Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
67 - 135
مسئلہ ۱۱۴:  ازوطن مرسلہ نواب مولوی سلطان علی خان صاحب     ۲رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ
چہ می فرمایند علماء رحمہم اﷲ تعالٰی دروصیت مطلقہ موصی لہم مردوزن باشند تقسیم برایشاں مساوی شودیاللذکرضعف الانثی۔
کیافرماتے ہیں علماء کرام رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم وصیت مطلقہ کے بارے میں جومردوں اورعورتوں کیلئے کی گئی، تو کیاان سب پربرابرتقسیم ہوگی یامذکر کے لئے مؤنث سے دگناہوگا؟
الجواب : چوں صراحۃً واشارۃً بہیچ گونہ تفصیل وتفضیل احدالنوعین علی الآخرمستفاد نباشد بہرہرہمہ علی السویہ بخش کنند لعدم الفضل بعدم  الفصل پس اگرمثلاً برائے اولاد زیدوصیت کند پسران ودختران ہمہ برابر باشند واگربرائے ورثہ زید پس للذکر مثل حظ الانثیین زیراکہ تعبیر بلفظ ورثہ دلیل است برآنکہ حیثیت وراثت او ملحوظ داشتہ پس ہم بحساب وراثت خواہند یافت وتمامہ فی ردالمحتار۱؎ من الوصیۃ للاقارب۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب صراحۃً اوراشارۃً کسی قسم کی تفصیل موجودنہیں اورنہ ہی ایک نوع کی دوسری نوع پرکوئی فضیلت سمجھی جارہی ہے، لہذا ہرایک کوبرابربرابر حصہ دیں گے کیونکہ فرق نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ہوگی، لہٰذا مثال کے طورپر اگرزید کی اولاد کے لئے وصیت کرے اس میں بیٹے اور بیٹیاں سب برابرہوں گے، اوراگرزید کے ورثاء کے لئے وصیت کرے اس صورت میں مذکرکاحصہ دومؤنثوں کے حصہ کے برابرہوگا اس لئے کہ لفظ ورثاء کے ساتھ تعبیر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس نے وراثت کی حیثیت کو ملحوظ رکھاہے۔ چنانچہ وہ وراثت کے حساب سے حصہ پائیں گے۔ پوری تفصیل ردالمحتارکے باب الوصیت للاقارب میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الوصایا    باب الوصیۃ للاقارب    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۴۳۸)
مسئلہ ۱۱۵ :    ازمیرٹھ بازارلال کرتی مرسلہ جناب مولوی محمدعبدالسمیع صاحب ۴/رمضان مبارک ۱۳۱۰ھ

بخدمت شریف مخدوم ومکرم محقق ومدقق جناب مولانا محمداحمدرضا خاں صاحب ادام اﷲ فیوضہ وبرکاتہ وضاعف اجورہ وحسناتہ، بعد اتحاف ہدیہ سلام مرفوع برائے خورشیدانجلائے باد،اس مسئلہ میں آپ کی رائے دریافت کی جاتی ہے کہ ایک عورت نے وصیت کی تھی کہ ایک شخص کو کہ یہ سوپچاس روپیہ میراہے اس کایہ بندوبست کیجیوکہ جب کوئی موسم کامیوہ چلاکرے میری فاتحہ اس پر دلاکرتقسیم کردیاکرو، وصی نے ایساہی کیا، لیکن ایسابھی کیاکہ اس مال مذکورسے کوئی کتاب دینی غریب طالب علم کو دلوادی، اوریہ بھی کیاکہ دہم وچہلم کی تواریخ معینہ میں مساکین کوکھانا کھلادیا فاتحہ دلاکر، اورایک دوخرچ ایسے کئے کہ اس عورت کے مرنے کی خبرسن کرجودوایک جگہ سے آدمی آئے تھے اوراس عورت کاکوئی ولی نہ تھا جو ان کی مہمانی کرتا، ان کی مہمانی میں بھی روپیہ مذکورہ سے کچھ صرف ہوا، اب یہ سب اخراجات بقیاس قاعدہ نذرکا اس میں تعین زمان ومکان ومال وانفاق کی قید پرنظررکھناواجب نہیں ہے جائزہوئی یانہیں۔ وصی نے ان سب کومصرف خیرسمجھ کو صرف کردیاکہ مقصود فاتحہ میوہ جات سے ایصال ثواب ہے ایصال ثواب ہوگیا اب جودس بیس روپیہ باقی ہے اس کاارادہ ہے کہ مدرسہ میں دے دوں،اب آپ اپنی رائے سے مطلع فرمائیں میرارجحان توجواز کی طرف ہوتاہے۔
