فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
64 - 135
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
الشرط فی بیع التعاطی الاعطاء من الجانبین عند شمس الائمۃ الحلوانی کذا فی الکفایۃ وعلیہ اکثر المشائخ وفی البزازیۃ ھو المختار کذا فی البحرالرائق والصحیح ان قبض احدھما کان لنص محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ علی ان بیع التعاطی یثبت بقبض احد البدلین وھذا ینتظم الثمن والمبیع کذا فی النھر الفائق وھذا القائل یشترط بیان الثمن لانعقاد ھذا البیع بتسلیم المبیع ھکذا حکی فتوی الشیخ الامام ابی الفضل الکرمانی کذا فی المحیط۱؎۔
شمس الائمہ حلوانی کے نزدیک بیع تعاطی میں شرط دونوں طرفوں سے دیناہے، کفایہ میں یونہی ہے اوراسی پراکثر مشائخ ہیں، بزازیہ میں ہے کہ یہی مختارہے، ایساہی بحرالرائق میں ہے۔ اورصحیح یہ ہے کہ اگرایک قبضہ کرے توکافی ہے کیونکہ امام محمدعلیہ الرحمہ نے نص فرمائی کہ بیع تعاطی دومیں سے ایک بدل پر قبضہ کرلینے سے ثابت ہوجاتی ہے اور یہ ثمن اور مبیع دونوں کوشامل ہے جیساکہ النہرالفائق میں ہے اور یہ قائل شرط قراردیتاہے اس بیع کے منعقد ہونے کے لئے ثمن کے بیان کرنے اورمبیع کے سونپنے کو۔اوریونہی منقول ہے شیخ امام ابوالفضل کرمانی کافتوٰی جیساکہ محیط میں ہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوٰی الہندیۃ کتاب البیوع الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۹)
پس واضح ہواکہ جہیزدینے میں کسی عقد شرعی کی حقیقت توحقیقت صورت بھی نہ تھی تویہ دینااصلاً کوئی اثرتبدل ملک پیدانہ کرے گابلکہ وہ مال جس کی ملک تھا بدستور اسی کی ملک پررہے گا اب معرفت مالک درکار ہے جوچیزیں عین متروکہ تھیں مثلاً زیور، برتن، کپڑے وغیرہ کہ مورثوں نے چھوڑے بعینہٖ جہیزمیں دئے گئے وہ جیسے سب وارثوں میں پہلے مشترک تھیں اب بھی مشترک رہیں گی اورجواشیاء بکرنے خریدکردیں وہ سب مطلقاً ملک بکرکی تھیں اوراب یہی خاص اسی کے ملک پرہوں گی اگرچہ مال مشترک سے خریدی ہوں،
لما علم من ان الشراء اذا وجد نفاذا علی الشاری نفذ۔
کیونکہ معلوم ہے کہ بیع جب نفاذ پائے تومشتری پرنافذ ہوجاتی ہے(ت)
غایت یہ کہ مال مشترک سے خریدنے میں بکرباقی ورثہ کے حصص کاذمہ دارہوگا کما نقلنا فی مواضع من فتاوٰینا عن ردالمحتار (جیساکہ ہم ردالمحتارکے حوالے سے اپنے فتاوٰی میں متعدد مقامات پرنقل کرچکے ہیں۔ت) پھر اس قسم یعنی مملوکات بکرپردلہن کاقبضہ امانت ہوگا لحصولہ بتسلیط المالک (کیونکہ یہ مالک کے مسلط کرنے کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ت) پس جس چیزکودلہن نے استہلاک نہ کیا بغیراس کے فعل کے چوری وغیرہ سے ہلاک ہوگئی اس کاتاوان دلہن پرنہ آئے گا اورجو اس کے فعل و تعدی سے تلف ہوئی اس کی قیمت بکرکے لئے دلہن کے ذمہ واجب ہوگی لان الامین ضمین اذا تعدی (کیونکہ امین جب زیادتی کرے تووہ ضامن ہوتا ہے۔ت) اورجوباقی ہو وہ بعینہٖ بکرکوواپس دے اورقسم اول یعنی عین متروکہ سے جوکچھ جہیزمیں دیاگیا اس پردلہن کاہاتھ دست ضمان ہوگایعنی کسی طرح اس کے پاس ہلاک ہوجائے مطلقاً تاوان آئے گا،
وذٰلک لان بکراقد تعدی علی حصص الشرکاء بتجھیز الاخت من مال مشترک وتسلیمہ الیھا جہاز التلبس وتستعمل وبالتصرف تستقل وکل یدمترتبۃ علی یدضمان۔
کیونکہ بکرنے شرکاء کے حصوں میں تعدی کی اس لئے کہ اس نے مال مشترک سے بہن کاجہیزبناکر اس کے حوالے کردیا کہ وہ اس کو پہنے، استعمال کرے اور تصرف میں مستقل ہوجائے۔ ہرقبضہ جودست ضمان پرمرتب ہو وہ دست ضمان ہوتاہے۔(ت)
پس باقی ورثاء جنہوں نے اذن نہ دیا مختاررہیں گے کہ جو کچھ ہلاک ہواچاہیں اپنے حصوں کاتاوان بکرسے لیں لانہ الغاصب (کیونکہ وہ غاصب ہے۔ت) چاہیں دلہن سے لانھا کغاصبۃ الغاصب (کیونکہ وہ غاصب سے غصب کرنے والی ہے۔ت)
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
الید المترتبۃ علی ید الضمان یدضمان فلرب البھیمۃ ان یضمن من شاء۱؎الخ۔
جوقبضہ دست ضمان پرمرتب ہو وہ دست ضمان ہوتا ہے لہٰذا چارپائے کے مالک کو اختیارہے کہ جس کو چاہے ضامن ٹھہرائے۔(ت)
(۱؎ الفتاوٰی الخیریہ کتاب الغصب المعرفۃ بیروت ۲/ ۱۴۹)
اوروہ بکریادلہن جس سے ضمان لیں اسے دوسرے پر دعوٰی نہیں پہنچتا،
بکرپرتو اس لئے کہ وہ غاصب ہے اوردُلہن نے اس کے مسلط کرنے سے اس پرقبضہ کیاہے۔ رہی دلہن تو وہ اس لئے کہ اس نے اپنے لئے قبضہ کیاہے بکرکے لئے نہیں۔(ت)
ردالمحتارمیں بزازیہ سے ہے:
وھب الغاصب المغصوب اوتصدق او اعاروھلک فی ایدھم وضمنواللمالک لایرجعون بما ضمنواللمالک علی الغاصب لانھم کانواعاملین فی القبض لانفسھم بخلاف المرتھن والمستاجر والمودع فانھم یرجعون بما ضمنوا علی الغاصب لانھم عملوا لہ۲؎الخ۔
غاصب نے مغصوب چیزکسی کوہبہ کردی یاصدقہ کردی یاعاریت پردے دی، وہ چیز ان لوگوں کے ہاتھ میں ہلاک ہوگئی اور وہ اصل مالک کے ضامن ہوگئے تو اب یہ لوگ غاصب پر رجوع نہیں کرسکتے اس تاوان کے بارے میں جو انہوں نے مالک کودیاکیونکہ وہ مغصوب پرقبضہ میں اپنے لئے عمل کرنے والے ہیں بخلاف مرتہن، مستاجر اوراس شخص کے جس کے پاس غاصب نے مغصوب چیزودیعت رکھی۔ یہ لوگ اگربصورت ہلاکت مالک کوتاوان اداکریں تواس کے لئے غاصب پررجوع کرسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے غاصب کے لئے عمل کیا(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الغصب داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۲۶)
