فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
57 - 135
مسئلہ ۱۰۴ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فالج ایک سال کے بعد مرض الموت رہتاہے یانہیں اوربعض کتب میں جوعدم خوف موت کی قید ہے اس کے کیامعنی ہیں؟بیّنواتوجروا۔
الجواب : جمہورائمہ کے نزدیک فالج ودق وسِل وغیرہا امراض مزمنہ جب ایک سال تک تطاول کریں مرض الموت نہیں رہتے اورایسے مریض کے تمام تصرفات شرعاً مثل صحیح کے ہیں مختصراً امام مجتہد علامہ ابوجعفر طحاوی اورفتاوٰی امام قاضی خاں اور فتوی امام ابوالعباس شماس اورامام عبداﷲ جرجانی اورامام شمس الائمہ حلوانی اور فتاوٰی التمرتاشی اورجامع الفتاوٰی اورفصول عمادیہ اوردررعلامہ خسرو اور مفتاح اورغمزالعیون علامہ احمدحموی اورمجتبٰی زاہدی اورفتاوٰی خیریہ اوردرمختار اورحاشیہ علامہ حلبی اورردالمحتار علامہ شامی اورفتاوٰی حامدیہ اورعقودالدریہ اورفتاوٰی ہندیہ وغیرہا متون وشروح وفتاوٰی میں اس مسئلہ کی تصریح ہے یہاں تک کہ علامہ محمدبن عابدین افندی شامی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے متون وشروح کے اطلاق وعموم پرنظرفرماکر حاشیہ درمختارمیں تصریح کردی کہ اگرفالج وغیرہ امراض مذکورہ ایک سال کے بعد صاحب فراش بھی کردیں اورمریض چلنے پھرنے سے معذورمطلق ہوجائے جب بھی اسے مرض موت نہ کہاجائے گا کیونکہ ایک سال تک تطاول ہوگیا،
حیث قال، قال فی المعراج، وسئل صاحب المنظومۃ عن حد مرض الموت فقال اعتمادنا فی ذٰلک علٰی ان یقدر ان یذھب فی حوائج نفسہ خارج الداراھ اقول: والظاھرانہ مقید بغیر الامراض المزمنۃ التی طالت ولم یخف منہ الموت کالفالج ونحوہ وان صیرتہ ذافراش ومنعتہ عن الذھاب فی حوائجہ فلایخالف ماجرٰی علیہ اصحاب المتون والشرح ھنا تامل۱؎ انتھٰی ملخصا۔
جہاں فرمایا کہ معراج میں کہا ہے صاحب منظومہ سے مرض الموت کی حدکے بارے میں سوال کیاگیاتواس نے کہاہمارااعتماد اس مسئلہ میں اس بات پرہے کہ مریض اپنی حاجات کے لئے گھرسے باہرنہ جاسکے الخ میں کہتاہوں ظاہریہ ہے کہ یہ حکم دیرتک رہنے والی بیماریوں کے غیرکے ساتھ مقیدہے جولمبی ہوجاتی ہیں اوران میں موت کا خوف نہیں ہوتا جیسے فالج وغیرہ، اگرچہ وہ مریض کوصاحب فراش بنادیں اوراسے حاجات کے لئے نکلنے سے روک دیں۔ یہ بات اس کے مخالف نہیں جس پراصحاب متون اورشارحین چلے۔ غورکرو انتہٰی، تلخیص(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۲۳)
اوروہ جو بعض کتب میں عدم خوف موت کی قید ہے بہت علماء مثل صاحب مفتاح وعلامہ احمد حموی شارح اشباہ وعلامہ ابراہیم حلبی وعلامہ امین الملۃ والدین شامی وغیرھم رحمۃ اﷲ علیہم فرماتے ہیں کہ یہ کوئی قیداحترازی نہیں بلکہ بعد تطاول ان امراض کے حال کی شرح ہے یعنی جب سال گزرجاتاہے تو ان امراض سے وہ خوف نہیں رہتا جسے شرع مرض الموت میں اعتبارکرتی ہے۔
قال فی الفتاح، ان تطاول ذٰلک فلم یخف منہ الموت ھٰذہ الجملۃ ای الاخیرۃ وقعت موضحۃ للجملۃ الشرطیۃ۱؎اھ ونقلہ الائمۃ المذکورون واقرواعلیہ۔
مفتاح میں کہاکہ اگروہ بیماری لمبی ہوجائے تو اس سے موت کاخوف نہیں رہتا۔ یہ آخری جملہ جملہ شرطیہ کے لئے وضاحت کرنے والا ہے اس کو ائمہ مذکورہ نے نقل فرمایا اور اس کو برقراررکھا۔(ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار بحوالہ الحموی کتاب الوصایا المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۴/ ۳۲۰)