الجواب : رائے سامی قرین صواب ہے اس لفظ میں کہ تقسیم کردیا کیجونہ کسی قوم محصورین کے لئے وصیت ہے نہ لفظ منبیئ حاجت توظاہر بطلان وصیت،
کما ھو مقتضی الضابطۃ المعروفۃ فی الوصایاقال فی الدرالمختار والاصل ان الوصیۃ متی وقعت باسم ینبیئ عن الحاجۃ کایتام بنی فلان تصح وان لم یحصوا علی مامرلوقوعھا ﷲ تعالٰی وھو معلوم وان کان لاینبیئ عن الحاجۃ فان احصوا صحت ویجعل تملیکا والا بطلت وتمامہ فی الاختیار۔۱؎
جیساکہ وصیتوں کے بارے میں معروف ضابطہ کاتقاضا ہے، درمختارمیں فرمایاضابطہ یہ ہے کہ وصیت جب ایسے اسم کے ساتھ واقع ہوجوحاجت کی خبردے جیساکہ فلاں قبیلے کے یتیموں کے لئے، تویہ وصیت صحیح ہوگی اگرچہ جن کے بارے میں وصیت کی گئی وہ غیر منحصر ہوں، جیساکہ گزرچکا، کیونکہ یہ وصیت اﷲ تعالٰی کے لئے واقع ہوئی، اوریہ معلوم ہے، اگروصیت ایسے اسم کے ساتھ واقع ہو جوحاجت کی خبرنہ دیتاہوتو اس صورت میں جن کے لئے وصیت کی گئی اگر وہ منحصرہیں تووصیت صحیح ہوگی اوراس وصیت کوتملیک قراردیاجائے گا اوراگروہ منحصر نہیں تو وصیت باطل ہوگی، اس کی پوری تفصیل اختیارمیں ہے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار    کتاب الوصایا    باب الوصیۃ للاقارب الخ    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۳۳۰)
مگراس کاکہنا ''میری فاتحہ دلاکر'' یہ بتارہاہے کہ تقسیم مساکین پرمقصود تولفظ میں اشعار بحاحت وقربت موجود گویا یوں کہاکہ ہرموسم میں اس کامیوہ خریدکرلوجہ اﷲ مساکین پرتقسیم کردیاکرو یہ قطعاً وصیت صحیحہ جائزہے۔
کذا ھذا فی الھندیۃ عن الخانیۃ مریض قال بالفارسیۃ صددرہم از من بخشش کنید قال الشیخ الامام ابوبکر محمد بن الفضل رحمہ اﷲ تعالٰی ھی باطلۃ لان ھذا للاغنیاء والفقراء جمیعا ولوقال صددرہم از من رواں کنید قال کانت الوصیۃ جائزۃ لان ھذا اللفظ یراد بہ القربۃ۔۱؎
یُوں ہی ہندیہ میں بحوالہ خانیہ منقول ہے کہ ایک مریض نے فارسی زبان میں کہا ''میری طرف سے سَودرہم بخشش کردو''۔ شیخ امام ابوبکرمحمدبن فضل علیہ الرحمہ نے کہایہ وصیت باطل ہے کیونکہ یہ اغنیاء اورفقراء سب کے لئے ہے۔ اور اگرکہا ''میری طرف سے سَودرہم رواں کردو'' تو امام ابوبکر نے کہاکہ وصیت جائزہے، کیونکہ اس لفظ سے قربت مراد ہوتی ہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الہندیہ    کتاب الوصایا    الباب الثانی         نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۹۵)
اورمذہب صحیح اورمفتی بہ میں موصی جس چیز کی مساکین کے لئے وصیت کرے وصی کواختیارہے کہ وہ نہ دے اس کی قیمت تصدق کردے وبالعکس یعنی روپے خیرات کرنے کی وصیت ہوتو چیزخریدکر صدقہ کرسکتاہے۔
فیھا عنھا رجل اوصی بان یتصدق عنہ بالف درھم فتصدقوا عنہ بالحنطۃ او علی العکس قال ابن مقاتل یجوز ذٰلک وقال الفقیہ ابواللیث وبہ ناخذ ولو اوصی بان یباع ھذا العبد ویتصدق بثمنہ علی المساکین جازلھم ان یتصدقوا بنفس العبد ولوقال اشتر عشرۃ اثواب وتصدق بھا فاشتری الوصی عشرۃ اثواب لہ ان یبیعھا ویتصدق بثمنھا۲؎اھ ملخصاً۔
ہندیہ میں خانیہ ہی کے حوالے سے ہے ایک شخص نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے ہزاردرہم صدقہ کئے جائیں توانہوں نے اس کی طرف سے گندم صدقہ کردی یامعاملہ اس کے برعکس ہوا۔ ابن مقاتل نے کہایہ جائزہے۔ فقیہ ابواللیث نے کہا ہم اسی سے اخذکرتے ہیں۔ اوراگروصیت کی کہ اس کا یہ غلام بیچ دیاجائے اوراس کی قیمت صدقہ کردی جائے تو ان کے لئے جائزہے کہ وہ خود غلام کوصدقہ کردیں۔ اوراگرکہادس کپڑے خریدو اوران کوصدقہ کردو۔ پھروصی نے دس کپڑے خریدلئے تواسے اختیارہے کہ وہ ان کپڑوں کو بیچ دے اوران کی قیمت صدقہ کردے الخ تلخیص(ت)