اورجوکچھ باقی ہوں وہ دلہن سے واپس لے کر فرائض الٰہیہ پرتقسیم ہوجائیں یہ سب احکام اس صورت میں تھے کہ بکرنے جہیز بطورہبہ نہ دیاہواوربیشک اس امرمیں کہ ہبہ کی نیت تھی یامجرائی کی، بکرکاقول قسم کے ساتھ معتبرہوگا،
لانہ الدافع فھو ادری بجھۃ الدفع کما فی الاشباہ وجامع الفصولین و الفتاوی الخیریۃ وغیر ماکتاب وقد نصوا علیہ فی مسائل کثیرۃ، اقول: ولیس فی تجھیز الاخوۃ الاخوات اذاکن ذوات مال شریکات فی مابایدی الاخوۃ من الترکۃ عرف فاش یقضی بالھبۃ بخلاف الاٰباء والامھات فی بلادنا وکیف ویکون الظاھر قصد التبرع مع بقاء الواجب بل الظاھر ح انھم یریدون الاحتساب علیھن من انصبائھن۔
کیونکہ وہ دینے والاہے لہٰذا وہ دینے کی جہت کوزیادہ بہترجانتاہے جیساکہ اشباہ، جامع الفصولین اورفتاوٰی خیریہ وغیرہ کتابوں میں ہے، اورعلماء نے اس پرمتعددمسائل میں نص فرمائی ہے۔ میں کہتاہوں بھائی جب بہنوں کے لئے جہیزبنائیں جبکہ وہ بہنیں مالدارہوں اوربھائیوں کے زیرقبضہ ترکہ میں شریک ہوں تو ایساکوئی عرف ہمارے شہروں میں جاری وساری نہیں جو اس کو ہبہ قراردے بخلاف ماں باپ کے۔ تو واجب کے باقی رہتے ہوئے اس کاقصد تبرع ہوناکیسے ظاہرہوگا بلکہ ظاہریہاں یہ ہے کہ بھائی اس کو بہنوں کے حصوں میں سے شمار کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔(ت)اسی طرح اگربکرنے دل میں نیت ہبہ کی مگردلہن نے ہبہ جان کرقبضہ نہ کیا بلکہ مثلاً اپنے حصہ کا معاوضہ یاحصے میں مجرائی سمجھ لیا توبھی بعینہ یہی احکام ہوں گے کہ اس صورت میں دلہن کی طرف سے قبول ہبہ نہ پایاگیا،
فان القبول فرع العلم وھی اذالم تحسبہ ھبۃ کیف یتصور انھا قبلت الھبۃ۔
اس لئے کہ قبول فرع ہے علم کی۔ جب اس خاتون نے اس کو ہبہ سمجھاہی نہیں تو اس کاہبہ کوقبول کرناکیسے متصورہوگا(ت)
بحرالرائق میں ہے:
وکذا بقولہ اذنت الناس جمیعا فی ثمر نخلی، من اخذ شیئا فھو لہ فبلغ الناس، من اخذ شیئا یملکہ کذا فی المنتقی وظاھرہ ان من اخذہ ولم یبلغہ مقالۃ الواھب لایکون لہ کما لایخفی۱؎اھ، اقول: ومثلہ مافی الھندیۃ عن الخلاصۃ رجل سیّب دابتہ فاصلحھا انسان ثم جاء صاحبھا واراد أخذھا واقر وقال قلت حین خلیت سبیلھا من اخذ فھی لہ او انکرفاقیمت علیہ البینۃ او استحلف فنکل فھی للاٰخذ سواء کان حاضرا سمع ھذہ المقالۃ اوغاب فبلغہ الخبر۲؎اھ ووجہہ ظاھرفانہ اذا علم بمقالۃ الواھب فیکون الاخذ علی جھۃ الاتھاب ویقوم القبض مقام القبول بخلاف ما اذالم یعلم فانہ لم یتحقق القبول قطعاً و ھو مدار ثبوت الملک للموھوب لہ قطعاً سواء جعل رکنا کما نص علیہ فی التحفۃ والولوالجیۃ والکافی والکفایۃ والتبیین و البحرومجمع الانھر والدرالمختار وابی السعود وغیرھا من کتب الکبار وھو ظاھر الھدایۃ وملتقی الابحر وغیرھما من الاسفار الغر اوشرطا کما نص علیہ فی المبسوط والمحیط والھندیۃ وغیرھا و افادفی البدائع انہ الاستحسان وان الاول قول زفر علی کل فاتفق القولان علی انہ لاتملک فیھا بدون القبول وھوالذی نص علیہ فی الخانیۃ وغیرھا وقد حققنا المسئلۃ بتوفیق اﷲ تعالٰی علٰی ھامش ردالمحتاربما لامزید علیہ۔
یونہی اس کایہ کہناکہ میں نے اپنے درختوں کے پھل کے بارے میں تمام لوگوں کواجازت دے دی ہے تولوگوں کوخبرپہنچ گئی جس نے جوکچھ لے لیاہے وہ اسی کاہے ایساہی منتقی میں ہے۔ اس سے ظاہریہ ہے کہ جس شخص تک واھب کی یہ بات نہیں پہنچی اس نے جوکچھ لیاوہ اس کامالک نہ ہوگا الخ، میں کہتاہوں اوراس کی مثل خلاصہ کے حوالے سے ہندیہ میں ہے کہ ایک شخص نے اپنے چارپائے کوچھوڑدیا اورکسی انسان نے اس کو پکڑ کر سنبھال لیا پھراس چارپائے کا مالک آیا جو اس کولیناچاہتاتھا۔ اس نے اقرارکیاکہ میں نے اس کو چھوڑتے وقت کہاتھا کہ جوا س کو پکڑلے یہ اسی کاہے یا اس نے انکارکیامگرگواہوں سے یہ بات ثابت ہوگئی یا اس کو قسم کھانے کاکہاگیا اوراس نے انکارکردیا۔ ان تمام صورتوں میں وہ چارپایہ پکڑنے والے کاہوگا چاہے وہ خود حاضرتھا وراس نے مالک کی یہ بات سنی تھی یاغائب تھا اوراس تک اس کی خبر پہنچی اھ۔ اس کی وجہ ظاہرہے کیونکہ جب اس کو واھب کے اس قول کاعلم ہوگیا تو اس کالینا ہبہ کولینے کے طورپرہوا اورقبضہ کرنا قبول کے قائم مقام ہوگا بخلاف اس کے کہ جب اسے واہب کے اس قول کاعلم نہ ہواہو، کیونکہ اس صورت میں قبول کرنا بالکل متحقق نہیں حالانکہ موہوب لہ کے لئے ملک کے ثبوت کادارومدار قطعی طورپر قبول کرنے پرہے۔ چاہے قبول کورکن بنایاجائے جیساکہ تحفہ، ولوالجیہ، کافی، کفایہ، تبیین، بحر، مجمع الانہر، درمختار اورابوالسعود وغیرہ بڑی بڑی کتابوں میں اس پرنص کی گئی ہے۔ ہدایہ اورملتقی الابحروغیرہ عظیم کتابوں سے بھی یہی ظاہرہوتا ہے۔ چاہے اس کو شرط بنایاجائے۔ جیساکہ مبسوط، محیط اورہندیہ وغیرہ میں اس پرنص ہے۔ بدائع میں افادہ کیاہے کہ یہ استحسان ہے۔ اورپہلاقول امام زفرکاہے۔ بہرصورت دونوں قول اس پرمتفق ہیں کہ ہبہ میں قبول کے بغیرملک ثابت نہیں ہوتا اوراسی پر خانیہ وغیرہ میں نص کی گئی ہے۔ ہم نے ردالمحتارکے حاشیہ میں اس مسئلہ کی تحقیق کی ہے جس پراضافہ کی گنجائش نہیں(ت)
(۱؎ بحرالرائق کتاب الہبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۷/ ۲۸۴)
(۲؎ الفتاوٰی الہندیہ کتاب الہبہ الباب الثالث نورانی کتب خانہ کراچی ۴/ ۳۸۲)