Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
71 - 135
البتہ اگروصی یتیم مال یتیم کوان لفظوں سے ہدیہ کردے کہ میں نے یہ چیزتجھے بعوض اتنے مال کے ہدیہ دی اوراس مال کی تعین وتبیین کردے اورمہدی لہ قبول کرے اور وہ یعنی جسے ہدیہ دیاگیا نہ میت کاوارث ہو نہ اس وصی کا ایساقریب کہ اس کی گواہی اس کے لئے جائزنہ ہو یعنی اصول وفروع ماں باپ دادا دادی نانا نانی بیٹا بیٹی پوتا پوتی نواسانواسی، تو یہ صورت جائزہے بشرطیکہ اس میں غبن فاحش نہ ہوکہ ہبہ بالعوض ابتداءً وانتہاءً ہرطرح بیع ہے اوربیع وصی بشرائط مذکورہ روا۔
فی الدر المختار الھبۃ بشرط العوض المعین فھی ھبۃ ابتداء وبیع انتھاء وھذا اذاقال وھبتک علی ان تعوضنی کذا  اما لو قال وھبتک بکذا فھو بیع ابتداء وانتھاء وقید العوض بکونہ معینا لانہ لوکان مجھول بطل اشتراطہ فیکون ھبۃ ابتداء وانتہاء ۱؎اھ ملخصا وفی تنویرالابصار صح بیعہ وشرائہ من اجنبی بما یتغابن الناس ۲؎اھ فی ردالمحتار قولہ من اجنبی ای عن المیت وعن الموصی فلو باع ممن لاتقبل شھادتہ اومن وارث المیّت لایجوز۔۳؎
درمختارمیں ہے جوہبہ عوض معین کی شرط کے ساتھ مشروط ہو وہ ابتداء کے اعتبارسے ہبہ اور انتہاء کے اعتبارسے بیع ہے، یہ اس صورت میں ہے جب واہب یوں کہے میں نے تجھے ہبہ کیا اس شرط پرکہ فلاں چیز مجھے عوض میں دے لیکن اگر یوں کہے کہ میں نے تجھے فلاں چیز کے مقابلے میں ہبہ کیاکہ یہ ابتداء وانتہاء دونوں کے اعتبارسے بیع ہے اورعوض کے ساتھ معین ہونے کی قید اس لئے لگائی کہ اگروہ مجہول ہو توشرط لگانا باطل ہوگیا چنانچہ یہ ابتداء وانتہاء دونوں کے اعتبارسے ہبہ ہوگااھ تلخیص۔ تنویرالابصارمیں ہے اس کی بیع وشراء اجنبی کے ہاتھ اتنے غبن کے ساتھ صحیح ہے جتنالوگوں میں چلتاہےاھ، ردالمحتارمیں ماتن کے قول ''من اجنبی'' کے تحت مذکورہے یعنی وہ میت اوروصی سے اجنبی ہو۔ اگرایسے کے ہاتھ بیچا جس کی شہادت وصی کے حق میں مقبول نہیں یامیت کے وارث کے ہاتھ بیچاتوجائزنہیں(ت)
 (۱؎ الدرالمختار    کتاب الہبہ        باب الرجوع فی الہبہ    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۱۶۴)

(۲؎الدرالمختار   کتاب الوصایا    باب الوصی         مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۳۳۷)

