Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
61 - 135
مسئلہ ۱۱۱ :    ۲۵/ربیع الاول شریف ۱۳۰۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے جائداد اورچنداولاد نابالغ اورایک پسرجوان لائق نیک اطوارچھوڑا جس نے بعد پدر اپنے چھوٹے چھوٹے بہن بھائیوں کومثل اپنے بچوں کے پرورش کیا اور ان کے مال کی نگہداشت اوران کی غوروپرداخت میں بجان ودل مصروف رہا مگرزیدنے اپنے بچوں یاان کے مال کی نسبت کسی کووصیت نہ کی تھی اس صورت میں ہمارے بلاد میں ابن کبیران نابالغوں کے اموال میں دیانت وامانت کے ساتھ تصرفات جائزہ وشرعیہ کااختیار رکھے گا اورمثل وصی ماذون ومختار سمجھاجائے گا یانہیں اگرنہیں تو ان اولاد وجائداد کااختیار کسے دیاجائے گا؟بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔(ت)
الجواب: اقول: متوکلا علی العلیم الخبیر الکریم الاکرم مستجیرا بذیل کرمہ عن زیغ البصر وزلۃ القدم۔
میں علیم وخبیر اور سب سے بڑھ کررحم فرمانے والے پرتوکل کرتے ہوئے اورآنکھ کی کجی اورقدم کی لغزش سے اس کے دامن کرم کی پناہ مانگتے ہوئے کہتاہوں۔(ت)
ہمارے بلاد میں جبکہ یتیموں پرنہ باپ کاوصی ہونہ حقیقی دادا نہ دادا کاوصی تواُن کاحقیقی جوان بھائی اگرلائق وامین ہو مثل وصی سمجھاجائے گا،اورامانت ودیانت اوربچوں پررحمت وشفقت کے ساتھ جن تصرفات کاشرعاً وصی کواختیارہوتاہے اسے بھی ہوگا اگرچہ صراحتاً باپ نے اس کو وصی نہ بنایاہو کہ یہاں عرفاً ودلالۃً وصایت ثابت ہے ہمارے بلاد میں عادت فاشیہ جاری ہے کے باپ کے بعد جوان بیٹے اموال وجائداد میں تصرف کرتے اوراپنے نابالغ بہن بھائیوں کی پرورش وخبرگیری میں مصروف رہتے ہیں لوگ اگرنابالغ بچوں کے ساتھ کوئی جوان بیٹا بھی رکھتے ہیں تو بے غم ہوتے ہیں کہ ہمارے بعد ان کا خبرگیراں موجود ہے اورصرف نابالغ ہی بچے ہوں تو محزون وپریشان ہوتے ہیں کہ سرپرستی کون کرے گا یہ
عادت دائرہ سائرہ دلالۃً اذن تعہدوتصرف ہے والثابت عرفًا کالثابت شرطًا
(جوعرف کے اعتبار سے ثابت ہو وہ ایسے ہی جیسے شرع کے اعتبارسے ثابت ہو۔ت)
فتاوٰی امام قاضیخاں میں ہے:
لوان رجلا من اھل السکۃ تصرف فی مال المیت من البیع و الشراء ولم یکن لہ وارث ولاوصی الا ان ھذا الرجل یعلم انہ لورفع الامر الی القاضی فان القاضی ینصبہ وصیا فاخذ ھذا الرجل المال ولم یرفع الامر الی القاضی وافسدہ حکی عن ابی نصر الدبوسی رحمہ اﷲ تعالٰی انہ کان یجوز تصرف ھذا الرجل۱؎اھ اقول: جواز تصرفہ من دون وصایتہ بناء علی علمہ ان لورفع الی القاضی لنصبہ لیس الا اعتمادًا علی صلاحیۃ الا ذن عند القاضی مع عدم تحقق الاذن اصلا فالاعتماد علی اذن نفس المورث الواقع المتحقق دلالۃ بحکم العادۃ الفاشیۃ المطردۃ و مقاصد الناس المعروفۃ المعھودۃ اولی واجدر۔
