فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
69 - 135
وفیہ اذا اوصی بالزیادۃ علی الثلث اولقاتلہ اولوراثہ فاجازتھا الورثۃ حیث لایکون لھم المنع بعد الاجازۃ بل یجبرواعلی التسلیم لما تقرر ان المجاز لہ یتملکہ من قبل الموصی عندنا وعند الشافعی من قبل المجیز۱؎اھ وفیہ وبجزء او سھم من مالہ فالبیان الی الورثۃ یقال لھم اعطوہ ماشئتم اھ ۲
اسی میں ہے کہ جب ایک تہائی سے زائد کی وصیت کی یا اپنے قاتل کے لئے وصیت کی یااپنے کسی وارث کے لئے وصیت کی اوردوسرے وارثوں نے اس کی اجازت دے دی، تو اب ان وارثوں کو اجازت دینے کے بعد روکنے کااختیارنہیں، بلکہ اس کو سونپنے پروہ مجبور کئے جائیں گے کیونکہ یہ بات ثابت ہوچکی کہ جس کے لئے اجازت دی گئی ہمارے نزدیک وہ وصیت کرنے والے کی طرف سے مالک بنتاہے اورامام شافعی کے نزدیک اجازت دینے والے کی طرف سے اھ، اوراسی میں ہے کہ اپنے مال کی ایک جزء یاایک حصہ کی وصیت کی تو اس کابیان وارثوں کے سپردہوگا ان کو کہاجائے گا کہ جو حصہ چاہو اس کو دے دواھ۔ 000
(۱؎ الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷۔۳۲۶)
(۲؎الدرالمختار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲۴)
ردالمحتارمیں ہے اسی کی مثل حکم ہوگا اگرمرنے والے نے اپنے مال میں کسی حظ، شقص، نصیب یا بعض کی وصیت کی، جوھرہ الخ۔ درمختارمیں ہے ایک تہائی مال سے کمتر میں وصیت کرنا مستحب ہے اگرچہ وہ وصیت وارثوں کی مالداری کے ساتھ ہو یا میراث کے حصوں کی وجہ سے ان کو استغناء حاصل ہورہاہو جیساکہ وارثوں کے مالدارنہ ہونے اورمیراث کے حصوں کے سبب مستغنی نہ ہونے کی صورت میں وصیت کو ترک کرنا مستحب ہے کیونکہ اس صورت میں ترک وصیت صلہ رحمی اورصدقہ ہےاھ۔
(۳؎ ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ بثلث المال داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۲۹)
(۴؎ الدرالمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۸)
فی ردالمحتار صیرورتھم اغنیاء بان یرث کل منھم اربعۃ اٰلاف درھم علی ماروی عن الامام اویرث عشرۃ الآف درھم علی ماروی عن الفضلی القھستانی عن الظھیریۃ واقتصر الاتقانی علی الاول۱؎اھ وفی الدر وللموصٰی الرجوع عنھا بقول صریح او فعل۲؎ الخ وفی الطحطاوی علی الدرالتجھیز لایدخل السبح والصمدیۃ والجمع والموائد لان ذٰلک لیس من الامور اللازمۃ۳؎الخ۔
ردالمحتارمیں ہے ان کے غنی ہونے کی صورت یہ ہوگی کہ ہرایک ان میں سے چارہزار درہم کا وارث بنے جیساکہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ سے منقول ہے، یادس ہزار درہم کاوارث بنے جیساکہ امام فضلی قہستانی سے بحوالہ ظہیریہ منقول ہے، اتقانی نے قول اول پراقتصارکیااھ۔ درمختارمیں ہے کہ موصی کو وصیت سے رجوع کااختیارہے چاہے صریح قول کے ساتھ رجوع کرے یافعل کے ساتھ الخ۔ درمختارکے حاشیہ طحطاوی میں ہے کہ دعاودرود، ختم قل وچہلم، لوگوں کااجتماع اورکھانے کااہتمام وغیرہ تجہیزمیں داخل نہیں کیونکہ یہ امورلازمہ میں سے نہیں الخ۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۱۸)
(۲؎ الدرالمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۹)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۴/ ۳۶۷)
ان سب مسائل مذکورہ کے بعد جو متروکہ ہندہ ٹھہرے بعد خرچ تجہیزوتکفین وادائے دین واجزائے وصیت برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین اٹھارہ سہام پرمنقسم ہوکرتین سہم مادراورنودختر اوردودوہربرادر کوملیں گے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۷ : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ مری اس نے اپنی حیات میں وصیت کی کہ میراجوکچھ ہے وہ سب راہ خدا یعنی تعمیرمسجد وغیرہ میں خرچ کیاجائے۔ اب ازروئے شرع کے جو حکم ہو وہ کیاجائے اوراس کے وارثوں میں ایک زوج اوردودختر اورماں باپ اورایک برادر اورایک ہمشیرہ اس نے چھوڑی اورزیور ساختہ زوج کا وہ زوج کے پاس ہے کس کا حق قرارپائے گا۔ بیّنواتوجروا۔