 (۲؎الفتاوی الہندیہ    کتاب الوصایا   الباب الثامن     نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۱۳۴)
یونہی اس کے کلام سے اس صدقہ کاچندموسم بدفعات اداکرنانکلتاہے اس کااتباع بھی ضرورنہیں وصی کواختیارہے کہ ایک وقت میں سب روپیہ تصدق کردے،
فیھا عنھا لوقال اوصیت بان یتصدق من ثلثی کل سنۃ مائۃ درھم فالوصی یتصدق بجمیع الثلث فی السنۃ الاولٰی ولایوزع علی السنۃ۱؎اھ وفیھا عن الخلاصۃ عن النوازل لو اوصی بان یتصدق فی عشرۃ ایام فتصدق فی یوم جاز۔۲؎
ہندیہ میں خانیہ سے ہی منقول ہے، اگرکہا ''میں نے وصیت کردی کہ میرے ترکہ کے ثلث میں سے ہرسال سَودرہم صدقہ کئے جائیں'' تو اس صورت میں وصی پہلے ہی سال پورے ثلث کو صدقہ کردے اور اس کوسالوں پرتقسیم نہ کرےاھ ہندیہ میں بحوالہ خلاصہ نوازل سے منقول ہے اگروصیت کی کہ دس دنوں میں صدقہ کیاجائے، اوروصی نے ایک دن میں صدقہ کردیاتوجائزہے۔(ت)
 (۱؎ الفتاوی الہندیۃ     کتاب الوصایا    الباب الثامن مسائل شتی    نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۱۳۵)

(۲؎الفتاوی الہندیۃ     کتاب الوصایا    الباب الثامن مسائل شتی    نورانی کتب خانہ پشاور     ۶/ ۱۳۴)
پس وصی نے جوکتاب اس مال سے خریدکرکے مسکین کودی یامساکین کوکھاناکھلایا سب جائزوبجاواقع ہوا، یونہی اب جوروپیہ باقی ہے جائزکہ مدرسہ کے طلبہ مساکین کو نقدیاکپڑا یاکھانا یا کتابیں خریدکردے دے خواہ امداد طلبہ مساکین کو جوتنخواہ مقررہو اس میں صرف کردے غرض جس قدر وجوہ تصدق ہیں سب کااختیار رکھتاہے رہاوہ کھانا کہ اہل تعزیت کوکھلایا اگروہ محل تصدق تھے اور انہیں بطور تصدق کھلایاجائزہوا، اوراگراغنیاء تھے ناجائز، اوراس قدر روپے کاتاوان ذمہ وصی لازم، مگریہ کہ اسے دھوکا ہوا اور اپنے نزدیک محل صدقہ جان کرتصدق کیاہو،
فیھا عن التاتارخانیۃ سئل عن رجل اوصی بثلث مالہ للفقراء فاعطی الوصی الاغنیاء وھو لایعلم قال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لایجزیہ والوصی للفقراء ضامن فی قولھم جمیعا۔۳؎
ہندیہ میں تاتارخانیہ سے منقول ہے، اس شخص کے بارے میں سوال کیاگیا جس نے فقیروں کے لئے اپنے تہائی مال کی وصیت کی اوروصی نے لاعلمی میں اغنیاء کو دے دیا، امام محمدعلیہ الرحمہ نے فرمایاکہ یہ کفایت نہ کرے گا۔ اورتمام ائمہ کے قول کے مطابق وصی فقیروں کے لئے ضامن ہوگا۔(ت)
 (۳؎الفتاوی الہندیۃ     کتاب الوصایا    الباب الثامن مسائل شتی    نورانی کتب خانہ پشاور      ۶/ ۱۳۵)
اسی طرح اگر کھانا بطورتملیک نہ تھا بلکہ جس طرح دعوت میں برسبیل اباحت کھلایاجاتاہے کہ کھانے والوں کو طعام کامالک نہیں کیاجاتا ہے بلکہ مِلک مالک پراس کے اذن سے تصرف کرتے ہیں، توبھی ناجائزاورتاوان لازم ہوگا،
فانہ انما کان مامورا بالتصدق ولاتصدق الابالتملیک ولاتملیک فی الاباحۃ وکل ذٰلک ظاھر(عہ) عند من لہ المام بالفقۃ، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اس لئے کہ اس کو توفقط صدقہ کرنے کاحکم دیاگیاتھا اورصدقہ تملیک کے بغیرنہیں ہوتا۔ اوراباحت میں کوئی تملیک نہیں۔ یہ سب کچھ اس شخص کے لئے ظاہرہے جس کو فقہ کے ساتھ کچھ بھی تعلق ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
عہ: ھٰھنا سقط ولعلہ عند صح۱۲ اختررضاخاں ازہری غفرلہ
Flag Counter