فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
73 - 135
مسئلہ ۱۳۲ :ازنجیب آباد ضلع بجنور محلہ رامپورہ مرسلہ شیخ عبدالمجیدصاحب سب سروئیر ۱۴محرم الحرام ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین نسبت مسائل ذیل کے، زید کی منکوحہ اولٰی متوفی سے ایک پسر بکربالغ اور منکوحہ ثانی موجودہ سے دوپسرعمروسعد نابالغ بعد وفات زیدباقی ہیں، زیدپرجوقرض تھا بکرنے اداکیا اور نیزواسطے خرچ شادی وخوردونوش نابالغان کے اپنے نام یابشمول نام مادرقرض لے کر صرف کیا اس قرض سے کچھ اداہوا کچھ باقی ہے، اب عمروسعد بھی بالغ ہیں اوردرباب تقسیم جائداد وادائے قرضہ سابق وحال تنازع ہے، لہذا علمائے شریعت مطلع فرمائیں کہ مکانات موروثی کس طرح تقسیم ہوں اور قرضہ سابق وحال حسب سہام کل شرکاء پرچاہئے یاقرضہ سابق وحال میں کچھ تفریق ہے اورجومکان بکرنے اپنے روپے سے خریدا اس میں دوسرے برادران کوحصہ پہنچتاہے یانہیں؟ اورمنکوحہ اولٰی جوزیدکے حیات میں فوت ہوگئی اس نے اپنی وفات کے وقت زیدکو مہرمعاف کردیاتھا اورمنکوحہ ثانیہ نے کہ اب زندہ ہے وقت وفات زید مہر معاف کردیا اورہماری برادری میں مہروں کایہی دستورہے یہ بھی واضح ہو کہ بعد وفات زید کھانا جملہ شرکاء کایکجارہا۔ جب نابالغ بالغ ہوئے علیحدہ ہوگیا۔بینواتوجروا۔
الجواب: قرض مورث کہ بکرپسربالغ نے اداکیا تمام وکمال ترکہ مورث سے مجراپائے گا جبکہ وقت ادا تصریح نہ کردی ہوکہ مجرانہ لوں گا۔
فی فتاوٰی قاضیخان والعالمگیریۃ وغیرھما بعض الورثۃ اذا قضٰی دین المیت کان لہ الرجوع فی مال المیت والترکۃ انتھٰی۱؎ مختصراً۔ وفی جامع الفصولین والاشباہ وغیرھما لواستغرقہا دین لایملکھا بارث الا اذا ابرأ المیّت غریمہ اواداہ وارثہ بشرط التبرع وقت الاداء امّا لوادّاہ من مال نفسہ مطلقا بلاشرط تبرع او رجوع یجب لہ دین علی المیّت فتصیر الترکۃ مشغولۃ بدینہ فلایملکہا۱؎۔
فتاوٰی قاضی خان اورعالمگیریہ وغیرہ میں ہے کسی وارث نے میت کاقرض اداکیاتو اسے میت کے مال اورترکہ کی طرف رجوع کاحق حاصل ہے انتہٰی۔ جامع الفصولین اوراشباہ وغیرہ میں ہے اگردین ترکہ کومحیط ہے تووارث میراث کے ساتھ اس ترکہ کامالک نہیں بنے گا، مگریہ کہ قرض خواہ میت کو بری کردے یامیت کے وارث نے ادائیگی کے وقت بشرط تبرع قرض اداکیاہولیکن اگراس نے مطلقاً اپنے مال سے قرض اداکیاہو نہ اس میں تبرع کی شرط ہو اورنہ ترکہ میت کی طرف رجوع کی تومیت پر اس کادین ثابت ہوجائے گا توترکہ قرض اداکرنے والے وارث کے دین کے ساتھ مشغول ہوگا لہٰذا وہ اس کامالک نہیں بنے گا۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الہندیۃ بحوالہ فتاوٰی قاضیخاں کتاب الوصایا الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۵۵)
