Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
68 - 135
مسئلہ ۱۱۶  : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے بحالت شدت مرض میں کہ امیدحیات قطع ہوچکی تھی اورطاقت حس وحرکت بالکل نہ تھی مگرہوش وحواس باقی تھے ایک دستاویز ہبہ نامہ اپنی دخترکے نام اس طورپرلکھی کہ اس میں ایک دکان خاص اپنی مملوکہ اورایک مکان کہ واقع میں مملوک دخترہی تھاشامل اوراسی حالت میں ایک حویلی اپنی ماں کوبقدرسہام شرعی اس کے لائق ہوگی ہبہ لکھ دی اورزرثمن معاف کردیا اوراپنے خرچ دفن کے لئے تیس روپیہ اپنی بیٹی کے سپردکردئیے اوروصیت کردی کہ یہ روپے میری تجہیزوتکفین میں خرچ کرنا اگرزیادہ ضرورت ہوتو میرے زیور سے کوئی چیزبیع کرڈالنا اورایک دکان جومیرے مال سے باقی ہے اس میں سے ڈائی سوروپے جومجھ پرقرض ہیں اداکرنا اورکچھ مسجد وغیرہ میں خرچ کرنا اورمیرے بھائیوں کودینا اس وقت کسی شخص نے کہا تمہارے بھائی مسکین ہیں اورحاجتمندہیں ان کاحق پوراداکرنا خرچ مسجدوغیرہ سے اولٰی ہے توکہا جوشریعت سے ہو اوربہتر ہو بعدہ ہندہ نے ایک دختر اورتین برادرحقیقی اورماں چھوڑکرانتقال کیا اس صورت میں اشیائے منقولہ وغیرمنقولہ کس طرح تقسیم ہوں گی اورہرایک کوکتناکتناپہنچے گا اوروہ دستاویز جائزیاناجائزاوربھائیوں کاحق پورا دیاجائے گا یانہ اورخرچ تجہیزوتکفین میں کیاداخل ہے؟ بینواتوجروا۔
الجواب : سائل مظہرکہ ہندہ نے اسی حالت میں دوایک روزبعد وفات پائی توصورت مستفسرہ میں وہ مرض بلاشبہہ مرض الموت تھا،
فی الدرالمختار قیل مرض الموت ان لایخرج لحوائج نفسہ وعلیہ اعتمد فی التجرید بزازیۃ والمختار انہ ماکان الغالب منہ الموت وان لم یکن صاحب فراش قھستانی عن ھبۃ الذخیرۃ۱؎۔
درمختارمیں ہے کہاگیاہے کہ مرض الموت یہ ہے کہ مریض اپنی حاجتوں کے لئے گھرسے نہ نکل سکے، اسی پراعتماد کیاہے تجرید میں (بزازیہ)، اورمختاریہ ہے کہ اس کے سبب سے غالب موت ہو اگرچہ وہ صاحب فراش نہ ہو اور یہ بات قہستانی نے ذخیرہ کے باب الہبہ سے نقل کی۔(ت)
(۱؎ الدرالمختارکتاب الوصایا        مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲۰)
اگرچہ ہوش وحواس بالکل صحیح ہوں کہ اختلال کچھ مرض الموت کے لئے شرط نہیں،
والالم تکن تبرعاتہ نافذۃ فی الثلث موقوفۃ فی الزائد مثلاً بل بطلت عن اٰخرھا کمالایخفٰی۔
ورنہ یوں نہ ہوگا کہ اس کے تبرعات ایک تہائی میں نافذہوں اور اس سے زائدمیں موقوف ہوں، بلکہ یہ وصیت سرے سے ہی باطل ہوگی جیساکہ پوشیدہ نہیں۔(ت)

