Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
60 - 135
بالجملہ اگراطلاق وتوجیہ جماہیرعلماء کی طرف لحاظ کریں جب توساڑھے تین برس گزرناہی صحت ونفاذ تصرفات کے لئے بس ہے اوراگررائے فاضل قہستانی پرعمل کیاجائے توصورت مستفسرہ میں جو معنی خوف موت کے علماء نے قراردئیے ہیں ہرگزموجود نہ تھے کہ مرض پہلے سے بہت کم تھا اوراپنے حوائج کے لئے آناجاناچلنا پھرنا سفرکرناعلاوہ۔
فی ردّالمحتار عن الاسمٰعیلیۃ، من بہ بعض مرض یشتکی منہ وفی کثیر من الاوقات یخرج الی السوق ویقضی مصالحہ لایکون بہ مریضا مرض الموت وتعتبر تبرعاتہ من مالہ واذا باع لوارثہ اووھبہ لایتوقف علی اجازۃ باقی الورثۃ۱؎،
ردالمحتارمیں اسمٰعیلیہ سے منقول ہے جو شخص کسی بیماری میں مبتلاہو اوربازار کی طرف جاتاہے اوراپنی حوائج کوپوراکرتاہے تو وہ مرض الموت کامریض نہیں ہے۔ اس کے مال میں تبرعات معتبرہیں۔ جب وہ اپنے کسی وارث سے بیع کرے یاہبہ کرے وہ باقی وارثوں کی اجازت پرموقوف نہیں ہوگا۔
 (۱؎ ردالمحتار        کتاب الاقرار    باب اقرارالمریض    دراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۴۶۱)
وفی العقود الدریۃ، سئل فی مفلوج تطاول بہ فلجہ قدرثلث سنین فوھب فی ھذہ الحالۃ جمیع مالہ من زیدوارثہ وسلمہ ذٰلک ثم مات بعد عدۃ اشھر عنہ لاغیر فھل الھبۃ صحیحۃ الجواب نعم والمفلوج الذی لایزداد مرضہ کل یوم فھو کالصحیح کما فی الخانیۃ۲؎
عقوددریہ میں ہے ایسے مفلوج کے بارے میں سوال کیاگیا جس کامرض فالج تین سال تک لمباہوگیا۔ اس نے اسی حالت میں اپناتمام مال اپنے ایک وارث زیدکوہبہ کرکے اس کے حوالے کردیا۔ پھراس کے چندماہ بعد وہ مرگیا توکیااس کایہ ہبہ صحیح ہوگا۔جواب یہ ہے کہ ہاں، اوروہ مفلوج جس کامرض ہرروزبڑھ نہ رہا ہو وہ صحتمند کی مثل ہے جیساکہ خانیہ میں ہے۔
 (۲؎ العقودالدریۃ    کتاب الوصایا            ارگ بازارقندھارافغانستان    ۲/ ۳۰۷)
وفی الفتاوی الخیریۃ حیث کان بالوصف المذکور وھوانہ ای المرض لایمنعہ الخروج لقضاء حوائجہ فھبتہ لاحد اولادہ وبیعہ لبقیتھم بالغبن مطلقا صحیح نافذ، صرحوا بہ فی کل مرض یطول کالدق والسل والفالج۳؎۱لخ۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے جب وہ وصف مذکورپرہے اور اس کامرض ضروریات پوراکرنے کے لئے گھرسے نکلنے سے مانع نہیں تو اس کااپنی اولاد میں سے ایک کے لئے ہبہ کرنااور باقیوں کے لئے غبن کے ساتھ بیع کرنامطلقاً صحیح اورنافذہے۔ علماء نے ہرطویل مرض کے بارے میں اس حکم کی تصریح کی ہے جیسے تپ دق، سِل اورفالج الخ۔(ت)
 (۳؎ الفتاوی الخیریۃ    کتاب البیوع            دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۲۲۸)