گلی والوں میں سے کوئی شخص میّت کے مال میں تصرف کرتاہے جبکہ اس میّت کاکوئی وارث اوروصی نہیں، مگریہ شخص جانتاہے کہ اگرمعاملہ قاضی کے پاس لے جایاجائے تو قاضی اس شخص کو میّت کاوصی مقررکردے گا، چنانچہ اس شخص نے میت کامال لے لیا اورمعاملہ قاضی کے پاس نہ لے گیا اور مال کو خراب کردیا، ابونصردبوسی علیہ الرحمۃ سے منقول ہے کہ اس شخص کاتصرف جائزہے اھ میں کہتاہوں وصی کے بغیر اس کے تصرف کاجواز اس بنیاد پر ہے کہ وہ جانتاہے کہ معاملہ قاضی کے پاس لیجایاجائے تو وہ اس کو متولی مقررکردے گا یہ محض قاضی کے پاس صلاحیت اذن پربھروسہ کرتے ہوئے ہے باوجودیکہ وہاں بالکل متحقق نہیں، توپھر خودمورث کے اذن پربھروساکرنا جوکہ دلالۃً واقع ومتحقق ہے، اس عادت کے حکم سے جولوگوں میں جاری وساری ہے اور ان مقاصدکے حکم سے جو لوگوں میں مشہورومعروف میں اولٰی اورزیادہ لائق ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں     کتاب الوصایا     فصل فی تصرفات الوصی     نولکشورلکھنؤ    ۴/ ۸۵۴)
اوربلاشبہہ قطعاً معلوم کہ جولوگ مال واولاد صغار وکباررکھتے ہیں عام حالت دیکھ کر خوب سمجھتے ہیں کہ یوں ہی ہمارے بعد بھی ولدکبیر تعہد جائداد وپرورش اولاد میں ہماراقائم مقام ہوگا بلکہ اس امر کی آرزوتمنا رکھتے ہیں اوریقینا اس پرراضی ہوتے ہیں اگران سے کہاجائے تمہارے بعد تمہاری جائداد اورچھوٹے چھوٹے بچے ان کے شقیق وشفیق یعنی تمہارے بیٹے سے چھین کرایک اجنبی کوسپردکردئیے جائیں جسے نہ مال کا درد ہو نہ بچوں پرترس توہرگزہرگز اس امر کو قبول نہ کریں گے توعرفاًودلالۃً اذن وتفویض متحقق اور بیشک اگرنظرفقہی سے کام لیجئے تواس وصایت معروفہ کومعتبر رکھنے کی شدیدضرورت ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں اور اس کے ابطال میں مقاصد شرع کابالکل خلاف بلکہ عکس مرادوقلب مقصود۔
وذٰلک لان عامۃ الناس فی بلادنا یموتون من دون تصریح بایصاء ویخلفون اموالا وعقارا واولاد صغارا لاجدلھم وربما تکون فیھم بنات قاصرات فلولم تعتبرالوصایا المعھودۃ التی یعلم کل احد اذا رجع الی وجدانہ الصحیح ان الورث کان راضیا علیھا وان لوسئل عنھا لافصح بھا لزم تلف الاموال والضیاع وضیاع الاولاد اذلم یبق من یقوم بامرھم بحکم الشرع فاما ان یترک المال سائبۃ والاولاد ھملا فھذا الضیاع المردود واما ان ینزع الامر من ید الشقیق الشفیق ویفوض الی اجنبی سحیق فھذا ھو قلب المراد وعکس المقصود فوجب المصیر الی ماقلنا والتعویل علی دلالۃ الاذن کما عولنا واﷲ الموفق۔
اور یہ اس لئے ہے کہ ہمارے شہروں میں لوگ صراحتاً وصیت کئے بغیر فوت ہوجاتے ہیں جو اپنے پیچھے مال، جائداداورچھوٹی ناسمجھ اولاد چھوڑجاتے ہیں انکادادا نہ ہو جن میں بسا اوقات ناتواں بچیاں بھی ہوتی ہیں۔ اگریہ معروف وصیت معتبرنہ ہو جس کے بارے میں ہرکوئی جانتاہے جب وہ اپنے صحیح وجدان کی طرف رجوع کرے کہ مرنے والا اس پرراضی تھا اوراگراس سے سوال کیاجاتاتو وہ اس کی تصریح کردیتاتو اموال واسباب کابرباد ہونا اوراولاد کاضائع ہونالازم آئے گا کیونکہ کوئی ایساشخص باقی نہ رہا جو بحکم شرع ان کے معاملات کانگران ہو۔ اب یاتو اموال واولاد کو بغیرنگران ومتولی کے چھوڑدیاجائے تویہ اس کاضائع کرنا ہے جوکہ مردود ہے پھرشفیق بھائی سے نگرانی واپس لے کرشکستہ دل اجنبی کوسونپ دی جائے تومقصود ومراد کے برعکس ہوگیا، لہٰذا ہمارے قول کی طرف رجوع کرنا اوردلالت اذن پراعتماد کرناضروری ہے جیساکہ ہم نے اس پراعتماد کیاہے اوراﷲ تعالٰی ہی توفیق عطافرمانے والاہے۔(ت)