پس ہندہ نے جومال اپنااپنی دخترکو ہبہ کیابشرطیکہ اپنی زندگی میں دخترکا قبضہ کاملہ کرادیا ہو اورجوکچھ اپنی ماں کے ہاتھ بیچا اور وہ زرثمن کہ ماں کو معاف کیا اوردکان باقیماندہ سے بعد ادائے قرض جوبھائیوں کوکچھ دیناکہاچاروں تصرف اجازت باقی ورثہ پرموقوف ہیں ہبہ بنام دختر میں مادروبرادران کی اجازت درکارہے اوربیع وہبہ ثمن بنام مادرمیں دختروبرادران اوربھائیوں کوکچھ دینے کے باب میں مادرودخترکی اجازت چاہئے جس تصرف کوباقی سب ورثہ جائزرکھیں گے بشرطیکہ وہ عاقل بالغ ہوں پورانافذہوجائے گا جیسے باقی ورثہ سے کوئی اجازت نہ دے بالکل باطل ہوجائے گا اورجسے بعض اجازت دیں بعض نہ دیں تو صرف اجازت دہندہ عاقل بالغ کے حصہ میں نفاذ پائے گا باقی کے حصہ میں باطل وبے اثرہوگا توجس چیزمیں باقی سب ورثہ کی اجازت معتبرشرعیہ ہوگئی وہ تمام وکمال اسی کو ملے گی جس کے نام ہندہ نے کردی دوسری کے ورثہ اس میں سے اصلا حصہ نہ پائیں گے اورکسی کی اجازت نہ ہوئی تو وہ کل ترکہ میں شامل کی جائے گی اوربعض کی ہوئی اوربعض کی نہ ہوئی تواجازت نہ دینے والے اس میں سے حصہ پائیں گے اوردینے والوں کاحصہ اسے جس کے نام وہ چیزکی گئی تھی اوربھائیوں کے نام وصیت میں کچھ دینا ہے جس کی مقدار ہندہ نے معین نہ کی تو ان کی تعین مقدار مادرودخترکے متعلق ہوگی اگردونوں اس وصیت کوجائزرکھیں تودونوں سے کہاجائے گا تواپنے حصہ سے جومناسب سمجھے بنام وصیت انہیں دے، اوران سب صورتوں میں اجازت وہ معتبرہوگی جو بعد موت ہندہ واقع ہوئی مثلاً حیات ہندہ میں کسی تصرف کوکوئی وارث تسلیم کرچکاتھا اس کی موت کے بعد اب جائزنہیں رکھتا تو وہ اجازت نہ دیناہی ٹھہرے گا مگربعدموت اجازت دے کرپھرنے کاکسی کواختیارنہیں مثلا موت ہندہ پرکسی وارث نے ان میں سے کسی تصرف کی اجازت دے دی تو اس کی طرف سے اجازت ہوگئی اوراس کے حق میں نافذ ہوچکااب اس سے رجوع نہیں کرسکتا۔ رہی مسجد وغیرہ کے لئے وصیت جبکہ ہندہ نے اسے قائم نہ رکھا بلکہ کہہ دیاجو شریعت میں بہتر ہوتوحکم شرع یہ ہے کہ تہائی مال سے کم کی وصیت اگرچہ مستحب ہے مگرجب ورثہ محتاج ہوں اورانہیں اس کے متروکہ سے ہرایک کواتنانہ پہنچتاہوجو اسے غنی کردے تووصیت کا ترک ہی اولٰی ہے، اورغنی ہونے کی مقدار یہ ہے کہ ہروارث محتاج کو کم سے کم چارہزاردرہم کے قدر مال پہنچے جویہاں کے روپے سے گیارہ سو بیس روپے ہوتے ہیں پس اگرہندہ کامل جوشرعاً بعد لحاظ مسائل مذکورہ بالا اس کاترکہ قرارپائے بعد ادائے دین واخراج وصیت دس ہزاراسی روپے کی مالیت کا رہے تو وصیت بنام مسجد وغیرہ نافذ کی جائے گی اوراس کے مقدار کابیان پانچوں وارثوں کے متعلق ہوگا جوان کاجی چاہے دے دیں جب اتنی مالیت قابل تقسیم ورثہ رہے توہربھائی کو گیارہ سوبیس کاپہنچے گا جواسے غنی کردے گا اورایسی حالت میں وصیت افضل ہے اوراگراتنی مالیت نہ بچے تو وصیت بنام مسجد وغیرہ منسوخ ہوگئی کہ اس صورت میں افضل ترک وصیت ہے اورتجہیزوتکفین سے مصارف غسل وکفن ودفن بقدرسنت مراد ہیں فاتحہ درود کے خرچ اس میں شامل نہیں،
