Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
65 - 135
تواس حالت میں بھی وہ اشیاء بدستورملک اصل مالک پرآئیں گی خواہ بکرہو یاسب شرکاء، اوراحکام سابقہ عودکریں گے، ہاں اگربکرکاارادہ ہبہ قولاً یافعلاً یادلالۃً کسی طرح ظاہرہوا جس کے سبب دُلہن نے اُسے ہبہ ہی سمجھ کرقبضہ کیاتوالبتہ ایجاب وقبول دونوں متحقق ہوگئے۔
فان القبض بوجہ الاتھاب قبول وان ناقصا کما فی مشاع یقسم لاستواء الکل فی الدلالۃ علی الرضا کما لایخفٰی۔

کیونکہ بطورہبہ قبضہ کرنا قبول ہے اگرچہ ناقص ہے جیساکہ قابل تقسیم چیزکوبلاتقسیم ہبہ کرنے کی صورت میں ہوتاہے کیونکہ بطور دلالت رضامندی میں وہ سب برابرہیں، جیساکہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
ولوالوجیہ میں ہے:
القبض فی باب الھبۃ جارمجری الرکن فصار کالقبول۱؎۔
ہبہ کے باپ میں قبضہ کرنا رکن کے قائمقام ہے لہٰذا یہ قبول کی مثل ہوگیا۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار    بحوالہ الولوالجیۃ    کتاب الہبۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۵۰۸)
پس جو اشیاء بکرنے خریدکر جہیزمیں دیں اگرچہ مال مشترک سے خریدی ہوں دلہن ان کی مالک مستقل ہوگئی اوربکرپر اس مال مشترک میں اورورثہ کے حصص کاتاوان آیا جن کے بے اذن یہ شراء واقع ہوا یہاں تک کہ خود اس دلہن کے حصے کابھی جس نے جہیزپایا۔
فان البدل وان الیھا وصل لکن الشراء نفذ علی بکر فوقع الملک لہ وتم الضمان ثم العطاء للعروس ھبۃ علی حدۃ من مال نفسہ فلایرتفع بہ ضمان قسط العروس۔
کیونکہ بدل اگرچہ اس دلہن تک پہنچ گیا لیکن شراء کا نفاذبکر پرہواچنانچہ اس کے لئے ملک ثابت ہوگئی اورضمان تام ہوگیا پھر اس کادلہن کودینا الگ ہبہ ہے جوبکرکے اپنے مال سے ہوا لہذا اس سے دلہن کے حصہ کاتاوان ساقط نہیں ہوگا(ت)
اورجوکچھ عین ترکہ سے ہبہ کیں توہبہ باقی ورثہ کے حق میں نافذنہ ہوا۔
اذ لا اذن منھم ولاولایۃ علیھم
(اس لئے کہ نہ تو ان کی طرف سے اجازت ہے اورنہ ہی ان پرولایت ثابت ہے۔ت) تواُن کے حصے توہرحال دُلہن کے ہاتھ میں مضمون رہے اورضمان کاوہی حکم کہ انہیں اختیار ہے چاہیں بکرپرڈالیں یا دلہن پر جس پرڈالیں دوسرے سے مجرانہ پائے گا کما قدمنا عن البزازیۃ (جیساکہ بزازیہ کے حوالے سے ہم پہلے ذکرکرچکے ہیں۔ت) رہا بکرکااپناحصہ جہیزمیں جومال قابل تقسیم تھا یعنی اس کے حصے کیجئے تو وہی انتفاع اس سے مل سکے جو قبل از تقسیم ملتاتھا، جب توبکرکے حصے میں بھی ہبہ صحیح نہ ہوا لانھا ھبۃ مشاع فیما یقسم(کیونکہ یہ قابل تقسیم چیزمیں بلاتقسیم ہبہ ہے۔ت) اس صورت میں مال مذکور بدستور شرکت جمیع ورثاء پررہے گا اورجوکچھ دلہن کے ہاتھ میں کسی طرح ہلاک ہوگا اس میں حصہ بکرکاتاوان خاص دلہن پرپڑے گا۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
لاتصح ھبۃ المشاع الذی یحتمل القسمۃ ولاتفید الملک فی ظاھرالروایۃ قال الزیلعی ولو سلمہ شائعا لایملکہ فیکون مضمونا علیہ۱؎ الخ ملخصا وتمامہ فیھا وفی ردالمحتار۔
ایسی غیرمنقسم چیزکاہبہ صحیح نہیں جوتقسیم کااحتمال رکھتی ہو اورظاہرالروایہ کے مطابق وہ مفید ملک نہ ہوگا۔ امام زیلعی نے کہااگرغیرمنقسم حالت میں اس کوسونپ دیاتوملک ثابت نہ ہوگا چنانچہ اس پرضمان آئے گا الخ تلخیص۔ اس کی مکمل بحث فتاوٰی خیریہ اورردالمحتار میں ہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الخیریۃ    کتاب الہبہ        دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۱۱۲)
