملتارہے اورجوحصے دار بلاوارث فوت ہو اس کا حصہ سب پرتقسیم ہوجائے، تفصیل حصص یہ ہے: محمدزکریا، محمدیحیٰی، محمدعیسٰی، محمدموسٰی، ہمشیرہ عزیزہ، پھوپھی صاحبہ ان میں سے دودوحصے چاروں بھائی لیتے ہیں اورایک ایک حصہ ہمشیرہ عزیزہ اورپھوپھی صاحبہ لیتی رہیں فقط۔

بقلم احقرالعبادامراؤ علی     مرقومہ ہشتم جمادی الاولٰی ۱۳۰۲ھ مطا بق ۱۳فروری۱۸۸۶ء 

العبد محمدزکریا    العبدبندہ محمدیحیٰی عفی عنہ     العبدمحمدعیسٰی عفی عنہ     العبد محمدموسٰی عفی عنہ     گواہ شد محمدفضل حق عفی عنہ
Flag Counter