Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
66 - 135
مسئلہ ۱۱۳ :   ازشہرکہنہ    ۷ربیع الثانی ۱۳۰۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ مجیداﷲ خاں ولد کالے خاں ساکن شہرکہنہ نے اپنی جائداد موروثی دین مہرمیں زوجہ کو دی یعنی مسماۃ امیربیگم کوبعدہ مجیداﷲ خاں مذکور کاانتقال ہوگیا بعدازاں جائدادمرقومہ بالاکا داخل مسماۃ امیربیگم کے نام بذریعہ گواہان کے ہوا یہ شخص گواہ تھے عنایت اﷲ خاں صاحب ولدکالے خاں صاحب، دیگرگواہ شفیع علی خان صاحب ولد کالے خان صاحب، مجیداﷲ خاں مرقومہ بالاکی ایک لـڑکی تھی امیربیگم، والدہ دخترنے اس کی شادی کردی، چند عرصہ کے بعد نصف جائداد جوبذریعہ مہرکے شوہر اپنے سے پہنچی تھی دخترمذکورہ کودے دی اوراس کا داخل خارج بھی کردیا بگواہی عنایت اﷲ خاں صاحب وشفیع علی خاں صاحب اور پٹی بانٹ اس وجہ سے نہیں ہوسکا کہ اس زمین میں جگہ جگہ غارتھے، دوسرے یہ کہ والدہ اوردختر میں اتفاق بھی بہت تھا حتی کہ تاحیات دخترسے جدانہیں ہوئی، بعدہ مسماۃ امیربیگم کی حیات میں دخترجس کے نام نصف جائداد کی تھی فوت ہوگئی مگرمسماۃ امیربیگم نے وہ جائداد واپس نہیں لی اس پرقابض اوردخیل داماد رہا اور ہے اورجس وقت امیربیگم کی علالت تھی اس وقت میں دامادمذکور سے وصیت کی کہ برخوردار من یری تیمارداری کرو اوربعدانتقال کے جوکچھ خرچ ہو اورجوکچھ تیمارداری میں خرچ ہو وہ روپیہ نصف جائداد باقیماندہ جومیرے نام ہے اس سے وصول کیجیو ورنہ میں حشرمیں دامنگیرہوں گی اورجوجائداد میں نے اپنی دختر کے نام کی تھی وہ تم کو بخوشی بخشی چونکہ تم نے میری خدمت مثل فرزندبطن کے کی ہے اورکرتے ہو، وصیت کے بعد مسماۃ امیربیگم کا انتقال ہوگیاداماد مذکورنے قرض دام کرکے تجہیزوتکفین کی اورخرچ تیمارداری کیا اب مسماۃ امیربیگم کوانتقال کئے ہوئے عرصہ چندہوا اورمسماۃ امیربیگم کے وارث یہ ہیں دوبھائی چچازاد اوردو شوہر کی ہمشیریں حیات ہیں، یہ جائداد جس کاذکر ہے کس طرح پرتقسیم ہوگی اورقرضہ جوداماد مذکورنے خرچ تیمارداری میں اور تجہیزوتکفین میں کیا کس طرح وصول کرے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب : صورت مسئولہ میں وہ ہبہ کہ امیربیگم نے بنام اپنی دخترکے کیابوجہ مشاع وغیرمنقسم ہونے زمین کے محض باطل ہوگیا۔
تتمۃ الفتاوٰی پھرمشتمل الاحکام پھرفتاوٰی خیریہ میں ہے:
ھبۃ المشاع باطلۃ وھو الصحیح۱؎۔
 غیرمنقسم کاہبہ باطل ہے اوریہی صحیح ہے(ت)
 (۱؎ الفتاوی الخیریۃ    کتاب الہبۃ        دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۱۱۳)
اورداخل خارج کہ ایک عقد باطل پرمبنی ہوا خود باطل وبے اثر، اسی طرح اس کاموہوب مذکورکی نسبت اپنے داماد سے کہنا میں نے تجھ کوبخوشی بخشی کہ وہ بھی ہبہ ہے اوربوجہ شیوع باطل۔
فی الشامی عن الطحطاوی عن المکی عن الامام قاضی خاں وغیرہ ھبۃ المریض ھبۃ حقیقۃ وان کانت وصیۃ حکما۔۲؎
شامی میں بحوالہ طحطاوی، بحوالہ مکی، بحوالہ امام قاضی خان وغیرہ ہے کہ مریض کاہبہ درحقیقت ہبہ ہے اگرچہ حکماً وصیت ہے۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار        کتاب الوصایا    باب العتق فی المرض    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۴۳۵)
پس وہ زمین تمام وکمال ملک وترکہ امیربیگم ہے جس میں وارثان دختریاخواہران شوہر کا اصلاً کچھ حق نہیں صرف امیربیگم کے دونوں چچازاد بھائی برتقدیر عدم موانع ارث وانعدام وارث دیگراس کے مستحق ہیں کہ بعدادائے دین ووصیت آپس میں نصف نصف کرلیں داماد مورثہ نے جوکچھ اس پر اس کی بیماری وتیمارداری میں اٹھایا وہ امیربیگم پراس کاقرض ہے کہ ترکہ امیربیگم سے لے سکتاہے فانہ لما انفق بامرھا وقد افصحت بالرجوع لم یکن متبرعا (کیونکہ جب اس نے مرحومہ کے امرسے خرچ کی اوراس نے رجوع کی تصریح کی تویہ متبرع نہ ہوا۔ت) اسی طرح جوکچھ کفن ودفن بطریق سنت میں صرف کیا ہو وہ بھی اس کادین ہے بشرطیکہ امیربیگم کے حال کے مناسب عرف وعادت کے لحاظ سے جس قیمت کا کفن دینا چاہئے تھا اس سے بیش قیمت نہ دیا ہو ورنہ قیمت کفن اصلاً مجرانہ پائے گا۔