علامہ شامی فرماتے ہیں:
لیس قولہ ولم یخف منہ الموت تقییدا بل بیانا لحال ذٰلک المرض عند طولہ۔۲؎
اس کاقول تو اس سے موت کاخوف نہ ہو یہ تقیید نہیں بلکہ بیماری کے لمبا ہوجانے کے وقت اس کے حال کابیان ہے۔(ت)
(۲؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار بحوالہ الحموی کتاب الوصایا المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۴/ ۳۲۰)
اوراسی طرح فتاوٰی عالمگیری میں تخصیص کی کہ فالج وغیرہ امراض جو اول اول شروع ہوتے ہیں تو اس وقت خوف ہلاک ہوتاہے،
حیث قال والمقعدوالمفلوج والاشل والمسلول اذاتطاول ذٰلک فصار بحال لایخاف منہ الموت فہو کالصحیح حتی تصح ھبتہ من جمیع المال واما فی اول مااصابہ اذامات من ذٰلک فی تلک الایام وقدصار صاحب فراش فہو مریض یخاف بہ الھلاک۳؎ انتھی ملخصًا قولہ فصار بحال یخاف منہ الموت الفاء للتفریع یعنی ان التطاول یتضرع علی عدم الخوف بل اذا قیدفی الاٰخر باول مااصابہ۔
جہاں فرمایا کہ اقعاد، فالج، لنج اورتپ دق کے مریضوں کی بیماری جب لمبی ہوجائے اور وہ اس حال میں ہوجائیں کہ موت کاخوف نہ رہے تو وہ صحت مند کے حکم میں ہیں یہاں تک کہ ان کاتمام مال کوہبہ کردیناصحیح ہے لیکن جب شروع میں یہ بیماریاں لاحق ہوں تو وہ اسی بیماری کی وجہ سے انہی دنوں میں مرجائے تحقیق وہ صاحب فراش ہوا ایسی بیماری میں مبتلا ہوکہ جس سے موت کاخوف ہوتاہے انتہی تلخیص، اس کاقول کہ ''وہ مریض اس حال میں ہوجائے کہ خوف موت نہ رہے، اس میں فصار پرفاء تفریع کے لئے ہے یعنی بیماری کے لمبے ہونے پرعدم خوف متفرع ہوتا ہے(ت)
(۳؎ الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب الرابع فصل فی اعتبارحالۃ الوصیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۰۹)
اوراگر اسے قیدجدید ہی قراردیں جیسے بعض کاقول ہے تاہم نفس خوف موت بالاجماع کافی نہیں کیونکہ اس قدر سے توکوئی مفلوج ومدقوق ومسلول کبھی خالی نہیں ہوتا اگرچہ سالہاسال گزرجائیں پھراس قید کے لگانے سے کیا فائدہ ہوگا بلکہ اعلٰی درجہ کاخوف واندیشہ شدیددرکارہے۔
فی ردالمحتار عن الکفایۃ ثم المراد من الخوف الغالب منہ لانفس الخوف۔۱؎
ردالمحتار میں کفایہ کے حوالے سے منقول ہے، پھر خوف سے مراد اس کاغلبہ ہے نہ کہ نفس خوف۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۲۳)
اوراس خوف کی امام ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی تمرتاشی وغیرہ علماء نے یوں تفسیر کی کہ جب ان امراض سے یہ نوبت پہنچے کہ اپنی حوائج کے لئے گھر سے باہرنہ نکل سکے تواس وقت خوف موت کہاجائے گا۔
فی تنویرالابصار من غالب حالہ الھلاک بمرض اوغیرہ بان اضناہ مرض عجزبہ عن اقامۃ مصالح خارج البیت۔۲؎
تنویرالابصار میں ہے کہ غالب حال اس کاہلاکت ہوبیماری سے یا اس کے غیرسے اس طورپر کہ بیماری نے اس کو اسی قدر کمزورکردیاہو جس سے گھر کے باہر وہ اپنے معاملات وضروریات قائم رکھنے سے عاجز ہوگیاہو۔(ت)
(۲؎ الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الطلاق باب طلاق المریض مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۳۵)
درمختارمیں ہے:
ھو الاصح کعجز الفقیہ عن الاتیان الی المسجد۳؎۔
یہی زیادہ صحیح ہے جیسے فقیہ مسجد کی طرف آنے سے عاجزہوجائے۔(ت)
(۳؎الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الطلاق باب طلاق المریض مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۳۵)
اوراس قید کے لگانے کے بعد بھی امام شامی فرماتے ہیں:
فان قلت ان مرض الموت ھو الذی یتصل بہ الموت فما فائدۃ تعریفہ بما ذکرقلت فائدتہ ان قد تطول سنۃ فاکثر کما یأتی فلایسمی مرض الموت وان اتصل بہ الموت۔۱؎
اگرتُوکہے کہ مرض الموت تو وہ ہے جس کے ساتھ موت مقترن ہو۔ پھرموت کی یہ تعریف جوذکرکی گئی اس کاکیافائدہ ہے۔ میں کہتاہوں کہ بیماری کبھی سال یا اس سے زائد عرصہ تک لمبی ہوجاتی ہے جیساکہ آرہاہے تواس بیماری کومرض الموت نہیں کہاجاتااگرچہ اس کے ساتھ موت مقترن ہوجائے(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۲۰ و ۵۲۱)
اوراس خوف کی دوتمثیلیں درمختارمیں یہ لکھیں کہ جہازپر سوارتھا جہازٹوٹ گیا ایک تختہ پربہتارہ گیا یا شیرنے حملہ کیا اور اسے اپنے منہ میں لے لیا توجب تک اس کے منہ میں ہے وہ وقت اس خوف کا ہے۔
حیث قال اوبقی علی لوح من السفینۃ اوافتراسہ سبع وبقی فی فیہ۔۲؎
جہاں فرمایا کہ وہ کشتی کے ایک تختہ پرپڑارہ گیا یا کسی درندے نے اس کو اپنے منہ میں لے لیا اورابھی تک اسی حال میں باقی ہے۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار کتاب الطلاق باب طلاق المریض مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۳۶)
بالجملہ مجرد خوف بالاجماع کافی نہیں بلکہ اس قسم کاخوف ہوناچاہئے جیسے گھڑی ساعت کانقشہ کہتے ہیں وہ مرض مرض الموت گناجائے گا اوریہ بات اسی وقت ہے جب صاحب فراش ہوجائے یاگھر سے باہرنکلنے کی طاقت نہ رہی مثلاً عالم ہو تو مسجد تک نہ جاسکے،
اسی طرح ردالمحتارمیں اسمٰعیلیہ سے نقل کرتے ہیں۔
من بہ بعض مرض یشتکی منہ وفی کثیر من الاوقات یخرج الی السوق و یقضی مصالحہ لایکون بہ مریضا مرض الموت وتعتبر تبرعاتہ من کل مالہ واذا باع لوارثہ اووھبہ لایتوقف علی اجازۃ باقی الورثۃ۔۳؎
جس شخص کوکچھ بیماری ہے جس کی شکایت وہ کرتا ہے اوربسااوقات وہ بازار کی طرف نکلتاہے اوراپنے امورسرانجام دیتاہے، اس سے وہ مرض الموت کامریض نہیں ہوتا، چنانچہ اس کے تمام مال میں اس کے تبرعات معتبرہوں گے، جب وہ کسی وارث سے بیع کرے یا اس کوکچھ ہبہ کرے تو یہ باقی وارثوں کی اجازت پر موقوف نہیں ہوگا(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الاقرار باب اقرار المریض داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۶۱)
اورفتاوٰی خیریہ میں ہے:
حیث کان بالوصف المذکور وھوانہ ای المرض لایمنع الخروج لقضاء حوائجہ فھبتہ لاحد اولادہ وبیعہ لبقیتھم بالغین مطلقا صحیح نافذ باجماع علمائنا صرحوابہ فی کل مرض یطول کالدق والسل والفالج۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب وہ وصف مذکور سے متصف ہے اوراس کا مرض اسے اپنی ضرورت کی ادئیگی سے نہیں روکتا تواس کااپنی اولادمیں سے کسی ایک کے لئے ہبہ کرنا اورباقیوں کیلئے بیع کرنامطلقاً بالاجماع صحیح اور نافذہے۔ علماء نے ہرطویل مرض کے بارے میں اس حکم کی تصریح فرمائی جیسے دِق، سل اورفالج وغیرہ۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ الفتاوی الخیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۲۸)