(۱؎ جامع الفصولین الفصل الثامن والعشرون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۲)
جوروپیہ بکر یازوجہ زیدنے قرض لے کرشادی نابالغان میں صرف کیا اس کامطالبہ صرف اس قرض لینے والے پرہے نابالغوں کے ساتھ اس کااحسان سمجھاجائے گا اسی طرح جوکچھ قرض لے کرخوردونوش نابالغان میں اٹھایا وہ بھی ان سے مجرانہ ملے گا جبکہ یہ قرض لینے والا مورث کی جانب سے ان نابالغوں کا وصی نہ تھا یعنی زیداسے کہہ نہ مرا تھا کہ جائداد یانابالغ اولادتیری سپردگی میں دیتاہوں یاان کی غورپرداخت تیرے متعلق ہے یااس کے مثل اورالفاظ جودلیل وصایت ہوں۔
فی ردالمحتار عن الحاوی المختار للفتوی مافی وصایا المحیط بروایۃ ابن سماعۃ عن محمد مات عن ابنین صغیروکبیروالف درھم فانفق علی الصغیر خمسمائۃ نفقۃ مثلہ فھو متطوع اذا لم یکن وصیا۲؎ الخ وفی لقطۃ الدرالمختار ھو متبرع لقصورولایتہ۳؎اھ وثمہ فی ردالمحتار عن البحر لانّ الامر متردد بین الحسبۃ والرجوع بلایکون دینا بالشک۴؎اھ۔
ردالمحتار میں حاوی سے منقول ہے۔ فتاوی کے لئے مختار وہ ہے جومحیط کے کتاب الوصایا میں بروایت ابن سماعہ امام محمد سے منقول ہے کہ کوئی شخص دو بیٹے ایک نابالغ اورایک بالغ چھوڑکرفوت ہوا اورہزاردرھم ترکہ میں چھوڑے پھربڑے نے چھوٹے پرمثلی نفقہ کے ساتھ پانچسو درھم خرچ کئے تووہ اپنی طرف سے بطور احسان خرچ کرنے والا ہوگاجبکہ وہ وصی نہ ہوالخ درمختار کے باب لقطہ میں ہے وہ احسان کرنے والاہے بسبب اس کی ولایت کے قاصرہونےکے الخ یہاں ردالمحتار میں بحرسے منقول ہے کہ یہ معاملہ اجروثواب اوررجوع کے درمیان دائرہے۔ چنانچہ یہ بسبب شک کے دین نہیں ہوسکااھ۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الوصایا فصل فی شہادۃ الاوصیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۵۸)
(۳؎ الدرالمختار کتاب اللقطۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶۶)
(۴؎ ردالمحتار کتاب اللقطۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۲۲)
جومکان بکرنے اپنے روپے سے اپنے نام خریدااس میں سے دوسرے کاکچھ حق نہیں، مہرکہ زوجہ اولٰی نے اپنے مرتے وقت شوہرکوبخشا، اس کی معافی بکروغیرہ دیگروارثان زوجہ اولٰی کی اجازت پر موقوف ہے اگر انہوں نے جائزنہ رکھا تومعاف نہ ہوا اوراس کامطالبہ ترکہ زید سے ہوسکتا ہے۔
فی العالمگیریۃ مریضۃ وھبت صداقھا من زوجھا فان کانت مریضۃ مرض الموت لایصح الاباجازۃ الورثۃ۔۱؎
