Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
58 - 135
مسئلہ ۱۰۵  : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شخص کوعارضہ فالج ہوااور وہ عروض عارضہ کے ساڑھے تین برس بعد یاہبہ یاکوئی تصرف وارث یا غیروارث کسی کے نام کرے تو وہ تصرف شرعاً جائزرہے گا یانہیں اورمرض شرعاً مرض الموت قرارپائے گا یاغیر؟بیّنواتوجروا۔
الجواب : ہمارے ائمہ کرام نے فالج ودِق وسِل وغیرہا امراض مزمنہ کے مرض الموت ہونے کے لئے سال بھر کی حد مقرر فرمائی ہے اگراس کے اندر موت ہو تووہ مرض الموت قرارپاتے ہیں اور جب ایک سال سے تجاوزہوجائے تواس مریض کاحکم شرعاً بعینہٖ مثل صحیح وتندرست کے ٹھہرتاہے اورجوکچھ تصرفات بیع خواہ ہبہ خواہ کچھ اوروارث خواہ غیروارث کسی کے نام کرے مثل تصرفات صحیح کے صحیح ونافذ قرارپاتاہے۔
فی الفتاوٰی للامام قاضی خان، اذا تصرف بعد سنۃ فہو کالصحیح یجوز تصرفاتہ انتھی۲؎، وفی الفتاوی العالمگیریۃ عن فتاوٰی التمرتاشی، فسّراصحابنا التطاول بالسنۃ فاذا بقی علی ھذہ العلۃ سنۃ فتصرفہ بعد سنۃ کتصرفہ حال صحتہ۳؎
امام قاضی خان کے فتاوٰی میں ہے جب مریض نے ایک سال بعد تصرف کیاتو وہ صحیح کی مثل ہے اور اس کے تصرفات جائزہیں، انتہی۔ فتاوٰی عالمگیریہ میں بحوالہ فتاوٰی تمرتاشی مذکورہے ہمارے علماء نے طوالت مرض کی تفسیر ایک سال کے ساتھ کی ہے، اگر وہ اس بیماری پر ایک سال قائم رہاتوسال کے بعد اس کے تصرفات ایسے ہی ہوں گے جیسے تصرفات وہ حالت صحت میں کرتاتھا۔
 (۲؎ فتاوٰی قاضیخان    کتاب الوصایا    فصل فی مسائل مختلفۃ رجل الخ     نولکشورلکھنؤ    ۴/ ۸۴۰)

(۳؎ الفتاوی الہندیۃ     کتاب الطلاق    الباب الخامس    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۴۶۳)
وفی الطحاوی فی مختصرہ وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ للعلامۃ الشامی رحمہ اﷲ تعالٰی فسّر التطاول بسنۃ فلوتصرف بعد سنۃ من مرضہ فھو کتصرفاتہ حال الصحۃ ھٰکذا کان شیخنا ابوعبداﷲ الجرجانی یقول ھذا اللفظ الواقعات وبھذا اللفظ اوردہ فی جامع الفتاوی عمادیۃ۱؎الخ۔
طحاوی اس کی مختصر اورعلامہ شامی علیہ الرحمۃ کی تصنیف العقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے کہ طوالت مرض کی تفسیر ایک سال کے ساتھ کی گئی ہے اگراس نے سال کے بعد حالت مرض میں تصرف کیا تو وہ اس کے حالت صحت میں کئے ہوئے تصرفات کی مثل ہے۔ ہمارے شیخ ابوعبداﷲ جرجانی یونہی فرماتے تھے، یہ لفظ واقعات کے ہیں، اورانہی لفظوں کے ساتھ جامع الفتاوی عمادیہ میں وارد ہے الخ۔
 (۱؎ العقودالدریۃ    کتاب الاقرار    باب اقرارالمریض    ارگ بازار قندھارافغانستان    ۲/ ۶۶)
وفی الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ المصرح بہ فی غیر ماکتاب من کتب ابی حنیفۃ ان المقعدوالمفلوج والمسلول اذا اتصف کل داء منھم بالطول فحکم تصرف کل واحد منھم حکم تصرف الصحیح کما صرح بہ فی الجامع الصغیر فکان ھو الصحیح فاذا علمت ذٰلک علمت ان المدۃ المذکورۃ فوق ماقدروہ اضعافا فان اصحابنا قدروالمرض یطول بعام والمدۃ سبعۃ اعوام والاشھر الزوائد وقع زائدھا الیھا مضافا لاسیما مع کونہ یخرج ویجیئ فی حوائجہ ویقضی من ذٰلک بعض مصالحہ فاذا ثبت ذٰلک لدی الحاکم الشرعی صح جمیع ماصدرمنہ مع زوجتہ واذا تعارضت بیّنۃ الصحۃ والمرض فالبینۃ الصادرۃ من الزوجۃ بانہ کان فی صحتہ مرجحۃ لانھا المدعیۃ والورثۃ ینکرون و البینۃ للمدعی لاللمنکر صرح بہ غیرماواحد