تنویرالابصارودرمختاروردالمحتارمیں ہے:
لوزاد الوصی علی کفن مثلہ فی العدد ضمن الزیادۃ ای الا اذا اوصی بھا وکانت تخرج من الثلث وفی القٰیمۃ وقع الشراء لہ (لانہ متعد فی الزیادۃ وھی غیر متمیزۃ فیکون متبرعا بتکفین المیت بہ رحمتی ۱؎) ۔
اگروصی نے میت کے مثلی کفن میں زیادتی کی باعتبار تعداد کے توزائد کاضامن ہوگا(مگرجب اس کو اس کی وصیت کی گئی ہو اور وہ مال کے ایک تہائی سے پوری ہوسکتی ہو) اوراگرباعتبار قیمت کے زیادتی کی تویہ خریداری وصی کے لئے واقع ہوگی(کیونکہ اس نے قیمت کی زیادتی میں تعدی کی اور وہ زیادتی ممتازنہیں لہذا وہ میت کے لئے کفن کی خریداری میں متبرع ہوگا۔رحمتی)(ت)
 (۱؎ الدرالمختار شرح تنویرالابصار    کتاب الوصایا    باب الوصایا    مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۳۳۷)

(ردالمحتار            کتاب الوصایا    باب الوصی    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۵۴)
اسی طرح جوکچھ کفن دفن کے سوافاتحہ، درودوسوم، چہلم، عورتوں کے جمع ہونے، ان کے پان چھالیہ کھانے پینے وغیرہ معمولی باتوں میں صرف ہوا اس کابھی ایک حبہ مجرانہ ملے گا لوجوہ کثیرۃ وحسبک (متعدد وجوہات کی وجہ سے اورتجھے اتناہی کافی ہے کہ۔ت) قول امیربیگم ''بعدانتقال کے جوکچھ خرچ ہو'' وصیۃ مھملۃ باطلۃ لانفاذ لھا اصلا(وصیت مہمل وباطل ہے جس کابالکل نفاذ نہیں۔ت)
علامہ سائحانی مسئلہ تنویرالابصار وغیرہ اوصی بان یتخذ الطعام بعد موتہ للناس ثلٰثۃ ایام فالوصیّۃ باطلۃ۲؎
 (کسی نے وصیت کی کہ اس کے مرنے کے بعد تین دن لوگوں کے لئے کھانا تیار کیاجائے تو یہ وصیت باطل ہے۔ت) کی تعلیل میں لکھتے ہیں:
انھا وصیۃ للناس وھم لایحصون کما لوقال اوصیت للمسلمین ولیس فی اللفظ مایدل علی الحاجۃ فوقعت تملیکا من مجھول فلم تصح۱؎اھ ش۔
کیونکہ یہ وصیت لوگوں کے لئے ہے جن کاشمار نہیں ہوسکتا جیساکہ اگروہ کہے کہ میں نے مسلمانوں کے لئے وصیت کی ہے درانحالیکہ لفظوں میں ایسی کوئی چیزنہیں جوحاجت پردلالت کرے تویہ مجہول کی تملیک واقع ہوئی ہولہذا صحیح نہیں اھ۔(ت)
 (۲؎ الدرالمختار            کتاب الوصایا        مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۳۲۲)

(۱؎ ردالمحتار    بحوالہ السائحانی    کتاب الوصایا    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۴۲۶)
پھرجس قدر دین اس کاذمہ امیربیگم ثابت ہوا اسی کے لائق زمین کاٹکڑا بیچ کر اپنادین وصول کرسکتاہے یاوارثان امیربیگم اپنے پاس سے اس کا دین ادا کرکے خالص کرلیں۔
ردالمحتارکے باب الوصی میں ہے:
اذاکان علی المیّت دین اواوصی بوصیۃ ولم تقض الورثۃ الدیون ولم ینفذوا الوصیۃ من مالھم فانہ یبیع الترکۃ کلھا ان کان الدین محیطا وبمقدار الدین ان لم یحط ولہ بیع مازاد علی الدین ایضا عندابی حنیفۃ خلافالھما قال فی ادب الاوصیاء وبقولھما یفتی کذا فی الحافظیۃ والقنیۃ وسائر الکتب۲؎اھ ملخصا، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
جب میت پرقرض ہو یا اس نے کوئی وصیت کی ہو اورورثاء نے اس کاقرض اپنے مال سے ادانہ کیا اورنہ ہی اس کی وصیت کونافذ کیاتو وصی تمام ترکہ کوبیچ سکتاہے اگرقرض اس کو محیط ہو اورقرض ترکہ کومحیط نہ ہو توقرض کے برابر ترکہ میں سے بیچ سکتاہے۔ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیک قرض سے زائد ترکہ کوبھی بیچ سکتاہے بخلاف صاحبین کے۔ ادب الاوصیاء میں کہاکہ فتوٰی صاحبین کے قول پردیاجائے گا۔ ایساہی حافظیہ، قنیہ اوردیگرکتابوں میں ہے، اوراسی کی مثل بزازیہ میں ہےاھ تلخیص(ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الوصایا    باب الوصی        داراحیاء التراث العربی بیروت     ۵/ ۴۵۴)
Flag Counter