فی الدرالمختار اعتاقہ ومحاباتہ وھبتہ و وقفہ وضمانہ کل ذٰلک حکمہ کحکم وصیۃ۱؎اھ
درمختارمیں ہے مریض کاآزادکرنا، بیع میں سہولت برتنا، ہبہ کرنا، وقف کرنا اوراس کاضامن ہونا ان میں سے ہرایک کاحکم وصیت کے حکم کی طرح ہےاھ
 (۱؎ الدرالمختار  کتاب الوصایا  باب العتق فی المرض  مطبع مجتبائی دہلی  ۲/ ۳۲۷)
فی ردالمحتار قولہ ھبتہ اما اذا مات ولم یقبض فتبطل الوصیۃ لان ھبۃ المریض ھبۃ حقیقۃ وان کانت وصیۃ حکما کما صرح بہ قاضیخاں وغیرہ عن المکی۱؎اھ۔
ردالمحتارمیں ہے کہ ماتن کاقول ''اس کاہبہ کرنا'' اس کامطلب یہ ہے کہ موت سے پہلے اس پرقبضہ ہوجائے، لیکن اگروہ مرگیا اورقبضہ نہ کیا تووصیت باطل ہوجائے گی کیونکہ مریض کاہبہ درحقیقت ہبہ ہے اگرچہ حکماً وصیت ہے جیساکہ قاضیخان وغیرہ نے مکی کے حوالے سے اس کی تصریح کی الخ۔
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الوصایا    باب العتق فی المرض    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۴۳۵)
وفی الدرلالوارثہ الاباجازۃ ورثتہ وھم کبار عقلاء فلم تجز اجازۃ صغیرومجنون ولواجاز البعض وردالبعض جاز علی المجیز بقدرحصتہ۲؎اھ وفیہ وقف بیع المریض لوارثہ علی اجازۃ الباقی۳؎
درمختارمیں ہے کسی وارث کے لئے وصیت جائزنہیں سوائے دوسرے وارثوں کی اجازت کے اس حال میں کہ وہ بالغ اورعاقل ہوں، لہٰذا نابالغ اورمجنون کی اجازت جائزنہیں۔ اگربعض وارثوں نے اجازت دی اوربعض نے رَد کردیا اجازت دینے والے پر اس کے حصہ کے برابر جائزہے اھ اسی میں ہے کہ مریض کی بیع کسی وارث کے لئے باقی وارثوں کی اجازت پر موقوف ہوگی،
 (۲؎ الدرالمختار           کتاب الوصایا     مطبع مجتبائی     ۲/ ۳۱۹)

(۳؎الدرالمختار     کتاب البیوع    فصل فی الفضولی    مطبع مجتبائی   ۲/ ۳۲)
وفی ردالمحتار ولوبمثل القیمۃ وان مات منہ و لم تجزالورثۃ بطل فتح۴؎اھ، وفی الدر ولاتعتبر اجازتھم حال حیاتہ اصلا بل بعد وفاتہ۵؎اھ
ردالمحتارمیں ہے اگرچہ مثلی قیمت کے ساتھ ہو، اگروہ مرگیا اوروارثوں نے اجازت نہیں دی تو وہ بیع باطل ہوگئی، فتح اھ۔ درمختارمیں ہے کہ اس کی زندگی میں وارثوں کی اجازت بالکل معتبرنہیں بلکہ اس کی وفات کے بعداھ
 (۴؎ ردالمحتار    کتاب البیوع    فصل فی الفضولی    داراحیاء التراث العربی ۴/ ۱۳۹)

(۵؎ الدرالمختار            کتاب الوصایا    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۳۱۷)
Flag Counter