فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
72 - 135
مسئلہ ۱۲۸ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے انتقال کیا اوردودختر اورایک ہمشیرہ حقیقی چھوڑی، اورنیزبحالت صحت وثبات عقل یہ وصیت کی کہ میری جو دخترکلاں میرے سامنے مرگئی ہے اوراس سے ایک پسر اورایک دخترباقی ہے میری جائداد سے جو حصہ شرعی کہ میری بڑی بیٹی کو پہنچے اس جائداد کے مالک اس مرحومہ کے بچے ہیں اگر اس وصیت میں فرق ہوگا توبروز حشردامن گیر ہوں گا۔بینواتوجروا۔
الجواب: صورت مستفسرہ میں اگرالفاظ وصیت یہی تھے تو وہ باطل وبے اثرہے کہ وصیت اس حصہ شرعی کی نسبت ہے جوترکہ موصی سے دخترکلاں کوپہنچے اورصورت واقعہ میں دخترکلاں کوشرعاً کچھ نہیں پہنچتا تووصیت اصلا کسی شیئ سے متعلق نہ ہوئی اورموصی لہا کاکوئی استحقاق نہ ہوا۔
اوصی بعین اوبنوع من مالہ کثلث غنمہ فھلک قبل موتہ بطلت الوصیۃ ولایتعلق حق الموصی لہ بشیئ کما فی العالمگیریۃ۱؎ وغیرھا لعدم مایتعلق بہ فکیف اذا لم یوجد اصلا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اپنے مال میں سے کسی عین یانوع کی وصیت کی جیسے بکریوں کے ایک تہائی کے بارے میں وصیت کی، پھروہ عین یانوع موصی کی موت سے پہلے ہلاک ہوگئی تووصیت باطل ہوجائے گی اوراس کے ساتھ وصیت کاحق متعلق نہ ہوگا جیساکہ عالمگیریہ وغیرہ میں ہے کیونکہ وہ شیئ معدوم ہوگئی جس کے ساتھ وصیت متعلق ہوتی پھر کیسے باطل نہ ہوگی اس صورت میں جبکہ سرے سے وہ شیئ پائی ہی نہیں گئی۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۰۶)
مسئلہ ۲۹: سوال دستیاب نہ ہوا۔
الجواب: وصیت زوجہ کے لئے بے اجازت دیگرورثہ نافذنہیں البتہ اگردین مہرواجب الاداہے تو وہ تقسیم ترکہ سے مقدم ہوگا پس برتقدیر عدم موانع ارث ووارث آخر چالیس سہام پر منقسم ہوکر پانچ سہم وکالت بیگم اورچودہ کریم الدین ونصیرالدین اورسات فضیلت بیگم کوملیں گے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۳۰: کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سنو نے اپنی جائداد اپنی زوجہ اگھانی کے ہاتھ بعوض دین مہرکے بیع کی، پھراگھانی ورثہ حسب تفصیل ذیل چھوڑ کرفوت ہوئی، اب سنونے اپنی موت کے دوایک روزپیشتر بحالت علالت ایسی کیفیت میں کہ صاحب فراش ہوگیاتھا اورطاقت نشست وبرخاست نہ رہی تھی اپنی بیٹی معصومہ کے ہاتھ بیع کی اور مرگیا اورباقی ورثہ بیع ثانی کی اجازت نہیں دیتے، اس صورت میں وہ انتقال سنوکاکہ اس نے اپنی زوجہ کے ہاتھ کیا شرعاً صحیح ونافذ ہے یانہیں؟ اوراس انتقال ثانی کاکیاحکم ہے؟ اورترکہ اگھانی کااس کے ورثہ پرکس طرح منقسم ہوگا؟ بینواتوجروا۔
لجواب: سنونے کہ اپنی جائداد بعوض دین مہراپنی زوجہ کے ہاتھ بیع کی اس کی صحت میں شبہہ نہیں، بعد اس انتقال کے اس جائداد کی مالک اگھانی قرارپائے گی اور وہ اسی کاترکہ ٹھہرے گا، پھراس کی وفات کے بعد سنونے جواپناحصہ اپنی بیٹی کے ہاتھ مرض موت میں بیع کیا اورباقی وارث اسے روانہیں رکھتے تو وہ بیع باطل محض ہوگئی اور وہ حصہ بھی حسب فرائض کل ورثہ پرمنقسم ہوجائے گا۔
فی الخانیۃ ومن الموقوف اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جازبیعہ وان مات من ذٰلک المرض ولم یجز الورثۃ بطل البیع۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
خانیہ میں ہے اگرمریض نے مرض الموت میں اپنے کسی وارث کے ہاتھ اپنے مال میں سے کوئی عین شیئ فروخت کی توبیع موقوف رہے گی۔ اگروہ صحت مند ہوگیا تو بیع جائزہوجائے گی۔ اوراگراسی بیماری میں مرگیا اورباقی وارثوں نے اجازت نہ دی تو بیع باطل ہوگی۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیع فصل فی البیع الموقوف نولکشورلکھنؤ ۱ /۳۵۳)
مسئلہ ۱۳۱ :کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ نذرعلی کے تین زوجہ اورتین پسراورتین دختر، زوجہ اولٰی سے ایک پسر ذوالفقارعلی، اور زوجہ ثانیہ سے دوپسر اوردودختر، اور زوجہ ثالثہ سے ایک دختر۔ ذوالفقارعلی نے روبرو شیخ نذرعلی کے انتقال کیا، ایک زوجہ اورایک پسرمحمد باقروارث چھوڑے، شیخ نذرعلی نے اپنی حیات میں روبرو دیگرورثہ کے محمدباقر پسرذوالفقارعلی کوکہ عندالشرع محجوب تھا عوض دین مہراپنی زوجہ یعنی والدہ ذوالفقارعلی کے جوترکہ کہ شیخ ذوالفقارعلی کوبواجب شرع بعد شیخ نذرعلی کے ملتا وہ بنام نہاد محمدباقرکردیا اورجملہ ورثاء نے قبول کرلیا حیات شیخ نذرعلی میں زوجہ اولٰی وثانیہ نے بھی رحلت کی اوربعدانتقال شیخ نذرعلی کے ایک زوجہ کے دوپسرتین دخترایک محمدباقر پسرذوالفقارعلی وارث رہے۔
الجواب: پسرکے لئے وصیت بشرطیکہ پسرموجودنہ ہو جائزہے کہ یہ تقدیر واندازہ ہے نہ وصیت بمال الغیر اذلاحق لابن مات قبل ابیہ فی ترکۃ ابیہ (اس لئے کہ باپ سے پہلے مرجانے والے بیٹے کاباپ کے ترکہ میں کوئی حق نہیں ہوتا۔ت)
اگراپنے بیٹے کے حصے کی وصیت کی تو وصیت باطل ہے۔ اوراگربیٹے کے حصے کے مثل کی وصیت کی توجائزہے، کیونکہ پہلی صورت میں مال غیر کی وصیت ہے کیونکہ بیٹے کاحصہ وہ ہے جو اس کوباپ کی موت کے بعد حاصل ہوگا اور دوسری صورت میں بیٹے کے حصہ کی مثل وصیت ہے اورشیئ کی مثل شیئ کاغیرہوتی ہے اگرچہ شیئ کے ساتھ اس کااندازہ کیاجاتاہے چنانچہ یہ جائزہوگی اھ میں کہتاہوں شارحین نے اس کے ساتھ قید لگائی یہ کہ جب بیٹاموجودہو۔ انہوں نے کہاکہ اگربیٹا موجودنہ ہوتو وصیت صحیح ہوگی۔ اوریہی تفصیل درمختارمیں لائی گئی جس کوہدایہ کے حاشیہ عنایہ، جوہرہ اورشرح التکملہ کی طرف منسوب کیاگیا۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۵۹۔۶۵۸)
(۱؎ البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الوصایا باب الوصیت بثلث المال المکتبۃ الامدایۃ مکۃ المکرمۃ ۴/ ۵۹۹)
(۲؎ الدرالمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲۳)
پس بلاشبہہ یہ تصرف صحیح اوربوجہ قبول محمد باقرنافذہوکر سہام موصی لہا بعد محمدباقرکے اس کے ورثہ شرعی کی طرف منتقل ہوگئے امام النساء ان سے اپنے حصہ کی مالک ہوئی اب کہ بوجہ کبرسن وپیرانہ سال اس کے عقل میں قصور اورحواس میں فتور اس درجہ ہوگیاکہ نجاست وطہارت میں تمیزنہیں کرتی اورقلت فہم و اختلاط کلام وفساد تدبیر اسے لازم، تو وہ معتوہہ ہے اورکل تصرفات قولیہ سے محجورہ۔
قال الفاضل المحقق محمد بن علی بن محمد علاؤالدین الدمشقی الحصکفی فی الدرالمختار فی تفسیر الحجر ھو منع من نفاذ تصرف قولی وسببہ صغر وجنون یعم القوی والضعیف کما فی المعتوہ۳؎اھ ملتقطا، قال شیخہ العلام خیرالملۃ والدین الرملی فی فتاواہ ان کان قلیل الفھم مختلطا فاسد التدبیر لکن لایضرب ولایشتم فھو المعتوہ۴؎ و مثلہ فی العالمگیریۃ وغیرہ۔
اضل محقق محمدبن علی بن محمد علاء الدین دمشقی حصکفی نے حجرکی تفسیرکرتے ہوئے درمختارمیں فرمایاکہ وہ تصرف قولی کو نفاذ سے روکنا ہے اوراس کاسبب نابالغ ہونا اورمجنون ہوناہے، عام ازیں کہ جنون قوی ہو یاضعیف جیساکہ معتوہ میں ہوتاہے الخ التقاط، ان کے شیخ علامہ خیرالدین رملی نے اپنے فتاوی میں فرمایا کہ اگروہ تھوڑی سمجھ والا گفتگو میں خلط ملط کرنے والا اورفاسد تدبیروالا ہے لیکن وہ کسی کو مارتانہیں اورنہ ہی گالیاں دیتاہے تو وہ معتوہ ہے اوراسی کی مثل عالمگیریہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
(۳؎الدرالمختار کتاب الحجر مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۸)
(۴؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الحجر الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۵۴)
پس ایسی حالت میں اگراس نے کسی کے آمادہ کرنے خواہ اپنی خواہش سے وصیت کی توہرگز نافذ نہ قرارپائے گی اورتوریث ترکہ امام النساء حسب بیان مجیب اول ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم۔