(۳؎ ردالمحتار    کتاب الوصایا    باب الوصی     داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۵۳)
مسئلہ ۱۲۵  : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ محمدیوسف کی حیات میں اس کی زوجہ نے انتقال کیا ایک پسر اورایک دختر وارث چھوڑے، مہراس کا ذمہ محمدیوسف کے رہا، محمدیوسف نے نکاح ثانی کیا،طرفداران زوجہ ثانیہ نے محمدیوسف کے مرض موت میں سب مال واسباب اس کابنام زوجہ ثانیہ محمدیوسف کے لکھواکر رجسٹری کرادی وہ عورت اب اس پرقابض ہے، اس صورت میں شرعاً وہ تحریر محمدیوسف کی بنام زوجہ ثانیہ جائزہے یانہیں اور مہرزوجہ اولٰی کا ترکہ محمدیوسف سے جس پر زوجہ ثانیہ قابض ہے ادا کیاجائے گا یانہیں اوراس کے پسر ودخترکوبھی اس میں سے کچھ ملے گایانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب : وہ عقد کہ محمدیوسف سے اس کے مرض موت میں صادرہواا گرہبہ نہیں توبدون اجازت اوروارثوں کے صحیح نہیں کہ ہبہ مرض موت کا مثل وصیت کے ہے اوروصیت وارث کے لئے وقت وجوددیگرورثہ کے بلااجازت اوروں کے نافذنہیں،
فی فتاوی قاضیخان لان ھبۃ المریض وصیۃ والوصیۃ للوارث باطل۱؎۔
فتاوٰی قاضی خان میں ہے مریض کاہبہ کرنا وصیت ہے اوروارث کے لئے وصیت باطل ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں    کتاب الاقرار    فصل فی اقرارالمریض    نولکشورلکھنؤ    ۳/ ۶۲۴)
اوراگربیع ہے تویاکم قیمت کو ہے پس وراثت سے بغیراجازت اورورثہ کے اتفاقاً یاقیمت مساوی کو ہے تومذہب امام اعظم میں خلافاً للصاحبین جائزنہیں بہرتقدیر جب یہ عقد ناجائزٹھہرا تو اول مہر زوجہ اولٰی اوراسی طرح ثانیہ کا، اگرثابت ہوتوترکہ سے علی السویہ اگربرابرہوں ورنہ رسدی اداکیاجائے گا مابقی برتقدیر عدم موانع ارث وانحصارورثہ فی المذکورین وتقدیم باقی امورمقدمہ علی المیراث کاجراء الوصیۃ واداء الدین چوبیس سہام پرمنقسم ہوکر تین سہام زوجہ ثانیہ کوا ور چودہ پسر اورسات دخترکو پہنچیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۶: (سوال دستیاب نہ ہوا)
الجواب: صورت مسئولہ میں اگرمحب اﷲ کا اپنی بھانجی کے لئے یہ الفاظ کہنا اوروصیت کرناثابت ہوتو درصورت عدم اجازت ورثہ برتقدیر صدق استفتاء وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین بعد ادائے قرض ومہر زوجہ اگر ذمہ محب اﷲ ہوں جومال باقی بچے گا اس کاتہائی جگاکوملے گا اوردوتہائی باقی چارسہام پرمنقسم ہوکر ایک سہم عجوبہ اورتین چھدا کوپہنچیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۷ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی جائداد سے ایک حقیت کی بنام اپنی نواسی سلمٰی بنت لیلٰی اورحقیت اورپانچ روپیہ ماہوار ملاکرنے کی، اپنے پانچ بھتیجوں کے نام وصیت کی، اورایک بیٹی لیلٰی اورپھرپانچ بھتیجے حقیقی اور ایک بھتیجی علاتی اوربھاوج اوربھتیجیاں اورایک بھائی کہ پہلے سے مفقودالخبرہے وارث چھوڑکرانتقال کیا، اس صورت میں ترکہ اس کاشرعاً کس طرح منقسم ہوگا اوربرادر مفقودکے لئے اگرکچھ حصہ امانت رکھاجائے گا تو وہ حصہ اس کی بی بی بیٹی کے قبضہ میں دے دیں گے یا کیا؟بینواتوجروا۔
الجواب: صورت مستفسرہ میں اول ہندہ پرجودین ہو، اداکیاجائے بعدہ جوباقی بچے اس کے تین حصے مساوی کئے جائیں کہ ایک حصہ میں دونوں جائداد موصٰی بہا جن کی وصیت بنام سلمٰی دخترلیلٰی وبنام برادرزادگان ہوئی ہے داخل ہوں اوراس حصہ کانام مثلاً ''ثلث وصیت''رکھیں دوثلث باقیماندہ سے بالفعل ایک ثلث لیلٰی کو دے دیاجائے اس کانام ''ثلث وراثت'' فرض کیجئے تیسراحصہ کہ باقی رہا اسے ''ثلث موقوف'' سے نامزد ٹھہرائیے، اب ثلث وصیت ہے کہ حسب اظہارزبانی سائل ان وصایا کے لئے کافی بلکہ زائد ہے جس قدر جائداد کی وصیت بنام سلمٰی بنت لیلٰی کی ہے بالفعل اس کانصف سلمٰی کودیاجائے باقی کل جائداد تاظہور حیات مفقود کسی ایسے امین دیانتدار کے ہاتھ میں امانت رہے جس طرح کسی طرح اس میں تصرف بے جا اور ایک پیسہ ناحق لینے کاگمان نہ ہو۔
قال العلامۃ البدر العینی رحمۃ اﷲ علیہ فی البنایۃ ویوضع علی یدعدل الٰی ان یظھر المستحق۔۱؎
علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اﷲ علیہ نے کہا بنایہ میں ہے کہ مستحق کے ظاہرہونے تک اس کو کسی عادل کے قبضہ میں رکھ دیاجائے گا۔(ت)
 (۱؎ البنایۃ فی شرح الہدایۃ    کتاب المفقود    المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ    ۲/ ۹۵۱)
ب اس امین کے ہاتھ میں ثلث موقوف توتمام وکمال ہے اورثلث وصیت سے نصف وصیت سلمٰی نکال کرباقیماندہ اس کی امانت میں ہے اس باقیماندہ کی جائداد تین نوع پرہے:

