فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
63 - 135
مصارف شادی: عبارت سوال میں مذکورکہ دونوں قاصرہ وقت شادی جوان تھیں اورسائل نے بعد استفسار بذریعہ تحریراظہارکیاکہ مصارف عروسی وجہیز عروس سب بکرنے محض اپنی رائے سے کئے والدہ کاانتقال دونوں قاصرہ کی شادی سے پہلے ہوااوربہنیں ان کی شادیوں میں عام بیگانوں کی طرح شریک ہوئیں، نہ ان سے دربارہ صرف کوئی استفسارہواتھا نہ ان کا کوئی اذن تھا نہ ان قاصرات سے کہاگیاکہ ہم یہ صرف تمہارے حصہ سے کرتے یایہ جہیز تمہارے حصہ میں دیتے ہیں اورواقعی ہمارے بلاد میں مصارف شادی کنواریوں سے پوچھ کرنہیں ہوتے نہ ان سے اس امرمیں کوئی اذن لیاجاتاہے پس اگربیان مذکورصحیح ہے توجوکچھ مصارف بالائی جس قاصرہ کی شادی میں ہوئے وہ دلہن کے حصہ میں مجرانہیں ہوسکتے۔
لانا وان قلنا بوصایۃ بکردلالۃ کما اشرنا الیہ فقد انقطعت الولایۃ بالبلوغ۔
اس لئے اگرچہ ہم بطوردلالت بکر کے وصی ہونے کا قول کرچکے ہیں جیساکہ ہم نے اس کی طرف اشارہ کیاہے مگر وہ ولایت بالغوں کے بلوغ سے منقطع ہوگئی۔(ت)
ردالمحتارمیں عنایہ سے ہے:
انھم (یعنی الورثۃ الکبار) اذا کانوا حضورا لیس للوصی التصرف فی الترکۃ اصلا الا اذاکان علی المیت دین ۱؎ الخ۔
جب بڑے ورثاء حاضرہوں تو وصی کوترکہ میں تصرف کابالکل اختیارنہیں مگرجب میت پر قرض ہو الخ۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۵۴)
توان مصارف میں جوکچھ بکرنے صرف کیابہنوں کے ساتھ تبرع واحسان ہوا جسے کسی سے مجرانہ پائے گا سب صرف اسی کے حصے پرپڑے گا خواہ ضمناً خواہ قصاصاً، دوسرے ورثہ جنہوں نے نہ خود صرف کیا نہ صراحۃً اذن دیایہ بری رہیں گے اگرچہ انہوں نے صرف ہوتے دیکھا وہ خاموش رہے ہوں اذلاینسب الی ساکت قول(چُپ رہنے والے کی طرف قول کو منسوب نہیں کیاجاتا۔ت)
اشباہ میں ہے:
لورأی غیرہ یتلف مالہ فسکت لایکون اذنا باتلافہ۔
اگرکسی نے غیرکو اپنا مال تلف کرتے دیکھا اورچُپ رہاتویہ تلف کرنے کا اذن نہ ہوگا۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ عشر ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۸۵)
خصوصاً اگراُن میں کوئی اس وقت نابالغہ ہوکہ نابالغ کااذن بھی معتبرنہیں،
فانہ لیس من اھل التبرع ولالاحد ان یتبرع من مالہ۔
اس لئے کہ وہ اہل تبرع میں سے نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو یہ اختیارہے کہ وہ اس کے مال میں تبرع کرے۔(ت)
بزازیہ وبحرالرائق وردالمحتار وتنویرالابصار وسراج وہاج وغیرہ میں ہے: الھبۃ والقرض وماکان اتلافا للمال اوتملیکا من غیر عوض فانہ لایجوز مالم یصرح بہ نصا۲؎اھ اقول: ھذا افادون فی شریکی العنان والمفاوضۃ مع ان کلامنھما وکیل عن صاحبہ و ماذون التصرف فی المال من جانبہ فکیف بالشریک شرکۃ العین فانہ اجنبی صرف عن حصۃ اخیہ لیس لہ التصرف فیہ کما نصوا علیہ۔
ہبہ اورقرض اور جس صورت میں مال کو تلف کرنا یابغیرعوض کے مالک بناناپایاجائے یہ جائزنہیں جب تک صراحتاً اس کی اجازت نہ دی گئی ہواھ، میں کہتاہوں یہ ممانعت شرکت عنان ومفاوضہ میں ہے باوجودیکہ ان میں ہرایک دوسرے کاوکیل ہوتاہے اورہرایک کو دوسرے کی طرف سے تصرف کی اجازت ہوتی ہے توپھرکیساحکم ہوگا شرکت عین کے شریک کا کیونکہ وہ تودوسرے بھائی کے حق میں محض اجنبی ہوتاہے اوراس کو دوسرے کے حصہ میں تصرف کی اجازت نہیں ہوتی جیساکہ علماء نے اس پرنص کی ہے(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۴۵)