من علمائنا وحیث طال مابہ واتصف بما فھنا بہ نفذ جمیع تصرفہ مع الزوجۃ باتفاق اھل المذھب وائمتہ والنظر الی العمل بعبارۃ المکلف اولی من اھدارھا والحاقۃ بالحیوانات وکلامہ بجوارھا واﷲ اعلم۱؎۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے کہ مخلوق کے نفع کے لئے امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ کی متعدد کتب میں اس کی تصریح کی گئی ہے کہ اپاہج، مفلوج اورسِل کامریض جب لمبی بیماری میں مبتلا ہوجائے تو ان میں سے ہرایک کاتصرف صحتمند شخص کے تصرف کی مثل ہوتاہے جیساکہ اس کی تصریح جامع صغیر میں ہے گویاکہ وہ صحت مندہے۔ جب تُونے یہ جان لیاتوسمجھ لیا ہوگا کہ مدت مذکورہ ہمارے اصحاب کی مقررکردہ مدت سے کئی گنازیادہ ہے کیونکہ ہمارے علماء نے طوالت مرض کی مدت ایک سال مقرر کی ہے جبکہ مدت مذکورہ سات سال اورکچھ ماہ مزید ہے، یہ زیادتی مدت مذکورہ سے کئی گناہے خصوصاً جبکہ مریض گھرسے نکلتااوراپنی ضروریات کے لئے آتاجاتاہے اوربعض ضروریات کواداکرتاہے، جب حاکم شرعی کے پاس یہ ثا بت ہوگیا توکچھ معاملہ اس مریض کا اپنی بیوی کے ساتھ صادرہوا وہ صحیح ہوگا۔ اگرصحت ومرض کے گواہوں میں تعارض ہوتوبیماری کی طرف سے صحت پرپیش کئے گئے گواہوں کوترجیح ہوگی کیونکہ بیوی مدعیہ اورورثاء منکر ہیں جبکہ گواہ مدعی کے ہوتے ہیں نہ کہ منکر کے۔ ہمارے متعدد علماء نے اس کی تصریح کی ہے۔ جب اس کی بیماری طوالت اختیارکی گئی اور وہ سال سے بڑھ گئی توبیوی کے ساتھ اس کے تمام تصرفات نافذ ہوگئے۔ اس پرتمام اہل مذہب اورائمہ مذہب کااتفاق ہے۔ مکلف کی عبارت قابل عمل بنانا اس کو لغو قراردے کر مکلف کو حیوانات اوراس کے کلام کو جانوروں کی آواز کے ساتھ ملحق کرنے سے اولٰی ہے، اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔
 (۱؎ الفتاوی الخیریۃ    کتاب الدعوٰی    دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۷۶ و ۷۷)
وفی الدررللعلامۃ خسروھٰذہ امراض مزمنۃ فمن عرض لہ واحدمنھا وتصرف بشیئ من التبرعات ثم مات قبل تمام سنۃ مشتملۃ علی الفصول الاربعۃ کان المرض مرض الموت فتعتبر تصرفاتہ من الثلث وان مات بعدتمامھا لم یکن مرض الموت لانہ اذا سلم فی الفصول التی کل منھا مظنۃ الھلاک صار المرض بمنزلۃ طبع من طبائعہ وخرج صاحبہ من احکام المرض حتّی لایشتغل بالتداوی۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
علامہ خسرو کی درر میں ہے یہ لمبی بیماریاں ہیں ان میں اگرکسی کوکوئی لاحق ہوجائے اوروہ حالت مرض میں تبرعات میں کچھ تصرف کرے پھربیماری کوچارموسموں پرمشتمل سال پوراہونے سے پہلے وہ مرجائے تو اس کی بیماری مرض الموت قرار پائے گی اورایک تہائی مال میں اس کے تصرفات معتبرہوں گے۔ اوراگروہ بیمای کوسال پوراہونے کے بعد مرا تو اس کی یہ بیماری مرض الموت نہ ہوگی اس لئے کہ جب وہ چاروں موسموں میں سلامت رہاحالانکہ ان میں سے ہرایک میں ہلاکت کاگمان تھا توگویا یہ بیماری اس کے طبائع میں سے ہوگئی، چنانچہ اس بیماری والامرض کے احکام سے خارج ہوگیایہاں تک کہ اس نے علاج کرانا بھی چھوڑدیا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (۱؎ الدررالحکام شرح غررالاحکام     کتاب الوصایا    میرمحمدکتب خانہ کراچی    ۲/ ۴۳۱، ۴۳۲)