ایک تووصیت سلمٰی کانصف ثانی، اسے حصہ نمبراول کہئے۔

دوسری جائداد وصیت شدہ بنام برادرزادگان، اسے حصہ نمبردوم ٹھہرائیے۔

تیسرے پارہ حال تعیین وصیت ہے، اسے حصہ نمبرسوم قراردیجئے۔

توامانت امین میں چارقسم کی جائداد ہوئی، تینوں حصے یہ اورایک ثلث موقوف بالاشتراک، اب یہ امین فصل بفصل ان چاروں قسم کی جائداد کاحساب دخل وخرج جداجدا تفصیل وارلکھتارہے اورہرحصہ کا خرچ ومالگزاری اسی کی آمدنی سے نکالے جوپس انداز ہو اسے تفریق سے جمع کرتارہے یہاں تک کہ مفقود کا حال ظاہر ہویاشرع اس کے حق میں کچھ حکم فرمائے اورظہور حال مفقود کی نسبت دوصورتیں ہیں:

ایک یہ کہ اس کی زندگی بعد موت ہندہ کے ثابت ہو اگرچہ اس کے بعد ایک آن جی کرانتقال کرگیایااب تک زندہ ہو۔

دوسرایہ کہ ہندہ سے ایک آن پہلے سے اس کی وفات تحقیق ہو اس قدرزمانہ تک اس کاکچھ حال مرنے جینے کانہ کھلے کہ اس کے شہروطن میں اس کے ہمعمروں سے کوئی زندہ نہ رہے اس وقت ایک شخص کو پنچ قراردے کر مقدمہ اس کے حضور پیش کریں اور وہ بوجہ مرور مدت مذکور اس کی موت کاحکم کردے (پچھلی صورت میں) توکچھ وقت نہیں ثلث وصیت کا حصہ نمبراول اورآج تک جو اس حصہ کے واصلات ہوں سب سلمٰی کودے کر اس کی وصیت پوری کردی جائے، اوربھتیجے اس صورت میں بحکم وصیت کچھ نہ پائیں گے کہ جب مفقود کاانتقال ہندہ سے  پہلے ٹھہرا تویہ وارث ہوئے اوروارث کے لئے وصیت بے اجازت دیگرورثہ باطل، پس بعدادائے دین واخراج وصیت سلمٰی جس قدرمتروکہ ہندہ باقی رہے مع ثلث وراثت وثلث موقوف وواصلات حصہ ۲وحصہ۳ وواصلات ثلث موقوف سب برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین دس سہم پرمنقسم ہوکرپانچ سہم لیلٰی اورایک ایک ہربرادرزادہ حقیقی کودیاجائے (اور پہلی صورت پر) یعنی جبکہ بعد ہندہ مفقود کازندہ رہنا ثابت ہو اس تقدیر پرثلث موقوف مع اس کے واصلات کے مفقود یا اس کے ورثہ کو دے دیاجائے اورثلث وراثت تولیلٰی نے پہلے ہی پالیاتھا باقی رہا ثلث وصیت اس میں سے حصہ نمبردوم مع واصلات اوربھتیجوں کودے دیاجائے اورحصہ۱ و۳ بدستورامین کے ہاتھ میں رہیں اوران کی واصلات جمع شدہ سے روزموت ہندہ سے آج تک حساب پانچ روپیہ ماہواری کالگاکر جوروپیہ حساب سے نکلے بھتیجوں کو دیاجائے اور زرواصلات سے جوباقی بچے دست امین میں رہے اورہمیشہ ان دونوں حصص کی توفیر سے پانچ روپیہ ماہوار بھتیجوں کودیاکرے اگرکمی پڑے توواصلات باقیماندہ سے پوراکرے اور بچ رہے تواپنے پاس