بلکہ غمزالعیون والبصائرمیں ہے:
روی ان جماعۃ من اصحاب محمد بن الحسن رضی اﷲ تعالٰی عنہ حجوا فمات  واحد فاخذواماکان معہ فباعوہ فلما وصلوا الی محمد سألھم فذکروا لہ ذٰلک فقال لولم تفعلوا ذٰلک لم تکونوا فقھاء وقرأ واﷲ یعلم المفسد من المصلح۱؎اھ اقول: فاذا ساغ تصرف احد من الرفقۃ لعدم تیسرالرجوع الی القاضی فی الطریق فالاخ الماذون لہ دلالۃ مع انعدام القاضی الشرعی اصلا اولٰی۔(عہ)
مروی ہے کہ امام محمدبن حسن علیہ الرحمہ کے اصحاب نے حج کیا اور ان میں سے ایک ساتھی مرگیا توانہوں نے اس کامال ومتاع جو اس کے پاس تھافروخت کردیا۔ جب وہ امام محمدعلیہ الرحمہ کے پاس پہنچے توامام صاحب نے ان سے پوچھا انہوں نے یہ واقعہ آپ کوبتایاجس پرامام محمدنے فرمایا اگرتم ایسانہ کرتے توتم فقہاء نہ ہوتے اور امام محمدعلیہ الرحمہ نے یہ آیت کریمہ پڑھی ''اوراﷲ تعالٰی فسادکرنے والے کوسنوارنے والے سے''اھ۔میں کہتاہوں جب راستے میں قاضی کی طرف رجوع میسرنہ ہونے کی صورت میں ایک ہمسفر کو تصرف کی اجازت ہے توبھائی جوکہ دلالۃً ماذون ہے اورقاضی شرع بھی بالکل معدوم ہے تو اس کو بطریق اولٰی تصرف کی اجازت ہوگی۔(ت)
 (۱؎ غمزعیون البصائرمع الاشباہ والنظائر    الفن الثانی     کتاب الغصب     ادارۃ القرآن کراچی     ۲/ ۹۹)
عہ: لکن فی وصایا الانقروی ص۴۱۸ مانصہ وعن محمد فیمن مات عن ابنین صغیروکبیر وترک الفافانفق الکبیر علی الصغیر خسمائۃ وھو لیس بوصی قال ھو متطوع فی ذٰلک وان کان ترک طعاما اوثوبا فاطعمہ والبسہ الکبیر لایضمن الکبیر استحسانا من وصایا البزازیۃ قبیل نوع فی تصرف المریض۱؎اھ قلت الجواب ان ھذا ھو حکم الاصل وکلامنا فی الضرورۃ کما تری فافھم۱۲منہ۔
لیکن انقروی کے وصایا ص۴۱۸ میں ہے جس کی عبارت یہ ہے: امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے مروی ہے کہ ایک شخص دوبیٹے ایک بڑا اورایک چھوٹا چھوڑکرفوت ہوا اورہزارترکہ چھوڑا، توبڑے نے چھوٹے پرپانچ سو خرچ کردیا حالانکہ وہ وصی نہ تھا، توامام محمد نے فرمایایہ پانسوبڑے کی طرف سے تطوع شمارہوگا اوراگرمرنے والے نے غلہ اورکپڑے ترکہ چھوڑا اوربڑے نے چھوٹے کو وہ غلہ طعام میں اورکپڑے لباس میں دئیے توبڑاضامن نہ ہوگا یہ حکم استحسان ہے، بحوالہ مریض کے تصرف کی نوع سے تھوڑا پہلے (بزازیہ کی بحث وصایا) الجواب میں کہتاہوں کہ یہ اصل حکم ہے جبکہ ہمارا کلام ضرورت میں ہے جیساکہ دیکھ رہے ہو، سمجھو۱۲منہ(ت)
 (۱؎ الفتاوی الانقرویہ     کتاب الوصایا    دارالاشاعۃ العربیۃ افغانستان     ۲/ ۴۱۸)
فتاوٰی کبرٰی پھرفتاوٰی عالمگیری میں ہے:
اذا تصرف واحد من اھل السکۃ فی مال الیتیم من البیع والشراء ولاوصی للمیت وھو یعلم ان الامر لورفع الی القاضی حتی ینصب وصیا وانہ یاخذ المال یفسدہ افتی القاضی الدبوسی بان تصرفہ جائزللضرورۃ قال قاضی خان وھذا استحسان وبہ یفتی۱؎
گلی والوں میں سے کسی نے یتیم کے مال میں بیع وشراء وغیرہ تصرف کیاجبکہ میت کاکوئی وصی نہیں اوروہ محلہ دار شخص جانتاہے کہ اگرمعاملہ قاضی کے پاس لیجایاجائے تووہ متولی مقرر کردے گا، تو وہ اس کامال لے اورخرچ کرے۔ قاضی دبوسی نے فتوی دیاہے کہ بوجہ ضرورت اس کا تصرف جائزہے۔ قاضی خاں نے کہایہ استحسان ہے اوراسی پرفتوٰی دیاجاتاہے(ت)
(۱؎ الفتاوی الہندیۃ    کتاب الوصایا    الباب التاسع         نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۱۵۵)
فصول عمادی پھرجامع الرموز پھردرمختارمیں ہے:
لغیرالوصی التصرف لخوف متغلب وعلیہ الفتوی۲؎۔
غلبہ خوف کے وقت غیروصی کے لئے تصرف جائزہے اوراسی پرفتوٰی ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار     کتاب الوصایا     باب الوصی         مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۳۳۸)
درمنتقی پھرردالمحتارمیں ہے:
انما لم یحصر التصرف فی الوصی اشارۃ الی جواز تصرف غیرہ کما اذاخاف من القاضی علی مالہ ای مال الصغیر فانہ یجوز لواحد من اھل السکۃ ان یتصرف فیہ ضرورۃ استحسانا وعلیہ الفتوی۳؎اھ اقول: فاذا جاز التصرف لواحد من الجیران لمکان الضرورۃ مع وجود القاضی من دون اذن مورث و لاقاضی اصلا فلان یجوز للشقیق الشفیق عند عدم القاضی الشرعی مع تحقق اذن المورث دلالۃ لکان احری واجدرواجدی واولٰی۔
تصرف کووصی میں منحصرنہ کرنے میں اشارہ ہے کہ وصی کے غیرکاتصرف بھی جائزہے جیسے قاضی کی طرف سے نابالغ یتیم کے مال پر خوف ہوتو گلی والوں میں سے کسی کو اس کے مال میں بوجہ ضرورت تصرف کرنا بطوراستحسان جائزہے۔ اوراسی پرفتوٰی ہےاھ میں کہتاہوں جب بوجہ ضرورت مورث اورقاضی کی اجازت کے بغیر ایک پڑوسی کوتصرف کی اجازت ہے باوجودیکہ قاضی موجودہے توشفیق بھائی کے لئے قاضی کی عدم موجودگی میں تصرف کاجائزہونااولٰی وانسب ہے، جبکہ مورث کی طرف سے بطوردلالت اجازت بھی متحقق ہے۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار        کتاب الوصایا     باب الوصی      داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۵۶)
غرض فقیربحول القدیر جزم کرتاہے کہ ایسی صورت میں ابن کبیر کی صحت تصرف وثبوت وصیانت بحکم دلالت میں کوئی محل شبہ نہیں۔
واﷲ یعلم المفسد من المصلح، ومن لم یعرف اھل زمانہ ولم یراع فی الفتیا حال مکانہ فھو جاھل مبطل فی قولہ وبیانہ وارجوان لو عُرض کلامی ھذا علی الفقہاء الفحول نظروا الیہ بعین الرضا وتلقوا طرا بالتحسین و القبول، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اوراﷲ تعالٰی جانتاہے بگاڑنے والے کوسنوارنے والے سے۔ جواپنے اہل زمانہ کو نہ پہچانے اورفتوٰی میں اس کے مکان کوملحوظ نہ رکھے وہ جاہل ہے اوراس کاقول وبیان باطل ہے۔ میں امیدکرتاہوں کہ اگر میرایہ کلام فقہاء کے سامنے پیش کیاجائے تو وہ اس کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھیں گے اورتحسین وقبول کے ساتھ اس کا استقبال کریں گے۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
Flag Counter