اسی طرح اگر مال ناقابل تقسیم ہو مگردلہن نہ جانے کہ اس میں بکرکاحصہ کس قدرہے جب بھی ہبہ صحیح نہ ہوگا اوربعد ہلاک وہی حکم ہے کہ بکر کا تاوان دلہن پرآئے گا۔
بحرالرائق میں ہے:
یشترط فی صحۃ ھبۃ المشاع الذی لایحتملھا ان یکون قدرا معلوما حتی لووھب نصیبہ من عبد ولم یعلمہ بہ لم یجز۱؎۔
ناقابل تقسیم چیز کے غیرمنقسم طورپرہبہ کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس کی مقدار معلوم ہو یہاں تک کہ اگرکوئی غلام میں اپنے حصہ کو ہبہ کردے حالانکہ اسے اپناحصہ معلوم نہیں تویہ جائزنہیں(ت)
 (۱؎ الفتاوی الہندیۃ    کتاب الہبۃ    الباب الثانی         نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/ ۳۷۸)

(بحرالرائق         کتاب الہبہ            ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی    ۷/ ۲۸۶)
محیط امام سرخسی میں ہے:
واذا علم الموھوب لہ نصیب الواھب ینبغی ان تجوز عندابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی ۲؎ نقلھما فی الفتاوی الھندیۃ۔
جب موہوب لہ کوواھب کے حصہ کاعلم ہوتو امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیک اس کوجائز ہوناچاہئے۔ ان دونوں کوفتاوٰی ہندیہ میں نقل کیاہے۔(ت)
 (۲؎ الفتاوی الہندیۃ     بحوالہ محیط السرخسی     کتاب الہبہ    الباب الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۸)
جامع الفصولین میں فتاوٰی امام فضلی سے ہے:
اذا ھلک افتیت بالرجوع للواھب ھبۃ فاسدۃ لذی رحم محرم منہ اذ الفاسدۃ مضمونۃ علی مامر۔۳؎
اگروہ ہلاک ہوجائے تو میں ذی رحم محرم کوہبہ فاسدہ کرنے والے کی طرف رجوع کافتوٰی دوں گا کیونکہ ہبہ فاسدہ کی صورت میں ضمان آتا ہے جیساکہ گزرگیا(ت)
(۳؎ جامع الفصولین    الفصل الثلاثون فی التصرفات الفاسدۃ الخ    اسلامی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۵۷)
اوراگردلہن کومعلوم تھا تواس قدرمیں ہبہ صحیح ونافذ وتام ولازم ہوگیا اوران اشیاء میں دلہن اپنے اوربکردونوں کے حصص کی مالک ہوگئی باقی ورثہ کے حصے بدستور دست عروس میں حکم ضمان پر ہیں جن کاحکم بارہاگزرا اوراول سے آخر تک سب صورتوں میں جو مشترک چیزیں دلہن کے ہاتھ میں تلف ہوئیں ان میں دلہن اپنے حصے کاتاوان کسی سے نہیں لے سکتی کہ اسکامال اسی کے ہاتھ میں ہلاک ہوا اوربکرنے اس کے حصے پرکوئی تعدی نہ کی۔
فانہ انما سلم الملک لید من ملک فما ھلک فی یدھا فعلیھا ھلک، ھذا کلہ من اولہ الٰی اٰخرہ مما افیض علی قلب الفقیر من فیض القدیر واخذتہ تفقھا من کلمات العلماء، اعظم اﷲ اجورھم یوم الجزاء فما اصبت فمن اﷲ تعالٰی ولہ الحمدعلیہ ومااخطأت فمن قصور نفسی وانا اتوب الیہ اتقن ھذہ اتقانا کبیرا فان المسائل مما تمس الیہ الحاجۃ کثیرا، فاغتنم ھذا التفصیل الجمیل والحمدﷲ علی فیضہ الجلیل، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
کیونکہ اس نے توایسے کے ہاتھ میں دے دیا جو اس کامالک ہوگیا۔ اب جودلہن کے ہاتھ میں ہلاک ہوا توا سی کے ضمان پرہلاک ہوا۔ یہ سب کچھ رب قدیر کے فیض سے فقیرکے دل میں ڈالاگیا۔ میں نے اس کوبطور تفقہ علماء کرام کے اقوال سے اخذ کیا۔ اﷲ تعالٰی قیامت کے روزان کوعظیم اجرعطافرمائے۔ جوکچھ میں نے درست کہا اس پراﷲ تعالٰی ہی کے لئے حمد ہے اورجومیں نے غلطی کی تو وہ میراپناقصورہے۔ میں اسی کی طرف رجوع کرتاہوں۔ وہ اس کوبہت مضبوط بنائے۔ اس لئے کہ ان مسائل کی ضرورت زیادہ واقع ہوتی ہے، اس خوبصورت تفصیل کوغنیمت سمجھو، اوراﷲ تعالٰی کے فیض جلیل پرتمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم (ت)
Flag Counter