عالمگیریہ میں ہے ایک مریض عورت نے اپنامہر خاوند کوہبہ کردیا پس اگروہ مرض الموت کے ساتھ مریض ہے تووہ ہبہ دیگروارثوں کی اجازت کے بغیرصحیح نہیں ہوسکا۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الہبہ الباب الحادی عشرفی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۰۳)
ہاں زوجہ ثانیہ نے کہ وقت وفات زیداپنا مہر معاف کیاوہ معاف ہوگیا پس صورت مستفسرہ میں ترکہ زید سے قرضہ بکر(جوبابت ادائے قرضہ سابقہ اس کے لئے ترکہ پرلازم ہوا) اور زوجہ اولٰی کے مہر سے بعد اسقاط چہارم کہ خود حصہ زید ہواکل یابعض (جس قدر بوجہ عدم اجازت وارثان زوجہ ذمہ زیدلازم رہا) اوراسی طرح اوردیون جوزیدپر ہوں اداکرکے ثلث باقی سے اس کی وصیتیں اگر کی ہوں) نافذ کرکے جو بچے برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین چوبیس سہام پرتقسیم کریں تیس سہم زوجہ ثانیہ اور سات سات ہرپسرکودیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۳ : ازبیجناتھ پاڑہ رائے پور ممالک متوسطہ مرسلہ شیخ اکبرحسین صاحب متولی مسجد و دبیرمجلس انجمن نعمانیہ ۶جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فیض النساء بیگم سوتیلی ماں نے خدیجہ بی بی کانکاح حسام الدین داروغہ جنگل کے ساتھ کیا، والدین خدیجہ مرچکے تھے، فیض النساء بیگم بعض اموال اپنے خدیجہ بی بی کے پاس عاریت بتاتی ہے، حسام الدین کہتاہے کہ خدیجہ بی بی بہت دنوں بیماررہی اس کی بیماری میں میراذاتی روپیہ بہت ساخرچ ہوا متوفیہ کالڑکامتوفیہ کے مرتے وقت زندہ تھا ماں کی جائداد کالڑکا مالک ہوا اور بعد مرنے لڑکے کے میں باپ اس کاوارث ہوا متوفیہ کی سوتیلی ماں کاکوئی حق نہیں، لہٰذا مفتیان شرع متین سے سوال ہے کہ حسب فہرست صرفہ حسام الدین نے وقت بیماری وغیرہ میں جوصرفہ کیا وہ حسام الدین پانے کا حقدارہے یانہیں؟بیّنواتوجروا۔
الجواب: اگرخدیجہ بی کے کوئی اوروارث نہ تھا، نہ اس پراس بیان شوہرکے سواکسی اورکا ایسادین ہے جو اس سے ملاکر مقدارترکہ سے بڑھ جائے، نہ اس کے پسر متوفی پرکسی کااتنادین آتاہے کہ ترکہ خدیجہ بی سے دین شوہر وغیرہ اداکرکے باقی سے جوحصہ پسرکوپہنچے اس کی مقدار سے زائدہو جب تویہ شوہر کادعوی محض بے معنی ہے کہ خدیجہ بی کے پاس کا اگرکچھ مال حسب بیان فیض النساء بیگم ملک فیض النساء بیگم ہوناثابت ہوتو اس میں سے خرچ دوائے خدیجہ بی پانے کے کوئی معنی نہیں وہ توفیض النساء بیگم کوواپس دیاجائے گا اور جب خدیجہ کاسوائے پسروشوہر اوراس پسرکے سوائے پدرکوئی وارث نہ رہا توجومال خدیجہ کاٹھہرے اس کاوارث صرف حسام الدین ہے، دوسرے کسی دائن کااگرخدیجہ بی پرکچھ آتاہو تو جس حالت میں ترکہ اس کے دَین کو گھٹاسکے نہ نہ کرنابڑھاسکے