الجواب: سائل مظہرکہ اُن وارثوں میں دونوں لڑکیاں نابالغہ ہیں اورزیور کہ زوج نے بنایا صرف پہننے کو دیاتھا عورت کو ہبہ نہ کیاتھا، وہاں تملیک کاعرف ہے، بلکہ یونہی پہننے کوبنادیتے ہیں۔ پس صورت مستفسرہ میں اگرسب بیان واقعی ہیں توزیورساختہ زوج ملک زوج ہے اس میں ورثہ زوجہ کاکچھ حق نہیں اورمتروکہ عورت سے اگراس پرکوئی دین ہواداکیاجائے اس کے بعد جوباقی بچے اس کا ایک ثلث تعمیرمسجد وغیرہ میں حسب وصیت صَرف کردیں اگرچہ ورثہ راضی نہ ہوں دوثلث کہ باقی رہے اس کی تقسیم برتقدیر عدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین پندرہ سہام میں سے زوج کے تین ماں باپ کے دودو، ہردختر کے چارچار اوربرادر وخواھر کاکچھ نہیں پھرایک ثلث میں وصیت نافذ کرنے کے بعد دوثلث باقی ماندہ سے دونوں بیٹیوں کاحصہ توضرورہے دیاجائے گا کہ بوجہ نابالغی ان کے حق میں وصیت کسی طرح عمل نہیں کرسکتی باقی تینوں وارثوں میں جوشخص وصیت کی اجازت نہ دے اس کاحصہ اسے دیاجائے گا اورجو جائزرکھے اس کاحصہ بھی وصیت کے مطابق صَرف کردیاجائے گا، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۸ : ۱۰جمادی الاولٰی ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی محبوب علی نے اپنی حالت صحت ونفاذ تصرفات میں اپنی جائداد مملوکہ مقبوضہ اپنی زوجہ ہندہ کے نام بعوض اس کے دین مہرکے منتقل کردی بعدہ محبوب علی کاانتقال ہوا، اب ہندہ نے ایسی حالت میں کہ اسے مرض فالج ہوچکاتھا جسے ایک سال سے زائد گزرا اوراب کوئی حالت اس کی ترقی روزانہ اوراس سے غلبہ خوف ہلاک کی نہ تھی بلکہ مزمن ہوچکاتھا وہ جائداد اپنے شوہر کے بھانجے کو اس کے حسن خدمت کے صلہ میں ہبہ کی اورشرعی اورنیز قانونی تکمیل کردی، ہندہ ہنوززندہ ہے، اب زید کہ محبوب علی کے چچاکی اولاد میں اور اس کاعصبہ ہے اس ہبہ پر فرض ہوتا اور جائداد میں اپنا حصہ بتاتاہے اس صورت میں اس کایہ دعوٰی مسموع اورہبہ مذکورہ باطل ومرفوع ہوگا یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب: صورت مستفسرہ میں ہبہ مذکورہ تام وکامل اوردعوی زیدنامسموع وباطل، محبوب علی نے جو جائداد اپنی صحت میں اپنی زوجہ کوبعوض دین مہردے دی محبوب علی وورثہ محبوب علی کو اس سے کچھ تعلق نہ رہا، ہندہ اس کی مالک مستقل ہوگئی مالک کو اختیارہے کہ اپنی صحت میں اپنا مال جسے چاہے دے دے کسی کو اس پراعتراض نہیں پہنچتا، زیداگرچہ بذریعہ وراثت محبوب علی مدعی ہے تووراثت محبوب علی کومال ہندہ سے کیاعلاقہ، اوراگر وہ ہندہ کابھی وارث شرعی اوراس بناپر مدعی ہے تاہم حیات مورث میں دعوی وراثت کیامعنی، ہاں اگرکوئی شخص مرض موت میں اپنا مال کسی کو ہبہ کرے تو وہ ہبہ بمنزلہ وصیت ہوتاہے جس کااثر یہ کہ بعد موت واہب اس کے ورثہ کوثلث کو کل متروکہ واہب کے لحاظ سے اگرہبہ میں کچھ زیادت ہوئی ہو تو صرف اس مقدار زائد میں اختیار اعتراض ہے زندگی واہب میں یہ اعتراض بھی نہیں پہنچتا کہ ابھی اس مرض کا مرض ہونا ہی معلوم نہیں، کیامعلوم کہ شفاہوجائے تومرض موت نہ رہے کہ مرض موت تو وہ مرض مہلک ہے جس میں موت واقع ہوجائے معہذا حیات مورث میں اس کے ثلث مال کی تعیین بھی ناممکن جس سے خیال کرسکیں کہ یہ ہبہ اس حد کے اندریا اس سے زائدہے، کیامعلوم کہ جو مال اب ہے اس سے زائد اسے کسی وجہ سے اورحاصل ہوجائے کہ جسے اس وقت ثلث سے زائد تصورکرتے ہیں ثلث سے کم رہ جائے، پھرہندہ کامرض مذکور کومرض موت کی اصل جنس ہی سے خارج کہ جو مرض مزمن ہوجائے وہ مرض موت نہیں رہتا اگرچہ اس میں موت واقع ہو۔ بالجملہ دعوی زیداصلاً کسی طرح کوئی وجہ صحت نہیں رکھتا۔