مسئلہ ۱۰۶  : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگرایک شخص کو فالج ہوکہ ہاتھ پاؤں بالکل رہ جائیں اورزبان تکلم پرقادرنہ ہوپھرعلاج سے دست وپامطلقاً صحیح ہوجائیں اورزبان بھی تعبیرمطلب سے عاجز نہ ہو اپنی حوائج کے لئے اندر باہر آئے جائے چلے پھرے سفرکرے صرف زبان پربقیہ مرض کے سبب گونہ ثقل تکلم باقی ہو اور حدوث مرض کو ساڑھے تین برس گزرچکے ہوں ایسی حالت میں وہ کوئی تصرف بیع یا ہبہ یاکچھ اوروارث خواہ غیروارث کے نام کرے تو وہ تصرف شرعاً صحیح ونافذ قرارپائے گایانہیں اور ایک سال گزرنے کے بعد فالج مرض الموت رہتاہے یانہیں؟ اوربعض نے جو قید عدم خوف موت کی لگائی ہے اس کے کیامعنی ہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : صورت مستفسرہ میں وہ شخص بالاجماع شرعاً صحیح وتندرست ہے اور اس کے تمام تصرفات کیسے ہی ہوں اورکسی کے ساتھ ہوں مثل تصرفات صحیح مطلق صحیح نافذ، کہ اول عامہ کتب میں سال گزرنے کے بعد فالج ودِق وسِل وغیرہ کومرض موت قرارہی نہ دیا اورسائل کہتاہے کہ یہاں ساڑھے تین برس گزرچکے تھے،
فی الفتاوی الامام قاضیخان اذا تصرف بعد سنۃ فھو کالصحیح یجوز تصرفاتہ۲؎ انتھٰی، وفی الفتاوی العالمگیریۃ عن فتاوی التمرتاشی فسر اصحابنا التطاول بالسنۃ فاذا بقی علی ھذہ العلۃ سنۃ فتصرفہ بعد سنۃ کتصرفہ حال صحتہ۱؎،
فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے کہ مریض جب سال بعد تصرف کرے تو وہ صحت مند کی طرح ہے اوراس کے تصرفات جائزہیں، انتہی۔ فتاوٰی عالمگیریہ میں بحوالہ فتاوٰی تمرتاشی ہے ہمارے علماء نے طوالت مرض کی تفسیر ایک سال کے ساتھ کی ہے۔ جب مریض ایک سال تک بیماری پرقائم رہاتوسال کے بعد اس کے تصرفات اس کی حالت صحت میں کئے ہوئے تصرفات کی مثل ہے۔
 (۲؎ فتاوٰی قاضیخان    کتاب الوصایا    فصل فی مسائل مختلفۃ الخ    نولکشورلکھنؤ    ۴/ ۸۴۰)

(۱؎ الفتاوی الہندیۃ    کتاب الطلاق    الباب الخامس     نورانی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۴۶۳)
وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ معنی قولہ طال ذٰلک ارادبہ سنۃ وکذا صاحب السل اذا اتی علیہ سنۃ فھو بمنزلۃ الصحیح ھٰکذا ذکر عن ابی العباس الشماس وکذا ذکر الطحاوی فی مختصرہ۲؎ وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ للعلامۃ الشامی رحمۃ اﷲ علیہ فسرالتطاول بسنۃ فلوتصرف بعد سنۃ من مرضہ فہو کتصرفاتہ حال الصحۃ ھکذا کان شیخنا ابوعبداﷲ الجرجانی یقول ھذا لفظ الواقعات بھذا اللفظ اوردہ فی جامع الفتاوی عمادیۃ۳؎الخ،
العقودالدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے۔ اس کے قول ''اس کی بیماری لمبی ہوگئی'' کامعنی یہ ہے کہ اس کوسال ہوگیا۔ یونہی سل کی بیماری والے کو جب حالت مرض میں سال گزرجائے توبمنزلہ صحتمند کے ہے، یوں ہی مذکورہے ابوالعباس الشماس سے، اوراسی طرح امام طحاوی نے اپنی مختصر میں اس کوذکرفرمایا ہے۔ علامہ شامی کی تصنیف العقودالدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے کہ طوالت مرض کی تفسیرایک سال کے ساتھ کی گئی ہے۔ لہٰذا اگرکوئی اپنی بیماری کے سال بعد تصرف کرے تو حالت صحت میں تصرفات کی مثل ہوگا۔ یونہی ہمارے شیخ ابوعبداﷲ جرجانی کہاکرتے تھے۔ یہ لفظ واقعات کے ہیں اوران ہی لفظوں کے ساتھ جامع الفتاوٰی عمادیہ میں واردہے الخ۔
 (۲؎ العقودالدریۃ    کتاب الاقرار    باب اقرار المریض    ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۶۶)

(۳؎العقودالدریۃ    کتاب الاقرار    باب اقرار المریض    ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۶۶)
Flag Counter