اسی طرح جبکہ ترکہ خدیجہ بی سے دَین شوھر وغیرہ اداکرکے بھی جوبچتاہے اس میں سے حصہ پسر دَین پسرکوکافی ہے توشوہر کاترکہ پردین کادعوی نہ اپنے استحقاق کوبڑھاسکے نہ نہ کرنا گھٹاسکے، بہرحال دعوی وعدم دعوی ہرصورت میں اس کااستحقاق ایک ہی مقدارپررہتاہے خواہ اس پر دَین ثابت کرکے قرض میں لے لے یا بے ثابت کئے میراث میں لے، ایسافضول دعوی قابل سماعت نہیں ہوتا ہاں اگرخدیجہ بی کے بعد اس کاکوئی وارث بھی رہا(کہ نظر بتقریر سوال وہ اس کی نانی ہی ہوسکتی ہے، تو دعوی شوہرنافع ہے تاکہ میراث سے پہلے یہ بذریعہ دین بعض یاکل متروکہ لے، یونہی اگردوسرے دائن کا دَین ایساہے کہ اس کے دعوی سے مل کرمقدار ترکہ سے زائد ہوجائے گا تونافع ہے کہ ترکہ دونوں دَین پر حصہ رسد بٹ جائے، اسی طرح اگرپسر متوفی پرویسادین ہوتونافع ہے کہ اول شوہرکادین ترکہ خدیجہ بی سے اداکیاجائے گا، اگرکچھ نہ بچے گا دائن پسر کچھ نہ پائے گا اوربچے گاتوباقی سے جس قدر حصہ پسرہے وہ اس میں سے لینے کامستحق ہوگا، اوربے دعوی زائد میں سے پاتا وھذا کلہ ظاھر بادنٰی حساب (یہ تمام ادنٰی حساب کے ساتھ ظاہرہے۔ت) ان صورتوں میں دعوی شوہرالبتہ قابل سماعت ہے، اب حکم مسئلہ یہ کہ اگر حسام الدین نے بطور خودا پنی زوجہ کے دو ادارو میں اپنامال صرف کیاتو دعوی باطل ہے اور واپسی کامستحق نہیں۔
فان من انفق فی امر غیرہ بغیرامرہ غیر مضطر الیہ فلایرجع علیہ اذ لم یکن نافذ لتصرف فیما لدیہ کما ابانت عنہ فروع جمۃ مصرح بھا فی کلمات الائمۃ۔
جب کوئی غیرکے معاملے میں اس کی اجازت کے بغیرخرچ کرے اور وہ اس خرچ کرنے میں مجبورنہ ہوتو اسے رجوع کاحق نہیں اس لئے کہ جوکچھ اس کے پاس ہے اس میں اس کاتصرف نافذنہیں ہے جیساکہ اس سے پیشترفروع ظاہرہیں جن کی ائمہ کرام کے اقوال میں تصریح کی گئی ہے۔(ت)
بلکہ اگرخدیجہ بی نے درخواست بھی کی کہ میراعلاج کرو اور اس کے سوا کوئی شرط رجوع وواپسی درمیان نہ آئی نہ وہاں عرف عام سے ثابت ہوکہ ایسی صورت میں شوہر جوکچھ معالجہ زوجہ میں اٹھائے اس سے واپس پائے توبھی حسام الدین کو دعوی نہیں پہنچتا لعدم مایوجبھا من نص اوعرف(کسی نص یاعرف کے نہ پائے جانے کی وجہ سے جو اس کو واجب کرے۔ت) ہمارے بلاد کاتوعرف یہ ہے کہ شوہر جواپنی بی بی کے علاج میں صرف کرتاہے وہ یاعورت کسی کے خیال میں واپسی کاوہم بھی نہیں گزرتا ہاں اگرخدیجہ بی سے صراحۃً واپسی کی شرط ہوگئی تھی یاوہاں کے عرف عام کی روسے استحقاق واپسی ثابت ہے تو ضرور اختیار واپسی ہوگا فان المعہود عرفا کالمشروط لفظا (کیونکہ جو باعتبار عرف کے معہود ہو ایسے ہی ہے جیسے باعتبار لفظ کے اس کی شرط لگائی گئی ہو۔ت)
درمختارمیں ہے:
لارجوع ولوبامرہ الا اذا قال عوض عنی علی انی ضامن، لعدم وجوب التعویض بخلاف قضاء الدین (و) الاصل ان (کل مایطالب بہ الانسان بالحبس والملازمۃ یکون الامر بادائہ مثبتا للرجوع من غیر اشتراط الضمان ومالافلا) الا اذا شرط الضمان ظھیریۃ۱؎الخ قلت وانت تعلم ان الدواء ممالایجب اصلا فضلا عن ان یکون لہ مطالب من جھۃ العبد فضلا عن ان یکون طلبہ بحبس اوملازمۃ فلارجوع فیہ من دون شرط شیئ من ھذہ الاصول۔
اس میں رجوع نہیں اگرچہ اس کے امرسے خرچ کرے مگریہ کہ جب کہے تومیری طرف سے بدلہ دے اس شرط پرکہ میں ضامن ہوں کیونکہ تعویض واجب نہیں بخلاف قرض کی ادائیگی کے۔ اورضابطہ یہ ہے کہ جس چیزکاانسان سے حبس وملازمہ کے ساتھ مطالبہ کیاجاتاہے اس کی ادائیگی کاامر رجوع کوثابت کرنے والاہے ضمان کی شرط لگائے بغیر، اوراگر ایسانہ ہو تورجوع ثابت نہ ہوگا جب تک ضمان کی شرط نہ لگائے، ظہیریہ الخ۔ میں کہتاہوں توجانتاہے کہ دوا ان چیزوں میں سے جوبالکل واجب نہیں چہ جائیکہ بندے کی طرف سے اس کاکوئی مطالبہ کرنے والا ہو اورچہ جائیکہ اس کامطالبہ حبس وملازمہ کے ساتھ ہو، لہٰذا اس میں کسی اصول کی شرط کئے بغیر رجوع کا حق نہ ہوگا(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۲)
عقودالدریہ میں ہے:
ماجری بہ العرف فی الرجوع علی الاٰمر یرجع۱؎اھ اقول: ھذہ مسئلۃ اضطربت فیھا اقوال العلماء اصلاً وفرعاً فاصلوا اصولا لاتنضبط وفرعوا فروعا لاتلتئم واراد العلامۃ الشامی تحریرھا فی العقود فلم یتھیألہ الا الاقتصار علی بعض فروع نقلت مع طرح جمیع الاصول التی اصلت وللعبد الضعیف ھٰھنا کلام ذکرتہ فیما علقت علیھا وھٰذا الذی اخترتہ ھنا واضح جلی لاخفاء بہ ان شاء اﷲ تعالٰی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
جس چیز کا آمرپررجوع کرنے میں عرف جاری ہو وہاں رجوع کرے گااھ۔ میں کہتاہوں اس مسئلہ میں علماء کرام کے اقوال اصول وفروع کے اعتبارسے مضطرب ہیں۔ انہوں نے کچھ ایسے اصول بنائے جو منضبط نہیں اور کچھ ایسے فروع ذکرکئے جومجتمع ومربوط نہیں۔ علامہ شامی علیہ الرحمہ نے عقود میں ان کی تحریرکرنے کاارادہ فرمایا تو انکو میسرنہ ہوا سوائے بعض فروع پر اقتصارکرنے کے جونقل کئے گئےباوجودیکہ انہوں نے وہ اصول چھوڑدئیے جووضع کئے گئے ہیں۔ اور اس عبدضعیف کایہاں کچھ کلام ہے جس کو میں نے شامی پر اپنی تعلیقات میں ذکرکیا ہے۔ اور وہ جس کومیں نے یہاں اختیارکیاوہ بالکل واضح وروشن ہے اس میں ان شاء اﷲ تعالٰی کوئی پوشیدگی نہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ العقودالدریۃ کتاب الکفالۃ ارگ بازار قندھارافغانستان ۱/ ۳۰۳)