Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
62 - 135
مسئلہ ۱۱۲ :    ۲۷ربیع الاول ۱۳۰۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدایک زوجہ اورایک پسربالغ اورایک دختربالغہ اوردولڑکیاں نابالغہ چھوڑکرفوت ہوانابالغ بہنیں اپنے جوان بھائی بکر کی پرورش میں رہیں جب وہ بالغ ہوئیں تو بکرنے ان کی شادیاں معمولی خرچ سے کردیں اورجوبڑی بہن بکر کی تھی اس کی شادی زید نے خود اپنی زندگی میں کردی تھی اس کی پرورش یاشادی کاخرچ بکر کے پاس نہ ہو صرف دوبہنوں کاخرچ پرورش وشادی اپنے مال متروکہ مشترکہ سے کیا، اس صورت میں یہ خرچ بکرکو ان دونوں چھوٹی بہنوں سے مجرامل سکتاہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب : یہاں تین چیزیں ہیں:

(۱) خرچ پرورش

(۲) شادی کے مصارف بالائی یعنی جہیز کے سوا جو اورخرچ کرتے ہیں جیسے برات کاکھانا، خدمتیوں کاانعام، سمدھیانہ کے جوڑے، دولھا کی سلامی، سواریوں کاکرایہ، برات کے پان چھالیہ وغیرہ ذٰلک۔

(۳) دُلہن کاجہیز۔

بتوفیق اﷲ ہرایک کا حکم علیحدہ سنئے۔
خرچ پرورش: بیشک بحکم دیانت بحالت عدم وصی وارثان کبیر کو وارثان صغیر کی پرورش کرنا اور ان کے کھانے، پہننے وغیرہ ضروریات کی چیزیں ان کے لئے خریدنا اوران امورمیں ان کامال بے اسراف وتبذیر اُن پراُٹھانا شرعاً جائزہے جبکہ وہ بچے ان کے پاس ہوں اگرچہ یہ ان پروصایت وولایت مالیہ  نہ رکھیں۔
تنویرالابصار ودرمختار وردالمحتار وغیرہا اسفارمیں ہے:
جازشراء مالابد للصغیر منہ (کالنفقۃ والکسوۃ واستئجار الظئرمنح) وبیعہ ای بیع مالابد للصغیر منہ لاخ وعم و ام وملتقط ھو فی حجرھم ای فی کنفھم والالا۱؎۔
نابالغ کے لئے نفقہ اورلباس وضروری اشیاء خریدنا، دودھ پلانے والی کو اجرت پرحاصل کرنامنح(ت) اسی طرح نابالغ کی خاطر ضروری اشیاء فروخت کرنابھائی، چچا، ماں اور اس کو اُٹھانے والے کے لئے جائزہے بشرطیکہ وہ نابالغ ان کی زیرپرورش اورزیرنگرانی ہو ورنہ نہیں۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار     کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع        مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۴۶)

(ردالمحتار     کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع   داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۵۰)
علامہ شامی قول درمختار: لایجوز التصرف فی مال غیرہ بلااذنہ ولاولایتہ الا فی مسائل۲؎۔
غیرکے مال میں اس کی اجازت وولایت کے بغیر تصرف کرنا سوائے چندمسائل کے ناجائزہے(ت)
کی شرح میں بضمن مسائل استثناء ارشاد فرماتے ہیں:
کذا لوانفق بعض اھل المحلۃ علی مسجد لامتولی لہ من غلتہ لحصیر ونحوہ اوانفق الورثۃ الکبار علی الصغار ولاوصی لھم فلاضمان فی کل، دیانۃ۳؎اھ ملخصا۔ اقول: ولایخالفہ بل ربما یؤیدہ مافی شہادۃ الاوصیاء عن الطحاوی عن الفصول حیث قال ورثۃ صغاروکبار وفی الترکۃ دین وعقار فھلک بعض المال وانفق الکبار البعض علی انفسھم وعلی الصغار فما ھلک فھو علی کلھم وما انفقہ الکبار ضمنوا حصۃ الصغار ان کانوا انفقوا بغیر امرالقاضی اوالوصی وماانفقوہ بامراحدھما حسب لھم الی نفقۃ مثلھم۱؎اھ فان ھذا عند وجودالوصی وما مرفعند عدمہ لاسیما فی بلادنا فافھم۔
جیساکہ بعض اہل محلہ کاایسی مسجد کے محاصل میں سے اس کی چٹائیوں وغیرہ پرخرچ کرنا جس مسجد کا کوئی متولی نہیں یابڑے وارثوں کاایسے چھوٹے وارثوں پرخرچ کرنا جس کاکوئی وصی نہیں ان سب پر ازروئے دیانت کوئی  ضمان نہیں اھ تلخیص۔ میں کہتاہوں یہ بات امام کے اس قول کے مخالف نہیں بلکہ مؤید ہے جوانہوں نے فصول کے حوالے سے شہادت اوصیاء میں فرمایا کہ کسی کے ورثاء چھوٹے بھی ہیں اوربڑے بھی جبکہ ترکہ میں دین اورجائداد ہے۔ پھرکچھ مال ہلاک ہوگیا اورکچھ بڑوں نے چھوٹوں پرخرچ کیا۔ جوہلاک ہواوہ توسب پرہے اورجوبڑوں نے چھوٹوں پرخرچ کیا ہے اگر وہ قاضی یا وصی کی اجازت کے بغیر خرچ کیاہے توچھوٹوں کے حصہ کے ضامن ہوں گے اوراگر ان میں سے کسی کی اجازت سے خرچ کیا توان کے لئے مثلی نفقہ میں شمار کرلیاجائے گااھ بیشک یہ اس صورت میں ہے کہ وصی موجود ہو اورجوپہلے گزرا وہ وصی کی عدم موجودگی کی صورت میں ہے خصوصاً ہمارے ملک میں۔ پس سمجھو(ت)
 (۲؎ الدرالمختار        کتاب الغصب         مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۰۷)