حاشیہ طحطاویہ میں ہے:
التجھیزلایدخل فیہ الجمع والموائد فالفاعل لذٰلک ان کا ن من الورثۃ یحسب علیہ من نصیبہ ویکون متبرعاً وکذا ان کان اجنبیا۳؎اھ ملخصا۔
لوگوں کا اجتماع اوران کے کھانے کااہتمام تجہیزمیں داخل نہیں ایساکرنے والا اگروارثوں میں سے ہو تویہ خرچ کرناخود اس کے اپنے حصے سے شمارکیاجائے گا اور وہ اس خرچ میں متبرع ہوگا،اورایساہی ہوگا اگروہ اجنبی ہوالخ ملخصاً(ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الفرائض المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۴/ ۳۶۷)
دلہن کاجہیز: وہ اگربکر نے بطورہبہ نہ دیا بقصد مجرائی دیا توہبہ دیناکچھ اثرپیدانہ کرے گا جبکہ باہم کسی قسم کی کوئی گفتگو نہ آئی کہ یہ اشیاء تیرے فلاں حصہ کے معاوضہ میں دیتے ہیں اس کے بعد کل ترکہ یاترکہ کی فلاں قسم میں تیراحصہ نہ ہوگا نہ بالیقین یہ ہواکہ اموال منقولہ کی ہرجنس جداجداجوڑکردُلہن کا حصہ نکال کر ہرچیز سے خاص جس قدر اس کے حصہ میں آیا بے کمی بیشی ایک ذرّہ کے اس کے لئے جداکرلیااوروہی اس کے جہیزمیں دیاہو،
فضلا عن الاقتصار علی المثلیات والتحرز عن الاستبداد فی القیمیات۔
چہ جائیکہ مثلی اشیاء پراقتصارہونااورقیمتی چیزوں میں تبدیلی کو ترجیح دینے سے بچنا۔(ت)
نہ اجناس مختلفہ میں قسمت جمع بے تراضی ممکن، یہاں تک کہ قاضی کو بھی اس کا اختیارنہیں کما نصوا علیہ فی الکتب جمیعا(جیساکہ اس پر تمام کتابوں میں علماء نے نص کی ہے۔ت) توغایت درجہ اس قدررہا کہ بکرنے دیتے وقت اپنے دل میں سمجھ لیا کہ یہ ہم علی الحساب دیتے ہیں جو کچھ جہیز کی لاگت ہے دُلہن کے حصے میں مجرالیں گے صرف اتنا سمجھ لینا کوئی عقدشرعی نہیں ہوسکتا قسمت نہ ہونا توظاہرلمامر، صلح وتخارج یوں نہیں کہ کل ترکہ یا اس کی قسم سے حصہ دلہن کا ساقط نہ کیاگیا نہ دلہن کے خیال میں ہوگا کہ اب فلاں قسم ترکہ میں میرا کوئی دعوٰی نہ رہا اگرچہ میراحصہ مقدارجہیز سے زائد نکلے نہ ایسا امربے تصریح رضامندی فقط ایک طرف کے خیال پرعقد ٹھہرسکتاہے
فان العقد ربط ولا بد فی الربط من شیئین معھذا
(اس لئے کہ عقد توربط کانام ہے اورربط کے لئے دوچیزوں کاہونا ضروری ہے۔ت) عندالحساب جہیزکی لاگت میں اختلاف پڑناممکن بلکہ مظنون توقطع نزاع جس کے لئے صلح وتخارج کی وضع ہے حاصل نہ ہوا،
ومامن شیئ خلا عن مقصودہ الابطل و جھالۃ المصلح عنہ انما لاتمنع جواز الصلح اذالم تفض الی منازعۃ والامنعت۔
نہیں ہے کوئی جومقصود سے خالی ہو مگریہ کہ وہ باطل ہے اورجس شیئ پرصلح ہورہی ہو اس کی جہالت صرف اس وقت جوازصلح سے مانع نہیں ہوتی جب اس سے کوئی جھگڑا پیدانہ ہو ورنہ مانع ہوتی ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
الصلح شرعا عقد یرفع النزاع ویقطع الخصومۃ۱؎۔
صلح شرع میں ایسے عقد کوکہتے ہیں جوجھگڑے کورفع کرے اورخصومت کو ختم کرے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الصلح مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۱)
نہایہ میں ہے:
جھالۃ تفضی الی المنازعۃ تمنع جواز الصلح۱؎
اھ ملخصین۔ ایسی جہالت جوجھگڑے کاباعث ہو وہ جوازصلح سے رکاوٹ ہےاھ تلخیص(ت)
(۱؎ الفتاوی الہندیۃ بحوالہ النہایۃ کتاب الصلح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۲۳۱)
رہی بیع وہ اگربتصریح ایجاب وقبول بھی ہوتی مثلاً بکرکہتا میں نے یہ جہیزبعوض ان اشیائے متروکہ کے جوبمقدار مالیت جہیزتیرے حصہ میں آئیں بیع کیا اوردُلہن قبول کرتی تاہم فاسد ہوتی کہ نہ جہیزکی لاگت بیان میں آئی نہ یہ معلوم کہ اس کی مالیت کی کتنی چیزیں اورکیاکیا اشیاء حصہ عروس میں آئیں گی یہاں تک کہ اس قدربھی نہ ہوابلکہ کوئی تذکرہ درمیان نہ آیا صرف بکرنے ایک امرسمجھ کرجہیزسپردکیایہ بھی خبرنہیں کہ اس وقت قلب عروس میں کیانیت تھی اسے کیونکر کوئی عقد شرعی قراردے سکتے ہیں۔
ومعلوم انہ لیس من عقد یتم بالنیۃ بل لابد من شیئ یظھر القصد القلبی ویکون دلیلا علی الرضاء النفسی۔
اوریہ بات معلوم ہے کہ کوئی عقد محض نیت سے تام نہیں ہوتابلکہ اس کے لئے کسی ایسی چیز کا ہوناناگزیرہے جس سے دلی ارادہ ظاہرہو اور وہ دلی طورپر رضامندی کی دلیل ہو۔(ت)
فتح القدیرمیں ہے:
فتح القدیرمیں ہے:
رکنہ الفعل الدال علی الرضا بتبادل الملکین من قول اوفعل۱؎اھ نعم المظھر قدیکون نصا وھو اللفظ المقرر للایجاب والقبول وقد یکون دلالۃ کالمساومۃ واخذ الثمن بعد بیان الثمن فی بیع التعاطی وحیث لاحاجۃ الی البیان للعرف العام کالخبز مثلا حیث یکون لہ قیمۃ معلومۃ لاتختلف ففتح البائع الدکان وجلوسہ للبیع واعدادہ الخبز لذٰلک دلیل علی البیع واخذ المشتری علی الشراء امّا ھٰھنا فان فرضت دلالۃ من بکر فلادلالۃ اصلا من قبل العروس ولئن سلمت الرضا فالتعاطی ھٰھنا من احد الجانبین وھو وان جاز عندالبعض وبہ یفتی وھوارجع التصحیحین فلابد فیہ عند مجیزہ من بیان البدل والبدل ھٰھنا کما علمت مجھول فلم ینعقد البیع اجماعا۔
اس کارکن ایسافعل ہے جودونوں ملکوں کے باہمی تبادلہ پررضامندی کی دلیل ہوچاہے قول سے یافعل سےاھ، ہاں اس کوظاہر کرنے والی چیزکبھی نص ہوتی ہے جیسے وہ لفظ جوایجاب وقبول کے لئے مقررہیں اورکبھی دلالت ہوتی ہے جیسے بھاؤتاؤ طے کرنااور دستی لین دین کی بیع میں ثمن بیان کرنے کے بعد اس کولے لینا، اورجہاں عرف عام کی وجہ سے بیان کی حاجت نہ ہو مثلاروٹی کی قیمت جب معلوم ہو اس میں کوئی اختلاف نہ ہوتو بائع کادُکان کھول کربیع کے لئے بیٹھنا اورروٹی تیارکرنا بیع کی دلیل ہے اورمشتری کااس کو لے لینا خریداری کی دلیل ہے۔ مگر یہاں زیربحث مسئلہ میں اگر بکر کی طرف سے دلالت فرض کربھی لی جائے تو دلہن کی طرف سے بالکل دلالت موجودنہیں۔ اگراس کی رضامندی کو تسلیم کرلیاجائے تویہاں تعاطی صرف ایک طرف سے ہے۔ وہ اگرچہ بعض کے نزدیک جائزہے، اسی کے ساتھ فتوٰی دیاجاتاہے اوردونوں تصحیحوں میں سے یہ زیادہ راجح ہے۔ لیکن اس کوجائز قراردینے والے کے نزدیک بدل کابیان ضروری ہے اوریہاں جیسے کہ تُوجانتاہے بدل مجہول ہے لہٰذا بالاجماع بیع منعقدنہ ہوئی۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۵۵)