درمختار کتاب الاقرارمیں ہے:
تصرفات المریض نافذۃ وانما تنقض بعد الموت۱؎۔
مریض کے تصرفات نافذ ہوتے ہیں البتہ موت کے بعدوہ ختم ہوجاتے ہیں(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الاقرار باب القرار المریض مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۳۷)
ہدایہ میں ہے:
لامعتبر باجازتھم فی حال حیاتہ لانھا قبل ثبوت الحق اذالحق یثبت عندالموت۲؎۔
موصی کی زندگی میں وارثوں کی اجازت معتبرنہیں کیونکہ یہ ثبوت حق سے قبل ہوئی اس لئے کہ وارثوں کاحق تو موت کے وقت ثابت ہوتاہے(ت)
(۲؎ الہدایۃ کتاب الوصایا مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱)
عالمگیری میں ہے:
یعتبر کونہ وارثا اوغیروارث وقت الموت لاوقت الوصیۃ۳؎۔
وارث ہونے یانہ ہونے کا اعتبار موت کے وقت ہوتاہے نہ کہ وصیت کے وقت(ت)
ھبۃ مقعد وفالج ومسلول من کل مالہ ان طالت مدتہ سنۃ ولم یخف موتہ منہ لانھا امراض مزمنۃ۱؎اھ ملخصًا
مقعد، مفلوج اورسِل کے مریض کا ہبہ کاکل مال میں نافذ ہوتاہے جبکہ بیماری سال تک لمبی ہوگئی اور موت کا خوف اس بیماری سے نہ رہا ہو کیونکہ یہ لمبی بیماریاں ہیں اھ تلخیص(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الوصایا نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۲۰)
ردالمحتارمیں ہے:
المراد من الخوف الغالب منہ لانفس الخوف کفایۃ۲؎۔
خوف سے مراد خوف کاغالب ہونا ہے نہ کہ نفس خوف، کفایۃ(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۲۳)
اسی میں ہے:
المانع من التصرف مرض الموت وھو مایکون سببا للموت غالبا وانما یکون کذٰلک اذاکان بحیث یزداد حالا فحالا الی ان یکون اٰخرہ الموت۳؎۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
تصرف سے مانع مرض الموت ہے اور وہ غالباً موت کاسبب ہوتی ہے۔ اور بیشک ایسااس لئے ہوتاہے کہ بیماری دن بدن بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انتہاء موت پرہوتی ہے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)
(۳؎ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۲۳)
مسئلہ ۱۱۹ : ۲۲/رمضان المبارک ۱۳۱۲ھ مرسلہ جمیل احمد صاحب پیلی بھیت محلہ پکریا
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد سے بقیدحیات اپنے عمرو کے واسطے اوربعدانتقال عمرو کی زوجہ کے واسطے مبلغ دوروپیہ مشاہرہ مقررکیاتھا بقضائے الٰہی زیداورعمرو نے انتقال کیا اورزوجہ عمرومتوفی موجودہے اس حالت میں زوجہ مذکورہ اس مشاہرہ مقررہ کی جوزید نے یعنی بقیدحیات مقررکیاتھا شرعاً ورثاء زیدسے مستحق پانے کی ہے یانہیں؟
الجواب : سائل مظہرکہ بعد انتقال سے مراد بعد انتقال عمروہے تویہ وصیت نہ ہوئی فان الوصیت انما تکون مضافۃ الی مابعد الموت (کیونکہ وصیت تو موت کے مابعد کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ت) بلکہ صرف اپنی زندگی تک ایک تبرع کاوعدہ تھا ولاجبر علی تبرع ولاعلی وفاء وعد (تبرع اور وعدہ پوراکرنے پرجبرنہیں ہوتا۔ت) اورسائل مظہر کہ زیدنے اپنی حیات تک وعدہ وفابھی کیا انتقال عمرو سے پیشترہوا، غرض صورت مذکورہ میں خواہ وفائے وعدہ ہوایانہ ہوا زوجہ عمرو اس مشاہرہ کامطالبہ نہ ورثائے زید سے کرسکتی ہے نہ ترکہ زیدسے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