امانت رکھے  یہاں تک کہ پانچوں اپنی اپنی اجل کو پہنچ کر انتقال کرجائیں اوران میں سے جوگزرتاجائے اس کاحصہ ماہوار اس کے وارثوں کونہ ملے بلکہ وہ پورا پانچ روپیہ مشاہرہ باقیماندہ بھتیجوں میں بٹتارہے یہاں تک کہ اگران میں سے ایک بھی باقی رہے تو وہی پانچ روپیہ بالاستیعاب پاتارہے جب ان میں سے کوئی باقی نہ رہے توحصہ۱ جووصیت سلمٰی میں سے دست امین میں امانت تھا اوراس کے واصلات سے کچھ بچاہو تو وہ بھی سلمٰی کو دے کہ اس کی وصیت پوری کردی جائے اورحصہ۳ مع اس کی واصلات کے اگرکچھ باقی ہولیلٰی ومفقود میں نصف نصف منقسم ہوجائے اس وقت امین کاہاتھ خالی اورہرایک اپنے اپنے حق کوپوراپہنچ جائے گا اوربھاوج بھتیجیاں علاتی بھتیجا ہرصورت میں محروم رہیں گے نہ وہ حصہ جومفقود کے لئے امانت رکھاگیاہے اس کو عورت یادختر اپنے قبضہ میں کرسکتی ہے بلکہ جس طرح ہم نے تفصیل کی اسی طرح امین کے ہاتھ میں رہے گا، یہ ہے حکم شرع کا اورشرع ہی کے لئے حکم ہے
والوجہ فی ذٰلک ان الترکۃ اذا انتظرت مفقود الایعطی منھا احدمن المستحقین ورثۃ کانوا اوموصی لھم الا اقل نصیبہ المتیقن بہ علی کل من حالتی حیاۃ المفقود ومماتہ وامر العصبات اعنی بھم ابناء اخیھا دائربین ان یکون المفقود حیا فیحجبھم ولیستحقوا منہ مااوصی لھم بہ وان یکون میتا فیرثوا فلاتنفذ لھم الوصیۃ من دون اجازۃ الورثۃ الباقین فوصیتھم ووراثتھم کلاھما مشکوک فیھما بالمرۃ فلا یعطوا بالفعل شیئا ولاتسمع دعوی الملک الا بتفسیر السبب والتفسیر غیرممکن فتعین التاخیر۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ترکہ جب مفقود کامنتظرہو تواس میں سے وارثوں اورجن کے لئے وصیت کی گئی ہے کوکچھ نہیں د یاجائے گا مگروہ جومیت کی دوحالتوں یعنی حالت حیات اورحالت ممات میں سے جس حالت میں کمترملتاہے کیونکہ یہ یقینی ہے۔ اورعصبات یعنی بھتیجوں کامعاملہ دوحالتوں کے درمیان دائرہے۔ ایک یہ کہ مفقود زندہ ہو اور ان کے لئے حاجب بنے۔ اس صورت میں ان کو وہ شیئ ملے گی جس کی ان کے حق میں وصیت کی گئی ہے اوردوسری یہ کہ مفقود مردہ ہوتو اس صورت میں وہ وارث بنیں گے اوردیگر وارثوں کی اجازت کے بغیران کے لئے وصیت نافذ نہ ہوگی چنانچہ ان کی وصیت و میراث دونوں یکبارگی مشکوک ہیں لہٰذا انہیں بالفعل کچھ نہیں دیاجائے گا۔ اوران کادعوی ملک مسموع نہ ہوگا جب تک وہ سبب ملک کی تفسیرنہ بیان کریں اورتفسیرممکن نہیں لہٰذا تاخیر متعین ہوگئی۔(ت)
Flag Counter