(۳؎ ردالمحتار       کتاب الغصب          داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۲۷)

(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الوصایا    فصل فی شہادۃ الاوصیاء    المکتبۃ العربی کوئٹہ     ۴/ ۳۴۵)
پس جوکچھ بکرنے ان لڑکیوں کی پرورش میں صرف کیا اگرنفقہ مثل کادعوٰی کرے توبیشک دیانۃً مجراپائے گا۔
فانہ کان ماذونالہ فی ذٰلک من جھۃ الشرع فلایکون ضمینا بل امینا مقبول القول مالم یدع مایکذبہ الظاھر الاتری الٰی ماقدمنا عن الفصول حیث حکم بالاحتساب الی نفقۃ المثل عند وجود الاذن ممن لہ الاذن کالوصی والقاضی والشرع المطھر احق من لہ الاذن وقد وجد منہ الاذن فی مسئلتنا وان لم یوجد من وصی اوقاض لفقد انھما ھٰھنا رأسا وانت تعلم ان المفتی انما یفتی بالدیانۃ بل قد اثبتنا عرش التحقیق بتوفیق المولی سبحٰنہ وتعالٰی فی کتاب الوصایا من العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ ان الابن الکبیر فی امصارنا ھذہ فی اعصارنا ھذہ یقوم مقام وصی ابیہ علی الاولاد الصغار من دون حاجۃ الٰی تصریح بالوصایۃ لوجود الاذن والتفویض دلالۃ بحکم العرف الفاشی المطرد مع تحقق الضرورۃ الملجئۃ الٰی اعتبار تلک الدلالۃ، واﷲ یعلم المفسد من المصلح ومن لم یعرف اھل زمانہ ولم یراع فی الفتیا حال مکانہ فھو جاھل مبطل فی قولہ وبیانہ، وقدبیّنا المسئلۃ بحول القدیر جل مجدہ بما یتعین المراجعۃ الیہ وحینئذ فالامراظھر۔
کیونکہ وہ اس مسئلہ میں شریعت کی طرف سے ماذون تھا۔ لہذا وہ ضامن نہیں بلکہ امین ہوگا۔ اس کا قول قبول ہوگا جب تک وہ ایسادعوٰی نہ کرے جس کو ظاہر جھٹلاتاہے۔ کیاتم نہیں دیکھتے جوہم نے بحوالہ فصول ذکرکیاہے۔ اس میں مثلی نفقہ کی حد تک شمار کرنے کا فیصلہ دیاگیا جبکہ مالک اذن یعنی وصی یاقاضی کی طرف سے اذن موجودہو، حالانکہ شرع مطہر مالک اذن ہونے کازیادہ حقدارہے توہمارے اس زیربحث مسئلہ میں شرع کی طرف سے اذن پایاگیاہے اگرچہ وصی یاقاضی کی طرف سے نہیں پایاگیاکیونکہ وہ دونوں یہاں بالکل مفقود ہیں اور توجانتاہے کہ مفتی دیانت کے ساتھ فتوٰی دیتاہے بلکہ ہم نے مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی کی توفیق سے فتاوٰی رضویہ کی کتاب الوصایا میں بلندپایہ تحقیق سے ثابت کیاہے کہ ہمارے شہروں میں ہمارے اس زمانے میں بڑا بیٹانابالغ اولادپر باپ کے وصی کے قام مقام ہوتاہے باوجویکہ اس کے وصی ہونے کی تصریح معلوم نہیں ہوتی کیونکہ اس کے لئے اذن وتفویض بطوردلالت موجودہوتی ہے اس عرف کے حکم سے جوجاری وساری ہے۔ علاوہ ازیں وہ ضرورت بھی متحقق ہے جودلالت مذکورہ کااعتبارکرنے پرمجبورکرتی ہے۔ اوراﷲ تعالٰی جانتاہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے۔ جواپنے اہل زمانہ کونہیں پہچانتااورفتوٰی میں اس کے مکان کو ملحوظ نہیں رکھتا وہ جاہل ہے اوراس کاقول وبیان باطل ہے، ہم نے اﷲ تعالٰی قدرت والے کی عطاکردہ قوت سے مسئلہ کو اس قدر وضاحت کے ساتھ بیان کردیاہے کہ اس کی طرف رجوع کرنا متعین ہوگیا۔ اب معاملہ زیادہ ظاہرہے۔(ت)
اورنفقہ مثل کے یہ معنی کہ اتنی مدت میں ایسے بچوں پراتنے مال والوں میں متوسط صرف بے تنگی واسراف کس قدرہوتاہے اُتنا مجراپائے گا۔
عالمگیری میں ہے:
نفقۃ المثل مایکون بین الاسراف والتقتیر کذا فی المحیط۔۱؎
مثلی نفقہ وہ ہے جو فضول خرچی اورضرورت سے کمی کرنے کے درمیان ہو۔ محیط میں یونہی ہے۔(ت)
 (۱؎ الفتاوی الہندیۃ    کتاب الوصایا    الباب التاسع        نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۱۵۵)
ردالمحتارمیں ہے:
ماینفق علی مثلھم فی تلک المدۃ۲؎
جوخرچ کیاجاتاہے ان کی مثل پر اس مدت میں(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        کتاب الوصایا       فصل فی شہادۃ الاوصیاء    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۶۰)
Flag Counter