پس باتفاق روایات وباجماع ائمہ صورت مسئولہ میں وہ مرض مرض موت نہ تھا اوروہ تصرفات بیع ہوں خواہ ہبہ خواہ کچھ اوروارث کے ساتھ ہوں خواہ غیروارث کے ساتھ ہوں قطعاً مطلقاً صحیح ونافذ ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷ :           ۶۸۷

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے مرض موت میں ایک مکان اورایک دکان کہ قریب سولہ سوروپیہ کی قیمت تھی چھ سوروپیہ کواپنے شوہر ودخترکے ہاتھ بیع کی بعدپندرہ روز کے مرگئی، اس صورت میں یہ بیع جائزہے یانہیں؟بیّنواتوجروا۔
الجواب: صورت مستفسرہ میں بیع صحیح نہیں کہ مرض موت میں کم قیمت کوباتفاق امام اعظم وصاحبین رحمہم اﷲ ناجائزہے اوروارث کے ہاتھ تو برابرقیمت کوبھی بے اجازت دیگرورثہ امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک جائزنہیں۔
فی التلویح لوباع من احد الورثۃ عینا من اعیان الترکۃ بمثل القیمۃ فلایجوز عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی۱؎ انتھٰی ملخصًا۔
تلویح میں ہے اگر کسی وارث کے ہاتھ ترکہ کی کوئی معین شیئ اس کی برابرقیمت کے ساتھ بیچی توامام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے نزدیک جائزنہیں انتہی، تلخیص۔(ت)
 (۱؎ التوضیح والتلویح مع الحاشیۃ التوشیح    فصل فی الامور المعترضہ علی الاھلیۃ سماویہ الخ    نورانی کتب خانہ پشاور    ص۶۶۳)
مسئلہ ۱۰۸  : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے مرض موت میں کل مہر اپناشوہر کوبخش دیا صرف اس میں سے پانسو روپیہ پانچ دینار کی نسبت کہاکہ اس قدرمیں معاف نہیں کرتی اس کے مالک بعد میرے والدین ہیں، پس ازاں ہندہ نے زوج ووالدین وچارخواہرچھوڑکر انتقال کیا اب مادروپدرہندہ معافی مہراورشوہران پانسوروپیہ پانچ دینار کے والدین کو دینے میں کلام کرتاہے اس صورت میں ترکہ ہندہ کس حساب سے تقسیم ہوگا اوراس قدر مہرمعاف اورمابقی کی وصیت کہ والدین کوکی تھی صحیح ہوئی یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : صورت مسئولہ میں ہبہ مہرشوہر کوکہ ہندہ سے اس کی مرض موت میں واقع ہواتھا اورورثہ باقین اس کی اجازت نہیں دیتے باطل ہوگیا اسی طرح ان پانسوروپیہ پانچ دینار کی وصیت کہ والدین کے لئے کی تھی اسی وجہ سے صحیح نہ رہی کما ھو مصرح فی کتب الفقہ (جیساکہ فقہ کی کتابوں میں اس کی تصریح کردی گئی ہے۔ت) پس کل مہرہندہ ذمہ شوہرلازم اوراس کے ترکہ میں سب وارث مشترک برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث ووارث آخروتقدیم مقدم کالدین والوصیۃ الصحیحۃ (جیسے قرض اورصحیح وصیت) کل مہرہندہ اورجوکچھ ا س کاترکہ ہو چھ سہام پرمنقسم ہوکرتین سہم زوج اورایک مادراوردوپدرکوملیں گے اورخواہروں کوکچھ نہ پہنچے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۹  : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص قریب موت کے ایک وارث کومنجملہ اورورثہ کے زبانی وصیت کرجائے کہ فلاں وارث کومال میراملے اورفلاں وارث کونہ ملے، یہ وصیت درست ہے یانہیں؟بیّنواتوجروا۔
الجواب : اگروصیت مذکورہ کوورثہ میت سے کوئی عاقل بالغ روانہیں رکھتا تو وہ وصیت اس وارث موصی لہ کے حصہ میں باطل محض ہوگئی اوران وارثوں میں کوئی مجنوں یانابالغ اجازت کوروارکھتاہے تو نامعتبرہے اورجوسب وارث جائزرکھتے ہیں اور وہ سب عاقل بالغ ہیں تو وصیت مذکورہ حق موصی لہ میں تمام وکمال وجائزونافذ ہوجائے گی پس بعدادائے دیون مقدمہ علی الوصایا اگرذمہ میّت ہوں، کل یابعض جس قدر کی نسبت وصیت کی ہے اس وارث موصی لہ کودیاجائے گا اور جوان میں بعض جائزرکھتے اوربعض ناجائزتوجوجائزرکھتے ہیں بشرطیکہ وہ عاقل بالغ ہوں بقدران کے حصص کے وصیت نافذہوجائے گی اوربقدرحصوں اجازت نہ دینے والوں اوراطفال ومجانین کے اگرچہ وہ جائزبھی رکھیں باطل وکان لم یکن (گویاکہ ہوئی ہی نہیں۔ت) تصورکی جائے گی اورمیت کایہ کہناکہ فلاں وارث کومیرامال نہ ملے محض لغووعبث ہے توریث ورثہ بحکم شرع ہے کہ کسی کے ابطال سے اس کابطلان ممکن نہیں۔ حتی کہ خود وارث کو اختیارنہیں کہ حق ارث سے دستبردارہو کما صرح بہ العلماء قاطبۃ، واﷲ اعلم وعلمہ اتم واحکم (جیساکہ تمام علماء اس کی تصریح فرماچکے ہیں، اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے اور اس کاعلم اتم اورمستحکم ہے۔ت)
مسئلہ ۱۱۰ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے کسی قدرروپیہ اپنے برادرحقیقی عمروکے پاس کسی مقام سے حالت صحت خود مرض الموت میں بطور امانت بھیجا اوربذریعہ خطوط واسطے نگہداشت امانت کے اکثر تاکیدکودم واپسیں تک کام فرمایا اوردوایک خط میں عمرواوربکر برادرزادے اپنے کو یہ بھی لکھاکہ تم دونوں اس روپیہ کو آپس میں تقسیم کرلینا اوراسی طرح حفظ امانت کی تاکید کی۔ اب زیدنے انتقال کیااور سواعمرو کے کوئی وارث اس کانہیں پس عندالشرع زرامانت کس طرح تقسیم کیاجائے۔بیّنواتوجروا۔
الجواب : صورت مستفسرہ میں یہ وصیت بکروعمرودونوں موصی لہما کے حق میں صحیح ہوگئی۔
فی الدر عن ابن الکمال والولوالجیۃ لواوصی لزوجتہ اوھی لہ ولم یکن ثمۃ وارث اٰخر تصح الوصیۃ۱؎الخ۔
درمیں کمال اور ولوالجیہ کے حوالہ سے منقول ہے اگرکسی نے اپنی بیوی کے لئے وصیت کی یابیوی نے اپنے شوہرکے لئے، اورکوئی دوسرا وارث موجودنہیں تو وصیت صحیح ہے الخ(ت)
(۱؎ الدرالمختار        کتاب الوصایا    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۳۱۹)
پس اگرنصف اس زرامانت کاکل متروکہ زید کے بعدادا باقی رہا ہو ثلث سے زائدنہیں یازائد ہے مگرعمرو اس زیادت کوحق بکر میں جائزرکھتاہے تو وہ زرامانت عمروبکر میں بالمناصفہ تقسیم ہوجائے گا ورنہ اس روپیہ سے بقدرثلث متروکہ مذکورہ کے بکرکودیاجائے۔ باقی ماندہ سب عمروکا ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter