Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
59 - 135
وفی الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ المصرح بہ فی غیرما کتاب من کتب الحنفیۃ ان المقعد والمفلوج والمسلول اذا اتصف کل داء منھم بالطول فحکم تصرف الصحیح کما صرح بہ فی جامع الصغیر فکان ھو الصحیح فاذا علمت ذٰلک علمت ان المدۃ المذکورۃ فوق ماقدروہ اضعافا فان اصحابنا قدروا المرض الذی یطول بعام والمدۃ سبعۃ اعوام والاشھر الزوائد وقع زائدھا الیھا مضافا لاسیما مع کونہ یخرج ویجیئ فی حوائجہ ویقضی من ذٰلک بعض مصالحہ فاذا ثبت ذٰلک لدی الحاکم الشرعی صح جمیع ماصدر منہ مع زوجتہ واذا تعارضت بینۃ الصحۃ والمرض فالبینۃ الصادرۃ من الزوجۃ بانہ کان فی صحۃ مرجحۃ لانھا المدعیۃ والورثۃ ینکرون والبینۃ للمدعی لاللمنکر صرح بہ غیرما واحد من علمائنا وحیث طال مابہ واتصف بما فھنا بہ نفذ جمیع تصرفہ مع زوجتہ باتفاق اھل المذھب وائمتہ والنظر الی العمل بعبارۃ المکلف اولی من اھدارھا والحاقۃ بالحیوانات وکلامہ بحوارھا۱؎ واﷲ اعلم۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے کہ مخلوق کے نفع کے لئے امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی متعدد کتب میں اس کی تصریح کی گئی ہے کہ اپاہج، مفلوج اورسِل کامریض جب لمبی بیماری میں مبتلاہوجائے تو ان میں سے ہرایک کاتصرف صحتمند شخص کے تصرف کی مثل ہوتاہے جیساکہ اس کی تصریح جامع صغیر میں ہے گویا کہ وہ صحتمند ہے۔ جب تُونے یہ جان لیاتوسمجھ لیاہوگا کہ مدت مذکورہ ہمارے اصحاب کی مقررکردہ مدت سے کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ ہمارے علماء نے طوالت مرض کی مدت ایک سال مقرر کی ہے جبکہ مدت مذکورہ سات سال اورکچھ ماہ مزیدہے، یہ زیادتی مدت مذکورہ سے کئی گناہے خصوصاً جبکہ مریض گھرسے نکلتااوراپنی ضروریات کے لئے آتاجاتاہے اوربعض ضروریات کواداکرتاہے۔ جب حاکم شرعی کے پاس یہ ثابت ہوگیاتو کچھ معاملہ اس مریض کااپنی بیوی کے ساتھ صادِر ہوا وہ صحیح ہوگیا۔ اگرصحت ومرض کے گواہوں میں تعارض ہوتوبیوی کی طرف سے صحت پرپیش کئے گئے گواہوں کوترجیح ہوگی کیونکہ بیوی مدعیہ اورورثاء منکرہیں، جبکہ گواہ مدعی کے ہوتے ہیں نہ کہ منکر کے۔ ہمارے متعدد علماء نے اس کی تصریح کی ہے، جبکہ اس کی بیماری طوالت اختیارکرگئی اوروہ سال سے بڑھ گئی تو بیوی کے ساتھ اس کے تمام تصرفات نافذ ہوگئے۔ اس پرتمام اہل مذہب اور ائمہ مذہب کااتفاق ہے۔ مکلف کی عبارت قابل عمل بنانااور کو لغو قراردے کرمکلف کو حیوانات اوراس کے کلام کوجانوروں کی آواز کے ساتھ ملحق کرنے سے اولٰی ہے۔ اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔
 (۱؎ الفتاوٰی الخیریۃ    کتاب الدعوی    دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۷۶ و ۷۷)
وفی الدررللعلامۃ خسروھٰذہ امراض مزمنۃ فمن عرض لہ واحد منھا وتصرف بشیئ من التبرعات ثم مات قبل تمام سنۃ مشتملۃ علی الفصول الاربعۃ کان المرض مرض الموت فتعتبر تصرفاتہ من الثلث وان مات بعدتمامھا لم یکن مرض الموت لانہ اذا سلم فی الفصول وفی کل منھا مظنۃ الھلاک صار المرض بمنزلۃ طبع من طبائعہ وخرج صاحبہ من احکام المرض حتی لایشتغل بالتداوی۔۱؎
اورعلامہ خسرو کی دررمیں ہے یہ لمبی بیماریاں ہیں ان میں سے اگرکوئی کسی کو لاحق ہوجائے اوروہ طوالت مرض میں تبرعات میں کچھ تصرف کرے پھربیماری کوچارموسموں پرمشتمل سال پوراہونے سے پہلے وہ مرجائے تو اس کی بیماری مرض الموت قرارپائے گی اورایک تہائی سال میں اس کے تصرفات معتبرہوں گے۔ اوراگروہ بیماری کوسال پوراہونے کے بعد مرا تو اس کی یہ بیماری مرض الموت نہ ہوگی، اس لئے کہ جب وہ چاروں موسموں میں سلامت رہا حالانکہ ان میں سے ہرایک میں ہلاکت کاگمان تھا توگویایہ بیماری اس کے طبائع میں سے ہوگئی چنانچہ اس بیماری والامرض کے احکام سے خارج ہوگیا یہاں تک کہ اس نے علاج کرانا بھی چھوڑدیا(ت)
 (۱؎ الدررالحکام شرح غررالحکام    کتاب الوصایا     میرمحمدکتب خانہ کراچی    ۲/ ۴۳۱ ، ۴۳۲)
یہاں تک کہ علامہ شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے اطلاق متون وشروح پرنظرکرکے تصریح فرمادی کہ فالج وغیرہ کوبعد تطاول وازمان مرض موت نہ کہناچاہئے اگرچہ صاحب فراش ہو اورچلنے پھرنے سے معذورکردیں،
حیث قال فی المعراج وسئل صاحب المنظومۃ عن حد مرض الموت فقال اعتمادنا فی ذٰلک علٰی ان لایقدر ان یذھب فی حوائج نفسہ خارج الدار،اھ اقول: والظاھرانہ مقید بغیرالامراض المزمنۃ التی طالت ولم یخف منھا کالفالج ونحوہ وان صیرتہ ذافراش ومنعتہ عن الذھاب فی حوائجہ فلایخالف ماجری علیہ اصحاب المتون والشرح ھنا تأمل۲؎ انتھی ملخصاً۔
جہاں معراج میں کہاکہ صاحب منظومہ سے سوال کیاگیاکہ مرض الموت کی حدکیاہے، توانہوں نے فرمایااس مسئلہ میں ہمارا اعتماد اس پرہے کہ مریض اپنے حوائج کے لئے گھر سے باہرجانے پرقادرنہ ہو الخ، میں کہتاہوں ظاہریہ ہے کہ یہ حکم امراض طویلہ کے غیرکے ساتھ مقیدہے جن کی طوالت اس حد تک ہوجاتی ہے کہ موت کاخوف جاتارہتاہے جیسے فالج وغیرہ اگرچہ یہ مریض کو صاحب فراش بنادیں اوراس کو اپنے حوائج کے لئے گھر سے باہر جانے سے روک دیں، لہٰذا یہ اس کے خلاف نہ ہوا جس پراصحاب متون وشروح قائم ہیں، یہاں غورکرو، انتہی(تلخیص)۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار           کتاب الوصایا    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۲۳)
اوربعض کتب میں کہ عدم خوف موت کی قیدکرکے اکابرعلماء ارشاد فرماتے ہیں یہ کوئی قیدجداگانہ نہیں بلکہ مجردایضاح وبیان واقع ہے یعنی طول سنۃ کے بعد مریض کایہ حال ہوجاتاہے کہ وہ مرض طبعی ہوجاتا ہے اورخوف موت کاغلبہ نہیں رہتاہے۔ علامہ شامی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں:
والظاھران قولہ کالفالج الخ تصویر للمرض اذالحال ولم یخف منہ الموت ولیس قولہ ولم یخف منہ الموت تقییدا بل بیانا لحال ذٰلک المرض عند طولہ ثم رأیت الحموی فی شرحہ قال ان تطاول ذٰلک فلم یخف منہ الموت ھٰذہ الجملۃ ای الاخیرۃ وقعت موضحۃ للجملۃ الشرطیۃ ونقلہ عن المفتاح انتھی۔۱؎
ظاہریہ ہے کہ اس کاقول کالفالج (مثل فالج کے) مرض کی صورت کابیان ہے اس لئے کہ طوالت مرض کے سبب مریض کاحال یہ ہوجاتاہے کہ اس پرموت کاخوف نہیں رہتا،اور اس کا قول کہ اس کو موت کاخوف نہیں رہتا، تقیید نہیں بلکہ اس مرض کے لمباہوجانے کے وقت اس کے حال کابیان ہے۔ پھرمیں نے حموی کودیکھا انہوں نے اس کی شرح میں یوں کہاکہ اگربیماری لمبی ہوجائے توموت کاخوف نہیں رہتا، یہ آخری جملہ جملہ شرطیہ کی وضاحت کے لئے واقع ہواہے۔ یہ مفتاح سے منقول ہے، انتہی۔(ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الوصایا    المکتبۃ العربیہ کوئٹہ    ۴/ ۳۲۰)
حاشیہ طحطاوی میں ہے:
قولہ ولم یخف منہ الموت ھٰذہ الجملۃ وقعت موضحۃ للجملۃ الشرطیۃ حموی عن المفتاح۔۲؎
اس کاقول کہ ''اس سے موت کاخوف نہیں رہتا'' یہ جملہ جملہ شرطیہ کی وضاحت کے لئے واقع ہواہے،اس کوحموی نے مفتاح سے نقل کیاہے۔(ت)
(۲؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الوصایا    المکتبۃ العربیہ کوئٹہ    ۴/ ۳۲۰ )
آخرنہ دیکھاکہ علامہ شامی رحمۃ اﷲ علیہ نے سال گزرنے کے بعد فالج وغیرہ کو لم یخف منہ الموت(اس کوموت کاخوف نہیں رہتا۔ت) کی مثال میں داخل فرمایا اگرچہ اس حد کو پہنچ گئے ہوں کہ چلنے پھرنے سے معذور اورصاحب فراش کردیں
کما سبق نقلہ اٰنفا فافھم وتدبر
 (جیساکہ اس کامنقول ہونابھی گزراہے۔ غوروتدبرکرو۔ت) اور اس کی وجہ وہی ہے جوہم ابھی دررعلامہ خسرو سے نقل کرآئے، عالمگیریہ میں تصریح ہے کہ شروع مرض فالج میں خوف ہلاک ہوتاہے اوربعد تطاول کے وہ مریض مثل صحیح کے گناجاتاہے۔
حیث قال والمقعد والمفلوج والمسلول اذا تطاول ذٰلک فصار بحال لایخاف منہ فھو کالصحیح حتی تصح ھبتہ من جمیع المال واما فی اول مااصابہ اذامات عن ذٰلک فی تلک ایام وقدصار صاحب الفراش فھو مریض یخاف بہ الھلاک۱؎۔ انتھی ملخصًا۔
جہاں فرمایا اقعاد، فالج اور سِل کے مریضوں کامرض جب لمبا ہوجائے اوروہ اس حال میں پہنچ جائے اس سے موت کاخوف نہ رہے تووہ صحتمند کی طرح ہوجاتاہے یہاں تک کہ کل مال میں اس کا ہبہ صحیح ہوتاہے لیکن شروع میں جب امراض ہوتے ہیں اگرانہی ایام میں مریض ہوگیا درانحالیکہ وہ صاحب فراش تھا تو وہ ایسامریض ہوتاہے جس کو موت کاخوف عارض ہوتاہے انتہی تلخیص(ت)
 (۱؎ الفتاوی الہندیۃ    کتاب الوصایا    الباب الرابع        فصل فی اعتبارحالۃ الوصیۃ     نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۱۰۹)
ثانیاً، اگر اسے قیدجدید ہی قراردیں جیساکہ فاضل قہستانی کاگمان ہے تاہم مجردخوف اندیشہ سے مرض الموت نہ ہوجائے گا کیونکہ اس قدر سے توکوئی مفلوج ومدقوق ومسلول خالی کبھی نہیں ہوتے اگرچہ دس برس گزرجائیں بلکہ خوف غالب واندیشہ شدیددرکارہے۔
فی ردالمحتار عن الکفایۃ، ثم المراد من الخوف الغالب منہ لانفس الخوف۔۲؎
ردالمحتار میں بحوالہ کفایہ ہے۔ پھرخوف سے مراد اس کاغلبہ ہے نہ کہ نفس خوف(ت)
(۲؎ ردالمحتار       کتاب الوصایا   داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۲۳)
اوراس خوف کوفاضل قہستانی نے یوں تفسیرکیاکہ اگرروزبروزحال اس کابدتراورمرض ترقی پذیرہوتاجائے تواسے مرض کہیں گے۔
حیث قال وان لم یکن واحد منھما بان لم یطل مدتہ بان مات قبل سنۃ او خیف موتہ بان یزداد یوماً فیوماً۳؎ انتھٰی۔
جہاں فرمایا اگران مریضوں میں سے کوئی اس حال میں نہ ہوکہ اس کی موت مؤخرہوگئی ہوبایں طورکہ وہ سال گزرنے سے پہلے مرگیا وہ یا اس کو موت کاخوف لاحق ہو بایں طور دن بدن بیماری بڑھ رہی ہو۔انتہی(ت)
(۳؎ جامع الرموز      کتاب الوصایا                 مکتبۃ الاسلامیۃ گنبدقاموس ایران ۴/ ۶۸۲)
Flag Counter