فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
70 - 135
مسئلہ ۱۲۰: مسئولہ نواب محمدمیاں خاں صاحب ۲۸ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایک موضع کی نسبت وصیت کی کہ میرے باپ کے اورمیرے وقت سے جو جو جس جس کامقرر ہے وہ اس کی توفیر سے ادا ہوتارہے، خالد نے موضع مذکور کاٹھیکہ لیا اورتین برس تک حقوق مستحقین کونگاہ رکھا اب اس نے بالکل بند کرلیا شرعاً خالد کازندہ زید کو ایسااختیار حاصل ہے یانہیں؟ اوروصیت مذکورۃ الصدرشرعاً درست ہے یانہیں؟ بینواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : وصیت جبکہ ثلث کل متروکہ موصی بعدادائے دین سے زائد نہ ہوتو واجب النفاذ ہے وارث بھی اسے بند نہیں کرسکتے نہ کہ کارندہ یاٹھیکیدار توکل موضع مذکور اگرثلث متروکہ زید سے زائد نہیں تو یہ وصیت بتمامہا ہمیشہ نافذ رہے گی۔
فی التنویر تجوز بالثلث للاجنبی وان لم یجز الوارث ذٰلک۱؎اھ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
تنویر میں ہے اجنبی کے لئے ایک تہائی میں وصیت جائزہے اگرچہ وارث اس کی اجازت نہ دے اھ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۷)
مسئلہ ۱۲۱ : ازلکھنؤ محمودنگر اصح المطابع مرسلہ مولوی محمدعبدالعلی صاحب مدراسی ۱۸صفر۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے کچھ روپے اوربعض چیزیں اپنی بہن کو دے کر یہ کہاکہ اسے اپنے پاس رکھو یا تووقتاً فوقتاً ہم لے لیاکریں گے یااگرہمارا انتقال ہوگیا تو تم اس کوہمارے نام پرصدقہ کردینا ہم کو تم سے امیدہے کہ تم ہمارے بعد صدقہ کردوگی بخلاف باپ کے کہ ان سے امیدنہیں اس کے بعد وہ شخص کچھ دن پیچھے مرگیا اب وارث اس کی بی بی اوراس کاباپ ہے توآیا بہن حسب وصیت بھائی کے ان روپوں اورچیزوں کوبلااطلاع ورثہ صدقہ کردے یاورثہ کے حوالے کردے خواہ وہ صدقہ کریں یا نہ کریں مگرامیدصدقہ کی نہیں پائی جاتی۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب: اگر وہ مال کل متروکہ شخص مذکور بعد ادائے مہرودیگر دیون کے ثلث سے زائدنہیں تووصیت بلااجازت ورثہ نافذہ ہے بہن کہ وصیہ ہے بلااطلاع ورثہ صدقہ کرسکتی ہے اوراگرزائد ہے تو صرف قدرثلث تصدق کرسکتی ہے زیادہ میں حاجت اجازت ورثہ ہے اگراجازت نہ دیں قدر زائدانہیں واپس دے اوراگرمہریا اورکوئی دین تمام ترکہ کومحیط ہے تووصیت اصلاً نافذنہیں سب مال دین میں دیاجائے گا مثلاً مورث نے تین سوروپے کامال وصیہ کے پاس رکھوایا اورسات سوروپے کااورمتروکہ ہے اور اس پرمہروغیرہ کوئی دین نہیں توظاہرہے کہ تین سوروپیہ ہزارروپے کے ثلث سے کم ہیں یا اس صورت میں مثلاً سوروپے کامہروغیرہ دین ہے توہزارمیں سے دین کے سو نکل کر نوسورہے یہ تین سوروپے ان کے ثلث سے زائدنہیں ان دونوں صورتوں میں پورا تین سو کامال بہن تصدق کردے اور اگرمہروغیرہ دیون کی مقدارچارسوروپے ہے توبعدادائے دیون چھ سوبچیں گے تین سومیں اس کے ثلث سے سوروپے زائد ہیں لہٰذا دوسوتصدق کرے اورسوکاتصدق اجازت ورثہ پرموقوف ہے اوراگرہزار روپے یا اس سے زائدمقدار مہرودیون ہے توکچھ تصدق نہ کرے سب ان کی ادامیں صرف کیاجائے۔
اوراحکام تمام کے تمام واضح، روشن، معلوم اورفقہ کی عام کتابوں میں موجودہیں۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۲ : ۲۲/صفر۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکے پاس (ماصہ) روپے بکرکے جمع ہیں اوربکر مرگیا اور اس کی وارث ایک بی بی ہے کہ اس نے اب دوسرانکاح کرلیاہے اورایک بھائی حقیقی اوردوبھائی چچازادہیں توہرایک کو اس میں سے کس قدرحصہ ملناچاہئے اورسوائے اس کے ارادہ بکرکاحج کا تھا اورحج اس پرفرض بھی تھا لیکن مرتے وقت کوئی وصیت اس روپے کی بابت نہیں کی تھی سو اس صورت میں زید اگرچاہے تو اس کی طرف سے حج بھی کراسکتاہے یانہیں فقط مکرریہ کہ مرتے وقت بکرکے حواس بھی درست نہیں تھے۔بینواتوجروا۔
الجواب : زید کو اس روپے میں کسی تصرف کا اختیارنہیں کہ وہ امانت دارتھا اب اس امانت کے مالک وارثان بکرہوئے زیدپرواجب ہے کہ سب روپے انہیں واپس دے۔
قال اﷲ تعالٰی ان اﷲ یامرکم ان تؤدوا الامانات الٰی اھلھا۱؎۔
(اﷲ تعالٰی فرماتاہے) بیشک اﷲعزوجل حکم دیتاہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچادو۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴/ ۵۸ )
روپے اور جوکچھ ترکہ بکر ہوبرتقدیر عدم موانعات ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وتقدیم دین ومہرووصیت چارسہم پرمنقسم ہوکرایک سہم اس کی زوجہ اورتین حقیقی بھائی کوپہنچیں گے چچازادبھائیوں کا کچھ حق نہیں، نکاح ثانی کرلینا عورت کے مہر یامیراث کوساقط نہیں کرتا۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۳ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے وقت فوت گواہوں کے روبروکہاکہ میراکچھ قرض میری بہنوں پرآتاہے وہ میں نے بعوض ان کے حصے کے اپنے ترکہ میں معاف کیا اب وارث میری صرف دودختر ہیں،بعدہ چاروں وارث اپنے چھوڑکر فوت ہوا، اس صورت میں ترکہ اس کا کس طرح منقسم ہوگا؟ بینواتوجروا۔
الجواب: تخارج وغیرہ کوئی عقد نسبت ترکہ کہ حیات مورث میں ہو صحیح نہیں تو یہ قول زید کا کأن لم یکن (نہ ہونے کے برابرہے۔ت) اب اگرخواہریں اس کی اس بات پرراضی ہوجائیں کہ بدلہ (عہ) قرضہ کے ترکہ سے دست بردارہوں تو سب ترکہ زید بالمناصفہ اس کے دختروں کوپہنچے گا اورخواہروں کوکچھ نہ ملے گا اوراگرنہ راضی ہوں توکل ترکہ مع اس قرضہ کے جوخواہروں پرہے برتقدصدق مستفتی وعدم موانع ارث و تقدیم امورکا داء الدین واجراء الوصیہ وانحصار ورثہ فی المذکورین چھ سہام پرمنقسم ہوکر دودوسہم دختروں اورایک ایک خواہروں کو ملے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم
عہ: لعل الصواب قرضہ کے بدلہ ۱۲ ازہری غفرلہ
مسئلہ ۱۲۴: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگریتامٰی کے اولیاء واوصیاء ان کے مال سے قدرے شیرینی وغیرہ کوئی چیزہدیۃً کسی کوبھیجیں تو اسے لینا جائزیاناجائز؟ اوراگربغرض تالیف قلوب ومحابت یابجہت قرابت رحمی اس شرط پر لے کہ اتنا ہی یا اس سے زیادہ معاوضہ کروں گا توکیاحکم ہے؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب: وہ ولی جسے مال یتیم میں تصرف جائزہو تین ہیں، باپ کاوصی، دادا اوردادا کاوصی۔ ان کے سوا اوراقارب اگرچہ مادروبرادر وعم وخواہرہوں انہیں راسا تصرف فی المال کااختیارنہیں۔
فی الدرالمختار ولیہ احداربعۃ الاب ثم وصیہ ثم الجد ثم وصیہ۱؎اھ ملخصًا۔
درمختارمیں ہے اس کا ولی چارمیں سے کوئی ایک ہوگا باپ پھر اس کاوصی۔ دادا پھراس کا وصی اھ تلخیص۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الہبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰)
اب رہے اولیائے ثلٰثہ انہیں بھی یہ مجال نہیں کہ مال یتیم کسی کوبخش دیں یاہدیۃً دیں یاکسی طرح کا تبرع اس سے عمل میں لائیں، نہ مہدی الیہ یاموہوب لہ کو اس کالیناجائز، اگرچہ ہزار قرابت رحمی رکھتایا تالیف ومحابت کاقصدکرتاہو۔
قال تبارک وتعالٰی ان الذین یاکلون اموال الیتامٰی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا وسیصلون سعیراo۲؎
(اﷲ تبارک وتعالٰی نے فرمایا) جولوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں یونہی ہے کہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں اورجلدپیٹھیں گے دہکتی آگ میں(ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۰)
اورشرط عوض بھی کچھ نافع نہیں کہ ہبہ بشرط العوض اگرچہ انجام میں بیع ہوجاتی ہے مگرابتداءً ہبہ ہے اور وہ یہاں محض ناجائز، یہاں تک کہ ہمارے امام کے نزدیک باپ کو بھی اختیارنہیں کہ اپنے نابالغ بچہ کامال بشرط عوض کسی کو دے۔
فی الدرالمختار من الھبۃ عن الخانیۃ لایجوز ان یھب شیئا من مال طفلہ ولوبعوض لانھا تبرع ۳؎ وفیہ ایضا لایخفی ان ماھو تبرع ابتداء ضارفلا یصح باذن ولی الصغیرکقرض۴؎اھ۔
درمختار کے باب الہبہ میں خانیہ سے منقو ل ہے کہ باپ کو یہ جائزنہیں کہ اپنے نابالغ لڑکے کے مال سے کچھ ہبہ کرے اگرچہ اس پرکچھ بھی لے کیونکہ یہ تبرع ہے۔ اسی میں یہ بھی ہے پوشیدہ نہ رہے کہ جو ابتداء کے اعتبارسے تبرع ہو وہ مضرہے چنانچہ ولی صغیر کی اجازت سے صحیح نہیں ہوسکتا جیسے قرض اھ(ت)
(۳؎ الدرالمختار کتاب الہبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰)
(۴؎الدرالمختار کتاب الماذون مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳)